Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
“آپ کو اس سب میں پڑنا ہی نہیں چاہیے تھا سجاد۔ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور وہ لوگ اب آپ کو دھمکا رہے ہیں۔کبھی سوچا ہے آپکو کچھ ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا۔”
اپنی ماں کی روتی ہوئی آواز پر اس گیارہ سالہ بچے کی آنکھ کھلی تھی۔
“پریشان مت ہو ثانیہ ایسے گناہگار لوگ دھمکانے کے سوا کر ہی کیا سکتے ہیں ان کے ڈر سے اب میں انصاف کا دامن چھوڑ دوں؟”
سجاد نے زرا سختی سے کہا تو انکی بیوی ثانیہ کے رونے میں مزید روانی آ گئی۔عبداللہ اپنی ماں کے رونے پر بے چین ہوتا اٹھ بیٹھا اور ایک نگاہ اپنی سات سالہ بہن اور ایک سالہ چھوٹے بھائی کو دیکھا جو سکون کی نیند سو رہے تھے۔
“انصاف کا ٹھیکا ہم نے ہی لیا ہے کیا سجاد۔۔۔۔بس مجھے کچھ نہیں پتہ آپ کل ہی اس کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔سمجھنے کی کوشش کریں بہت امیر سیاسی لوگ ہیں وہ ہمیں ان سے دشمنی مول نہیں لینی چاہیے۔”
ثانیہ نے پھر سے سجاد کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔وہ بس اپنے اس چھوٹے سے آشیانے کو بکھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔عبداللہ اب دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر آیا اور دروازے کے پیچھے چھپ کر اپنے ماں باپ کو دیکھنے لگا جو رات کے ایک بجے گھر کے ہال میں بیٹھے بحث کر رہے تھے۔
“ثانیہ خدا کا خوف کرو روز قیامت ہمیں اللہ کو منہ دیکھانا ہے۔۔۔۔اس درندے نے چھے سالہ بچی پر ظلم کر کے اسے مار دیا۔جانتی ہو کتنی سی ہوتی ہے چھے سالہ بچی بالکل ہماری بیٹی کی طرح تھی وہ اور تم چاہتی ہو کہ میں ایسے درندے کے خلاف جانے کی بجائے خاموش ہو کر بیٹھ جاؤں تو کیا ہوا کہ وہ اس کے بعد کسی اور بچی کو اپنی درندگی کا نشانہ بنائے گا۔۔۔۔اور۔۔۔۔اور اگر خدا نہ کرے وہ ہماری اپنی ہی بیٹی ہوئی تو بھی مجھے خاموش رہنے کا کہو گی تم۔۔۔”
“سجاد۔۔۔۔”
سجاد کی بات پر ثانیہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں تو سجاد کو بے ساختہ ان پر رحم آیا۔وہ بس اپنے شوہر اور گھر والوں کی حفاظت ہی تو چاہتی تھیں۔
“ہمارے ہاں انصاف پہلے ہی ختم ہوتا جا رہا ہے ثانیہ صرف ایسے لوگوں کی وجہ سے جو اپنی طاقت کے گھمنڈ سے کسی کا بھی منہ بند کر دیتے ہیں اور یقین جانو اگر انصاف نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل جیسی قوم تباہ ہو سکتی ہے تو ہم لوگ کیا ہیں۔”
سجاد نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا۔
“ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو گا۔”
سجاد نے نرمی سے ثانیہ کو سمجھایا تو ثانیہ نے اپنے آنسو پونچھ دیے۔سجاد میر ایک ایڈووکیٹ تھے جن کے پاس ایک بچی کا کیس آیا تھا جسے ایک سیاستدان کے بھائی نے زیادتی کا نشانہ بنا کر اسے گلا گھونٹ کر مار دیا تھا۔
بچی کا باپ انکے ہاں ڈرائیور تھا اور اپنی بچی کی ضد پر اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔اسے کیا پتہ تھا کہ وہاں اسکی بیٹی پر کیا ظلم ڈھایا جائے گا۔
انہوں نے بچی کے باپ کو خاموش رہنے کا کہا تھا لیکن وہ پھر بھی سجاد کے پاس انصاف کی امید سے آیا تھا۔سجاد نے اسکی فریاد سن کر اسکا کیس لے لیا تھا لیکن اب وہ لوگ سجاد کو دھمکا رہے تھے کہ وہ اس معاملے سے دور رہے ورنہ وہ لوگ اسکی بھی جان لے لیں گے۔مگر سجاد کو ان دھمکیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا انکی اپنی بھی ایک بیٹی تھی اور وہ اس آدمی کا درد سمجھ سکتے تھے۔
انہوں نے ایک بے بس سی نگاہ اپنی بیوی پر ڈالی جو انکی پرواہ میں ہلکان ہوتی رو رہی تھی۔
“چلو چھوڑو یہ باتیں آؤ کمرے میں چل کر سوتے ہیں۔”
سجاد نے ثانیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا اور کمرے کی جانب جانے لگے لیکن اچانک ہی انہیں احساس ہوا کہ جیسے ان کے گھر کی چھت پر کوئی چل رہا ہو۔
ثانیہ نے بھی ان آوازوں پر سہم کر اپنے شوہر کو دیکھا۔
“ڈرو مت بچوں کے پاس جاؤ تم میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔”
شاہد نے ثانیہ کو حکم دیا اور خود دراز میں سے اپنا ریوالور پکڑ کر چھت کی جانب چل دیے۔ثانیہ جلدی سے کمرے میں آئیں اور دروازہ بند کر لیا۔
“امی کیا ہوا ہے؟”
تب سے دروازے کے پیچھے چھپے عبداللہ نے سہم کر پوچھا تو ثانیہ نے روتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔کچھ نہیں ہوا میری جان کچھ نہیں ہوا۔”
ثانیہ نے عبداللہ کی کمر سہلاتے ہوئے کہا تبھی انہیں سجاد کے چلانے کی آواز آئی تو ماں بیٹے کا دل دہل گیا۔بہت سے لوگوں کے قدموں کی چاپ اب انہیں اپنے ہال میں سنائی دے رہی تھی۔
“عع۔۔۔عبداللہ پولیس کو فون کرو فوراً۔۔۔۔”
اپنی ماں کے حکم پر عبداللہ جلدی سے فون کی طرف بھاگا اور پولیس کو کال ملانے لگا۔اب وہ لوگ انکے کمرے کا دروازا توڑنے لگے تھے۔
ثانیہ سہم کر اپنے بچوں کے پاس آئیں اور اپنے ایک سالہ بیٹے کو باہوں میں اٹھا کر یہاں وہاں دیکھنے لگیں۔انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں۔اس سب شور و غل سے انکی بیٹی بھی اٹھ بیٹھی تھی اور اب سہم کر اپنی ماں سے لپٹ رہی تھی۔
پولیس والوں کے فون اٹھاتے ہی عبداللہ نے انہیں بتایا کہ انکے گھر میں کوئی گھس آیا ہے اور انہیں اپنے گھر کا پتہ بتانے لگا۔تبھی ایک دھماکے سے انکے کمرے کا دروازا ٹوٹ گیا اور تین سے چار آدمی کمرے میں داخل ہوئے۔
ایک نے عبداللہ کے ہاتھ سے فون چھینا اور اسے بالوں سے پکڑ کر کمرے سے باہر لے جانے لگا جبکہ دوسرے نے ثانیہ سے انکے بیٹے اور بیٹی کو چھینا اور تیسرا ثانیہ کو زبردستی گھسیٹتا کمرے سے باہر لے آیا۔
ہال میں پہنچ کر اس آدمی نے ثانیہ کو ایک چالیس سالہ آدمی کے پیروں میں پھینکا جبکہ سجاد زخموں سے چور پہلے ہی اس آدمی کے پیروں میں پڑے تھے۔
“دیکھا وکیل کیا انجام نکلا میرے خلاف جانے کا بولا تھا تجھے کہ اس معاملے سے دور رہ لیکن تو نہیں مانا اب دیکھ تیری وجہ سے کیا حال ہے تیرے بیوی بچوں کا۔۔۔۔”
اس آدمی نے سجاد کے منہ پر اپنا جوتا مار کر کہا تو ثانیہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں اور اپنے ہاتھ اس آدمی کے سامنے جوڑ دیے۔
“اللہ کے واسطے ہمیں معاف کر دیں۔۔۔۔ہم دور ہو جائیں گے اس معاملے سے چلے جائیں گے یہاں سے بہت دور۔۔۔۔بس اللہ کے واسطے ہمیں چھوڑ دیں۔۔۔۔”
ثانیہ کے گڑگڑانے پر وہ آدمی قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“کاش یہ سب پہلے کیا ہوتا تو مجھے خود محنت کر کے یہاں نہ آنا پڑتا لیکن کیا ہے ناں اب تیرے شوہر نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے تو میں بھی اس کے پورے خاندان کو میرے خلاف کھڑے ہونے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔۔۔”
اس آدمی نے اتنا کہہ کر سجاد کو بالوں سے پکڑا اور ہاتھ میں پکڑا ریوالور انکے ماتھے پر رکھ دیا۔
“ابو۔۔۔۔نہیں چھوڑو میرے ابو کو ۔۔۔۔۔”
عبداللہ نے ایک آدمی پکڑ میں مچلتے ہوئے کہا تو اس چالیس سالہ آدمی نے ہنس کو عبداللہ کو دیکھا۔کمرے میں اب ایک سالہ بچے کے رونے کی آواز گونج رہی تھی جو ماں سے جدا ہو کر زارو قطار روئے جا رہا تھا۔
“پہلے اسے چپ کرواتے ہیں۔۔۔۔”
اس آدمی نے دانت پیس کر کہا تو اسکے آدمی نے بچے کو فرش پر بیٹھا دیا۔وہ بچہ بمشکل اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہوا اور اس نے اپنی ماں کے پاس آنا چاہا لیکن تبھی اسکا چھوٹا سا وجود ایک گولی کا نشانہ بنا تھا۔
“آہہہہہ۔۔۔۔۔”
ثانیہ کی دلخراش چیخ اپنے گھر میں گونجی تھی۔وہ روتے ہوئے بھاگ کر اپنے بچے کے پاس آئی جس کے ننھے سے وجود میں سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا اور وہ وہیں دم توڑ چکا تھا۔
اس آدمی نے سجاد کو بالوں سے پکڑا جو زخموں سے چور نیم بے ہوش حالت میں تھے اور ان کا رخ ثانیہ کی جانب کیا۔
“دیکھ اپنی ہٹ دھرمی کی سزا ۔۔۔۔”
ثانیہ کو یوں تڑپ تڑپ کر روتا دیکھ سجاد زرا ہوش میں آئے لیکن جب انہوں نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کی حالت دیکھی تو دل میں اٹھنے والے درد پر بلبلا اٹھے۔
“ابھی دیکھ تجھے دوسری سزا بھی دیتا ہوں۔۔۔”
اس سفاک درندے نے اب بندوق کا رخ ثانیہ کی جانب کیا اور گولی چلا دی۔ایک چیخ سجاد کے ہونٹوں سے نکلی اور انہوں نے اس آدمی پر حملہ کرنے کی کمزور سی کوشش کی مگر اس نے ہنستے ہوئے ایک گولی سجاد کے سینے میں بھی اتار دی۔
ایک دھماکے سے سجاد کا وجود زمین بوس ہوا تھا۔پل بھر میں کمرہ تین لاشوں سے بھر گیا تھا۔اب اس درندے نے ایک نگاہ اس سات سالہ بچی پر ڈالی جو شائید صدمے اور خوف سے بے ہوش ہو چکی تھی جبکہ گیارہ سالہ بچہ آدمی کی گرفت میں جھٹپٹا رہا تھا جیسے آزاد ہو کر اپنے ماں باپ کے پاس جانا چاہ رہا ہو۔
“گردن کاٹ دو ان دونوں کی اور گھر کا دروازا کھلا رہنے دینا تا کہ لوگ یہاں آ کر انکا انجام دیکھیں تو جان جائیں کہ رانا زبیر مرزا کے خلاف جانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔”
اتنا کہہ کر رانا زبیر نامی وہ درندہ وہاں سے چلا گیا اور ایک آدمی نے دوسرے کو اشارہ کیا جس نے اس بے ہوش ہوئی بچی کے گلے پر ایک چاقو رکھا اور پوری طاقت سے چلا کر اس بچی کا تڑپتا وجود زمین پر پھینک دیا۔
اس کے بعد وہ آدمی عبداللہ نے پاس آیا اور بالوں سے پکڑ کر اسکا سر اوپر کیا لیکن عبداللہ کی آنسوؤں سے تر لال آنکھوں میں جو آگ تھی وہ دیکھ کر اس آدمی کا دل دہل گیا۔
“میں سب کو مار دوں گا ۔۔۔۔دیکھنا ایک ایک کو مار دوں گا۔۔۔”
عبداللہ نے انتہائی نفرت اور غصے سے کہا تو اس آدمی نے اسکی گردن پر بھی وہ چاقو رکھا اور اس چاقو کو چلا دیا۔اسکی بہن کی طرح عبداللہ کے تڑپتے ہوئے وجود کو زمین پر پھینک کر وہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔
لاشوں سے بھرا وہ گھر اب ایک گھر نہیں رہا تھا بلکہ ایک انسان کے سب سے بڑے وحشی درندے ہونے کا گواہ بن گیا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
اس بچے نے اپنی سیاہ آنکھیں کھولیں تو پہلی نگاہ سفید رنگ کی چھت پر پڑی۔پہلے پہل تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کون ہے یا وہ کہاں ہے پھر اسے اپنے گلے میں اٹھنے والی تکلیف کا احساس ہوا تو آنکھوں کے سامنے کر منظر فلم کی طرح چلنے لگا۔
کچھ لوگوں کا انکے گھر میں آنا اسکے بہن بھائیوں اور اسکے ماں باپ کو مارنا۔وہ سفاک درندہ جس نے وہ سب کیا۔
رانا زبیر مرزا ۔۔۔۔”
اس بچے نے خاموش لبوں سے پکارا تبھی اسکا دھیان سفید کوٹ پہنے ایک آدمی پر گیا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“نئی زندگی مبارک ہو عبداللہ میر ہم نے تو امید ہی کھو دی تھی لیکن خدا نے تمہیں نئی زندگی دی۔”
اس شفیق ڈاکٹر نے عبداللہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔عبداللہ اس سے اپنے گھر والوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا لیکن اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔اگر وہ بولنے کی کوشش کرتا تو تکلیف کے علاؤہ کچھ محسوس نہ ہوتا۔
“نہیں بیٹا بولو مت تمہارے گلے کے ٹشوز کو بڑی مشکل سے جوڑا ہے خود کو تکلیف مت دو۔۔۔۔”
ڈاکٹر نے نرمی سے اسے سمجھایا۔
“فکر مت کرو ان شاءاللہ تم جلد ہی بولنے لگو گے لیکن ابھی تمہیں آرام کرنا ہے۔”
عبداللہ نے انکار میں سر ہلایا۔اسے آرام نہیں کرنا تھا اسے اپنے ماں باپ کو دیکھنا تھا اپنے بہن بھائی کو دیکھنا تھا کیا وہ ٹھیک تو تھے
“اا۔۔۔۔اماں۔۔۔۔”
عبداللہ سے بمشکل اتنا ہی بولا گیا تھا اور اتنا بولنے میں ہی اسے بے تحاشا تکلیف ہوئی تھی۔جبکہ اسکی بات پر ڈاکٹر کے چہرے کی مسکان غائب ہوئی تھی۔
“سو جاؤ بیٹا۔۔۔”
ڈاکٹر نے اتنا کہہ کر وہاں سے جانا چاہا لیکن عبداللہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔اسے سونا نہیں تھا اسے اسکے ماں باپ چاہیے تھے۔
“اااا۔۔۔۔۔اماں۔۔۔۔”
اس نے پھر سے کوشش کی تو ڈاکٹر نے رحم سے اس بچے کو دیکھا۔
“تمہارے ماں باپ کو ہم نہیں بچا سکے عبداللہ نہ ہی تمہارے بہن بھائی کو جب تک پولیس انہیں ہسپتال لائی سب ہی دم توڑ چکے تھے بس تم زندہ تھے۔”
ڈاکٹر کی بات پر عبداللہ نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔دو آنسو ٹوٹ کر آنکھوں سے گرے تھے۔
“معاف کرنا بیٹا لیکن ہم کچھ نہیں کر سکے۔”
ڈاکٹر اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا اور عبداللہ سسک سسک کر رونے لگا۔رونا اسکے گلے کو تکلیف دے رہا تھا لیکن وہ تکلیف اسکے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی جو اپنے ہر رشتے کی موت دیکھ کر اسکے دل میں اٹھ رہی تھی۔
وہ بچہ کتنی ہی دیر بے بسی سے اس بیڈ پر لیٹا آنسو بہاتا رہا تھا لیکن ہر بہتا آنسو اسے مظبوط کرتا جا رہا تھا۔اسے اپنی زندگی خدا کا ایک تحفہ لگنے لگی تھی جس کا ایک ہی مقصد تھا۔رانا زبیر مرزا کی تباہی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
عبداللہ کی آنکھ اپنے پاس ہونے والی سرگوشی پر کھلی تھی۔کوئی کافی پریشانی کے عالم میں کسی کو کچھ کہہ رہا تھا۔اسے ہسپتال میں داخل ہوئے تقریباً دو ہفتے ہو چکے تھے۔وہ اب بہتر تو تھا لیکن مکمل طور پر ٹھیک نہیں تھا۔
“سمجھنے کی کوشش کرو اسے فوراً یہاں سے لے جانا ہو گا اسکے دشمنوں کو خبر ہو گئی ہے کہ یہ یہاں ہے اور زندہ ہے بہت جلد وہ اسے مارنے یہاں پہنچتے ہوں گے۔”
یہ عبداللہ کے ڈاکٹر کی آواز تھی۔عبداللہ نے سنجیدگی سے ڈاکٹر کو دیکھا جو اپنے جونئیر سے یہ بات کہہ رہا تھا۔
“لیکن سر ہم اسے لے کے کہاں جا سکتے ہیں۔جیسے لوگوں سے اسکی دشمنی ہے اسے پناہ دینے کا مطلب موت کو گلے لگانا ہو گا تو کون رکھے گا اسے اپنے پاس؟”
ٹیکنیشن نے پریشانی سے پوچھا تو ڈاکٹر اپنا ماتھا سہلانے لگا پھر جیسے اسکے ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا۔
“ایک جگہ ہے جہاں یہ لوگ تو کیا انکا سایہ بھی نہیں پہنچ سکے گا۔”
ڈاکٹر کی بات پر ٹیکنیشن حیران ہوا۔
“بہت عرصہ پہلے میری سکردو پوسٹنگ ہوئی تھی وہاں کچھ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔کسی قبائلی علاقے کے لوگ تھے ان کے سردار کو گولی لگی تھی اور وہ اسکا علاج کروانا چاہتے تھے۔”
ٹیکنیشن کے ماتھے پر بل آئے۔
“کیا کسی گاؤں کا سردار اس بچے کی حفاظت کر لے گا؟”
“وہ کوئی عام سردار نہیں تھا اسکے آدمیوں کے پاس بہت سے ہتھیار تھے اور وہ لوگ اپنے گاؤں کا علیحدہ ہی قانون بنا کر بیٹھے تھے یہ بچہ انکے پاس محفوظ رہے گا۔”
ڈاکٹر نے رحم سے عبداللہ کی جانب دیکھا جو اب اپنی آنکھیں موند چکا تھا لیکن انکی ہر بات سن رہا تھا۔
“لیکن وہ اسے اپنے پاس کیوں رکھیں گے سر؟”
“کیونکہ گاؤں کے سردار نے مجھے کہا تھا کہ میں نے اسکی مدد کی ہے تو بدلے میں میں جو چاہوں وہ کرے گا یوں سمجھ لو وہ میرے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے کچھ بھی کرے گا۔”
اب کی بار ٹیکنیشن نے اثبات میں سر ہلایا۔
“آپ مجھے پتہ بتائیں میں ابھی اسی وقت اس بچے کو وہاں لے جاتا ہوں سر اب اسکا ایک پل بھی یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں۔”
ٹیکنیشن نے پریشانی سے کہا۔اس بچے کے دشمن اسکے سب گھر والوں کو تو انتہائی سفاکی سے مار چکے تھے اب وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ بچہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
“تو ٹھیک ہے اسے کوہ قراقرم لے جاؤں جہاں پہاڑوں کے دامن میں چھوٹا سا گاؤں ہے وہاں کے سردار یعقوب خان کے سامنے میرا ذکر کرنا اور کہنا میں نے اپنے احسان کا بدلہ مانگا ہے۔”
ٹیکنیشن نے اثبات میں سر ہلایا تو ڈاکٹر نے اسے مکمل پتہ لکھ کر دیا۔وہ پتہ اپنی جیب میں ڈال کر ٹیکنیشن عبداللہ کے پاس آیا اور اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔ڈاکٹر نے ایک چادر سے عبداللہ کو چھپایا اور ٹیکنیشن کی جانب دیکھا۔
“اسکی حفاظت کرنا اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔”
ٹیکنیشن اثبات میں سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔اب اسے بس اس بچے کو وہاں پہنچانا تھا جہاں وہ اپنے دشمنوں سے محفوظ ہوتا۔قراقرم کے وہ پہاڑ اب اس بچے کی منزل تھے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ٹیکنیشن عبداللہ کو با حفاظت یعقوب خان کے پاس چھوڑ گیا تھا اور انہیں ڈاکٹر کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ عبداللہ کے بارے میں ہر بات بھی بتائی تھی کہ چھوٹی سی عمر میں اس بچے پر کیا کیا بیت گیا تھا۔
یعقوب خان نے نہ تو عبداللہ سے کچھ کہا تھا اور نہ ہی کچھ پوچھا تھا بس چپ چاپ اپنے گھر میں رکھ لیا جہاں وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتے تھے۔عبداللہ کا علاج چلتا رہا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کافی بہتر بھی ہو گیا تھا لیکن نہ تو وہ کسی سے کوئی بات کرتا تھا نہ ہی کبھی عام بچوں کی طرح کھیلتا تھا بس بت بنا ایک جگہ بیٹھا رہتا۔
اسے یعقوب خان کے پاس رہتے ایک سال سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا اور وہ مکمل طور پر ٹھیک ہو گیا تھا لیکن پھر بھی اس کے منہ سے کسی نے کبھی ایک لفظ بھی نہیں سنا تھا۔
آج یعقوب خان اسے اپنے ساتھ اپنے آدمیوں کے پاس لے کر آیا تھا جہاں وہ اپنے معمولات طے کرتے تھے۔یعقوب سب سے باتوں میں مصروف تھا جب اچانک اسکا دھیان عبداللہ پر گیا جو اسکی ریوالور ہاتھ میں تھامے غور سے دیکھ رہا تھا۔
یعقوب اپنے آدمیوں سے دور ہٹا اور عبداللہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“اچھا ہے ناں یہ ایک ایسا ہتھیار جو کمزور کو بھی طاقتور بنا دے۔”
یعقوب نے اپنے مخصوص پختون لہجے میں کہا۔
“جانتا ہوں میں تمہارے ساتھ کیا ہوا بچہ یہ بھی جانتا ہے کہ تمہارا باپ وکیل تھا یہ بھی جانتا ہے کہ تم نے پولیس کو بلایا تھا اور پولیس بلائے جانے کے ایک گھنٹہ بعد وہاں پر آیا اور یہ بھی جانتا ہے کہ تم سب کا چیخیں پورے محلے میں گونجنے کے باوجود کوئی تمہاری مدد کو نہیں آیا۔۔۔۔”
یعقوب بولتا جا رہا تھا اور عبداللہ بس وہ بندوق دیکھنے میں مصروف تھا۔
“لیکن شائید تم یہ نہیں کہ پولیس جان بوجھ کر دیر سے آیا تھا کیونکہ ان کو پیسے کھلا کر وہاں دیر سے آنے کا کہا گیا تھا۔”
اب کی بار عبداللہ نے بندوق سے دھیان ہٹا کر یعقوب کو دیکھا تھا۔
“لوگ تم سب کی چیخیں سن کر مدد کرنے کی بجائے چھپ کر اپنے گھر میں بیٹھ گیا تھا تا کہ ان کو کچھ نہ ہو۔”
عبداللہ کی پکڑ اس بندوق کے گرد مظبوط ہوئی تھی۔
“اس دنیا میں کوئی قابل رحم نہیں ہے بچہ کوئی بھی معصوم نہیں ہر انسان مطلب پرست ہوتا ہے جہاں بات اپنے نقصان کی ہو وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔”
یعقوب سنجیدگی سے کہتا ننھے ذہن میں زہر گھولنے لگا۔
“اپنے باپ کو دیکھو کسی کی مدد کے لیے نکلا تھا لیکن کوئی بھی اسکی مدد کے لیے نہیں آیا اس سے جانتے ہو کیا سبق ملتا ہے؟یہاں کوئی بھی مدد اور رحم کے قابل نہیں کیونکہ جب مصیبت تم پر آتا ہے تو کوئی بھی تمہاری مدد کو نہیں آتا۔۔۔۔کسی کو تم پر رحم نہیں آتا۔۔۔۔”
چھوٹی چھوٹی مٹھیوں نے وہ بندوق اپنے ہاتھ میں زور سے کس لی تھی۔
“اس لیے اب تم بھی کسی پر رحم نہ کھانا کسی کا خیال نہ کرنا۔۔۔۔طاقت ور بننا تم اور نہ صرف اپنے دشمن کا سر دھڑ سے الگ کر دینا بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی ایک دہشت بننا جو مطلب پرست ہیں جو کسی کی چیخ و پکار سن کر بھی اسکی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔”
یعقوب نے نفرت سے کہا۔
“جانتا ہے تم میں پاکستان کا نہیں افغانستا۔۔۔ن کا ہے جنگ کے وقت یہاں آیا تھا کیونکہ ہم سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستانی ہمارا مدد کرے گا لیکن جانتا ہے تم میرا بیوی کو دو پولیس والے جھوٹے چوری کے الزام میں جیل میں لے گیا۔۔۔۔اور وہاں اس کے ساتھ۔۔۔۔”
یعقوب نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔
“وہاں سے آ کر اس نے اپنا جان لے لیا۔اس دن میں نے سیکھا کہ یہاں اچھا کوئی نہیں سب کہیں نہ کہیں برا ہے اس لیے رحم کے قابل کوئی بھی نہیں۔۔۔۔”
عبداللہ نے ایک نظر یعقوب کی جانب دیکھا۔
“میں اس گاؤں میں آ کر رہنے لگا یہاں کا عورت سے شادی کیا اور لوگوں کی نظر میں ایک عام پاکستانی بن گیا۔۔۔۔”
یعقوب ایک پل کو رکا اور پھر مسکرا دیا۔
“یہاں موجود ہر آدمی یہاں کے نظام یا لوگوں کا ستایا ہے۔لوگوں نے ان پر ظلم کیا اور نظام نے انہیں انصاف نہیں دیا۔”
یعقوب نے اپنا ہاتھ عبداللہ کے چھوٹے سے کندھے پر رکھا۔
“اور جب کسی ملک کا نظام انصاف نہ کرے تو ہم جیسے لوگوں پر فرض ہوتا ہے انصاف کرنا ایسے بد عنوان قانون اور لوگوں کو جہنم واصل کرنا۔۔۔”
یعقوب کے لہجے میں بہت زیادہ نفرت تھی اور وہی نفرت وہ اس ننھے ذہن میں گاڑھ چکا تھا۔
“ایک بات یاد رکھنا بچہ محبت اور رحم انسان کا کمزوری ہوتا ہے اب ان دونوں کو خود پر حاوی مت ہونے دینا ایک ظالم درندے بن جانا جسے لوگ بس دہشت سمجھیں ۔۔ “
یعقوب نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر کہا۔
“اپنی جو پہچان تھا بھول جاؤ اب سے تم وہ نہیں جو پہلے تھا اب تم ویرہ بنے گا ویرہ۔۔۔”
عبداللہ نے ناسمجھی سے یعقوب کو دیکھا۔
“ویرہ دہشت کو کہتے ہیں اور اب سے یہی تمہارا نام،تمہاری پہچان ہو گا ایسی پہچان جس کے ذکر پر ہی لوگ خوف سے کانپ جائیں۔۔۔۔”
یعقوب نے ایک اور بندوق اپنی کمر کے پاس سے نکالی اور آسمان کی جانب کر کے گولی چلا دی۔گولی کی آواز پر عبداللہ ایک پل کو سہما لیکن پھر اس نے بھی ہاتھ میں پکڑی بندوق آسمان کی طرف کی اور گولی چلا دی۔
“ویرہ۔۔۔۔
عبداللہ نے ایک سال میں پہلی بار کچھ کہا تو یعقوب مسکرا دیا۔وہ اس عبداللہ کو ویرہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
رانا زبیر اپنی خواب گاہ میں چین کی نیند سو رہا تھا جب اسے یہ احساس ہوا کہ اسکے قریب کوئی ہے۔اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ایک چودہ سالہ بچے کو اپنے قریب پایا جو اسکے پاس بندوق تھامے بیڈ کے پاس کھڑا تھا۔
زبیر سہم کر اٹھ بیٹھا اور اس بچے کو دیکھنے لگا جس نے انتہائی سفاکی سے بندوق اسکی جانب کی تھی۔
“کک۔۔۔۔کون ہے تو۔۔۔؟”
“ویرہ۔۔۔۔”
بچے نے عام سا جواب دیا۔
“ککک۔۔۔کون ویرہ۔۔۔۔؟”
اسکی بات پر بچے کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی اور اس نے بندوق کا رخ اسکی ٹانگ کی جانب کیا اور گولی چلا دی۔
“آہہہہہ۔۔۔۔”
زبیر کی چیخ اپنے گھر میں گونجی تھی۔
“یاد آیا یا دلاؤں۔۔۔۔ایڈوکیٹ سجاد میر جس کے گھر میں گھس کر تو نے سب کو مار ڈالا تھا کچھ یاد آیا۔۔۔۔”
ویرہ نے اب بندوق اسکی دوسری ٹانگ کی جانب کی جبکہ وہ کراہتے ہوئے اس سے دور ہونے کی کوشش کر چکا تھا۔
“میں اسی سجاد میر کا بیٹا ہوں رانا زبیر”
اتنا کہہ کر ویرہ نے اسکی دوسری ٹانگ پر بھی گولی مار دی۔اب وہ شخص بیڈ سے نیچے زمین پر گرا تھا بے ہوش ہوتا وجود تکلیف دہ جھٹکوں سے کانپنے لگا تھا۔
“بولا تھا ناں تجھے کہ میں ہی تجھے تیرے انجام تک پہنچاؤں گا۔۔۔۔دیکھ لے آج تیرا یہ طاقت کا غرور مٹی میں ملاؤں گا۔۔۔”
ویرہ آگے بڑھا اور بندوق اسکے سینے پر رکھی۔
“نن۔۔۔نہیں مجھے۔۔۔۔”
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ویرہ اسکے سینے میں گولی مار چکا تھا۔آج اس نے انتقام کی پہلی سیڑھی چڑھی تھی چودہ سال کی عمر میں پہلی بار کسی کی جان لے کر وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائی کا انتقام لے چکا تھا۔ کمرے کے باہر کھڑا یعقوب خان اسکے پاس آیا اور مسکرا دیا۔
“بدلہ بہت بہت مبارک ہو ویرہ۔۔۔۔اب دیکھنا تیرے ساتھ ظلم کرنے والے ہر شخص کا یہی انجام کریں گے ہم۔”
یعقوب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“شکریہ بابا۔۔۔”
ویرہ نے اتنا کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔پچھلے تین سالوں میں یعقوب خان اسکا جتنا برین واش کر سکتا تھا اس نے کیا تھا۔اس کے کچھے ذہن میں وہ نفرت کی دیواریں کھڑی کر کے اسے ایک سفاک درندہ بنا چکا تھا جس کے دل میں کسی انسان کے لیے رحم یا محبت باقی نہیں رہی تھی۔اگر کچھ بچا تھا تو صرف اور صرف نفرت۔
اپنے ماں باپ کے ہر ایک قاتل سے انتقام لے کر وہ قراقرم کی وادی میں واپس آیا تھا جہاں ایک عام سے گاؤں کی آڑ میں وہ دہشت گرد چھپے بیٹھے تھے جو آئے روز کبھی دھماکے تو کبھی ٹارگٹ کلنگ کر کے لوگوں کا سکون برباد کیے ہوئے تھے اور المیہ تو یہ تھا کہ ویرہ کو وہ ظلم کرنے والے درست لگنے لگے تھے اور باقی ساری دنیا غلط۔
صرف اس وجہ سے کہ جب اس پر ظلم ہوا تھا تو کوئی انکی مدد کو نہیں آیا تھا۔اس وجہ سے اسے پر انسان سے نفرت ہو گئی تھی سوائے یعقوب خان کے جس نے اسکا انتقام لینے میں اسکی مدد کی تھی۔
واپس آنے پر یعقوب خان کو یہ خبر ملی کہ وہ باپ بنے والا ہے تو وہ خوشی سے ہواؤں میں گھومنے لگا۔آخر کار شادی کے پانچ سالوں بعد اسکے ہاں یہ امید آئی تھی۔وہ خوشی خوشی سب سے یہی کہہ رہا تھا کہ اسکے ہاں بیٹا پیدا ہو گا جسے وہ سب سے بڑی دہشت بنائے گا لیکن نو ماہ کے بعد اسکے ہاں ننھی سی پری کی پیدائش ہوئی تھی۔
یعقوب خان نے تو اس پری کی جانب دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔ویرہ پھر بھی اس بچی کو دیکھنے گیا تھا جو چھوٹی سی موم کی گڑیا ہی تھی بڑی بڑی سنہری آنکھیں گوری رنگت اور گلابی گال اس گڑیا کو بہت پیارا بنا رہے تھے۔
“پیاری ہے ناں یہ ویرہ؟”
یعقوب خان کی بیوی الماس خان نے بہت امید سے پوچھا۔سچ تو یہ تھا کہ بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے یعقوب خان کا سلوک انکے دل کو چھلنی کر گیا تھا۔ویرہ نے بس جواب میں اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“میں اسکا نام مرجان رکھوں گی اسکا مطلب موتی ہوتا ہے یہ بھی تو میرے لیے موتی ہے۔”
الماس نے اس چھوٹی سی جان کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا تو ویرہ نے پھر سے ہاں میں سر ہلا دیا۔تبھی یعقوب وہاں پر آیا اور اس نے گہری نگاہوں سے چھوٹی سی مرجان کر ویرہ کی باہوں میں دیکھا تھا۔
“اسے اسکی ماں کو دے ویرہ اور میرے ساتھ چل۔”
ویرہ نے اثبات میں سر ہلا کر مرجان کو الماس کے ساتھ لیٹا دیا اور خود یعقوب کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آیا۔
“عورتیں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہیں ویرہ انہیں سر نہیں چڑھاتے ورنہ آدمی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں آئندہ تو الماس کی کوئی بات نہ سننا اسے اسکی اوقات پر رکھ تاکہ اسے احساس ہو کہ مجھے بیٹا نہ دے کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔”
ویرہ اس سے کہنا چاہتا تھا کہ بیٹی پیدا ہونا انکا قصور نہیں تھا یہ تو اللہ کی دین تھی لیکن پھر بھی اس نے ہاں میں سر ہلا دیا کیونکہ ویرہ کے لیے یعقوب خان ہمیشہ ٹھیک ہی ہوتا تھا۔
ویسے بھی ان کے قبیلے میں عورت کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی وہ بس ضروت کا سامان سمجھی جاتی تھی جسکا کام بس آدمی کا گھر سنبھالنا اور اسکے بچے پیدا کرنا تھا اور اسی سوچ کا مالک یعقوب خان ویرہ کو بھی بنا رہا تھا کیونکہ وہ ویرہ کو ہی تو اپنا بیٹا مانتا تھا اپنا جانشین۔۔۔۔
