Dil E Janaa By Harram Shah Readelle50197 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
مرجان کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی خدا نے یعقوب خان کو ایک بیٹا عطا کیا تھا جسکی خوشی میں وہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔اس نے بچے کا نام دلاور رکھا اور اپنی ساری محبت اور توجہ اسی پر مرکوز رکھتا لیکن یہ خوشی اس بچے کے تھوڑا بڑے ہوتے ہی ماند پڑھ گئی۔
جب ایک دن دلاور کھیلتے ہوئے بے ہوش ہو گیا اور اسے ہسپتال لے جانے پر پتہ چلا کہ اسکے دل میں سوراخ ہے جس کی وجہ سے وہ مشقت والا کام نہیں کر سکتا ورنہ وہ زندہ نہیں رہے گا۔
اسی دن یعقوب کا اپنے بیٹے کو اپنے جیسا سفاک بنانے کا ہر خواب چکنا چور ہوا تھا اور جو بے رخی وہ مرجان کو دیکھاتا تھا دلاور بھی باپ کی اسی بے رخی کا شکار ہونے لگا۔
دلاور دو سال کا ہوا تو خدا نے پھر سے یعقوب کو اولاد کی امید دی۔اب وہ بس امید ہی کر سکتا تھا کہ اسے ایک تندرست بیٹا نصیب ہو لیکن تیسری اولاد کو بیٹی کے روپ میں دیکھ کر یعقوب خان ہار گیا تھا۔
شائید اسکے نصیب میں ہی نہیں تھا کہ اسکا بیٹا اسکا جانشین بن سکے۔یعقوب اس بات پر افسردہ تھا اور اپنا سارا غصہ وہ الماس پر نکال چکا تھا جو ڈری سہمی پانچ سالہ مرجان اور چار سالہ دلاور کو سینے سے لگائے بس آنسو بہاتی جا رہی تھی جبکہ چند دن پہلے پیدا ہوئی چھوٹی سی گل اپنے باپ کی نفرت سے بے خبر سو رہی تھی۔
الماس کا دل اپنے الفاظ سے چھلنی کر کے وہ غصے کے عالم میں اپنے باقی آدمیوں کے درمیان آیا۔
“کیا ہوا سردار اتنا غصے میں کیوں ہے؟”
اسکے سب سے خاص دوست نے پوچھا۔
“غصہ نہ کروں تو کیا کروں ماڑا تین بچے دیے اس عورت نے مجھے جس میں سے دو تو بیٹیاں ہیں اور جو بیٹا دیا وہ بھی بے کار۔۔۔۔مجھے کچھ ہو گیا تو کون سنبھالے گا یہ سارے معاملات۔۔۔”
یعقوب نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“جانتا ہے تم نفرت ہے مجھے اس ملک سے اس قوم سے یہاں کی فوج،حکومت یہاں کے ہر باشندے سے۔۔۔اور چاہتا ہوں کہ یہ سب ہماری وجہ سے کبھی سکون میں نہ رہیں لیکن۔۔۔لیکن مجھے میری جیسی اولاد ہی نہیں ملی جو میرا ساتھ نبھا سکے۔”
یعقوب نے ہاتھ غصے سے اس چارپائی پر مار کر کہا جس پر وہ بیٹھا تھا۔
“بس اتنی سی بات۔۔۔اور تمہارے اس بیٹے کا کیا جو چاہے تمہارا خون نہیں لیکن زندہ صرف تمہاری وجہ سے ہے۔۔۔۔”
یعقوب کی آنکھوں میں اس بات پر حیرت اتری تو اسکے دوست نے بیس سالہ ویرہ کی جانب اشارہ کیا جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا طاقت اور دہشت کی مثال لگتا تھا۔
سینے پر ہاتھ باندھے وہ مردہ آنکھوں سے دو لڑکوں کو دیکھ رہا تھا جو ہاتھ میں بندوقیں پکڑے نشانہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ایک بار بھی انکا نشانہ دور پڑی بوتل کو نہیں لگا تھا۔
“اپنے ماں باپ کا انتقام لینے کے بعد سے اس نے کچھ نہیں کیا بس ایک زندہ لاش ہے وہ جس کے چہرے پر غصہ،غم،خوشی جیسا کوئی جذبہ نہیں دیکھا وہ ایک کورا کاغذ ہے سردار جس پر جو لکھ دو گے وہ ہمیشہ کے لیے اس پر چھپ جائے گا۔”
اب کی بار یعقوب کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”
“ویرہ تمہاری وہ اولاد ہو سکتا ہے یعقوب جو تمہیں چاہیے،اپنے نام جیسی دہشت ہو سکتا ہے وہ۔تم اس کے غم اور غصے کا فایدہ اٹھا کر اس میں بس نفرت بھر دو پھر دیکھنا اس نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا وہ۔۔۔۔”
اس بات پر یعقوب نے پھر سے ویرہ کی جانب دیکھا جو اب ایک لڑکے کے ہاتھ سے بندوق اپنے ہاتھ میں پکڑ چکا تھا اور پھر اس نے نشانہ بنایا اور گولی چلا دی جو عین بوتل کے وسط میں لگی۔
یہ دیکھ کر یعقوب کی آنکھوں میں ایک چمک اور ہونٹوں پر ایک مسکان آئی۔اسکا دوست ٹھیک کہہ رہا تھا۔ویرہ ہی اسکی وہ اولاد ہو سکتا تھا جسکا خواب یعقوب نے دیکھا تھا۔
وہ سچ میں ایک کورا کاغذ ہی تھا جسے یعقوب اپنے انداز میں ڈھال کر صرف ایک دہشت بنانا چاہتا تھا ایک ایسا آدمی جسے نفرت کے سوا کچھ کرنا ہی نہ آتا ہو۔
“سردار آپ کے حکم کے مطابق ہم اس فوجی کو پکڑ لائے ہیں جس نے پچھلے دنوں ہمارے مجاہد کو شہید کیا تھا۔”
ایک آدمی نے آ کر یعقوب کو بتایا تو اسکی آنکھوں میں وحشت اتری تھی۔
“اب اس فوجی کو اندازہ ہو گا کہ اس نے کتنا بڑا گناہ کیا ہے۔جیسے اس نے ہمارے مجاہد کی جان لی اب ہم اسکی لاش اسکے گھر والوں تک پہنچائیں گے۔”
یعقوب کی بات پر پاس بیٹھے آدمیوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تم دونوں چلو میں آتا ہوں۔”
وہ دونوں فوراً اٹھ کر وہاں سے چلے گئے اور یعقوب ویرہ کے پاس آیا جو یکے بعد دیگرے سامنے پڑی بوتلوں کو بغیر چکے اپنی گولی کا نشانہ بنا رہا تھا۔یعقوب اسکے اعلیٰ نشانے پر رشک کیے بغیر نہ رہ سکا۔
“ویرہ میرے شیر۔۔۔۔”
یعقوب نے ویرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ویرہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے بوتل کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔
“جانتے ہو پچھلے دنوں فوج کے ایک کیپٹن نے ہمارے مجاہد کو شہید کیا اور اس بات پر کتنے ہی تمغے اور تعریف حاصل کی۔حالانکہ ہمارا وہ مجاہد کیا کرنے گیا تھا اس ملک میں رہنے والے کافروں کو انکے گرجے سمیت نیست و نابود کرنے۔”
یعقوب نے گہرا سانس لیا۔
“لیکن دیکھو خود کو انصاف کے حامی کہنے والے یہ لوگ کافروں کو پناہ دے کر اپنے مسلمان بھائی کی جان لینا پسند کرتے ہیں۔”
یعقوب نے ویرہ کی جانب دیکھا جو ابھی بھی اپنے دھیان مگن نشانہ لگانے میں مصروف تھا۔
“تمہیں نہیں لگتا ایسے لوگ سزا کے حقدار ہیں جو صحیح اور غلط کی پہچان ہی نہیں کر سکتے۔۔۔۔ایسے لوگ جو گناہ گار کو بچاتے ہیں اور اس گناہ گار کو انجام تک پہنچانے کی چاہ رکھنے والے کی جان لے لیتے ہیں۔۔۔۔”
گولی چلنے کی آواز فضا میں گونجی اور ساتھ ہی بوتل چھناکے سے ٹوٹ گئی۔
“تمہیں لگتا ہو گا کہ اب تمہاری زندگی کا کوئی مقصد نہیں تو اپنی زندگی میں مقصد پیدا کرو ویرہ ایسے لوگوں کو انکے انجام تک پہنچاؤ جو راہ سے بھٹکے ہیں جنہیں صحیح اور غلط کی پہچان نہیں۔۔۔”
اب کی بار ویرہ نے ہاتھ میں پکڑی بندوق سے دھیان ہٹا کر یعقوب کو دیکھا تھا۔
“اپنے بابا کے لیے ویرہ جنہیں انصاف پر چلنے کی یہ سزا ملی کہ انکے سامنے انکے بیوی بچوں کو مار دیا۔”
ویرہ کی پکڑ اپنی بندوق کے گرد مظبوط ہوئی تھی۔
“ان کی روح کو سکون تب ہی ملے گا ویرہ جب وہ اپنے بیٹے کو صحیح راہ پر چلتے دیکھیں گے۔کرپٹ نظام اور کافروں کے تلوے چاٹنے والے اس گھٹیا حکومت اور فوج کے خلاف لڑتا ہوا دیکھیں گے۔”
یعقوب نے ویرہ کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہا تھا۔ویرہ کے ساتھ ہوئے ظلم کا فائیدہ اٹھا کر اسکے اندر نفرت کا بیج بو رہا تھا۔
“آؤ میرے ساتھ۔۔۔۔”
یعقوب نے ویرہ کو اپنے ساتھ لیا اور اس جگہ لے آیا جہاں اسکے آدمیوں نے آرمی یونیفارم میں ملبوس ایک سپاہی کو پکڑ رکھا تھا۔وہ سپاہی سہمی نگاہوں سے ہر ایک کو دیکھ رہا تھا۔
“ایک آدمی نے کیمرہ آن کیا اور چہرے پر نقاب پہن کر اس سپاہی کے پیچھے آیا اور اسکا چہرہ بالوں سے پکڑ کر اونچا کر دیا۔
“دیکھ لو فوجیو ہمارے ساتھی کی جان لینے کا انجام،یاد رکھنا ہم لوگ چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہماری ایک لاش کے بدلے تمہارے سو فوجی مارنے کی طاقت رکھتے ہیں ہم۔۔۔”
اتنا کہہ کر اس نقاب پوش نے یعقوب کو دیکھا جس نے ویرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بتا دو ان لوگوں کو ویرہ ہم سے بھڑنے کا انجام۔۔۔۔”
ویرہ نے اس بات پر ایک نظر اس سپاہی کو دیکھا جو بمشکل چوبیس سے پچیس سال کا تھا اور نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ویرہ کو اس آدمی میں اپنا آپ نظر آیا تھا۔ایسے ہی تو وہ بھی سہم کر اس آدمی کو دیکھ رہا تھا جب اس نے اسکا گلا کاٹا تھا۔
اس کی مدد کے لیے بھی تو کوئی نہیں آیا تھا اس پر بھی تو کسی نے رحم نہیں کھایا تھا تو وہ رحم کیوں کھائے۔ہاں اسکی محبت اور رحم اسکے ماں باپ کے ساتھ ختم ہو گئے تھے۔یہ سب جزبے عبداللہ کے ساتھ مر گئے تھے اب وہ عبداللہ نہیں تھا وہ ویرہ تھا۔
یعقوب کی دل میں ڈالی گئی پھانس نے اپنا اثر دیکھایا تھا۔ویرہ نے وہ بندوق اٹھا کر اس سپاہی کے ماتھے کا نشانہ لیا۔ایک بار اسکے ضمیر نے اسے پکارا تھا اسے بتایا تھا کہ وہ غلط ہے لیکن خود پر ہوئے ظلم اور یعقوب کی دل میں ڈالی گئی نفرت نے ضمیر کی آواز کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
ویرہ نے اپنی آنکھیں بند کیں اور گولی چلا دی جو سیدھا اس لڑکے کے سر کے آر پار ہوئی تھی۔اس کی لاش زمین بوس ہوتے دیکھ ہاتھ میں پکڑی بندوق ویرہ کے ہاتھ سے چھوٹی اور وہ وہاں سے چلا گیا۔
اسکا ضمیر اسے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اس نے غلط کیا تھا اس نے گناہ کیا لیکن اس نے اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیا یہ کہہ کر کہ وہ کیوں رحم کھائے جب اس پر رحم نہیں کیا گیا تھا۔
ہاں اب وہ کسی پر رحم کھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ یہ دنیا مظلوم کی نہیں اس لیے اب وہ بھی بس ظالم بنے گا اپنے نام جیسا ویرہ بنے گا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
وقت ریت کی مانند سرکتا گیا ۔دیکھتے ہی دیکھتے دس سال گزر گئے۔دنیا جہان سے بے خبر پندرہ سالہ مرجان گلابی ہونٹ دانتوں میں دبائے بت بنی پھول پر بیٹھی تتلی کو دیکھ رہی تھی جبکہ دوپٹہ تیز ہوا کے باعث سر سے اتر کر کندھے پر جھول رہا تھا اور ریشمی بھورے بالوں کی لٹیں تیز ہوا کے باعث چوٹی سے نکل کر سرخ و سفید چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
وہ اس وقت ایک معصوم سی موم کی گڑیا لگ رہی تھی جو سنہری آنکھوں میں شرارت لیے پھول پر بیٹھی رنگ برنگی تتلی کو دیکھ رہی تھی پھر اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اس تتلی کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور جلدی سے اپنے ہاتھوں میں قید کر لیا۔
قید میں آتے ہی تتلی پھڑپھڑانے لگی اور اسکی پروں سے ہونے والی گدگدی پر مرجان کھلکھلا کر ہنس دی لیکن اسے چھوڑا نہیں اور جلدی سے اپنے گھر کی جانب بھاگ گئی۔
“اماں اماں۔۔۔دیکھو میں نے کتنا پیارا تتلی پکڑا ہے ۔۔۔ “
مرجان نے خوشی سے چہکتے ہوئے اردو میں کہا لیکن پھر اسے خیال آیا کہ اسکی ماں ہو تو اردو آتی ہی نہیں اس لیے فوراً اپنی بات پشتو میں دہرا دی۔اپنے بہن بھائیوں میں بس دلاور اور مرجان کو ہی اردو آتی تھی۔لڑکوں کو اردو سیکھائی جاتی تھی اور مرجان نے دلاور سے باتیں کرتے ہوئے ہی سیکھ لی تھی۔
“احمقه نجلۍ تاسو چیرې یاست؟”(پاگل لڑکی کہاں تھی تم؟)
الماس نے غصے سے اسکے چوٹی سے باہر آتے بالوں اور دوپٹے سے بے نیاز نازک وجود کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“بادل ہو رہے تھے اماں اور اتنی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اس لیے میں پھولوں کے پاس گیا اور دیکھو مجھے کیا ملا۔”
مرجان نے اپنے بند ہاتھ الماس کے سامنے کیے جنہیں اس نے بڑی احتیاط سے زرا کھلا رکھتے ہوئے چھوٹا سا پنجرہ بنایا ہوا تھا۔
“تمہارے بابا کو پتہ چلا ناں کہ دوپٹے کے بغیر دندناتا پھر رہا ہے تم تو چمڑی ادھیڑ دیں گے تمہارا۔۔۔۔۔”
الماس نے اسے ڈراتے ہوئے کہا لیکن مرجان بس مسکرا دی۔
“کیسے پتہ چلے گا صبح صبح تو کام سے شہر چلا گئے تھے وہ مجھے پتہ ہے اب کل آئیں گے اور پھر سے ان سے ڈر ڈر کے جینا ہے ابھی تو کھل کے جینے دو۔۔۔۔”
مرجان نے منہ بنا کر کہا اور اپنے ہاتھوں کو چوما جن میں تتلی قید تھی۔مرجان نہیں چاہتی تھی کہ وہ ہاتھ کھولے اور وہ تتلی اڑ جائے۔
“اچھا چھوڑو ناں یہ دیکھو میں کیا لائی۔”
مرجان نے مسکرا کر کہا اور آہستہ سے اپنے ہاتھ کھولے لیکن ہاتھ کھولتے ہی اسکی مسکان غائب ہوئی تھی کیونکہ اس تتلی کا رنگ مرجان کے سفید ہاتھوں پر لگا تھا اور وہ خود بے جان سی اسکے ہاتھوں پر گری ہوئی تھی۔
“ااا۔۔۔۔۔اسے کیا ہوا۔۔۔؟”
مرجان نے گھبرا کر پوچھا تو الماس نے گہرا سانس لیا۔
“وہ مر گیا مرجان تتلی بہت نازک ہوتا ہے اسے پکڑیں تو مر جاتا ہے۔۔۔”
الماس کی بات اسے پتھر کا کر گئی تھی۔دو آنسو مرجان کی آنکھوں سے ٹوٹ کر اسکی ہتھیلیوں پر گرے تھے۔
“مم۔۔۔۔میں نے اسے مار دیا اماں۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان سسک سسک کر رونے لگی اور الماس نے بے بسی سے اسے دیکھا۔اسکی دونوں بیٹیاں ہی بہت معصوم اور نازک سے دل کی مالک تھیں۔اس جنت نما جہنم میں رہتے ہوئے بھی وہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ وہ کس دنیا کا حصہ ہیں۔
ان کے قبیلے میں مرد عورتوں کو اپنے معاملات سے دور رکھتے تھے۔ان کے مطابق عورتیں ضروت کے سامان سے زیادہ کچھ نہیں تھیں۔
مرجان اور گل دونوں ہی اس بات سے بے خبر تھیں کہ وہ کن جانوروں کا حصہ ہیں لیکن الماس یہ بات جانتی تھی کہ یہ گاؤں کوئی عام گاؤں نہیں تھا نہ ہی ان کے آدمی کوئی عام آدمی تھے بلکہ وہ سب دہشت گرد تھے۔
یہ تب سے تھا جب یعقوب خان اس گاؤں میں آیا تھا اور الماس کے باپ سے اسے خرید ہر آہستہ آہستہ پورے گاؤں پر حکومت قائم کر گیا اور سب آدمیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔اور جو اس کے ساتھ نہیں ملا اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
الماس چاہ کر بھی یہ بات اپنی بیٹیوں کو بتا نہیں پائی تھی جبکہ دلاور اس بات سے آگاہ تھا اور اپنا دل کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے باپ کی نظر میں کچھ نہ ہونا اسکا سب سے بڑا غم تھا۔
الماس کا بس چلتا تو وہ اپنے تینوں بچوں کو یہاں سے بہت دور لے جاتی لیکن یہ ناممکن تھا اور ایسی کوشش کر کے وہ اپنی اور اپنے بچوں کی موت کا باعث نہیں بننا چاہتی تھی۔الماس نے بے بسی سے مرجان کو دیکھا جو اب سسک سسک کر رو رہی تھی۔
“رو مت مرجان کچھ نہیں ہوتا تم نے جان بوجھ کر تو نہیں مارا ناں اسے۔۔۔”
الماس نے اسے سمجھانا چاہا لیکن مرجان کے آنسؤں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
“ککک۔۔۔۔کتنا درد ہوا ہو گا اسے۔۔۔۔وہ میرے ہاتھوں میں تڑپ رہی تھی اور میں نے اسے نہیں چھوڑا۔۔۔۔اللہ تعالیٰ مجھے معاف نہیں کریں گے اماں۔۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا تو الماس اسکے پاس آئیں اور اسکے ہاتھ سے تتلی پکڑ کر باہر پھینکتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا۔
“تمہیں نہیں پتہ تھا ناں تم سے غلطی ہو گئی معاف کر دیں گے اللہ تمہیں۔۔۔”
انہوں نے مرجان کی کمر سہلا کر اسے دلاسہ دیا۔
“چلو اب رونا چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔۔۔”
الماس مرجان کا ہاتھ پکڑ کر چھوٹے سے گھر کے باورچی خانے میں لے گئیں۔
“میں نے سالن بنا دیا ہے دو روٹیاں بنا اور ویرہ کو دے آ شام ہونے والی ہے پھر۔۔۔دلاور کے سینے میں درد ہو رہا ہے اس لیے وہ نہیں جا پائے گا اور گل کا تو پتہ ہے ناں ویرہ کے سائے سے بھی ڈرتی ہے۔۔۔”
الماس کی بات پر مرجان کے آنسو آنکھوں میں ہی اٹک گئے اور اس نے حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا۔
“میں دے کے آؤں ان کو کھانا؟”
مرجان نے ایک بار پھر حیرت سے پوچھا۔
“ہاں ناں دلاور سے تو چلا بھی نہیں جا رہا ۔۔۔۔اگر تم نہیں جانا چاہتا تو میں کسی کو۔۔۔”
“نن۔۔۔۔نہیں نہیں میں دے آؤں گی سالن بھی گرم کر کے اچھے سے کھانا دے کر آؤں گی۔۔۔”
مرجان نے فوراً کہا تو الماس مسکرا کر وہاں سے چلی گئی۔اسے دلاور کا خیال رکھنا تھا جسکی طبیعت صبح سے ٹھیک نہیں تھی۔مرجان نے ہاتھ دھو کر جلدی سے روٹی بنائی لیکن وہ اسے پسند نہیں آئی آخر کار دو اور روٹیاں برباد کرنے کے بعد وہ گول سی روٹی بنا چکی تھی۔جسے اس نے مسکراتے ہوئے رومال میں لپیٹا اور ایک پیالی میں گوبھی گوشت کا سالن گرم کرنے کے بعد ڈالا۔
اس پیالی کو سلیقے سے رومال پر رکھ کر وہ جلدی سے بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی اور پیارا سا سبز رنگ کا دوپٹہ نکال کر سر پر لیا۔
“کہاں جا رہی ہو باجی۔۔۔؟”
گل نے حیرت سے اسکے چہرے پر آنے والے رنگوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو اسے کتنا ہی حسین بنا رہے تھے۔
“وہ میں ویرہ لالہ کو کھانا دینے۔۔۔”
مرجان نے ایک نظر چھوٹے سے آئنے میں خود کو دیکھا اور جلدی سے باورچی خانے میں واپس آ گئی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے۔
کھانا پکڑ کر وہ گھر سے باہر نکلی اور مسکرا کر آسمان کو دیکھا جہاں کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا جنت نما قراقرم کی اس چھوٹی سی وادی کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔
انکا کا گاؤں پہاڑوں کے دامن میں چھپی چھوٹی سی وادی میں تھا جس کے اردگرد سر سبز پہاڑ تھے اور ایک جھیل بھر جو جھرنے کی صورت میں پہاڑوں میں سے نکلتی تھی۔
مرجان کو اسکا گاؤں بہت پسند تھا جو گرمیوں میں سر سبز ہوتا تو سردیوں میں وہاں برفباری ہوتی تھی لیکن پھر بھی اس نے حسرت سے اس راستے کو دیکھا جو گاؤں سے باہر جاتا تھا۔
نہ جانے گاؤں سے باہر کی دنیا کیسی تھی؟خیر جیسی بھی ہو مرجان کبھی گاؤں سے باہر نہیں گئی تھی اور نہ ہی ان لوگوں کو وہاں سے جانے کی اجازت تھی۔
مرجان نے مسکرا کر ایک پہاڑ پر موجود چھوٹے سے گھر کو دیکھا جو کہ ویرہ کا تھا۔ویرہ کی طرح ہی اسکا گھر بھی پورے گاؤں سے الگ تھا۔ہر کوئی ویرہ سے ڈرتا تھا لیکن مرجان نہیں۔اسکی وہ خاموشی اور سنجیدگی مرجان کو بہت پسند تھی اسکا دل کرتا تھا کہ وہ یونہی خاموش سا اسکے سامنے بیٹھا رہے اور مرجان اسے دیکھتی جائے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اسکے بارے میں ایسا کیوں محسوس کرتی تھی لیکن اس نے اپنی سہیلی سے پوچھا تھا کہ کسی کے بارے میں ایسا لگے تو اسکا کیا مطلب ہوتا ہے۔
اسکا مطلب ہوتا ہے کہ تمہیں اس سے محبت ہے۔
اپنی سہیلی کا جواب یاد کر کے مرجان پھر سے شرمائی تھی۔
“اگر ابا کو پتہ چلا نہ کہ کتنی غلط باتیں سوچتی ہوں میں تو جان نکال دیں گے میری۔۔۔”
مرجان نے خود کلامی کی اور اپنے دل پر قابو رکھتی تیزی سے ویرہ کے گھر کی جانب چل دی۔اچانک ہی ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تو مرجان نے پریشانی سے ہاتھ میں پکڑے کھانے کو دیکھا اور پھر ہلکا سا جھک کر کھانے کو بارش سے بچاتی بھاگتے ہوئے اپنی منزل تک جانے لگی۔
ویرہ کے گھر تک پہنچتے وہ خود تو بھیگ گئی تھی لیکن کھانے پر اس نے ایک پانی کا قطرہ بھی گرنے نہیں دیا تھا۔
اس نے جلدی سے دروازہ کھٹکٹایا اور جس حد تک ہو سکتا تھا اپنا گیلا دوپٹہ ٹھیک کیا۔دروازہ کھلنے پر کالے رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس ویرہ باہر آیا اور مرجان کو وہاں دیکھ کر اسکے ماتھے پر دو بل آئے تھے۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
“آپ کے لیے آگو لوبھی لایا ہے۔۔۔”
مرجان نے کھانا اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
“آآآ۔۔۔۔آلو گوبھی۔۔۔”
مرجان نے فوراً درستی کرتے ہوئے شرمیلی سی مسکان کے ساتھ کہا۔وہ ویرہ کے ساتھ اردو میں ہی بات کرتی تھی کیونکہ ویرہ کو اردو پسند تھی اور وہ زیادہ تر اردو ہی بولتا تھا۔
ویرہ نے خاموشی سے اسکے ہاتھ سے کھانا لے لیا۔تبھی اسکی نگاہ مرجان کے سردی سے کپکپاتے ہاتھوں سے ہوتے اسکے گیلے کپڑوں پر پڑی۔سردی کی شروعات ہونے والی تھی جس کی وجہ سے بارش بہت ٹھنڈی تھی اور بارش بھی تو موسلا دھار ہو رہی تھی۔
“اندر آؤ اور آگ جلا کر بیٹھ جاؤ۔۔۔”
ویرہ سنجیدگی سے حکم دیتا گھر میں داخل ہو گیا تو مرجان بھی اسکے پیچھے چلی گئی۔ویرہ نے آتش دان میں آگ جلائی تو مرجان اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“پتہ نہیں بارش کب بند ہو گی اب۔۔۔۔اور اگر نہ ہوئی تو گھر کیسے جاؤں گی۔۔۔؟”
مرجان نے پریشانی سے کہا لیکن ویرہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ کھانا کھانے لگا۔
“کیسا بنا ہے۔۔۔۔سالن اماں نے بنایا ہے لیکن روٹی میں نے خود بنایا۔۔۔”
“اگر چاہتی ہو کہ اس بارش میں گھر سے نہ نکال دوں تو اب آواز نہ آئے تمہاری۔۔۔۔”
ویرہ نے سختی سے کہا تو مرجان اسکا حکم مانتی فوراً خاموش ہو گئی۔ویرہ کھانا کھانے لگا اور مرجان یہاں وہاں دیکھنے لگی۔اچانک ہی اسکی نظر ایک تتلی پر پڑی جو شائید بھٹکتے ہوئے گھر میں آ گئی تھی اور اب باہر نکلنے کی کوشش میں بار بار کھڑکی سے ٹکرا رہی تھی۔
اسے دیکھ کر مرجان کو وہ تتلی یاد آئی جو اسکی وجہ سے مر گئی تھی۔اسے یاد کرتے ہی مرجان پھر سے رونے لگی۔سوں سوں کی آواز پر ویرہ کے ماتھے پر شکن آئی اور اس نے گھور کر مرجان کو دیکھا۔
“اب رو کیوں رہی ہو؟”
ویرہ نے سختی سے پوچھا۔
“مممم۔۔۔۔میں نے آج ایک تتلی پکڑا تھا۔۔۔”
“تو۔۔۔”
ویرہ نے الجھن سے پوچھا اگر وہ یعقوب کی بیٹی نہ ہوتی تو کب کا اسے گھر سے بارش میں ہی نکال چکا ہوتا۔
“تو وہ مر گیا میرے ہاتھوں میں۔۔۔۔۔”
مرجان نے قمیض کے بازو سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ویرہ نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جو ایک تتلی کی وجہ سے رو رہی تھی۔
“یہاں انسان مر جایا کرتے ہیں اور کسی کو پرواہ بھی نہیں ہوتی اور تم تتلی کے مرنے پر رو رہی ہو۔۔۔”
ویرہ کا انداز بہت زیادہ سفاک تھا۔
“وہ ویسے مرتا تو نہیں روتی۔۔۔۔وہ میری وجہ سے مرا۔۔۔نہ میں اسے پکڑتی نہ وہ مرتا۔۔۔۔”
مرجان کے انداز میں بلا کی معصومیت تھی اور ویرہ بت بنا اسے دیکھ رہا تھا۔کہاں وہ کسی کی جان لینے پر بھی خود کو پچھتانے نہیں دیتا تھا اور کہاں وہ لڑکی ایک تتلی کا سوگ منا رہی تھی۔دروازا کھٹکنے کی آواز پر ویرہ نے اپنا دھیان مرجان سے ہٹایا اور اٹھ کر دروازے تک آیا۔
“کیسے ہو میرے شیر۔۔۔”
ویرہ کے دروازہ کھولتے ہی یعقوب خان نے اسکے گلے لگ کر کہا جبکہ اپنے باپ کی آواز پر اندر بیٹھی مرجان کا خون تک سوکھ گیا تھا۔
ویرہ نے بس اثبات میں سر ہلایا اور یعقوب کے ساتھ دو انجان آدمیوں کو گہری نگاہوں سے دیکھا۔
“یہ دونوں کون ہیں۔۔۔؟”
ویرہ کے سوال پر یعقوب نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا۔
“یہ کال ہے اور یہ راگا۔۔۔۔”
یعقوب کے اشارہ کرنے پر پہلے ویرہ نے اس سانولی سی رنگت اور لمبے بالوں والے آدمی کو دیکھا پھر اسکی نظر مغرور نقوش والے اس خوش شکل آدمی پر پڑی جس کا نام راگا تھا۔
“جس کام کے لیے میں شہر گیا تھا اس میں غلطی ہو گئی اور میں فوج کے ہاتھ لگتے لگتے بچا اگر یہ دونوں میری مدد نہ کرتے تو۔۔۔”
یعقوب خان نے گہرا سانس لیا۔
“خیر ان دونوں کا بھی کام وہی ہے جو ہمارا ہے اب یہ دونوں ہمارے ساتھ مل کر ہمارے بھائیوں کی طرح کام کریں گے۔۔۔”
یعقوب کی بات پر ویرہ نے تیکھی نظروں سے راگا کو دیکھا۔
“ہم ان پر بھروسہ کیوں کریں۔۔۔؟یہ فوج کے جاسوس بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔”
اس بات پر راگا کے ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ آئی اور وہ ویرہ کے قریب آیا۔
“جب میرے ہاتھوں سے ایک ایک فوجی مرتا دیکھے گا ناں ماڑا تو خودی یقین کر لے گا۔۔۔اور اگر پھر بھی نہیں کرے گا تو مجھے فرق بھی نہیں پڑتا لالے کی جان۔۔۔۔”
راگا کا لہجہ اور انداز پختون ہونے کے ساتھ ساتھ سفاک اور شرارتی سا تھا۔
“ویرہ جب میں نے ان پر بھروسہ کیا ہے تو کیا یہ تمہارے لیے کافی نہیں؟تمہیں لگتا ہے کہ میں غلط فیصلہ کر سکتا ہوں۔”
یعقوب کی بات پر ویرہ نے گہرا سانس لے کر کندھے اچکا دیے۔
“ہمیں اندر نہیں بلاؤ گے۔۔۔بارش ہونے کی وجہ سے سردی ہو گئی ہے۔۔۔”
یعقوب نے اپنے بازو سہلا کر کہا تو ویرہ نے ایک نظر باہر دیکھا۔بارش سچ میں رک چکی تھی۔ویرہ نے دروازے سے ہٹ کر انہیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔کال اور راگا اسکے کمرے کی جانب چل دیے اور یعقوب ویرہ کے ساتھ اندر جانے لگے۔
“ارے واہ آپ کے ویرہ کے تو رنگیلے شوق لگتے ہیں۔۔۔۔کافی حسین شوق۔۔۔۔”
کال نے مرجان کو دیکھتے ہوئے کہا جو سہم کر کمرے کے ایک کونے میں جا چکی تھی۔ویرہ نے اسکی بات کا مطلب اور اسکی نظروں میں ستائش دیکھی تو اپنی مٹھیاں بھینچ گیا۔
“ہمارے قبیلے کی عورتوں پر نگاہ رکھنے والوں کی آنکھیں نکال لیا کرتے ہیں ہم بہتر ہو گا قابو میں رکھو اپنی نظروں کو۔۔۔۔”
ویرہ بولنے سے زیادہ غرایا تھا۔اسکی غصے سے بھرپور آواز پر یعقوب خان کمرے میں آئے اور مرجان کو وہاں دیکھ کر انکے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو مرجان خان۔۔۔۔؟”
مرجان اس سوال پر خوف سے اچھل پڑی تھی۔
“و۔۔۔۔وہ ممم۔۔۔۔میں کھانا دد۔۔۔دینے آیا تھا۔۔۔۔۔”
مرجان نے سہم کر بتایا۔
“کیوں دلاور مر گیا ہے کیا؟”
یعقوب کے غصے پر مرجان خوف سے اچھل پڑی۔
“وہ۔۔۔۔لالہ کے سینے۔۔۔مم۔۔۔میں درد ہو رہا تھا۔۔۔”
یعقوب نے اس بات پر گہرا سانس لیا۔
“دفع ہو جاؤ گھر تمہیں اور تمہاری ماں کو گھر آ کر پوچھتا ہوں۔۔۔۔”
مرجان فوراً وہاں سے چلی گئی اور یعقوب نے ان سب کی جانب دیکھا۔
“یہ میرا بیٹی ہے مرجان۔۔۔۔۔”
راگا نے اس بات پر بس ہاں میں سر ہلا دیا جبکہ کال اس راستے کو ہی دیکھ رہا تھا جہاں سے مرجان گئی تھی لیکن اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ لڑکی ان کے سردار کی بیٹی تھی اس پر ہاتھ ڈالنا موت کو منہ لگانے کے مترادف تھا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ راگا اور کال کو لے کر ویرہ کا ہر وسوسہ ختم ہو گیا تھا۔وہ دونوں بھی اسکی طرح سفاک تھے اور بھروسے کے قابل بھی۔کیونکہ انکا بھی وہی مقصد تھا جو ویرہ اور یعقوب خان کا تھا اس نظام اور فوج کی تباہی۔
کال اور راگا کو یہاں آئے ایک سال ہو گیا تھا۔ویرہ کا سب سے اچھا ساتھ راگا سے بنا تھا جو ویرہ سے بھی زیادہ سفاک ثابت ہوتا تھا اور ویرہ کو سب سے اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔
آنے والے ایک سال میں وہ تینوں یعقوب خان کی سب سے بڑی طاقت بن چکے تھے۔راگا،ویرہ اور کال یعقوب انہیں اپنا سرمایا سمجھتا تھا اور اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسکو کچھ ہو جانے پر ان تینوں میں سے ہی کوئی اگلا سردار بنے گا۔
یعقوب خان راگا کے ساتھ شہر کسی سے ملنے گئے تھے جبکہ کال اور ویرہ دونوں گاؤں ہی رہے تھے۔انکے گاؤں میں بھی حفاظت کے لیے کسی کا ہونا ضروری تھا۔
شام ہونے والی تھی اور ویرہ حفاظتی اقدامات پہ نظر ڈالتا اپنے گھر واپس جا رہا تھا جب اسکی نظر دور درختوں میں نظر آتے ایک رنگ برنگے آنچل پر پڑی۔اسکے ماتھے پر بل آئے کیونکہ گاؤں کی کسی عورت کو گاؤں سے اتنی دور جانے کی اجازت نہیں تھی تو وہ کون ہو سکتی تھی۔
ویرہ اس جانب چل دیا جہاں پہاڑ کی ایک جانب گھنے درخت تھے جو گھنے جنگل سے پھیلتے ہوئے یہاں تک آ جاتے تھے۔ویرہ اس شخص کو پکڑ کر سزا دینے کا ارادہ رکھتا تھا جس نے انکے گاؤں تک آنے کی جرات کی تھی لیکن قریب ہونے پر جب اسکی نگاہ اس نازک وجود پر پڑی تو وہ اپنی جگہ پر جم سا گیا۔
وہ لڑکی کوئی اور نہیں مرجان تھی جو دنیا جہاں سے بے نیاز اپنا دوپٹہ ہاتھوں میں پکڑے لہراتے ہوئے گھوم رہی تھی جبکہ شام ہوتے ہی نکلنے والے جگنو اسکے گرد گھوم رہے تھے جیسے اسکی خوشی کا حصہ بننا چاہ رہے ہوں۔
کمر تک آتی بھورے بالوں چوٹی اسکے گھومنے کی وجہ سے لہرا رہی تھی۔وہ اپنی مستی میں اتنی مگن تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ویرہ کب سے وہاں کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
“مرجان۔۔۔”
ویرہ کی سخت آواز پر مرجان فوراً رک گئی لیکن پھر اسکی آواز کو وہم سمجھتی ہنس دی۔
“وہ یہاں بھلا کیسے آ سکتا ہے یہاں تو کسی کو آنے کا اجازت نہیں۔۔۔۔”
مرجان نے کہا اور کھلکھلا کر ہنستے ہوئے گھومنے لگی۔گھومتے ہوئے اسکا پیر لڑکھڑایا اور وہ کسی کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی۔مرجان سنہری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ایک تو پہلے ہی وہ اسکو خوابوں میں نظر آ کر ستاتا تھا اب کیا دن کو بھی نظر آیا کرے گا۔
“اوئے لالے کی جان خواب کھلی آنکھوں سے بھی آتے ہیں کیا۔۔۔؟”
مرجان نے ویرہ کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا لیکن پھر ان آنکھوں میں غصہ اور اسکے ماتھے پر بل آتے دیکھ وہ اچھل کر ویرہ سے دور ہوئی۔وہ کوئی خواب نہیں تھا بلکہ سچ میں وہاں تھا۔
“وہ۔۔۔وہ وویرہ۔۔۔لا۔۔۔۔”
“تم یہاں کیا کر رہی ہو جانتی ہو ناں یہاں آنے کی اجازت کسی کو نہیں۔۔۔”
مرجان بے چینی سے اپنے ہاتھ مسلنے لگی اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اپنے باپ کے شہر جانے کی اسے اتنی خوشی ہوئی تھی کہ پل بھر کی اس آزادی کو جینے وہ یہاں آ گئی تھی۔
“وہ۔۔ میں۔۔۔مم۔۔۔میں یہاں تتلی پکڑنے آیا تھا۔۔۔۔”
ویرہ نے آنکھیں موند کر گہرا سانس لیا۔
“واپس چلو فوراً اور آئندہ یہاں غلطی سے بھی مت آنا ورنہ سخت سے سخت سزا ملے گی۔”
مرجان نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے جانے لگی لیکن تبھی اسکے احساس ہوا کہ جیسے اسکا پیر کسی نے جکڑا ہو۔مرجان نے اپنے پیر کی جانب دیکھا تو سانس سینے میں ہی اٹک گیا اور وہ ایک چیخ کے ساتھ ویرہ کے سینے سے لپٹ گئی۔
اسکی حرکت پر ویرہ حیران رہ گیا۔
“یہ کیا حرکت۔۔۔۔۔”
“سس۔۔۔۔سانپ میرے۔۔۔میرے پیر پر سانپ سے ۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ کی قمیض کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ کر اسکے سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے رونے لگی۔ویرہ نے گہرا سانس لے کر اسے خود سے دور کیا اور اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس سانپ کو دیکھنے لگا جو اسکی ٹانگ سے لپٹ رہا تھا۔
ویرہ نے ہاتھ بڑھا کر سانپ کر اسکے سر سے جکڑ لیا تا کہ وہ مرجان کو ڈس نہ لے اور پھر اسے کھینچ کر مرجان سے دور کرتے ہوئے سائیڈ پر پھینک دیا۔ویرہ نے کھڑے ہو کر مرجان کو دیکھا جو ابھی بھی آنکھیں موند کر رو رہی تھی۔
“امید ہے اتنی نصیحت کافی ہو گی کہ آئیندہ سے یہاں نہیں آؤ ۔”
اتنا کہہ کر ویرہ وہاں سے جانے لگا تو مرجان بھی اسکے پیچھے لپکی۔وہ گاؤں پہنچے تو ایک آدمی پریشانی کے عالم میں انکے پاس آیا۔
“ویرہ کہاں تھے تم میں جب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔”
اس آدمی نے پریشانی سے پشتو میں کہا۔
“کیا ہوا؟”
ویرہ نے اسکی پریشانی دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“سردار اور راگا پر فوج نے حملہ کیا۔سردار کو گولی لگی۔راگا جیسے تیسے انہیں بچا کر لے آیا لیکن وہ۔۔۔۔وہ ٹھیک نہیں۔۔۔اور تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔”
آدمی نے اپنی بات سے مرجان اور ویرہ پر بم گرایا تھا۔
