Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ویرہ کی بتائی ہر بات سچ ثابت ہوئی تھی۔فوج نے جب اپنے جاسوس ویرہ کے بتائے لوگوں کے پیچھے لگائے تو انہیں اندازہ ہوا کہ وہ لوگ شرافت کی آڑ میں چھپے کیا کالے کارنامے انجام دے رہے تھے۔
جنرل شہیر کے کہنے پر باقی جرنیل کو بھی ویرہ پر یقین ہوا تھا لیکن اتنا نہیں کہ اسے آزاد کر دیتے۔ہو سکتا تھا وہ آزادی پانے کے لیے یہ جان بوجھ کر کر رہا ہو اور پھر آزادی ملتے ہی اسی دنیا میں لوٹ جاتا۔ویسے بھی فوج کے مطابق اسکے گناہ سزا کے قابل تھے معافی کے نہیں۔
پچھلے آٹھ مہینے سے ویرہ اسی کال کوٹھری میں قید تھا۔جو انفارمیشن اس نے جنرل شہیر کو دی تھی اسکے بعد اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔یہاں تک کہ سپاہیوں نے اسے مارا بھی تھا لیکن ہمیشہ کی طرح الفاظ تو دور اسکے ہونٹوں سے ایک آہ بھی نہیں نکلی تھی۔
ابھی بھی وہ اپنی جیل کے فرش پر پڑا تھا۔جسم اس پر مارے جانے والے ڈنڈوں کی تکلیف سے ٹوٹ رہا تھا۔دل دماغ سب کچھ اس وقت اذیت میں تھے۔ویرہ نے اپنی آنکھیں موندیں تو ایک ہنستا مسکراتا چہرہ اسکی نظروں کے سامنے آیا۔
میں اس دل میں اتر چکا ہے اب اگر آپ کو اپنے دل سے ہی جھوٹ بولنا ہے تو بول کے خوش ہوتے رہو لیکن سچ یہی ہے یہاں صرف پر میں بس چکا ہے اور آپ چاہ کر بھی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا۔
مرجان کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی اور اسکا معصوم چہرہ یاد کر وہ اپنی ہر تکلیف بھلا گیا تھا۔ہر اذیت سے غافل ہو گیا تھا اگر کچھ یاد تھا تو صرف اسکی دلِ جاناں۔
“ہاؤ ڈئیر یو ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی کس کے حکم پر تم لوگوں نے اسے جسمانی ریمانڈ دیا۔۔۔”
جنرل شہیر کی آواز پر ویرہ نے اپنی بند آنکھیں کھولیں جو اسکی جیل کے دروازے میں کھڑے اسکے جسم پر موجود زخم دیکھ کر یہ سوال کر رہے تھے۔
“سر وہ۔۔۔برگیڈیر فہد۔۔۔”
“یہاں آرڈر میرا چلے گا سمجھے اور آج کے بعد اسے کوئی میرے حکم کے بغیر ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔۔۔۔”
جنرل شہیر کے حکم پر سپاہی نے ہاں میں سر ہلایا تو جنرل شہیر ویرہ کے پاس آئے۔ویرہ اٹھ کر بیٹھ گیا آٹھ مہینوں سے قید میں رہ کر اسکا حلیہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔داڑھی اور بال کافی بڑھ چکے تھے اور جلد پر سیاہی نمودار ہونے لگی تھی۔
“تمہاری دی گئی ساری انفارمیشن درست نکلی ویرہ۔۔۔۔ہم لوگوں نے سب غداروں کو ثبوتوں کے ساتھ پکڑ لیا ہے اور یہ سب صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔”
جنرل شہیر کی بات پر ویرہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“اور اس سب کا انعام بھی مجھے مل چکا ہے۔”
ویرہ نے اپنے گال پر موجود کٹ کو سہلاتے ہوئے کہا تو جنرل شہیر کو افسوس ہوا لیکن انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔
“راگا تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔امید ہے اسکی بات سننے کے بعد تم ہمارے اور کام آ سکو گے۔۔۔”
جنرل شہیر اتنا کہہ کر جانے کے لیے مڑے۔وہ لائٹ جو جنرل شہیر کے آتے ہی جلائی گئی تھی اب بجھ چکی تھی اور کمرہ ایک بار پھر سے اندھیرے میں ڈوب گیا۔
ویرہ نے آنکھیں موند کر اپنا سر دیوار سے ٹکا دیا۔
“ویرہ۔۔۔”
راگا کی آواز پر ویرہ نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں لیکن راگا ہمیشہ کی طرح اندھیرے میں ہی کھڑا تھا بس ویرہ کے پیچھے دیوار پر موجود چھوٹی سی کھڑکی میں سے ہلکی سی روشنی پھوٹ رہی تھی جو راگا کی چوڑی چھاتی پر پڑ رہی تھی۔
“اب تم مجھ سے کیا پوچھنے آئے ہو مجھے جو بتانا تھا بتا چکا ہوں۔۔۔”
ویرہ نے بے رخی سے کہا۔
“جانتا ہوں اور میں تم سے کچھ پوچھنے نہیں آیا۔۔۔۔بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر بھروسہ رکھو میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔۔”
“بھروسہ۔۔۔۔”
ویرہ قہقہ لگا کر ہنسا۔
“تم کرتے ہو مجھ پر بھروسہ؟؟”
ویرہ کے سوال پر راگا خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔
“ہماری آخری ملاقات میں تم نے مجھے بتایا تھا کہ راگا کا اصلی نام راگھوو تھا یعنی تم راگا نہیں ہو سکتے پھر کون ہو تم؟”
ویرہ نے سیدھے ہوتے ہوئے پوچھا جبکہ دوسری جانب خاموشی قائم رہی تھی۔
“فوجی۔۔۔۔تم ایک فوجی تھے جو راگا بن کر ہمارے درمیان رہ رہے تھے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلا۔۔۔اصلی راگا جیل میں سڑتا رہا اور ہم تمہیں ہی اصلی راگا سمجھتے رہے یا تو تم بہت زیادہ چالاک تھے یا ہم بہت زیادہ بے وقوف۔”
ویرہ نے اپنی مٹھیاں کس کے کہا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟”
اب اس آدمی کی آواز بدل چکی تھی۔وہ راگا کی آواز نہیں تھی بلکہ اس سے بلکل مختلف گھمبیر سی سنجیدہ آواز تھی۔
“مجھے لگتا ہے ہم ہی بے وقوت تھے اور ابھی بھی میں بے وقوف ہی ہوں جو یہ امید لگائے بیٹھا ہوں کہ اسے ایک بار دیکھنے کی آخری چاہ پوری ہو گی۔ہاں بیوقوف ہی ہوں جو ایسے شخص پر بھروسہ کرنے کی سوچ رہا تھا جسے مجھ پر بھروسہ ہی نہیں۔۔۔۔”
ویرہ نے کرب سے اپنی آنکھیں موند کر کہا۔
“فکر مت کرو فوجی مجھے اپنا انجام پتہ ہے کوئی امید نہیں لگا بیٹھا میں۔جانتا ہوں میری سزا کیا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ میں اسی قابل ہوں میرے جیسا ہر درندہ اسی قابل ہے۔۔۔۔”
ویرہ کی آواز میں اپنے لیے بہت زیادہ نفرت چھپی ہوئی تھی۔وہ شخص اپنے کیے ہر گناہ پر پچھتا رہا تھا۔
“جب بھی مجھے پھانسی کے تختے پر لے جانا ہو بتا دینا میں بخوشی چل دوں گا بس۔۔۔۔”
ویرہ ایک پل کو رکا دو آنسو اسکی پلکوں پر ٹھہرے تھے۔
“بس ایک بار مجھے اسے دیکھا دینا بس دور سے ہی پھر شائید سکون ہے مر جاؤں۔۔۔”
ویرہ اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا اور اندھیرے میں کھڑا وہ ہیولا بہت دیر وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا۔
‘تم غلط ہو ویرہ۔۔۔”
اس بات پر ویرہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا لیکن اسکے ہیولے کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔اچانک ہی وہ آدمی اسکے پاس آیا اور زرا سا جھکا۔
سلاخوں سے آنے والی روشنی اسکے چہرے پر گری تھی اور ویرہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔اسکی بس آنکھیں راگا سے ملتی تھیں باقی چہرہ اس سے الگ تھا لیکن اسکے باوجود وہ خود کو راگا بنا گیا تھا۔
“مجھے تم پر بھروسہ ہے دوست۔میجر عماد بنگش کو تم پر پورا بھروسہ ہے اور میں تمہیں اتنی آسانی سے مرنے نہیں دوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں اس راہ پر تم چلے نہیں تھے تمہیں چلایا گیا تھا اور اب سیدھی راہ پر تمہیں میں چلاوں گا عبداللہ سجاد میر۔۔۔”
اتنا کہہ عماد اس سے دور ہوا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ ویرہ حیرت سے وہیں بیٹھا اسکی باتوں پر غور کرتا رہا۔عماد نے ابھی بہت بڑا اصول توڑا تھا اسے اپنی پہچان کسی کو بتانے کی اجازت نہیں تھی یہ بات ویرہ بھی جانتا تھا لیکن پھر بھی وہ یہ اصول توڑ گیا تھا تو کیا اسکا یہی مطلب تھا۔
میجر عماد بنگش کو ویرہ پر بھروسہ تھا لیکن شائید وہ نہیں جانتا تھا کہ ویرہ کو ہی اب خود پر بھروسہ نہیں تھا۔آزادی یا سزا دونوں ہی اس پچھتاوے اور احساس گناہ کو نہیں مٹا سکتی تھیں جو اسکو اندر ہی اندر سے نگل رہا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
“سر آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں۔اسے قید میں رکھنا یا سزا دینے سے ہمیں کوئی فایدہ نہیں ہو گا بلکہ ہمیں اسکی سکلز سے فائیدہ اٹھانا چاہیے۔۔۔۔”
عماد نے اپنے سامنے بیٹھے جنریل سے کہا۔کافی جدوجہد ہے بعد اس نے اپنے بابا جنرل شہیر کو اس میٹنگ کے لیے آمادہ کیا تھا۔
“میجر عماد آپ جانتے ہیں ناں آپ کیا کہہ رہے ہیں وہ دہشتگرد جس نے ہمارے ملک و قوم کو نقصان پہنچایا ہماری عوام کی موت کا سبب بنا آپ اسے نہ صرف آزاد کرنے بلکہ فوج میں شامل کرنے کا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔”
ایک جنرل نے زرا سختی سے کہا تو عماد سرد آہ بھر کر رہ گیا۔
“یہ بات میں نے راگا کی باری تو نہیں کہی تھی سر بلکہ اسے قید میں رکھ کر خود اسکی جگہ گیا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ راگا کسی قسم کر رحم کے قابل نہیں لیکن ویرہ۔۔۔۔وہ اس سے مختلف ہے۔۔۔۔”
“کیسے؟”
ایک جنرل نے سنجیدگی سے پوچھا تو عماد نے انکی جانب دیکھا۔
“وہ سجاد میر کا بیٹا ہے سر اور آپ بھی جانتے ہیں انکی فیملی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔۔۔ایسے میں وہ ان لوگوں کے ہاتھ لگ گیا جنہوں نے اس کے ساتھ ہوئے ظلم کو استعمال کر کے اس کے دل میں نفرت پیدا کی۔ایسی سچوئیشن میں اسکی جگہ اگر میں یا آپ لوگ بھی ہوتے تو ہم بھی آج ویرہ کی جگہ پر ہوتے۔۔۔”
عماد کی بات پر سب جنرل نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
“لیکن اب اسے احساس ہو چکا ہے کہ وہ غلط تھا وہ جانتا ہے جس راہ پر وہ چلا وہ صحیح نہیں تھی اور کیا جب ایک بھٹکا ہوا راہ راست پر آ جائے تو اسے معافی کی جگہ سزا دی جاتی ہے؟”
عماد نے سب کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“سر ہمارا دین بھی ہمیں معاف کرنا اور موقع دینا سیکھاتا ہے۔۔۔”
عماد نے اپنے دلائل پیش کیے تو ایک جنرل نے گہرا سانس لیا اور کرسی پر آگے ہو کر بیٹھے۔
“دیکھیں میجر آپ کو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہم اتنا بڑا فیصلہ صرف جزبات کی بناہ پر نہیں لے سکتے۔اسے خود کو ثابت کرنا ہو گا پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔۔۔۔”
انکی بات سمجھ کر عماد نے اثبات میں سر ہلایا اور انہیں سیلیوٹ پیش کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔باہر ہی امان کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا۔
“کیا بنا سر؟”
امان کے پوچھنے پر عماد نے انکار میں سر ہلایا۔
“اتنا آسان نہیں ہے سر جو آپ کہہ رہے ہیں وہ چھوٹی بات نہیں۔فوجی عدالت کے مطابق بھی ویرہ کو عمر بھر کی قید کی سزا سنائی جا چکی ہے وہ بھی تب تک جب تک اس سے ساری معلومات مل نہ جائے اسکے بعد فوجی عدالت کا کیا فیصلہ ہو گا آپ اس سے واقف ہیں۔۔۔۔”
امان کی بات پر عماد نے ہاں میں سر ہلایا اور اپنا ماتھا ہاتھ میں تھام کر سہلانے لگا۔
“کیپٹن امان۔۔۔”
“یس سر؟”
“تمہیں میں کیسا فوجی لگتا ہوں؟”
عماد کے سوال پر پہلے تو امان حیران ہوا پھر مسکرا دیا۔عماد باہر کی جانب جانے لگا تو امان بھی اسکے پیچھے پیچھے چل دیا۔
“سچ کہوں تو پہلے آپ کے بارے میں کچھ جانتا نہیں تھا پھر مجھے پتہ چلا کہ ہمیں ایک سر پھرے ایجنٹ کو بچانے کے مشن پر جانا ہے جو خود مشہور دہشتگرد بن کر انکی نگری میں گیا ہوا تھا اور اب اصلی دہشتگرد جیل سے بھاگ چکا تھا تو ہمیں آپ کو ریسکیو کرنا تھا اس سے پہلے کہ وہ وہاں پہنچ پاتا۔”
امان کی بات پر عماد مسکرا دیا۔
“پھر جب آپ کو اصلی راگا کی لاش اپنے کندھے پر ڈال کر لاتے دیکھا تو بس آپ کا فین ہو گیا سوچا کہ آپ کے جیسا بہادر بننا ہے۔۔۔”
امان نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا تو عماد ہنس دیا۔
“اسے میں نے نہیں میری بہادر بیوی نے مارا تھا۔۔۔”
یہ بات کہتے ہوئے عماد کی آنکھوں میں ایک چمک آئی تھی پھر وہ خود کو سنسان جگہ پر پا کر امان کی جانب مڑا۔
“مجھ پر بھروسہ کرتے ہو ؟”
“آف کورس آر پوچھنے کی بات ہے۔۔”
امان نے پورے یقین سے جواب دیا۔
“پھر ایک مشن میں میرا ساتھ دو گے؟”
امان نے فوراً ہاں میں سر ہلایا۔
“لیکن یہ جان لو کیپٹن وہ مشن نہیں بلکہ قانون کو ہاتھ میں لینا ہے اگر پکڑے گئے تو ہو سکتا ہے کہ نوکری تو جائے ہی جائے ساتھ ہی غداری کا الزام لے کر ہم بھی جیل میں جائیں۔۔۔”
عماد نے اتنا ڈراؤنا نقشہ کھینچا کہ امان اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔
“سوچ لو دو گے میرا ساتھ؟”
عماد کے پوچھنے پر امان نے کچھ دیر سوچ کر ہاں میں سر ہلایا۔
“جب میں نے کہا تھا کہ آپ پر بھروسہ ہے تو ہے۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں سر۔۔۔”
عماد امان کی بات پر مسکرایا اور اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
“اچھے آفسر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی ہو تم امان۔۔۔”
امان اپنی تعریف پر چھاتی چوڑی کر کے مسکرایا۔
“شادی شدہ ہو؟”
“نو سر۔۔۔”
امان نے فوراً جواب دیا تو عماد ہنس دیا۔
“کیوں؟”
عماد نے حیرت سے پوچھا۔دیکھنے میں امان چوبیس سے پچیس سال کا انتہائی خوبرو جوان تھا۔
“بس سر ایک نیلی آنکھوں والی گڑیا پسند آ گئی ہے اب اسکے علاوہ کوئی لڑکی آنکھ کو بھا ہی نہیں رہی۔۔”
امان کا جواب عماد کو ہنسنے پر مجبور کر گیا۔
“تو اسی گڑیا سے کر لو شادی۔۔۔”
امان کے ہونٹوں کو شرمیلی سی مسکراہٹ نے چھوا۔
“ابھی بہت زیادہ چھوٹی ہے وہ سر بس انتظار کر رہا ہوں تھوڑی سی بڑی ہو جائے تو اسکے بھائی سے مانگ لوں اسے۔۔۔”
امان نے عماد کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی بات کا مطلب سمجھ کر عماد کا چہرہ خوشی سے کھل گیا۔
“اس بھائی کو تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا البتہ اسکا ایک اور کافی خطرناک سا بھائی ہے جو تب تک جیل سے بھی باہر آ جائے گا اسکے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔۔”
عماد نے کندھے اچکا کر شرارت سے کہا۔
“ایک بھائی شیشے میں اتار لیا ہے دوسرا بھی اتار لوں گا۔۔۔”
امان نے ایک آنکھ دبا کر کہا تو عماد قہقہ لگا کر ہنس دیا۔اس نے جب مرجان اور اسکے گھر والوں کی زمہ داری اٹھائی تھی تو وہ کافی ڈرا ہوا تھا کہ نہ جانے انکا خیال رکھ بھی پائے گا یا نہیں لیکن آج اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکا آدھا بوجھ اتر گیا ہو۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا شائید آدھی رات ہو رہی تھی۔ویرہ اپنی کال کوٹھری میں موجود بستر پر لیٹا تھا۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ویسے بھی وہ بہت کم ہی سو پاتا تھا۔
اچانک ہی اپنی کوٹھری کے باہر ہونے والے ہلکے سے شور پر ویرہ حیرت سے اٹھ بیٹھا پھر اسکی کوٹھری کا دروازا کھلا اور ایک ہیولا کوٹھری میں داخل ہوا۔
“کون ہو تم؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا لیکن وہ ہیولا خاموشی سے اسکے پیروں اور گلے سے زنجیر ہٹانے لگا لیکن اسکے ہاتھوں کی زنجیر نہیں ہٹا پایا جو کہ ایک چابی سے کھلنی تھی۔
“چلو ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔”
ویرہ فوراً ہی عماد کی آواز پہچان گیا۔
“پاگل ہو گئے ہو تم عماد بنگش میرے لیے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لے رہے ہو؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا۔
“سب پتہ لگ جائے گا بس تم میرے ساتھ چلو۔۔۔”
عماد نے اسکے زنجیر میں بندھے ہاتھ پکڑے اور اسے کوٹھری سے باہر لے آیا جہاں ایک فوجی بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
“سب سیٹ ہے امان؟”
عماد کے سوال پر اس فوجی نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
“یس سر۔۔۔”
“کیمرے ؟”
عماد نے دوسرا سوال پوچھا۔
“بند کر چکا ہوں سر۔۔۔”
عماد نے ہاں میں سر ہلایا اور ویرہ کو لے کر وہاں سے جانے لگا۔امان یہاں وہاں دیکھتا اسکے پیچھے چل دیا۔جو پہرے دار وہاں موجود تھے امان انہیں نیند کی دوائی کھانے میں ملا کر دے چکا تھا اور اب وہ گہری نیند سو رہے تھے۔
عماد نے ویرہ کو لا کر گاڑی میں بیٹھانا چاہا لیکن ویرہ نے اپنا سر انکار میں ہلا دیا۔
“نہیں فوجی میں بھاگنے والوں میں سے نہیں۔۔۔”
ویرہ کی سنجیدگی سے کہی بات پر عماد مسکرا دیا۔
“فکر مت کرو ہمیشہ کے لیے نہیں بھگا رہا صبح واپس قید میں ڈال دوں گا لیکن ابھی میرے ساتھ چلو وعدہ کرتا ہوں دعائیں دو گے۔۔۔”
عماد کی بات پر ویرہ کے ماتھے پر بل آئے لیکن وہ چپ چاپ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔امان نے پیسنجر سیٹ سنبھالی اور عماد گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
“جھک کر سیٹ کے پیچھے چھپ جاؤ۔۔۔”
عماد نے جیل کے دروازے پر کھڑے سپاہیوں کو دیکھتے ہوئے کہا تو ویرہ فوراً سیٹ کے پیچھے چھپ گیا۔
“کیپٹن آپ اس وقت یہاں؟”
ایک سپاہی نے امان کے چہرے پر لائٹ مار کر پوچھا۔
“ہاں بس مجھے فارغ ہوتے زرا دیر ہو گئی تھی۔”
امان کی بات پر سپاہی نے اثبات میں سر ہلایا اور لائٹ عماد کے چہرے پر ماری۔
“یہ کون ہے سر؟”
“میں ڈرائیور سوری سر یونیفارم بھول گیا۔۔”
عماد نے معصوم سا منہ بنا کر کہا تو سپاہی نے اثبات میں سر ہلایا اور انہیں جانے کی اجازت دی۔امان نے شکر کا سانس لیا اور سیٹ کے پیچھے چھپے ویرہ کو دیکھا۔
“باہر آ جاؤ۔۔۔”
ویرہ خاموشی سے سیدھا ہو کر سیٹ پر بیٹھ گیا۔
“تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو عماد۔۔۔
جواب دو۔۔۔۔”
ویرہ کے سختی سے پوچھنے پر عماد مسکرا دیا۔
“چل یار لڑکی نہیں ہو تم جسکو کڈنیپ کر کے اسکا فایدہ اٹھا لوں گا۔۔۔”
عماد کے مزاق پر امان ہنس دیا۔تھوڑی دیر کے بعد ہی گاڑی ایک ہسپتال کے باہر رکی اور عماد امان کی جانب مڑا۔
“سیکیورٹی کیمراز سب ہینڈل کرو۔۔۔”
امان اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا اور ویرہ نے پریشانی سے عماد کو دیکھا۔
“کیا ہوا ہے کیوں لائے ہو تم مجھے یہاں؟”
ویرہ کے لہجے میں بے پناہ فکر تھی۔اسکا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔کیا سب ٹھیک تو تھا کیا وہ تو ٹھیک تھی؟
بہت سے وسوسے ویرہ کے دل میں آ رہے تھے لیکن عماد نے کوئی جواب نہیں دیا۔تھوڑی دیر کے بعد امان وہاں پر آیا۔
“سب سیٹ ہے سر۔۔۔”
عماد گاڑی سے نکلا اور اس نے ویرہ کو بھی گاڑی سے نکالا۔امان نے اپنی گھڑی کو دیکھا اور پھر وہاں کی لائٹ چلی گئی اور پورا ہسپتال اندھیرے میں ڈوب گیا۔
“سیدھا جا کر لیفٹ کاریڈور سے تیسرا کمرہ ہے سر۔۔۔۔لائٹ پانچ منٹ میں آ جائے گی۔”
عماد نے اثبات میں سر ہلایا اور ویرہ کو لے کر ہسپتال میں داخل ہو گیا۔اندازے سے اندھیرے میں چلتے وہ اس کمرے میں گیا جو امان نے بتایا تھا۔کمرے میں پہنچ کر عماد نے گھڑی کی جانب دیکھا اور پھر پورے دو منٹ کے بعد لائٹ دوبارہ آن ہو گئی۔
روشنی کے ہوتے ہی ویرہ کی پہلی نظر مرجان پر پڑی جو بے ہوش حالت میں ہسپتال کے بستر پر پڑی۔اسے یوں بے سدھ پڑا دیکھ کر ویرہ کے دل کی دھڑکن ایک پل کو رکی تھی۔اسکا خدشہ سہی تھا اسکی بیوی کو کچھ ہوا تھا۔
ویرہ پریشانی سے اسکے پاس جانے لگا لیکن تبھی وہ راستے میں پڑے ایک پنگھوڑے سے ٹکرایا۔ویرہ نے نظریں جھکا کر دیکھا تو اسے لگا کہ اسکے دل کو کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
اس پنگھوڑے میں ایک ننھا سا وجود سو رہا تھا۔وہ گلابی سا چھوٹا سا وجود ویرہ سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اسے اپنی باہوں میں لے لے۔
اسے یونہی بت بن کر اس بچے کو تکتا ہوا دیکھ کر عماد نے اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“خدا نے تمہیں بیٹے سے نوازا ہے میرے دوست بہت بہت مبارک ہو تمہیں۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے پلٹ کر عماد کو دیکھا تو عماد نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔دو آنسو ویرہ کی پلکوں سے ہو کر گالوں پر بہے اور اس نے مڑ کر اس چھوٹی سی جان کو دیکھا جو اسکا بیٹا تھا۔
“میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ہمارے پاس آدھا گھنٹا ہے اسکے بعد میں تمہیں لینے آؤں گا۔۔۔۔”
عماد کی بات پر ویرہ نے نظریں اٹھا کر مرجان کو دیکھا جو شائید کافی گہری نیند میں تھی۔
“معاف کرنا دوست کسی کو بھی تمہارے باہر ہونے کا پتہ نہیں چلنے دے سکتے تھے ورنہ بہت مسلہ ہو جاتا اس لیے اسے بے ہوش کرنا پڑا۔”
ویرہ نے سمجھ کر ہاں میں سر ہلایا تو عماد کمرے سے باہر نکل گیا۔ویرہ نے پھر سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھا جو کمبل میں لپٹا گہری نیند سو رہا تھا۔
ویرہ کی آنکھوں سے کتنے ہی آنسو ٹوٹ کر اس بچے پر گرے تھے۔باپ ہونے کی خوشی کیا ہوتی ہے اسکا احساس ویرہ کو ہو رہا تھا۔
ویرہ نے جھک کر اسے اپنی باہوں میں لینا چاہا لیکن اپنے ہاتھوں پر لگی زنجیر دیکھ کر اسکے ہاتھ وہیں رک گئے۔
کاش ہر گناہ گار گناہ کرنے سے پہلے اپنوں کے بارے میں سوچ لیتا کاش وہ یہ سوچ لیتا کہ اسکے ہاتھوں کی بیڑیاں اسے اسکے ہر رشتے سے چھین لیں گیں۔اگر وہ ایسا سوچ لیتا تو گناہوں سے بچ جاتا اور اپنوں سے دور ہونے سے بھی۔
ویرہ نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنے بیٹے کو اٹھایا اور پھر اسے اپنے سینے لگا لیا۔اپنے خون کی کشش کو محسوس کر ویرہ کی بس ہوئی تھی۔وہ بچے کو سینے سے لگائے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور سسک سسک کر رو دیا۔
کاش وہ ویرہ نہ ہوتا کاش وہ عبداللہ ہوتا تو آج اسکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو ہوتے۔کاش اسکے پیروں میں گناہوں کی بیڑیاں نہ ہوتیں کاش۔۔۔۔
ویرہ نے اپنے بچے کا چہرہ سینے سے نکالا اور اسے چٹا چٹ چوم ڈالا۔اسکی گھنی مونچھوں اور داڑھی کی چبھن شائید اس نازک سی جان کو پسند نہیں آئی تھی اسی لیے اس نے منہ بنایا اور رونے لگا۔
ویرہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔اور اسکی پیٹھ تھپتھپا کر اسے دلاسہ دینے لگا۔کچھ ہی دیر میں وہ دوبارہ سو چکا تھا۔ویرہ کی نظر مرجان پر گئی تو اسے باہوں میں تھامے مرجان کے پاس آیا اور اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“دیکھو ناں تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی اور میں ہی تمہارے ساتھ نہیں۔۔۔۔”
ویرہ نے مرجان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے محبت سے کہا۔
“اسی دن سے ڈرتا تھا میں دلِ جاناں نہیں جوڑنا چاہتا تھا کسی کو اپنے ساتھ۔”
ویرہ نے کرب سے کہتے ہوئے اپنا ماتھا مرجان کے ماتھے سے ٹکایا۔
“اب دیکھو خود کے ساتھ ساتھ تمہیں اور اسے دونوں کو برباد کر دیا۔۔۔۔”
ویرہ نے اپنے سینے کی جانب دیکھ کر کہا جہاں اسکا بیٹا گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا۔
“کوئی مجھ سے پوچھے دلِ جانان میں تمہارے اور اسکے ساتھ جینے کے لیے کیا نہیں کر سکتا۔۔۔۔ننگے پیر جلتے انگاروں پر چل جاؤں۔۔۔۔”
ویرہ نے کرب سے کہا۔بہت سے آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر مرجان کے چہرے پر گرے۔
“لیکن اب میں کچھ نہیں کر سکتا میرے گناہ میرے پیروں کی زنجیر بنے بیٹھے ہیں۔۔۔”
ویرہ نے اپنی آنکھیں موند لیں۔
“اب میرے گناہوں کی سزا یہی ہے کہ زندگی تم دونوں کے لیے تڑپ تڑپ کر اس کال کوٹھری میں گزاروں اور آخرت۔۔۔۔”
آخرت کا سوچ کر ویرہ کے جسم کے ساتھ ساتھ اسکی روح تک کانپ گئی تھی۔
“اور آخرت میں تم دونوں کو جنت کی راہ پر چلتا دیکھ خود جہنم کی جانب مڑ جاؤں۔۔۔”
ویرہ کی آواز میں بہت تڑپ بہت زیادہ کرب تھا اسکی پکڑ اسکے بیٹے پر مظبوط ہوئی۔
“مجھے کوئی معاف نہیں کرے گا دلِ جاناں نہ یہ دنیا اور نہ ہی اللہ۔۔۔۔میرے گناہوں نے مجھے معافی کے قابل چھوڑا ہی نہیں۔۔۔”
ویرہ کے آنسو متواتر اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔
“تم دونوں کی دنیا میں میری کوئی جگہ نہیں نہ اس جہان میں نہ ہی اس جہان میں۔”
ویرہ نے اپنے ہونٹ مرجان کے ماتھے سے ٹکا دیے۔دل تھا کہ تڑپ تڑپ کر کہہ رہا تھا کہ وقت تھم جائے یہ پل کبھی ختم نہ ہوں،وہ اپنے سکون سے کبھی جدا نہ ہو لیکن وقت بھی کبھی کسی کے لیے رکا ہے کیا۔
عماد نے ہلکا سا دروازہ کھٹکٹایا اور اسکی آواز باہر سے ویرہ کو آئی۔
“بس پانچ منٹ اور عبداللہ۔۔۔”
عماد کی آواز پر اس نے گہرا سانس لیا اور اٹھ کر اپنے بیٹے کو واپس اسکے پنگھوڑے میں ڈالا۔ایک آخری نگاہ اپنے معصوم بچے کے چہرے پر ڈال کر ویرہ نے اپنے ہونٹ اسکے ماتھے پر رکھے۔
ایک بار پھر سے بیت سے آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ویرہ اس سے دور ہو کر مرجان کے اس آیا اور ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کو چھوا۔
“الوداع میری دلِ جاناں ہو سکے تو بھول جانا اپنے باچا کو اسکی یاد تمہیں تکلیف کے سوا کچھ نہیں دے گی۔”
اتنا کہہ کر ویرہ اسکے ماتھے پر جھکا اور نرمی سے اپنے ہونٹ اس پر رکھے۔بہت سے آنسو مرجان کے چہرے پر گرے جن کو محسوس کر مرجان کی پلکوں میں جنبش ہوئی تھی اس نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں اور اسکی دھندلاتی نظر ویرہ پر پڑی۔
“زما باچا۔۔”
مرجان نے ہلکی سی سرگوشی کی تو ویرہ نے تڑپ کر اسے دیکھا لیکن شائید وہ ابھی بھی اپنی دوائی کے زیر اثر ہی تھی۔
“میرے پاس واپس لوٹ آئیں زما باچا آپ کی مرجان مر جائے گی آپ کے بنا۔۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان دوائی کے زیر اثر پھر سے گہری نیند میں ڈوب گئی جبکہ اسکے الفاظ ویرہ کو پتھر کا کر چکے تھے۔خود سے کی جانے والی نفرت مزید بڑھ گئی تھی۔
آخر کیوں گناہگار خود سے جڑے رشتوں کا نہیں سوچتا۔ایک گناہ سے وہ جتنا برباد اپنے دشمن کو کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ برباد خود کو بھی تو کر لیتا ہے جیسے ویرہ خود کو تباہ و برباد کر چکا تھا۔
ویرہ نے کرب سے اپنی آنکھیں موندیں اور تبھی ہسپتال کی لائٹ پھر سے چلی گئی۔عماد کمرے میں آیا اور ویرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گیا۔
اسے گاڑی میں بیٹھا کر وہ واپس جانے لگے۔سارا راستہ ویرہ ایک خاموش بت بنا بیٹھا رہا تھا۔وہ لوگ جیسے تیسے ویرہ کو سب سے چھپ چھپا کر کال کوٹھری میں واپس لے آئے تھے۔
عماد نے پھر سے ویرہ کو اسکی زنجیریں پہنائیں اور وہاں سے جانے لگا۔
“فوجی۔۔۔۔”
ویرہ کی آواز پر عماد نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“یہ دہشتگرد تمہارا احسان کبھی نہیں بھولے گا۔۔۔”
ویرہ کی بات پر عماد ہلکا سا مسکرا دیا۔
“یہ ایک فوجی کا دہشتگرد پر احسان نہیں بلکہ میرا ایک انسان ہونے کے ناطے فرض تھا۔۔۔ایک مجرم گناہ گار بھی انسان ہی ہوتا ہے ویرہ بس اسے ایک انسان سمجھنے کی دیر ہے۔۔۔ “
ویرہ نے کرب ناک آنکھوں سے اسکی جانب دیکھنا چاہا لیکن اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آیا۔
“تم بہت عظیم ہو عماد بنگش۔۔۔”
ویرہ کی بات پر عماد مسکرا دیا۔
“اور تمہیں بھی اپنے جیسا عظیم بناؤں گا عبداللہ میر۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر عماد وہاں سے چلا گیا اور ویرہ دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا۔اسکی بیوی اور بچے کا چہرہ اسکے دل میں سکون بن کر دوڑ رہا تھا۔
“ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میرے گناہوں کی کوئی معافی نہیں۔۔۔یہ دنیا مجھے معاف بھی کر دے میرا رب نہیں کرے گا۔”
ویرہ نے اوپر کو دیکھتے ہوئے کہا اور اپنی آنکھیں موند گیا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکا رب رحمان ہے وہ تو پچھتانے پر منکروں کو بخش دے تو وہ کیا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
