Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 1

“ارے مرجان اٹھ بھی جاؤ اب چھوٹی سی جان کو بھوکا مارو گی کیا؟”
کسی نے مرجان کا کندھا ہلا کر کہا تو مرجان نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں لیکن سر میں اٹھنے والے درد پر جلدی سے واپس آنکھیں بھینچ گئی۔
“مرجان اٹھ جاؤ ناں کب سے رو رہا ہے تمہارا بیٹا بھوک لگی ہے اسے۔۔۔۔”
اپنی ماں کی آواز پہچان کر مرجان نے ہمت کر کے آنکھیں کھولیں اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔الماس نے اسکے چھوٹے سے بیٹے کو اسکی گود میں دیا تو مرجان جیسے تیسے اسے دودھ پلانے لگی۔
“ماشاءاللہ بہت ہی پیارا ہے یہ دیکھو آنکھیں بالکل تمہارے جیسی ہیں ناں اسکی سنہری رنگ کی اور ناک اور ہونٹ بالکل۔۔۔”
“بالکل میرے باچا جیسے ہیں۔۔۔”
مرجان نے اپنی ماں کی بات کاٹ کر کہا تو وہ افسردگی سے مسکرا دیں۔مرجان نے اپنے بیٹے کے چھوٹے سے گال کو سہلایا اور دو آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر اسکے گال پر گرے تھے۔
“وہ اسے کبھی نہیں دیکھی پائیں گے۔۔۔جان بھی نہیں پائیں گے انکا ایک بیٹا بھی ہے۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا تو الماس بے بسی سے اسے دیکھنے لگیں۔
“مرجان بس کر دے خود کو ہلکان کرنا کب تک اپنی جان جلاتی رہے گی اسکی یاد میں۔۔۔”
الماس نے اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر تڑپتے ہوئے کہا۔پچھلے نو ماہ سے انہوں نے اسے ایک بار بھی مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔
“اپنی آخری سانس تک اماں آخری سانس تک۔۔۔۔”
مرجان نے اتنا کہہ کر اپنے بیٹے کو دیکھا جسکا پیٹ بھر چکا تھا۔اس نے اسے احتیاط سے سینے سے لگا کر ڈکار دلوانا چاہا لیکن پھر اسکی چھوٹی سی گردن میں اپنا چہرہ چھپا کر سسک سسک کر رو دی۔
“ارے ارے میں سب کو یہاں بے بی دیکھانے لایا ہوں یہ اموشنل سین نہیں۔۔۔”
عماد جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا مرجان کو اس طرح روتے دیکھ منہ بنا کر بولا۔مرجان نے سر اٹھا کر عماد کے ساتھ آئی وانیا اور اپنے بہن بھائی گل اور دلاور کو دیکھا۔
“وانیا اس سے لے لو بے بی یہ تو اسے اپنے جیسا روندو بنا دے گی۔۔۔”
عماد نے شرارت سے کہا تو وانیا مسکرا کر مرجان کے پاس آئی۔اپنی دوست کو گلے سے لگا کر مبارک دینے کے بعد اس نے بچے کو اٹھایا اور اسے لے کر گل اور دلاور کے پاس آئی جو اپنے بھانجے کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے۔
“ماشاءاللہ کتنا پیارا ہے ناں یہ بالکل میرے جیسا لگتا ہے۔۔۔”
گل نے اسے باہوں میں لیتے ہوئے کہا۔
” اپنی شکل دیکھو اور اسکی دیکھو کہاں تم چڑیل اور کہاں یہ کوہ کاف کا شہزادہ۔۔۔”
دلاور نے شرارت سے کہا تو گل نے منہ بنا لیا۔
“جی اور آپ کوہ کاف کے جن۔۔۔”
گل نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تو سب اسکی بات پر ہنس دیے۔
“سر آپ نے بلایا تھا۔”
گل کو عین اپنے پیچھے سے آواز آئی تو اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا لیکن وہاں امان کو آرمی یونیفارم میں کھڑا دیکھ اسکا رنگ فق ہو گیا اور وہ جلدی سے پاس کھڑی وانیا کے بازو سے چپک گئی۔
“یس کیپٹن آپ زرا دلاور کو اسکے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے ویسے مجھے لے جانا تھا لیکن میں زرا سا مصروف تھا تو نہیں چاہتا کہ اسکا چیک اپ مس ہو۔۔۔”
امان نے فوراً ہاں میں سر ہلایا اور دلاور کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔
“گل تم بھی چلو ساتھ ۔۔۔۔”
دلاور نے شرارت سے کہا وہ جانتا تھا اسکی بہن امان سے بہت ڈرتی تھی خاص طور پر تب جب وہ آرمی یونیفارم میں ہوتا تھا۔اسکا فوجیوں کا ڈر ابھی بھی جوں کا توں قائم تھا۔
“نن۔۔۔نن۔۔۔۔نہیں میں کیوں جاؤں۔۔۔۔بیمار آپ ہو لالہ میں نہیں۔۔۔”
گل نے وانیا کے پیچھے سے امان کو دیکھتے ہوئے سہم کر کہا تو امان سرد آہ بھر کر رہ گیا۔
“دیکھنا ساری زندگی اسی یونیفارم میں مجھے دیکھ کر گزارو گی تم میری نیلی آنکھوں والی گڑیا۔۔۔”
امان نے خود کلامی کی اور دلاور کو آنے کا اشارہ کرتا باہر چلا گیا۔گل نے سکھ کا سانس لیا۔عماد وانیا کے پاس آیا اور مسکرا کر بچے کو دیکھنے لگا۔
“نام کیا سوچا ہے اسکا؟”
عماد کے پوچھنے پر مرجان نے اپنے آنسو پونچھے۔
“کچھ نہیں۔۔۔”
عماد نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
“میں رکھ لوں؟”
مرجان نے مسکرا کر فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
“ضرور لالہ۔۔۔”
عماد نے مسکرا کر بچے کی جانب دیکھا۔
“قلب۔۔۔قلبِ عبداللہ ۔۔۔۔ہمارے عبداللہ کا دل۔۔۔”
عماد کی بات پر کتنے ہی آنسو مرجان کی آنکھوں سے بہے تھے۔وانیا نے قلب کو عماد کو پکڑایا اور مرجان کے پاس آ کر اسے سینے سے لگا لیا۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا مرجان دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
وانیا نے بے بسی سے عماد کی جانب دیکھا جیسے نظروں سے ہی اس سے التجا کر رہی ہو کہ کچھ کریں۔۔۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
وقت ریت کی مانند سرکتا گیا۔ویرہ نے مزید ایک سال اس قید میں گزار دیا تھا۔ہر پل کوٹھری کے اس اندھیرے میں بیٹھا وہ یہی سوچتا رہتا تھا کہ مرجان اور اسکا بیٹا کیسے ہوں گے۔وہ کیسی شرارتیں کرتا ہو گا مرجان کو زیادہ ستاتا تو نہیں ہو گا۔
عماد نے اسے بتایا تھا کہ اس نے اسکے بیٹے کا نام قلب رکھا ہے اور ویرہ تو بس اسکو اور مرجان کا یاد کر کے اپنی زندگی کاٹے جا رہا تھا۔
ویرہ جو کچھ جانتا تھا وہ سب آرمی کو بتا چکا تھا جسکا آرمی کو بہت فایدہ بھی ہوا تھا لیکن اسکے تعاون کے باوجود وہ ویرہ کو آزاد نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔ایک دہشتگرد جسے عمر بھر قید کی سزا سنائی گئی ہو اسے آزاد کرنا کہاں آسان تھا۔
اب تو ویرہ بھی یہی سوچتا تھا کہ اسے اپنی ہر سانس اس کال کوٹھری میں سسک سسک کر گزارنی تھی اور اب اسے اپنی یہ سزا منظور تھی وہ اسی کے قابل تھا۔
“اہم۔۔۔اہم۔۔۔۔”
کسی کے کھانسنے کی آواز پر ویرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ہلکی سی روشنی میں اسے عماد کھڑا ہوا نظر آیا۔
“جلدی سے اٹھ کر مجھ سے گلے ملو اپنے باپ سے لڑ کر بہت جدوجہد کے بعد تھوڑا سا ٹائم ملا ہے مجھے۔۔۔۔”
عماد نے بازو پھیلا کر کہا تو ویرہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر گہرا سانس لے کر کھڑے ہوتے ہوئے اسکے گلے لگ گیا۔
“اب مبارک دو مجھے۔۔۔۔”
“کس بات کی؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا تو عماد ہلکا سا ہنس دیا۔
“اللہ نے مجھے بھی اپنی نعمت سے نوازا ہے بیٹا دیا ہے مجھے۔۔۔۔”
ویرہ عماد سے دور ہوا اور اسکے چہرے کی خوشی دیکھ کر مسکرا دیا۔
“بہت بہت مبارک ہو تمہیں۔۔۔”
ویرہ نے دل سے اسے مبارکباد پیش کی۔
“شکریہ یارا۔”
“نام کیا رکھا ہے بیٹے کا؟”
ویرہ نے مسکراتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔
“یارم۔۔۔”
“یارم؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا۔
“ہاں یار میری بیگم صاحبہ نے رکھا ہے نہ جانے کونسے ناول پڑھ پڑھ کر اسی کے ہیرو کا نام رکھ دیا اب پتہ نہیں نام جیسا عاشق بنائے گی میرے بیٹے کو۔۔۔۔”
عماد نے ہنس کر کہا تو ویرہ بھی ہلکا سا ہنس دیا۔
“دیکھنا تم تمہارا اور میرا بیٹا بڑے ہو کر سب سے اچھے دوست بنیں گے زیادہ نہیں بس ایک سال کا ہی فرق ہے لیکن پھر بھی ان کی دوستی مثالی ہو گی۔”
عماد کے بھرپور یقین کے ساتھ کہنے پر ویرہ کو اپنے بیٹے کی یاد آئی تھی۔اس نے افسردگی سے عماد کی جانب دیکھا۔
“کیسا ہے وہ؟”
ویرہ کے آہستہ سے پوچھنے پر عماد مسکرایا۔
“بہت شرارتی جب سے اسے پیر لگے ہیں نہ خود ایک پل سکون کرتا ہے اور نہ مرجان کو کرنے دیتا ہے بس سارا سارا دن اسے اپنے پیچھے بھگاتا رہتا ہے۔۔”
عماد نے ہلکا سا ہنس کر ویرہ کی جانب دیکھا لیکن اسکے چہرے پر افسردگی دیکھ کر اسکا کندھا تھام گیا۔
“ایک دن تم بھی ان کے ساتھ ہو گے عبداللہ ان کی خوشیوں میں شامل۔۔۔”
ویرہ نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“انکی دنیا میں میری کوئی جگہ نہیں۔۔۔”
عماد نے اس سے مزید کچھ کہنا چاہا لیکن باہر کھڑے سپاہی کے دروازہ کھٹکھٹانے پر گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
“ایک تو یہ۔۔۔قسم سے میرا باپ جنرل نہ ہوتا تو کب کا نوکری سے نکال چکے ہوتے یہ لوگ مجھے۔۔۔”
عماد نے ہنستے ہوئے کہا اور اپنا ہاتھ ویرہ کے کندھے پر رکھا۔
“میں سب ٹھیک کر دوں گا ویرہ بس مجھے وقت چاہیے۔۔۔۔”
عماد کی تسلی پر ویرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔عماد آخری نگاہ اس پر ڈالتا وہاں سے چلا گیا اور ویرہ پھر سے دیوار کے ساتھ بیٹھ کر ٹیک لگا گیا۔دل میں اپنے بیٹے کو دیکھنے کی حسرت پیدا ہو رہی تھی،اسکی شرارتوں،اسکی اٹھکیلیوں کا حصہ بننے کی حسرت لیکن حسرتیں بھی کبھی پوری ہوا کرتی ہیں۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
جنرل شہیر پریشانی کے عالم میں اپنے دفتر میں ٹہل رہے تھے۔انہوں نے عماد کو اپنے پاس بلایا تھا لیکن ابھی تک وہ وہاں نہیں آیا تھا۔
“نے آئی کم ان سر؟”
عماد کی آواز پر انہوں نے بے چینی سے دروازے کی جانب دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا۔عماد نے اندر آ کر مخصوص انداز میں انہیں سیلیوٹ کیا لیکن انکے چہرے پر پریشانی دیکھ کر پریشان ہوا۔
“کیا ہوا بابا سب ٹھیک تو ہے؟”
جنرل شہیر نے انکار میں سر ہلایا۔
“سب ٹھیک نہیں ہے عماد یہ دیکھو۔۔۔۔”
انہوں نے میز پر پڑا لیپ ٹاپ عماد کی جانب گھمایا جس میں ایک وڈیو چل رہی تھی۔اس وڈیو میں ایک بچہ بری طرح سے رو رہا تھا جبکہ ایک نقاب پوش اسکی گردن پر چاقو رکھے اسکے پیچھے کھڑا تھا۔
“کرنل صاحب اگر بیٹے کی جان پیاری ہے تو فوج سے کہو کہ جو دہشت گرد ویرہ انکی گرفت میں ہے اسے ہمیں دے دیں ورنہ۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر نقاب پوش نے چاقو بچے کی گردن پر مزید مظبوطی سے رکھا تو بچہ سسک سسک کر رونے لگا اور ساتھ ہی وہ وڈیو ختم ہو گئی۔
“یہ سب۔۔۔۔۔”
“کسی نے کرنل جواد کے بیٹے کو اگوا کر لیا ہے اور بدلے میں ویرہ کو مانگ رہا ہے ساتھ اڈریس بھی بھیجا ہے انہوں نے جہاں ویرہ کو لانے کا کہا ہے۔”
جنرل شہیر نے ایک پرچی عماد کو دیتے ہوئے کہا جہاں خیبرپختونخوا کے ایک علاقے کا پتہ تھا۔
“اگر ہم نے انکی بات نہ مانی تو وہ کرنل کے بیٹے کو نہیں چھوڑیں گے۔۔۔”
عماد نے پریشانی سے اپنا ماتھا سہلایا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے عماد وہ لوگ ویرہ کو چھڑوانا چاہ رہے ہیں؟”
عماد نے فوراً اپنا سر انکار میں ہلایا۔
“وہ جانتے ہیں کہ ویرہ بہتوں ہے راز جانتا ہے اور فوج اتنے سارے دہشتگردوں کو پکڑنے یا مارنے میں کامیاب ہوئی ہے تو ویرہ کی وجہ سے جس نے ان کے بارے میں بتایا۔۔۔۔وہ اسے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔۔۔”
عماد کی بات پر جنرل شہیر بھی کافی پریشان ہوئے۔
“کیا فیصلہ لیا جا رہا ہے اس بارے میں؟”
عماد نے اضطراب سے پوچھا۔
“وہ لوگ ویرہ کو انہیں دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔”
اس بات پر عماد پریشانی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ایک جانب ایک معصوم بچے کی زندگی کا فیصلہ تھا تو دوسری جانب اسکا دوست۔
“مجھے ویرہ سے ملنا ہے اسی وقت۔۔”
عماد نے گویا اپنا فیصلہ سنایا۔
“تم جانتے ہو عماد تمہارا اس سے ملنا کتنا ڈینجرس ہے اگر آرمی کو پتہ چلا کہ تم اپنی آئیڈنٹٹی ظاہر کر چکے ہو تو تمہیں نوکری سے نکال دیا جائے گا۔”
“جانتا ہوں اور مجھے پرواہ نہیں۔۔”
عماد نے سنجیدگی سے کہا۔
“ویسے بھی اگر آپ جنرل ہو کر اتنا نہیں سنبھال سکتے تو فایدہ جنرل ہونے کا۔”
اتنا کہہ کر عماد وہاں سے چلا گیا اور جنرل شہیر گہرا سانس لے کر فون ملانے لگے۔اب انہیں اپنے بیٹے کی بات مان کر اسکی ملاقات بھی تو کروانی تھی ویرہ سے۔
عماد ہیڈکوارٹر سے سیدھا اس جیل میں آیا جہاں ویرہ کو رکھا گیا تھا۔سپاہی نے اسے دیکھتے ہی جیل کا دروازا کھول دیا تو عماد جلدی سے اس کوٹھری میں داخل ہوا اور پریشانی سے ویرہ کو دیکھا جو آنکھیں موندیں فرش پر بیٹھا تھا۔
اسکی آہٹ پر آنکھیں کھول کر ویرہ نے اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دیا۔
“کافی جلدی واپس ملنے نہیں آ گئے تم ابھی چند دن پہلے ہی تو آئے تھے۔”
عماد ضبط سے اپنی آنکھیں موند گیا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ویرہ کو سب کیسے بتائے۔
“کیا بات ہے؟”
آخر ویرہ نے ہی پوچھا تو عماد نے ہمت کی اور ساری بات ویرہ کو بتا دی۔جسے سن کر ویرہ بھی گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کون ہیں یہ لوگ؟”
کچھ سوچ کر ویرہ نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں جانتا جس جس کے بارے میں جانتا تھا میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔”
اس بات پر عماد نے پریشانی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
“آرمی تمہیں ان کو دینے کا سوچ رہی ہے۔”
اس بات پر ویرہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“اچھی بات ہے۔۔۔۔”
“اچھی بات ہے؟پاگل ہو گئے ہو تم ویرہ وہ تمہیں مار دیں گے جانتے ہو ناں تم نے انکے راز کھول کر غداری کی ہے انکے ساتھ اور سزا تم جانتے ہو پھر بھی یہ کہہ رہے ہو۔”
عماد اسکی بات کاٹ کر غصے سے چلایا۔
“تو کیا چاہتے ہو تم؟”
ویرہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“مجھے نہیں پتہ لیکن میں تمہیں یوں بلی کا بکرا نہیں بننے دوں گا بھگا دوں گا تمہیں دور بھیج دوں گا جہاں تم پھر سے جی سکو۔”
عماد کی بات پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ویرہ کے ہونٹوں پر آئی۔
“اور اس بچے کا کیا؟”
“وہ آرمی کی زمہ داری ہے تمہاری نہیں ہم کچھ نہ کچھ کر کے اسے بچا لیں گے۔”
عماد نے حل نکالا۔
“نہیں عماد بنگش تم ان لوگوں کو نہیں جانتے جو وقت انہوں نے دیا ہے اس سے ایک پل کی دیری اور وہ اس بچے کو مار دیں گے اور پھر نیا شکار ڈھونڈنے نکل پڑیں گے۔”
ویرہ نے اسے اس بچے کے انجام سے آگاہ کیا۔
“تو کیا کروں ویرہ تمہیں یوں مرنے کے لیے چھوڑ دوں؟”
عماد کے سوال پر ویرہ ہلکا سا مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھا اور خود ہر بندگی زنجیروں کو ساتھ گھسیٹتا اسکے پاس آیا۔
“میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے عماد میں ہوں یا نہ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن وہ بچہ تمہاری قوم کا سرمایا ہے میرے بدلے اسکی جان گنوانا بہت بڑی بیوقوفی ہے۔”
ویرہ ایک پل کو رکا اور پھر ہلکا سا ہنس دیا۔
“ویسے بھی میں کوئی نیک فرشتہ نہیں جو میری پرواہ کی جائے میں گناہ گار ہوں عماد اور گناہ گار کو سزا ملتی ہے۔۔۔۔”
عماد نے نم آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا۔
“اور مرجان کا کیا؟تمہاری اولاد کا کیا؟اسے یتیم کرنا اسکے ساتھ زیادتی نہیں؟مرجان اس لیے زندہ ہے کہ وہ جانتی ہے تم زندہ ہو اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا اسکا ویرہ؟”
عماد کے سوالوں کا ویرہ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
“میں ایسا نہیں ہونے دوں گا تم تیار رہنا ویرہ میں تمہیں یہاں سے بھگا دوں گا۔۔۔”
اتنا کہہ کر عماد وہاں سے جانے لگا۔
“نہیں عماد۔۔۔میں نہیں بھاگوں گا۔پہلے بھی اگر بھاگنے کی بجائے بہادری دیکھائی ہوتی اپنے باپ کا بدلہ لینے کی بجائے انکے لیے انصاف تلاش کیا ہوتا تو آج میں یہاں نہیں ہوتا۔۔۔۔اب میں پھر سے نہیں بھاگوں گا۔۔۔”
عماد نے پلٹ کر ویرہ کو دیکھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ کچھ بھی کر لے ویرہ اپنی بات سے پلٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔اب اسے کسی نے کسی طرح اپنے دوست کی حفاظت کرنی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان جان لٹاتی نگاہوں سے اپنے ایک سالہ بیٹے قلب کو دیکھ رہی تھی جو دلچسپی سے بیڈ پر سوئے یارم کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے وہ وانیا سے ملنے اس کے گھر آئی تھی۔
ایسا کر کے اسکی اپنی تنہائی بھی دور ہوتی تھی اور قلب بھی یارم کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا۔قلب نے یارم کی بند پلکوں کو چھوا تو مرجان مسکرا دی۔
اسکا بیٹا ہی تو اسکے جینے کا سہارا تھا اگر وہ نہ ہوتا تو شائید مرجان سسک سسک کر مر جاتی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
وانیا جو یارم کے پاس ہی نیم دراز تھی مسکرا کر پوچھنے لگی۔
“سوچ رہی ہوں اگر اللہ مجھے قلب نہ دیتا تو میرا کیا بنتا۔۔۔۔”
مرجان کی بات پر وانیا کے ماتھے پر بل آئے۔
“کیوں نہ دیتے اللہ تعالیٰ اسے تمہیں۔مرجان اولاد ہی ہمارے لیے سب کچھ ہوتی ہے خدا نے نعمت سے نوازا ہے تو اسکا شکر ادا کرو۔۔۔۔”
وانیا نے اسے سمجھایا۔
“ہاں وانی اولاد بہت بڑی نعمت ہے لیکن انکے بغیر زندگی خالی اور بے مقصد ہے جسکی کمی کوئی بھی پوری نہیں کر سکتا۔۔۔۔”
یہ بات کہتے ہوئے مرجان کی آنکھوں میں آنسو آئے تو وانیا نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“میں سمجھ سکتی ہوں مرجان۔۔۔۔”
وانیا نے نرمی سے اسکا ہاتھ دبا کر کہا اور پھر مسکرا کر قلب کو دیکھا جو سوئے ہوئے یارم کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“وہ سویا ہوا ہے ناں خالہ کی جان ابھی نہیں اٹھے گا۔۔۔۔”
وانیا نے پیار سے قلب کو بتایا تو قلب نے اپنی بڑی بڑی سنہری آنکھوں سے وانیا کو دیکھا اور پھر ایک تھپڑ یارم کے منہ پر مارا جس سے یارم بلبلا کر رونے لگا۔
“قلب۔۔۔”
مرجان نے اپنے بیٹے کی حرکت پر حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
“بے بی اتا۔۔۔۔”
قلب نے یارم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اسکی بات سمجھ کر وانیا قہقہ لگا کر ہنس دی۔یعنی وہ اسے تھپڑ مار کر اٹھانے میں کامیاب ہوا تھا۔
“بہت تیز ہوتا جا رہا ہے یہ ماڑا لگتا ہے رسی سے باندھنا مڑے گا اسے۔۔۔”
مرجان نے مصنوعی غصے سے قلب کو گھورتے ہوئے کہا تو وہ ماں کے غصے پر سہم کر اسکے سینے سے لگ گیا۔مرجان نے مسکرا کر اسے خود سے لگایا اور آنکھیں موند گئی۔
“پتہ نہیں میرا شہزادہ بڑا ہو کر کیا گل کھلائے گا آخر عماد بنگش کا بیٹا ہے یہ بھی ۔”
وانیا نے یارم کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی منہ بنا کر رو رہا تھا جیسے خود ہر ہوا ظلم بیان کرنا چاہ رہا ہو۔مرجان وانیا کی بات پر ہنس دی تو وانیا بھی مسکرا دی۔تبھی عماد پریشانی کے عالم میں کمرے میں داخل ہوا۔
“لو عماد بھی آ گئے ۔۔”
وانیا نے عماد کو دیکھتے ہوئے کہا تو مرجان نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور عماد کو دیکھ کر مسکرا دی۔
“اسلام و علیکم لالہ۔۔۔۔کیسے ہیں آپ؟”
عماد نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا اور بس دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ مرجان ویرہ کے بارے میں مت پوچھے کیونکہ اس میں جھوٹ بولنے کی سکت باقی نہیں تھی۔
“آئیں زرا اور دیکھیں آج آپ کے بیٹے نے نہ اٹھنے پر تھپڑ کھایا ہے بڑے بھائی سے۔۔۔”
وانیا کی بات پر مرجان ہلکا سا ہنسی جبکہ قلب عماد کو دیکھتے ہی اسکی گرفت میں مچلنے لگا تھا۔مرجان نے اسے چھوڑا تو وہ ڈگمگاتے قدم اٹھاتا عماد کے پاس گیا اور اسکے سامنے اپنی باہیں پھیلانے لگا۔
“ماماں۔۔۔”
مرجان نے اسے عماد کے لیے ماموں سیکھایا تھا جو اس سے بولا نہیں جاتا تھا تو وہ اسے ماماں ہی بلا پاتا تھا۔عماد نے جھک کر اسے باہوں میں اٹھا لیا۔
“ماماں۔۔۔۔بابا۔۔۔۔”
قلب نے باہر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا لیکن اسکے منہ سے بابا سن کر عماد کی بس ہوئی تھی۔اسے لگا تھا کہ وہ اس بچے سے انصاف نہیں کر پایا تھا وہ لڑکی جسے اس نے اپنی چھوٹی بہن کہا تھا اسے اسکی خوشیاں نہیں دلا پایا تھا۔
عماد نے قلب کو مرجان کی گود میں دیا اور خود وہاں سے چلا گیا۔وہ ایک پل کے لیے بھی مرجان اور قلب کا سامنہ نہیں کر سکتا تھا۔
“انہیں کیا ہوا؟”
وانیا نے حیرت سے پوچھا تو مرجان نے اپنے کندھے اچکا دیے۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکی زندگی میں کیا طوفان آنے والا تھا لیکن عماد اس طوفان کی آمد سے واقف تھا اور اپنی بہن کو یوں اجڑتے دیکھنا اسکی برداشت سے باہر تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
سارے انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے۔ویرہ کو چند فوجیوں کے ساتھ اس جگہ روانہ کر دیا گیا تھا جہاں اسے لانے کا کہا گیا تھا۔سارا راستہ ویرہ بس یہی سوچتا رہا تھا کہ آج اسکا قصہ بھی ختم ہو جائے گا۔وہ اسی راہ پر مرے گا جو اس نے چنی تھی۔جو اس نے بویا تھا آج اسے کاٹنے کا وقت آ چکا تھا لیکن ویرہ کو اسکا کوئی غم نہیں تھا وہ اسی قابل تھا۔
اچانک گاڑی رکی اور ایک سپاہی ویرہ کے ہاتھوں میں ہتھ کڑی پہنانے لگا۔ویرہ نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“تمہیں پہلے کہیں دیکھا ہے۔”
ویرہ کی بات پر وہ سپاہی مسکرایا۔
“میں کیپٹن امان،ایک سال پہلے ملے تھے ہم عماد سر کے ساتھ تھا میں۔۔۔۔”
ویرہ کو فوراً وہ رات یاد آئی جب عماد نے اسے اسکا بیٹا دیکھانے کے لیے جیل سے بھگایا تھا تب یہی سپاہی تھا جس نے عماد کی مدد کی تھی۔
“تمہارا شکریہ۔تم نہیں جانتے تم نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا تھا۔”
ویرہ نے جزبات پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
“میں نے وہ کیا جو انسان ہونے کے ناطے میرا فرض تھا اور آج آپ بھی وہی کر رہے ہیں۔سچ پوچھیں تو مجھ میں اور آپ میں کوئی فرق نہیں ہم دونوں ہی اس قوم کے سپاہی ہیں۔۔۔”
امان نے سنجیدگی سے کہا لیکن ویرہ نے انکار میں سر ہلایا۔
“میں کوئی سپاہی نہیں میں مجرم ہوں۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ گاڑی سے اتر گیا تو امان بھی اسکے ساتھ آیا۔وہ ایک سنسان میدانی علاقہ تھا جہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا۔پھر دو گاڑیاں وہاں رکیں جن میں سے چند نقاب پوش باہر آئے۔
“ویرہ کو ہمارے حوالے کر دو۔”
ایک آدمی نے حکم دیا تو سپاہیوں نے امان کی جانب دیکھا۔
“پہلے بچے کو لاؤ۔۔۔۔”
امان کے کہنے پر ایک نقاب پوش نے دوسرے کو اشارہ کیا تو اس نے گاڑی میں سے بچے کو نکالا جو خوف سے رو رہا تھا۔جبکہ ایک بڑی سی جیکٹ اسے پہنا رکھی تھی۔
“تم ویرہ کو چھوڑو وہ ہماری طرف آئے گا اور بچہ تمہاری طرف پھر تم یہاں سے چلے جانا ۔۔۔”
نقاب پوش چلایا تو امان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اگر کچھ چالاکی کریں تو گولیوں کی بوچھاڑ کر دینا ان پر۔۔۔۔”
امان نے ساتھ کھڑے سپاہی کو آہستہ سے کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا۔سپاہیوں نے ویرہ کو چھوڑا تو وہ ان نقاب پوشوں کی جانب جانے لگا۔انہوں نے بھی بچے کو چھوڑا جو روتے ہوئے بھاگ کر فوجیوں کے پاس آیا۔
ویرہ جیسے ہی نقاب پوشوں کے پاس پہنچا دو آدمیوں نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
“اب تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
نقاب پوش چلایا تو امان نے بچے کو اٹھایا اور سپاہیوں کو اشارہ کرتا واپس گاڑی میں آ گیا اور گاڑی چلا کر وہاں سے چلے گئے۔فوجیوں کے جاتے ہی ایک نقاب پوش نے اپنی بندوق کا پچھلا حصہ ویرہ کے منہ پر مارا جسکی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ویرہ زمین پر جا گرا۔
“غدار۔۔۔فوج سے ہاتھ ملا کر ہمارے راز کھولے گا تم۔۔۔۔انجام نہیں سوچا اپنا۔۔۔”
اس نے ویرہ کو اپنے پیر سے مارتے ہوئے کہا لیکن ویرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ بس چپ چاپ مار کھا رہا تھا۔آخر کا وہ خود ہی اسے مار کر پیچھے ہو گیا۔
“ہمیں اسے یہاں سے لے جانا چاہیے اس سے پہلے کہ فوج یہاں واپس آ جائے۔۔”
ایک نقاب پوش نے کہا۔
“نہیں۔۔۔یہ غدار ہمارے ساتھ نہیں جائے گا اور اگر فوج واپس آیا تو انہیں بس اسکی لاش ملے گی۔”
اتنا کہہ کر اس نقاب پوش نے اپنی بندوق کی نوک ویرہ کے ماتھے پر رکھ دی۔
“کوئی آخری خواہش۔۔۔۔؟”
“کون ہو تم؟”
ویرہ نے فوراً اپنی آخری خواہش ظاہر کی تو سب نقاب پوش ہنسنے لگے۔
“بھول گئے ہمیں ویرہ تمہارے ہی ساتھی تھے ہم جنہوں نے تمہیں اپنا سردار چنا تمہیں ایسی طاقت سمجھا جو کٹ تو سکتا تھا لیکن جھک نہیں سکتا تھا مگر آج تم جھک گئے ویرہ کمزور نکلے تم بہت کمزور اور کمزور انسان کی ہم میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔”
ویرہ نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پل بھر میں انہیں پہچان گیا۔وہ اسکے ہی ساتھی تھے جو شائید کسی طرح اس حملے سے بچ گئے تھے جو فوج نے کیا تھا اور اب نئے ساتھی بنا کر طاقت ور ہو کر آئے تھے۔
“ٹھیک ہے دے لو سزا معافی کی مجھے چاہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ اپنی آنکھیں موند گیا۔اپنے بچے اور مرجان کا معصوم چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آیا۔انہیں آنکھوں میں بسا کر وہ دنیا سے رخصت ہونے کو تیار تھا۔بندوق کی نوک شدید سختی سے ویرہ کے ماتھے پر رکھی گئی تھی اور پھر گولی چلنے کی آواز فضا میں گونجی۔