Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Part 2

اگلے دن راگا نے اپنے نکاح کی خوشی میں ایک جشن کا انتظام کیا تھا۔وہ جشن ہی راگا کا ولیمہ تھا اور مرجان کو اسی موقعے کا انتظار تھا۔جب سب آدمی جشن میں مصروف ہو گئے تو مرجان نے وانیا کو ایک ٹوپی برقع پہنا کر دلاور کے ساتھ بھیج دیا۔
مردوں کا انتظام باہر کھلے میدان میں جبکہ عورتوں کا ایک گھر میں کیا گیا تھا۔اور اب مرجان پریشانی سے اس گھر کے کمرے میں ٹہلتی بس یہ دعا کر رہی تھی کہ وانیا اپنی منزل پر صحیح سلامت پہنچ جائے۔الماس کی نگاہ ہنوز مرجان پر تھی اور وہ بھی اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
کچھ دیر بعد باہر سے شور کی آواز پر مرجان گھبرا کر کھڑکی کے پاس گئی لیکن وانیا کو کال کی گرفت میں جھٹپٹاتا دیکھ اس نے سرد آہ بھری۔یعنی وہ پھر سے ناکام ہو گئے تھے۔
کال نے وانیا کو راگا کے قدموں میں پھینکا جا پر راگا نے خطرناک نگاہیں اٹھا کر کال کو دیکھا۔
“اس کو تم پکڑ کے لایا؟”
راگا کے پوچھنے پر کال نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں راگا۔۔۔۔”
“او تم تو کمال ہے مانا،تمہیں تو انعام ملنا چاہیے۔۔۔۔”
راگا اٹھ کر کال کے قریب آیا اور اسکا دائیاں ہاتھ تھام لیا۔لیکن پھر راگا نے اپنی کمر کے پاس سے چاقو نکالا اور اسے پوری طاقت سے کال کے ہاتھ پر دے مارا۔کال کا ہاتھ کٹ کر زمین پر گرا تھا۔اس خوفناک منظر اور کال کی دردناک چیخوں پر مرجان کا دل حلق کو آیا اور وہ کھڑکی سے دور ہو گئی۔
“کہا تھا نا اسے پھر سے چھوا تو کچھ چھونے کے قابل نہیں رہے گا اب اسکے بارے میں سوچا بھی نا تو اس ہاتھ کی جگہ تیرا دماغ زمین پر ہو گا ۔۔۔۔”
راگا کی آواز میں موجود جنون کو محسوس کر مرجان حیران رہ گئی۔کیا راگا وانیا سے اس قدر محبت کرتا تھا کہ اسکو صرف چھونے پر اتنی بڑی سزا دے دی۔
“”یہ لڑکی راگا کا ملکیت ہے، جنون ہے یہ راگا کا اسکو چھونا تو دور کسی نے اسے نظر بھر دیکھا بھی تو راگا اسکا آنکھیں نوچ لے گا۔۔۔۔۔هغه زما ده۔”(وہ میری ہے)
راگا کی اونچی آواز اس جگہ گونجی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ کچھ آدمی کال کو اٹھا کر اسکے گھر لے گئے تھے اور راگا نے مرجان کو بلا کر اسکے ساتھ وانیا کو اپنے گھر بھجوا دیا تھا۔
وہاں جو کچھ بھی ہوا تھا اس کے زیر اثر وانیا ابھی بھی خوف سے کانپ رہی تھی۔مرجان نے اسے اپنے گلے سے لگا کر دلاسہ دنیا چاہا تو وانیا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“مجھے یہاں نہیں رہنا مرجان۔۔۔۔
نہیں رہنا۔۔۔۔ مجھے میرے بابا کے پاس جانا ہے مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔”
وانیا نے زارو قطار روتے ہوئے کہا تو مرجان اسکی کمر سہلانے لگی۔
“ڈرو مت وانیا۔۔۔۔راگا لالہ تم سے عشق کرتا ہے وہ تمہارا خیال رکھے گا وہ تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دے گا۔”
مرجان نے اسے سمجھایا لیکن وانیا نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں چاہیے مجھے انکا عشق،،،،کچھ نہیں چاہیے مجھے،،،،مجھے بس یہاں سے جانا ہے،،،جانا ہے یہاں سے،،،،”
وانیا اتنا کہہ کر سسک سسک کر رو دی اور مرجان اسے بس دلاسہ دینے کی کوشش کرتی رہی۔شام تک وہ وانیا کے پاس ہی رہی تھی۔پھر جب راگا گھر میں آیا تو مرجان اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
مرجان گھر پہنچی تو اسکی نظر ویرہ پر پڑی جو گھر کی دہلیز پر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔مرجان اسے دیکھ کر گھبرائی تھی نہ جانے وہ اب اسے کیا سزا دیتا۔
ویرہ خاموشی سے اٹھ کر مرجان کے پاس آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔مرجان کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ ویرہ اب اسکے ساتھ کیا کرے گا۔
“تمہیں سمجھایا تھا ناں کہ پھر سے کوئی بیوقوفی مت کرنا لیکن تم نے پھر سے وہی کیا۔”
ویرہ نے سنجیدگی سے کہا تو مرجان سر جھکا کر اپنی انگلیاں چٹخانے لگی۔
“میں نے اسے نہیں بھگایا۔۔۔نہ میں اسکے ساتھ گیا۔۔۔”
مرجان کی بات پر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“ہاں لیکن دلاور کو اپنی جگہ بھیجا۔۔۔۔”
مرجان نے گھبرا کر ویرہ کو دیکھا۔
“لالہ کا کوئی غلطی نہیں ہے انہوں نے بس میرا بات مانا آپ انہیں کوئی سزا نہ دینا مجھے دے لیں ہر سزا۔۔۔”
مرجان نے ویرہ کے پاس آ کر بے چینی سے کہا تو ویرہ نے گہرا سانس لے کر اپنے ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھے۔
“دیکھو مرجان جس دنیا میں ہم رہتے ہیں یہاں ہم چاہ کر بھی کسی کا احساس نہیں کر پاتے۔چاہے خطا کرنے والا ہمارا اپنا ہی کیوں ناں ہو ہمیں اسے سزا دینی پڑتی ہے۔”
مرجان نے اس بات پر اپنا سر جھکا لیا جبکہ آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔
“میں بس اپنا دوست کا مدد کرنا۔۔۔”
“جانتا ہوں لیکن اسکے لیے خود اور اپنے گھر والوں کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی نہیں بے وقوفی ہے یقین کرو اس دنیا میں سب سے پہلے بس اپنوں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔”
ویرہ کی بات کو سمجھ کر مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“امید کرتا ہوں پھر سے مجھے یہ بات تمہیں نہیں سمجھانی پڑے گی۔تم مجھے سختی کرنے کا اب کوئی موقع نہیں دو گی؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“وعدہ۔۔۔”
ویرہ اثبات میں سر ہلا کر اس سے دور ہوا۔
“آ۔۔۔۔آپ لالہ کو سزا تو نہیں دیں گے ناں۔۔۔؟”
مرجان نے سہم کر پوچھا تو ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“فلحال اس بات کو میں نے اور راگا کے دبا دیا ہے لیکن پھر کبھی اپنی بیوقوفی میں دلاور یا گل کو شامل مت کرنا تم نہیں چاہو گی تمہاری وجہ سے انہیں سزا ملے۔”
مرجان نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا۔ویرہ نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اس وقت وہ گلابی اور پیلے رنگ کے لباس میں ملبوس تھی اور ویرہ کو اس سے نظریں ہٹانا دنیا کا مشکل ترین کام لگ رہا تھا۔
“میں کل راگا کے ساتھ کسی کام سے جا رہا ہوں ہو سکتا ہے واپس آنے میں وقت لگ جائے۔”
ڈیڑھ سال کی شادی میں ویرہ نے اسے پہلی بار کہیں جانے سے پہلے بتایا تھا اور اسکے دور جانے کے خیال سے مرجان کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔
“کب واپس آئیں گے؟”
مرجان نے بے چینی سے پوچھا۔
“پتہ نہیں ہو سکتا ہے چار سے پانچ دن لگ جائیں۔۔۔”
ویرہ نے کندھے اچکا کر کہا تو مرجان نے ہاں میں سر ہلایا لیکن چہرے پر افسردگی واضح تھی۔مرجان خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی لیکن سوچوں کا مرکز بس اسکا شوہر تھا۔
اسے تو لگا تھا کہ مرجان کی اس حرکت پر وہ اسے سزا دے گا لیکن اسکا اسکے بھائی کی حفاظت کرنا اور اسے یوں نرمی سے سمجھانا مرجان کے دل کو لگا تھا۔
اس نے سونے کی بہت کوشش کی لیکن اسکے شوہر کا خیال اسے سونے ہی نہیں دے رہا تھا۔آخر کار وہ اٹھی اور دوپٹہ اپنے کندھوں پر پھیلا کر ویرہ کے کمرے کی جانب چل دی۔دروازہ کھول کر وہ کمرے میں آئی تو نظر ویرہ پر پڑی جو آنکھوں پر بازو رکھے سو رہا تھا۔
مرجان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پاس آئی اور زرا سا جھک کر اپنا ہاتھ اسکے مظبوط بازو پر رکھا۔
“باچا۔۔۔۔”
ویرہ جس کی آنکھ کچھ دیر پہلے ہی لگی تھی اس نے فوراً اپنی آنکھوں سے ہاتھ اٹھا کر اسے دیکھا۔ریشمی بال کھلے ہونے کی وجہ سے اسکے گرد بکھرے تھے اور اسکے قریب جھکی وہ ویرہ کا دل دھڑکا رہی تھی۔
“مت جائیں باچا آپ کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگے گا”
مرجان نے نم آنکھوں سے کہا۔ویرہ کو پہلے ہی اسکا وجود مدہوش کرتا تھا اب رات کے اس پہر اسے اپنے اتنا قریب دیکھ کر وہ اپنے دل اور اپنے جزبات کے سامنے ہار چکا تھا۔
اس نے مرجان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے جھٹکے سے کھینچ کر خود پر گراتے ہوئے اپنی باہوں میں لے لیا۔
“باچا۔۔۔۔”
مرجان نے گھبرا اسکے سینے پر ہاتھ رکھے تھے۔اسکے بال گھنی آبشار کی مانند دونوں کے گرد پھیل گئے اور انکی بھینی خوشبو نے ویرہ کے جزبات کو مزید بے چین کیا تھا۔ویرہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے سے بال ہٹائے اور جان لٹاتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“تم بہت حسین ہو زمہ مینہ بہت زیادہ حسین تمہارے بال،تمہارا یہ معصوم چہرہ،تمہارا کردار سب بہت حسین ہے۔۔۔”
ویرہ نے گھمبیر آواز میں کہنے پر مرجان نے گھبرا کر اسے دیکھا۔
“میں تمہارے قابل نہیں دلِ جاناں نہ صورت سے،نہ کردار سے،تم ہر لحاظ سے مجھ سے افضل ہو۔۔۔۔میں تمہارے قابل نہیں میری جان۔۔۔”
ویرہ نے اسکا چہرہ نرمی سے سہلاتے ہوئے سرگوشی کی۔
“لیکن میری خود غرضی تو دیکھو یہ سب جانتے ہوئے بھی تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا۔۔۔۔مر جاؤں گا میں تم سے دور ہو کر۔۔۔”
ویرہ نے سرگوشی کرتے ہوئے اسکی گردن میں چہرہ چھپایا تو مرجان کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگے گئیں۔
“میں بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا باچا میں بھی آپ کے بنا مر۔۔۔۔”
مرجان نے سرگوشی کی لیکن ویرہ کے ہونٹ اپنی گردن پر محسوس کر کے مرجان کے الفاظ اسکے منہ میں ہی دب گئے۔
“باچا۔۔۔۔”
مرجان نے گھبرا کر اسے پکارا تو ویرہ نے اسکی گردن سے منہ نکال کر اسے دیکھا۔نظر ان کپکپاتے نازک سے گلابی ہونٹوں میں اٹک سی گئی تھی۔وہ اب مزید اپنی خواہش کو دل میں دبا کر نہیں رکھنا چاہتا تھا اسکے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا۔
اس نے اپنا ہاتھ مرجان کے بالوں میں پھنسایا اور اسے خود پر مزید جھکاتے ہوئے ان نازک پنکھڑیوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔اسکی حرکت پر مرجان کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ گیا۔
اس نے ویرہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس سے دور کرنا چاہا لیکن اسکی اس مزاحمت کا الٹا اثر ہوا تھا۔ویرہ کے عمل میں مزید شدت آئی تھی اور وہ کروٹ بدل کر مرجان پر حاوی ہو گیا۔
اسکی شدت پر مرجان کا سانس اسکے سینے میں ہی اٹک گیا تھا لیکن وہ اسکی مظبوط پکڑ میں ہل بھی نہیں پا رہی تھی۔اپنے شوہر کے اس جنون کو سہنے کے سوا اسکے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
دوسری جانب اسکی قربت ویرہ کے سلگتے دل پر ٹھنڈی پھوار کی مانند گر کر اسے سکون دے رہی تھی۔اسکا دل اس سے التجا کر رہا تھا کہ ہر حد پار کر جائے،ساری دوری مٹا دے، اس نازک گڑیا کو خود میں چھپا کر اس سے اپنا ہر حق وصول کر لے۔
کتنی ہی دیر وہ مرجان پر جھکا اپنی پیاسی روح کو سیراب کرتا رہا تھا اور اسکی قربت پر بے حال ہوتی مرجان اسکے سینے پر ہاتھ رکھے اب اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
آخر کار جب ویرہ کو محسوس ہوا کہ وہ سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی اس سے دور ہو کر اسے گہرے گہرے سانس بھرتے ہوئے دیکھنے لگا۔مرجان نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اپنا لہو چھلکاتا چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی۔
ویرہ بھی اپنے جزبات پر قابو پاتا آنکھیں موند کر اسکی گردن میں اپنا چہرہ دے چکا تھا۔
“مجھے سکون دو مرجان میری روح ہمیشہ سے بے چین ہے اور اسکا سکون صرف تم ہو صرف تم۔۔۔”
ویرہ کی آواز میں کتنا ہی کرب تھا جسے محسوس کرتے مرجان کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس نے اپنے ہاتھ ویرہ کے سر پر رکھے اور اسکے بال سہلانے لگی اور ویرہ بھی محبت کے اس سکون کو پا کر کچھ ہی دیر میں سو چکا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا اپنے اس زرا سے اظہار سے وہ اس لڑکی کو کس قدر معتبر کر چکا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ اور راگا اگلی صبح ہی گاؤں سے چلے گئے تھے۔ویرہ کی عدم موجودگی میں مرجان اپنا زیادہ تر وقت وانیا کے ساتھ ہی گزارتی تھی۔وانیا سے اسکی دوستی بہت گہری ہوتی جا رہی تھی اور مرجان کو تو وہ اپنی چھوٹی بہن سمجھتی تھی۔
تین دن ہو گئے تھے ویرہ اور راگا کو گئے اور ان دونوں میں مرجان نے وانیا کو بھگانے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ انکی حفاظت کے لیے انکے شوہر نہیں تھے جو وہ انکی عدم موجودگی میں کوئی خطرہ مول لیتی۔
ابھی رات کے تقریباً دس بج رہے تھے اور مرجان بستر پر لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی۔بہت کوشش کے باجود اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔اچانک اسکے ذہن میں ویرہ کا خیال آیا تو اسے ویرہ کے جانے سے پہلے کی رات ذہن میں آئی۔
اس رات کو یاد کر کے مرجان کے چہرے نے لہو چھلکایا تھا۔اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک گیا جہاں وہ اپنی محبت کا لمس چھوڑ کر گیا تھا۔
اچانک سے باہر کا دروازا کھلنے کی آواز پر مرجان گھبرا کر اٹھی۔اس نے اپنی عقل پر ماتم کیا کہ اس نے دروازے کو کنڈی کیوں نہیں لگائی تھی۔
مرجان جوتے اور دوپٹے کے بغیر اٹھی اور آہستہ سے اپنے کمرے کے دروازے کے پاس آ کر اس نے ہلکا سا دروازہ کھولا لیکن باہر ویرہ کو دیکھ کر اسکا دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔
“زما باچا۔۔۔”
مرجان کی آواز پر دروازے کو کنڈی لگاتے ویرہ نے پلٹ کر اسے دیکھا تو مرجان دروازہ کھول کر بھاگنے والے انداز میں اس کے پاس آئی اور اس کے سینے سے لپٹ گئی۔
“میں نے آپ کو بہت یاد کیا باچا۔۔۔بہت۔۔۔”
مرجان نے خوشی سے اسکے سینے سے لپٹتے ہوئے کہا۔ویرہ کے ہاتھ خود بخود اسکی کمر تک گئے اور اس نے اسے اپنے مزید قریب کر لیا۔اب وہ اسے کیا بتاتا کہ یہ تین دن اس نے بھی تین سالوں کی طرح کاٹے تھے۔
کتنی ہی دیر وہ مرجان کو اپنی باہوں میں لیے وہاں کھڑا رہا تھا پھر مرجان کو اپنی حالت اور بے اختیاری کا اندازہ ہوا تو جھجک کر ویرہ سے دور ہوئی۔ویرہ کی نظر اس کے نازک وجود پر پڑی جو دوپٹے سے بے نیاز اسکے سامنے لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔
“مم۔۔۔۔میں اپنے کمرے میں جاتا ہے۔۔۔”
مرجان نے اپنے کمرے میں جانا چاہا لیکن اسکی کلائی ویرہ کی دہکتی گرفت میں آئی تھی۔مرجان نے گھبرا کر اسے دیکھا لیکن اسکی آنکھوں میں جنون اور شدت کے ایک طوفان کو امڈتا دیکھ کانپ کر رہ گئی۔
“باچا۔۔ “
مرجان نے اپنی کلائی چھڑوانا چاہی لیکن ویرہ نے اسے ایک جھٹکے سے کھینچ کر اپنی پناہوں میں لیا اور اسکا سر بالوں سے پکڑ کر اونچا کرتے ہوئے شدت سے اسکے نازک ہونٹوں پر جھک گیا۔
مرجان نے گھبرا کر اسکی قمیض کا کالر اپنی مٹھی میں جکڑا۔ویرہ اپنی ہر مجبوری خود سے کیا ہر وعدہ بھلائے فرصت سے محبت کا جام پینے میں مصروف تھا جبکہ مرجان اسکی گرفت میں کپکپانے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔
پھر خود ہی وہ اس نے مرجان کی سانسوں کو اپنی قید سے آزاد کیا تو مرجان گہرے سانس بھرتے ہوئے اسے گلال ہوئے چہرے کے ساتھ دیکھنے لگی۔اسے اپنی قربت پر یوں بے حال ہوتا دیکھ ویرہ کی بس ہوئی تھی۔تین دن سے یہ لڑکی اس کے حواس،اسکے ہر خیال پر حاوی تھی اور اب اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر ویرہ کو لگ رہا تھا کہ وہ اس سے ایک پل بھی دور رہا تو وہ مر جائے گا،فنا ہو جائے گا۔
ویرہ نے اسکا نازک وجود اپنی باہوں میں بھرا اور اسے اپنے کمرے میں لے آیا۔مرجان کی جھکی پلکیں اور اسکی شدت سے سرخ ہوتے ہونٹ اسے مزید بے خود کر رہے تھے۔اسے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ اسی کی ہے لے لے اس سے اپنا ہر حق۔
ویرہ نے اسے بستر پر لیٹایا اور خود بھی اس پر جھک کر اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھ دیے۔مرجان کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔
“آآ۔۔۔۔آپ کو بھوک لگا ہو گا باچا۔۔۔مم۔۔۔۔میں کھانا گرم کر کے لاتی ہوں۔۔۔”
مرجان نے اسکی پکڑ سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔نتیجاً ویرہ نے اپنے دانت اسکی شفاف گردن پر رکھے اور ایک سرخ نشان اسکی نازک گردن پر آیا تھا۔مرجان نے سسک کر تکیہ اپنی مٹھی میں بھینچا تھا۔
“مجھے صرف تمہاری ضرورت ہے دلِ جاناں،صرف تم چاہیے ہو مجھے اور کچھ نہیں۔۔۔۔”
ویرہ نے اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکے کان کی لو کو اپنے لبوں سے کاٹا۔مرجان اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی نازک وجود سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔
“تھک چکا ہوں میں مرجان اپنی ساری زندگی اس تپتے صحرا میں بھٹک کر تھک گیا ہوں۔۔۔۔”
ویرہ نے اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے۔
“تم اس تپتے صحرا میں ٹھنڈے پانی کی جھیل کی مانند ہو دلِ جاناں اس بھٹکتے مسافر کو ڈوبا لو خود میں۔۔۔۔دو پل کا سکون دے دو اسے۔۔۔۔”
ویرہ کی اس سرگوشی میں اتنی تڑپ،اتنی بے چینی تھی کہ مرجان اسے خود سے دور نہیں کر پائی۔نرمی سے اپنی باہیں اسکے گلے میں ڈال کر اس نے اپنا آپ اپنے محرم کو سونپ دیا تھا۔وہ اسی کی تو تھی اسکے سکون کا سامان تو کیوں اپنے شوہر کو تڑپتا چھوڑتی وہ۔
اس کی خود سپردگی پر ایک نظر اسکے حیا سے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھتا ویرہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا۔اسکے ہاتھ اسے مزید خود سے قریب کرنے لگے تھے۔
مرجان اسکی شدتوں اور بے چین جزبوں کو اپنی نازک جان پر جھیلتی بے حال ہو رہی تھی لیکن اس نے اب اپنے شوہر کو خود سے دور نہیں کیا تھا۔اسکا ہر کرب،اسکی ہر تکلیف کو اس نے اپنے نازک وجود میں چن لیا تھا۔
جیسے جیسے رات گزرتی گئی ویرہ کی شدت اور جنون اس نازک گڑیا کے لیے بڑھتا گیا لیکن اسکے جنون میں بے پناہ محبت چھپی تھی اور اس محبت کو محسوس کرتے مرجان کو اپنا آپ بہت زیادہ قیمتی لگنے لگا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ اسکی پناہوں میں سکون کی نیند سو رہا تھا اور مرجان اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں چلا رہی تھی۔اسے اپنی شدتوں سے دوچار کر کے وہ کچھ دیر پہلے ہی سویا تھا لیکن مرجان نہیں سو پا رہی تھی۔
نہیں وہ ان لمحوں کو کھل کر جینا چاہتی تھی جب اسکا روم روم اپنے شوہر کی محبت اور اسکی خوشبو میں رچا تھا۔مرجان نے اپنے سینے پر دیکھا جہاں ویرہ اپنا چہرہ رکھے سکون کی نیند سو رہا تھا جبکہ اسکے ہاتھ مرجان کے گرد لپٹے تھے۔
مرجان اسکے بھاری وجود کے نیچے چھپ سی گئی تھی لیکن وہ اسے جگا کر اسے بے آرام نہیں کرنا چاہتی تھی۔وہ شخص اسکے لیے بہت اہم تھا خود سے زیادہ اپنی جان سے زیادہ اہم تھا۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ ان کے مستقبل میں کیا لکھا تھا۔وہ کل کو سوچ کر پریشان ہونے والوں میں سے نہیں تھی وہ حال کو کھل کر جینے والوں میں سے تھی۔
آج اسے لگ رہا تھا کہ اسکی محبت جیت گئی ہو۔اس نازک لڑکی نے اپنی محبت سے اس مظبوط طاقت ور آدمی کو زیر کر لیا تھا۔اب بس وہ چاہتی تھی کہ وہ اسے اس دنیا ان لوگوں سے دور لے جائے بہت دور جہاں وہ دونوں خوش رہ سکیں۔ہر گناہ،ہر برے آدمی سے دور بس ان دونوں کا ایک جہان ہو جہاں صرف مرجان اور اسکا باچا ہو۔
وہ جانتی تھی کہ وہ خود برا نہیں تھا اسے ایسا بنانے والے اسکے حالات اور مرجان کا باپ تھا لیکن اب مرجان ہی اسکے دل سے دنیا کے لیے یہ نفرت ختم کرنا چاہتی تھی وہ اس دنیا کی تلخی سے دور محبتوں کے ایک جہان میں کے جانا چاہتی تھی جہاں وہ عبداللہ بن کر رہ سکے ویرہ نہیں۔
مرجان نے سر جھکا کر ویرہ کو دیکھا اور اپنا ہاتھ نرمی سے اسکے چہرے پر رکھ کر اسکے چہرے کے نقوش کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھونے لگی۔
“جانان نہ زمہ
تانہ زار شمہ ذہ
جانان نہ زمہ
تانہ زار شمہ ذہ
قربان شمہ ذہ
جانان شمہ ذہ
جانان شمہ ذہ
قربان شمہ ذہ”
مرجان نے اسکے چہرے کو محبت سے چھوتی ہوئے سرگوشی کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے۔اس نے بہت عرصہ پہلے اپنے قبیلے کے ایک آدمی کو یہ الفاظ گاتے ہوئے سنا تھا تب سے یہ الفاظ اس کے دل پر رقم ہو گئے تھے۔
“مطلب کیا ہے ان کا۔۔۔؟”
ویرہ نے نیند سے گھمبیر آواز میں پوچھا تو مرجان نے حیرت سے اسے دیکھا لیکن وہ سو رہا تھا۔شائید وہ نیند میں ہی اسکے الفاظ محسوس کر چکا تھا اور نیند میں ہی اس سے یہ بات پوچھ رہا تھا۔
ویرہ کو پشتو آتی تھی وہ یہ الفاظ سمجھ سکتا تھا لیکن پھر بھی مرجان اسے یہ سب بتانا چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ اسے سمجھے۔مرجان مسکرا کر اپنا ہاتھ اسکے بالوں میں چلانے لگی۔
“میری جان
تیرے لیے میری جان قربان
میری جان
تیرے لیے میری جان قربان
تیرے لیے سب قربان
میری جان
میری جان
تیرے لیے سب قربان”
مرجان نے ویرہ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سرگوشی کی اور پھر زرا سا جھک کر اپنے ہونٹ نرمی سے اسکے ماتھے پر رکھے۔اس رات نے دونوں کو ایک دوسرے کا کر دیا تھا لیکن آنے والے دن نے اپنی آڑ میں کتنے ہی امتحان چھپا رکھے تھے جن پر سے ان دونوں کو ابھی گزرنا تھا۔