Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 10 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10 Part 1
اس آدمی کی بات سن کر ویرہ فوراً اپنے کمرے میں گیا۔مرجان گھبرا کر اسکے پیچھے آئی تھی۔ویرہ نے بستر کے نیچے سے اپنا ریوالور نکالا اور باہر جانے لگا جب اسکی نظر مرجان پر پڑی جو سہمی نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“باچا۔۔۔”
ویرہ مرجان کے پاس آیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
“تم اپنی اماں کے گھر جاؤ مرجان اور انکے ساتھ ہی رہنا۔۔۔”
ویرہ نے اسے حکم دیا تو مرجان انکار میں سر ہلانے لگی۔
“جو کہا ہے کرو مرجان۔۔۔”
ویرہ نے سختی سے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آیا۔
“اسے لے کر یعقوب خان کے گھر جاؤ اور ان سب کے ساتھ ہی رہنا۔میری بیوی اور اسکے گھر والوں کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔”
ویرہ کے حکم پر اس آدمی نے ہاں میں سر ہلایا۔ویرہ نے مرجان کا ہاتھ چھوڑا لیکن وہ اسکے بازو سے لپٹ گئی۔
“میرے ساتھ چلیں باچا۔۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ نے ایک نظر اسکی آنکھوں میں ان آنسؤں کو دیکھا۔
“میں آ جاؤں گا تمہارے پاس فکر مت کرو لیکن ان فوجیوں کو انکے انجام تک پہنچانے کے بعد۔”
اتنا کہہ کر ویرہ وہاں سے چلا گیا اور وہ آدمی مرجان کا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا لیکن مرجان کی نظریں ویرہ پر تھیں۔نہ جانے کیوں اسکا دل کہہ رہا تھا کہ اس نے اسے جانے دیا تو وہ اسے کھو دے گی۔
وہ آدمی مرجان کو اسکے گھر والوں کے پاس لے آیا جو ڈرے سہمے سے گھر میں بیٹھے تھے۔مرجان کو دیکھ کر الماس تڑپ کر اسکے پاس آئیں اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
اس آدمی نے دروازہ بند کیا اور بندوق پکڑ کر دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔باہر سے گولیوں کی آوازیں آنے لگی تھیں اور گل ان آوازوں سے ڈرتی دلاور سے لپٹ رہی تھی جیسے اسکے اندر ہی چھپ جائے گی۔
“وو۔۔۔۔وہ ہمیں مار دیں گے کیا لالہ۔۔۔”
گل نے روتے ہوئے دلاور سے پوچھا جو خود بھی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
“ڈرو مت گل کچھ نہیں ہو گا۔۔۔”
دلاور نے اسے سمجھایا۔
“نہیں لالہ آپ نے کہا تھا یہ فوجی بہت ظالم ہوتے ہیں وہ ہمیں مار دیں گے۔۔”
گل نے اپنے گھٹنوں میں چہرہ چھپایا اور رونے لگی۔مرجان الماس سے لپٹی بیٹھی تھی۔اسے خود کا کوئی خوف نہیں تھا اگر فکر تھی تو صرف ویرہ کی۔ہر چلنے والی گولی پر اسکا دل دہل اٹھتا تھا کہ کہیں یہ گولی اسکے شوہر پر تو نہیں چلی۔
اب انہیں قدموں کی چاپ اپنے گھر کے قریب آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔پھر کسی نے دروازہ زور سے پیٹا۔
“جو بھی ہے دروازہ کھولو اور خود کو سیرنڈر کر دو۔۔۔۔”
ایک رعب دار آواز انکے کانوں میں پڑی۔گل سہم کر دلاور کے بازو سے مزید مظبوطی سے چپک گئی۔الماس نے مرجان کو سختی سے خود میں بھینچا تھا جبکہ انکی حفاظت کے لیے کھڑا آدمی اپنی بندوق دروازے کی جانب کر چکا تھا۔
“تمہیں کیا لگا تھا یہ لوگ اتنی آسانی سے بات مان لیتے ہیں؟توڑ دو دروازہ۔۔”
ایک آدمی کی سنجیدہ سی آواز انکے کانوں میں پڑی۔
“یس کیپٹن۔۔۔۔”
دو آدمیوں نے ایک ساتھ کہا اور دروازے کو زور زور سے دھکیلنے لگے۔تھوڑی ہی دیر بعد دروازا ٹوٹ کر زمین پر گرا تو اندر کھڑے آدمی نے آنے والے فوجیوں پر گولی چلائی جو سامنے موجود فوجی کے بازو میں لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ باقیوں کو مارتا ایک گولی اسکا سینا چیر گئی اور وہ دھڑام سے زمین پر گرا۔یہ دیکھ کر گل کے ہونٹوں سے ایک چیخ نکلی تھی۔ایک فوجی گھر میں داخل ہوا اور اس نے وہاں کا جائزہ لیا۔
“یہاں تین عورتیں اور ایک لڑکا ہے کیپٹن۔۔۔۔”
اس نے بندوق ان سب کی جانب کرتے ہوئے کہا۔ایک دوسرا آدمی گھر میں داخل ہوا۔کلین شیو اور چھوٹے چھوٹے بالوں والا آرمی یونیفارم میں ملبوس وہ چوبیس سالہ آدمی کافی خوش شکل تھا۔اس نے صورتحال کا جائزہ لے کر بندوق تھامے سپاہی کو گھورا۔
“بندوق نیچے کرو سمجھ نہیں آ رہا وہ ڈرے ہوئے ہیں۔۔۔”
اپنے کیپٹن کے حکم پر وہ بندوق نیچے کر چکا تھا۔اس نے سب کی جانب دیکھا۔
“آپ ڈریں مت ہم آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔پلیز ہمارے ساتھ تعاون کریں ہم آپکو یہاں سے آزاد کروا کر محفوظ جگہ پہنچا دیں گے۔۔۔”
اس کیپٹن نے اتنا کہہ کر سپاہی کو اشارہ کیا تو وہ دلاور کے پاس گیا اور اسے پکڑ لیا لیکن گل دلاور کے بازو سے دور نہیں ہوئی تھی۔
“نہیں۔۔۔لالہ۔۔۔چھوڑو میرے لالہ کو۔۔۔”
گل نے روتے ہوئے کہا جبکہ دوسرا سپاہی مرجان اور الماس کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
“ڈرو نہیں آپ میں نے کہا ناں اگر آپ کچھ غلط نہیں کریں گے تو ہم بھی آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔”
کیپٹن نے گل سے کہا لیکن اس نے دلاور کا بازو نہیں چھوڑا۔آخر کار وہ خود اسکے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر دلاور سے دور کیا۔
“نہیں چھوڑو مجھے۔۔۔۔لالہ۔۔۔بچاؤ۔۔
بچاؤ۔۔۔۔”
گل نے روتے ہوئے چلانا شروع کر دیا اور کیپٹن کی گرفت سے اپنا بازو چھڑانے کی جدوجہد کرنے لگی۔
“بس چپ آواز نہ آئے اب تمہاری۔۔۔۔”
کیپٹن نے غصے سے کہا تو گل فوراً چپ ہو گئی اور سہم کر اسکی جانب دیکھنے لگی۔کیپٹن نے ایک نظر اس سرخ و سفید چہرے اور نیلی آنکھوں والے معصوم حسن کو دیکھ کر نظر پھیر لی۔وہ لڑکی مشکل سے پندرہ سال کی تھی۔
“کہا ناں کہ کچھ نہیں کریں گے ہم الٹا بچانے آئیں ہیں تم لوگوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی؟”
کیپٹن نے غصے سے کہا تو گل خوف سے سانس تک لینا بھول گئی۔اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا گل کا سر چکرایا اور وہ بے ہوش ہو کر اسکی باہوں میں جھول گئی۔
“گل۔۔۔۔”
دلاور نے پریشانی سے اسے دیکھا اور تڑپ کر اسکی جانب جانا چاہا لیکن فوجی نے اسے آزاد نہیں کیا۔
“چھوڑو میری بہن کو۔۔۔”
دلاور نے کیپٹن کو گھور کر کہا تو کیپٹن نے گہرا سانس لیا اور اس لڑکی کا نازک وجود اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
“باہر باقی سپاہیوں تک پہنچاؤ انہیں پھر یہاں کے باقی لوگوں کو بھی آزادی دلاتے ہیں۔۔۔”
اتنا کہہ کر کیپٹن نے سپاہیوں کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ سب کو لے کر گاؤں سے باہر جانے لگے لیکن مرجان نہیں جانا چاہتی تھی نہیں۔۔۔اسے اپنے شوہر کے پاس جانا تھا خوف سے اسکا دل بند ہو رہا تھا۔
مرجان نے اس سپاہی کو دیکھا جس کی گرفت میں وہ تھی۔اسکے بازو سے گولی لگنے وجہ سے خون بہہ رہا تھا۔جیسے ہی وہ لوگ کھلے میدان میں پہنچے مرجان نے پوری طاقت لگا کر خود کو چھڑوایا اور وہاں سے بھاگنے لگی۔
“رک جاؤ لڑکی۔۔۔۔”
ایک رعب دار آواز مرجان کے کانوں سے ٹکرائی لیکن وہ رکی نہیں۔اسے اپنے باچا کے پاس جانا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ سپاہی کچھ کر پاتے مرجان انکی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
مرجان بے چینی سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔اسے ہر طرف صرف فوجی نظر آ رہے تھے جو وہاں کی عورتوں اور بچوں کو وہاں سے لے کر جا رہے تھے۔
اچانک گولیوں کی آواز مرجان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ اس طرف بھاگ گئی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ لوگ ویرہ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے لیکن اگر وہ اسے مارنا چاہتے تھے تو مرجان بھی اسکے ساتھ مرے گی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ غصے کے عالم میں وہاں آیا جہاں سب آدمی جمع تھے۔ویرہ نے ایک طائرانہ نگاہ سب پر ڈالی۔
“راگا اور کال کہاں ہیں؟”
ویرہ کے سوال پر سب نے سر جھکا لیا۔
“کال تو کافی دنوں سے غائب ہے ویرہ اور راگا سردار کو بھی صبح سے نہیں دیکھا۔”
ایک آدمی کے بتانے پر ویرہ نے گہرا سانس لیا اور سب آدمیوں کی جانب دیکھا۔
“ان فوجیوں میں اتنی جرات آ گئی ہے کہ یہ ہم پر حملہ کریں،ہمارے گھروں پر حملہ کریں۔ انہیں اس غلطی کی سزا ملے گی۔۔۔۔”
ویرہ کے چلا کر کہنے پر سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ان سب کا وہ انجام کر کے بھیجیں گے کہ پھر سے فوج ہمارے پیچھے اپنی سپاہی بھیجنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچے گی۔”
ویرہ کی دہاڑ پر سب نے اپنی بندوق اونچی کر کے لبیک کہا اور حملے کی تیاری کرنے لگے۔تبھی راگا وہاں پر آیا تو ویرہ نے اسے گھور کر دیکھا۔
“کہاں تھے تم راگا؟ ان آرمی والوں میں اتنی ہمت آ گئی ہے کہ ہم پر یہاں حملہ کردیا لیکن فکر مت کرو یہ غلطی ان کی آخری غلطی بنا دیں گے۔۔۔۔”
ویرہ نے ایک آدمی کو اشارہ کیا۔
“میں بھی انہیں کا جائزہ لینے گیا تھا ویرہ وہ تعداد میں ہم سے زیادہ ہیں اگر انہوں نے ہم پر پہلے حملہ کیا تو ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔اسی لیے بہتر یہی ہے کہ ہم ان پر پہلے حملہ کریں۔۔۔۔”
راگا کی بات سے متفق ہو کر ویرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہمیں ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔ ہمارے جتنے بھی آدمی ہیں سب کو ساتھ لو۔ آدھے آدمی ان پر شمال سے حملہ کرو اور ویرہ تم اور میں جنوب سے ان پر حملہ کریں گے۔”
ویرہ نے اثبات میں سر ہلایا اور آدمیوں کو بٹ جانے کا اشارہ کیا۔
“مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ہم میں کون سا ایسا جاسوس ہے جس نے فوج کو ہمارا ٹھکانہ بتایا ۔۔۔۔اگر پتہ چل گیا نا راگا تو وہ موت مانگے گا اور اسے موت بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔”
ویرہ نے راگا کے ساتھ چلتے ہوئے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر کہا جبکہ آدھے آدمی انکے پیچھے آ رہے تھے اور باقی دوسری جانب جا چکے تھے۔اچانک ہی راگا ایک جگہ پہنچ کر رک گیا تو ویرہ نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“کیا ہوا راگا؟”
“کچھ نہیں ویرہ تمہیں بس یہ بتانا تھا کہ وہ جاسوس میں ہی ہوں۔۔۔”
اس سے پہلے کہ ویرہ راگا کی بات کا مطلب سمجھتا گھاس اور درختوں کے پیچھے چھپے فوجیوں نے ان پر حملہ کر دیا اور سب دہشتگردوں کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر وہ سب کو یا تو مار چکے تھے یا حراست میں لے چکے تھے۔ویرہ نے حیرت سے ارد گرد ایک نظر دیکھا اور اپنی بندوق فوراً راگا پر تان دی۔
“غدار۔۔۔۔”
ویرہ نے گولی چلائی لیکن راگا عین وقت پر جھک کر اپنے آپ کو اس گولی سے بچا چکا تھا۔پھر خود فورا آگے بڑا اور ایک ٹانگ ویرہ کے بازو پر مار کر اسکی بندوق کو گرایا۔ویرہ نے اپنا ہاتھ بہت زور سے راگا کے گال پر مارنا چاہا لیکن راگا اس سے بھی بچتا ویرہ کی ٹانگ پر اپنی ٹانگ مار کر اسے زمین پر گرا گیا اور اسکی گردن کو دبوچ لیا۔
“نہیں ویرہ میں غدار نہیں ہوں بلکہ غدار تو تم ہو جو خود پر ہوئے ظلم کا بدلہ لینے کے لیے اپنے وطن سے ہی غدار ہو گیا۔۔۔لیکن اس کا غداری کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے ویرہ۔۔۔۔معصوموں کی جان لے کر تمہارے گھر والوں کی روح کو سکون نہیں ملا ویرہ انہیں تکلیف ہوئی ۔۔۔۔”
اپنے گھر والوں کے ذکر پر ویرہ غم و غصے کی کیفیت سے چلایا اور راگا کی پکڑ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن وہ پکڑ بہت مضبوط تھی۔
“ہاں ویرہ اپنے بیٹے کو قاتل بنا دیکھ وہ انصاف پسند آدمی بہت دکھی ہوا ہو گا۔۔۔ابھی بھی وقت ہے سمجھ جاؤ دوست۔۔۔۔انصاف کی تلاش میں تم نے غلط راہ چنی۔۔۔۔۔”
راگا نے ویرہ کے کان میں کہا لیکن ویرہ کی مزاحمت ترک نہیں ہوئی۔
“نہیں۔۔۔۔نہیں چھوڑوں گا کسی کو نہ ان خاموش تماشائی بن کر موت دیکھنے والوں کو اور نہ ہی زندگیوں کا سودا کرنے والوں کو۔۔۔”
ویرہ راگا کی گرفت میں پھڑپھڑاتا غصے سے چلایا۔غم اور غصہ اس پر حاوی ہو چکے تھے۔اس وقت وہ کوئی بے قابو جانور لگ رہا تھا جسے سنبھالنا راگا کے لیے بھی مشکل تھا۔
“عبداللہ۔۔۔۔”
مرجان کی آواز پر ویرہ جدوجہد کرنا بند ہوا تھا۔اس نے نظریں اٹھا کر مرجان کو دیکھا جو ایک سپاہی کی گرفت میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ویرہ بس مردہ آنکھوں سے اسے دیکھتا جا رہا تھا۔
“”ابھی بھی وقت ہے سوچ لو عبداللہ۔۔۔۔اور کسی کے لیے نہ سہی مرجان کے لیے۔۔۔مر جائے گی وہ تمہاری لاش دیکھ کر۔۔۔۔”
راگا نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو دو آنسو ویرہ کی آنکھوں سے بہہ کر اسکے گال پر گرے۔وہ چاہتا تو سب سے لڑتے لڑتے خود کو فنا کر دیتا لیکن اسکا کیا کرتا جو روتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔جسکی نظروں سے ایسا لگ رہا تھا کہ ویرہ کے سینے سے نکلنے والی آخری سانس اسکی موت ہو گی۔
“جانتا ہوں جو تمہارے ساتھ ہوا وہ بہت بڑا ظلم تھا اور اس نے ظلم نے تمہیں ظالم بنا دیا دوست۔۔۔ان ظالموں سے بھی زیادہ ظالم تو کیا فرق رہا ان میں اور تم میں۔۔۔۔؟”
راگا نے انتہائی نرم لہجے میں کہا تو ویرہ نے اسکے بازو چھوڑ دیے اور اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر سسک سسک کر رو دیا۔راگا نے فوجی کو اشارہ کیا جس نے آگے بڑھ کر ویرہ کو زنجیر پہنائی اور اس بکھرے شخص کو اپنے ساتھ لے گیا۔
جبکہ مرجان مردہ آنکھوں سے ویرہ کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی۔وہ لوگ ویرہ کو ایک گاڑی میں ڈال چکے تھے جب مرجان میں حرکت آئی اس نے اپنا آپ چھڑایا اور ویرہ کی جانب بھاگنے لگی۔
“باچا۔۔۔۔نہیں چھوڑو۔۔۔میرے باچا کو۔۔۔”
مرجان روتے ہوئے چلائی اس سے پہلے کہ وہ ویرہ تک پہنچتی راگا نے اسے پکڑ کر اسکے قریب جانے سے روکا۔
“نہیں ۔۔۔باچا۔۔۔۔راگا لالہ مجھے ان کے پاس جانا ہے جو سزا انہیں دے گا مجھے بھی دے دینا بس مجھے ان کے پاس جانا ہے۔۔ “
مرجان نے سسک کر روتے ہوئے کہا جبکہ فوجی ویرہ کی گاڑی کا دروازا بند کر چکے تھے۔گاڑی سٹارٹ ہوئی اور وہاں سے جانے لگی تو مرجان نے تڑپ کر راگا کی گرفت سے نکلنا چاہا۔
“نہیں مرجان۔۔۔۔نہیں بھروسہ کرو مجھ پر۔۔۔۔پلیز اپنا بڑا بھائی سمجھ کر بھروسہ کر لو مجھ پر۔۔۔”
راگا نے اسے چھوڑے بغیر کہا تو مرجان گھٹنوں کے بل بیٹھ کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔
“تو یہ بہن آپ کو بتا دیتی ہے لالہ مر جائے گا وہ اپنے باچا کے بغیر مر جائے گا۔۔۔۔”
مرجان نے زارو قطار روتے ہوئے کہا اور راگا بے بسی سے نم آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا لیکن وہ اسکے لیے کیا کر سکتا تھا اسکی اور اپنی زندگی میں یہ کانٹے ویرہ نے خود بچھائے تھے۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان مردہ حالت میں ایک کونے میں بیٹھی تھی جبکہ الماس اسکے پاس بیٹھیں پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔تین دن گزر چکے تھے لیکن اتنے دنوں سے مرجان نے ایک لفظ نہیں بولا تھا بس یونہی ایک جگہ پر بیٹھ کر آنسو بہاتی رہتی تھی۔الماس اسکی پریشانی میں گھلتی چلی جا رہی تھیں۔
وہ لوگ آرمی کے کیمپ میں موجود تھے۔جہاں انہیں سب گاؤں والوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ان سب کی تحقیقات تک انہیں یہیں رکھا جانا تھا اور اسکے بعد وہ فوج کی طرف سے آزاد تھے لیکن وہ سب آزاد ہو کر جاتے بھی کہاں ان کے سہارے ان کے آدمی یا تو مارے جا چکے تھے یا جیل میں قید تھے۔
گناہ تو ان نے آدمیوں کا تھا لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی،آزادی کے باجود سزا ان کی عورتوں اور بچوں نے بھگتنی تھی۔چند سپاہی ان کے لیے کھانا لے کر آئے تو دلاور اٹھا اور کھانا لا کر الماس کو دیا۔
الماس نے نوالہ توڑ کر مرجان کے ہونٹوں کی جانب کیا لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے کچھ بھی نہیں کھایا۔الماس نے بے بسی سے دلاور اور گل کو دیکھا اور سسک سسک کر رو دیں۔
“ایسا مت کر مرجان مت کر خود کو یوں ختم۔۔۔مر جائے گی تو ایسے تھوڑا تو رحم کر خود پر۔”
الماس نے روتے ہوئے کہا۔ لیکن مرجان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا تھا۔اس نے تو کوئی جواب بھی نہیں دیا۔تبھی ایک آرمی آفیسر اس کیمپ میں داخل ہوا اور سب لوگوں پر نظر دوڑانے لگا۔
“ان چاروں کو میرے ساتھ بھیجو۔۔۔”
اس افسر نے مرجان اور اسکے گھر والوں کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
“بٹ کیپٹن امان ابھی تو سب کی تحقیقات چل رہی ہے اور اس سے پہلے کسی کو نہیں چھوڑا جانا تھا۔”
سپاہی نے خود کو دیا جانے والا حکم کیپٹن امان کو بتایا تو امان کے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکال کر سپاہی کے سامنے کیا۔
“جرنل شہیر کا آرڈر ہے۔۔۔”
سپاہی نے اثبات میں سر ہلایا اور الماس کے پاس آیا۔
“اماں چلیں آپ چاروں کو آزاد کیا جا رہا ہے۔۔۔”
وہ سپاہی جانتا تھا کہ الماس کو اردو نہیں آتی اسی لیے اس نے یہ بات پشتو میں کہی تھی۔الماس نے حیرت سے اس سپاہی کی جانب دیکھا۔
“آزاد۔۔۔لیکن ہم آزاد ہو کر جائیں گے کہاں ہمارا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے،ہمارا کوئی سہارا نہیں۔”
یہ بات کہتے ہوئے الماس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں؟”
امان نے سپاہی کے پاس آ کر پوچھا تو سپاہی نے الماس کی بات اسے بتائیں۔
“انہیں کہو وہ اس ملک کے باشندے ہیں یہ پورا ملک انکا گھر ہے اور ہم سب انکا سہارا ہیں ۔ان کے مردوں کے گناہوں کی سزا انہیں نہیں دی جائے گی۔۔۔۔”
سپاہی نے امان کی بات الماس کو بتائی تو انہوں نے حیرت سے امان کو دیکھا جو آرمی یونیفارم میں مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہا تھا۔وہ وہی کیپٹن تھا جو اس دن انہیں انکے گھر سے لے کر گیا تھا۔
“اب چلیں آپ کا نیا گھر آپ کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔”
“گھر؟”
دلاور نے حیرت سے پوچھا تو امان نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔الماس نے مرجان کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور اسے کیمپ سے باہر لے جانے لگیں۔دلاور نے گل کا ہاتھ پکڑا جو سہم کر امان کو دیکھتے ہوئے دلاور کے بازو سے چپکی تھی۔
“یہ مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہے؟”
امان کے سوال پر دلاور مسکرا دیا۔
“یہ آپ سے نہیں آپ کی وردی سے ڈرتا ہے۔۔۔”
دلاور کی بات پر امان کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“مطلب؟”
“مطلب اسے فوجیوں سے ڈر لگتا ہے۔۔۔”
دلاور نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ لگایا تو امان مسکرا دیا۔اس نے ایک نظر نیلی آنکھوں والی اس گلابی سی گڑیا کو دیکھا۔امان نے انہیں گاڑی میں بیٹھایا اور ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔
کچھ دیر کے بعد وہ لوگ ایک گھر کے باہر رکے۔تقریباً دس مرلے پر بنا وہ گھر بہت خوبصورت سا تھا۔
“آئیے۔۔۔۔”
امان نے انہیں کہا تو الماس گھبراتے ہوئے مرجان کو لے کر گاڑی سے اتری اور دلاور کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔دلاور نے گھبرا کر یہاں وہاں دیکھا اور گل کا ہاتھ پکڑتا گھر میں داخل ہو گیا۔
گھر جتنا خوبصورت باہر سے تھا اندر سے اتنا بھی زیادہ شاندار تھا۔سارا گھر سامان سے بھرا پڑا تھا۔گل اور دلاور تو حیرت سے آنکھیں کھولے یہاں وہاں دیکھ رہے تھے۔
“سر میں لے آیا انہیں جیسا آپ نے کہا تھا۔”
امان نے ہال میں کھڑے ایک آدمی سے کہا جو اسکے یہ بات کہنے پر پلٹا اور مسکرا کر انکی جانب آیا۔
“اسلام و علیکم ۔۔۔۔کیسے ہیں سب آپ کو یہاں آنے میں مسلہ تو نہیں ہوا؟”
اس آدمی نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔اسے تو وہ لوگ جانتے بھی نہیں تھے پھر وہ ان سے اتنی محبت سے بات کیوں کر رہا تھا۔
“کون ہے آپ اور ہمیں یہاں کیوں بلایا ہے؟”
الماس نے گھبراتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکرا دیا۔
“میرا نام عماد ہے عماد بنگش اور مجھے آپ اپنا بیٹا ہی سمجھیں۔”
عماد نے الماس کی آسانی کے لیے یہ بات پشتو میں کہی تو وہ حیرت سے اسکی جانب دیکھنے لگیں۔
“لیکن میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں۔۔۔”
الماس نے حیرت سے پوچھا۔
“جی لیکن میں آپ سب کو جانتا ہوں آپ پریشان مت ہوں۔۔۔”
عماد نے نرمی سے کہا اور مسکرا کر مرجان کو دیکھا جو بت بنی وہاں کھڑی تھی۔
“یہ آپ سب کا گھر ہے آپ یہیں رہیں گے اب سے اور آپ کو کسی چیز کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔”
عماد کی بات پر الماس نے پریشانی سے دلاور کو دیکھا۔
“لیکن تم ہمارے لیے اتنا سب کیوں کر رہے ہو؟”
الماس کے لہجے میں بہت حیرانی تھی۔
“بس یہ سمجھ لیں کسی سے کیا وعدہ نبھا رہا ہوں۔۔۔”
اتنا کہہ کر عماد الماس کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ انکے کندھے پر رکھا۔
“مجھے پر بھروسہ کریں اماں جی میں بس آپ سب کا خیال رکھنا چاہتا ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔”
الماس نے عماد کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی۔وہ اپنے بچوں کے معاملے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن اپنے بیمار بیٹے اور دو بیٹیوں کو لے کر وہ جاتی بھی کہاں۔کچھ سوچ کر انہوں نے ہاں میں سر ہلایا تو عماد مسکرا دیا۔
“چلیں آئیں آپ کو آپ کا گھر دیکھاتا ہوں۔۔۔”
عماد نے انہیں ساتھ چلنے کا کہا تو وہ سب اسکے پیچھے چل دیے۔گھر میں ٹوٹل چھے کمرے تھے اور سب ہی بہت خوبصورت تھے عماد نے تو سب کے لیے علیحدہ علیحدہ کمرہ تیار کروایا تھا لیکن الماس کا ارادہ خود دلاور کے ساتھ رہنے کا تھا اور گل اور مرجان کو ایک کمرے میں رکھنا چاہتی تھیں۔
“ابھی آپ لوگ آرام کر لیں پھر کل ہم بازار چلیں گے تا کہ آپ کپڑے اور ضرورت کا جو سامان آپ کو چاہیے آپ وہ لے سکیں۔۔۔”
عماد نے نرمی سے کہا تو الماس نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔عماد کچھ ہی دیر میں امان کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔
“اماں کیا یہ سچ میں اب ہمارا گھر ہے؟”
گل نے خوشی سے پوچھا تو الماس مسکرا دیں لیکن انہوں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اس سوال کا جواب انکے پاس خود بھی نہیں تھا۔وہ اس عماد بنگش کو جانتے تو نہیں تھے لیکن فلحال وہ انکی اس مشکل زندگی میں ایک فرشتہ بن کر آیا تھا۔
