Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Part 1

“جانان تم پاگل ہو گئی ہو یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟”
اپنی بیٹی کی بات پر الماس نے حیرت سے اسے دیکھا جو شائید پاگل ہو گئی تھی تبھی ایسی بات کر رہی تھی جبکہ بستر پر بیٹھا دلاور بس خاموشی سے اپنی بڑی بہن کو دیکھ رہا تھا۔
“صحیح کہہ رہی ہوں اماں ہمیں وانیا کی مدد کرنی ہے یہاں سے بھاگنے میں۔۔۔”
مرجان نے عام سے انداز میں کہا جیسے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہو۔
“پاگل ہو گئی ہو تم یہ سب ایک انجان آدمی کے کہنے پر کر رہی ہو جسے جانتی بھی نہیں تم اور انجام سوچا ہے تم نے کیا ہو گا اگر ہم پکڑے گئے تو؟”
الماس نے حیرت سے پوچھا تو مرجان ہلکا سا مسکرائی۔
“وہ شخص انجان نہیں ہے اور جتنا کچھ وہ وانیا کے لیے کر رہا مجھے یقین ہے وہ ہم پر آنچ بھی نہیں آنے دے گا بس آپ کو میری مدد کرنی ہے۔۔۔۔”
مرجان نے دلاور کی جانب دیکھا جو خاموشی سے انکی باتیں سن رہا تھا۔
“اس رات جو ہوا اس کے بعد ویرہ مجھ پر بھروسہ نہیں کریں گے اسی لیے وانیا کو گاؤں کی سرحد سے نکالنے میں کسی اور کو اسکی مدد کرنی ہو گی۔۔۔”
“اور تم کیا چاہتی ہو ایسا کون کرے؟”
الماس نے مرجان کو گھورتے ہوئے پوچھا تو مرجان نے گھبرا کر دلاور کی جانب دیکھا۔
“دلاور لالہ۔۔۔”
اب کی بار الماس اپنا سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
“بالکل پاگل ہو گئی ہو تم مرجان وہ لوگ گولی مار دیں گے دلاور کو۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہو گا یقین کریں اماں وہ ہمیں کچھ نہیں ہونے دیں گے مجھے یقین ہے ان پر ۔۔۔۔”
مرجان نے بے چینی سے کہا لیکن الماس مطمئن نہیں ہوئی تھیں۔مرجان انکے پاس آئی اور اپنا ہاتھ انکے کندھے پر رکھا۔
“ہم مظلوم ہیں اماں مجبور ہیں لیکن جب تک خاموش تماشائی بن کر سب برداشت کریں گے کیا ہم نے مرنا نہیں روز قیامت اپنے اللہ کو منہ نہیں دیکھانا؟”
مرجان کی بات پر الماس نے اسکی جانب دیکھا۔
“کم از کم ایک بار تو بہادری کا ایسا کام کر دیں کہ اپنے خدا کے سامنے سر اٹھانے کے قابل ہو جائیں اماں ورنہ یقین کریں ہمارا سر دنیا میں جھکا ہی رہے گا اور آخرت میں بھی۔۔۔”
مرجان کی بات پر دو آنسو ٹوٹ کر الماس کی آنکھوں سے بہے۔لیکن وہ کیا کر سکتی تھیں وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے بچوں پر کوئی آنچ آئے۔
“باجی صحیح کہہ رہی ہیں اماں ۔۔۔”
دلاور کی آواز پر دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“میں وانیا باجی کی مدد کروں گا باجی۔۔۔”
دلاور کی بات پر مرجان نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اپنے بہادر بھائی کو دیکھا۔
“لیکن آپ کو مجھے بتانا ہو گا کہ وہ شخص کون ہے جو آپ کی اس کام میں مدد کر رہا ہے؟”
دلاور کے سوال پر مرجان کا سر جھک گیا۔
“یہ میں نہیں بتا سکتی دلاور کیونکہ اگر وہ اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہتے تو میرے سامنے چہرہ چھپا کر نہیں آتے۔۔۔”
دلاور نے اثبات میں سر ہلایا۔
“بس اتنا سمجھ لو کہ اس شخص کو میں بہت برا اور ظالم سمجھتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں وہ درندے کے روپ میں چھپا مسیحا ہے۔”
مرجان نے اتنا کہہ کر دلاور کو دیکھا جس نے ہاں میں سر ہلایا۔
“تو بس پھر ہمیں انتظار کرنا ہو گا راگا سردار کے جشن کا۔”
مرجان اسکی بات پر مسکرا دی۔
“بالکل۔۔۔”
مرجان نے اتنا کہہ کر اپنی ماں کو دیکھا جو خاموشی سے اپنا سر جھکا گئی تھیں۔مرجان سمجھ گئی تھی کہ وہ ماں بس اپنی اولاد کے لیے خوفزدہ ہے اور انکا ڈر جائز بھی تھا انکی اولاد درندوں میں جو پل رہی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ جو صبح ہوتے ہی گھر سے نکل گیا تھا تقریباً دس بجے ناشتہ کرنے کی غرض سے گھر واپس آیا۔ہمیشہ کی طرح گھر میں داخل ہوتے ہی اسکی بے چین نگاہوں نے مرجان کو ڈھونڈا تھا۔وہ اسے باورچی خانے میں نظر آئی تو ایک سکون سا دل میں اترا تھا۔
“کھانا لگا دو۔۔۔”
مرجان ویرہ کی آواز پر اچھلی اور اثبات میں سر ہلایا۔ویرہ نہانے کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا اور اپنے بالوں میں تولیہ رگڑ رہا تھا جب مرجان کھانا لے کر کمرے میں آئی۔ویرہ خاموشی سے بیٹھ کر کھانا کھانے لگا تو مرجان جانے کے لیے مڑی۔
“رکو۔۔۔”
ویرہ کے حکم پر مرجان کے قدم فوراً رک گئے۔
“میرے پاس بیٹھو۔۔۔”
مرجان خاموشی سے اسکے سامنے بیٹھ گئی تو ویرہ کھانا کھانے لگا۔وہ مرجان کو بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخاتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
“کچھ کہنا ہے تم نے؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں اماں کے گھر چلی جاؤں؟”
مرجان کے اجازت مانگنے پر ویرہ نے اسکی جانب دیکھا۔
“کوئی خاص وجہ؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان اسکے پاس سے اٹھ کر باورچی خانے گئی اور ایک ڈبہ لے کر اسکے پاس آئی۔
“وہ میں نے ان کو یہ دینا تھا۔”
“کیا ہے یہ ؟”
ویرہ نے ڈبے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“وہ برفی ہے بیسن کا میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ان کا منہ میٹھا کروانے کے لیے؟”
مرجان نے زرا سا گھبرا کر کہا تو ویرہ کے ماتھے پر شکن آئی۔
“منہ میٹھا کروانے کے لیے؟”
“جی وہ آج کے دن میں پیدا ہوا تھا ناں تو وانیا نے بتایا کہ جس دن ہم پیدا ہوتا ہے وہ دن بہت خاص ہوتا ہے۔اس نے کہا آج میرا سسس۔۔۔ساللل۔۔۔۔”
مرجان لفظ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“سالگرہ۔۔۔”
ویرہ نے اسکی مشکل آسان کی تو مرجان نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا۔
“جی آج میرا سالگرہ ہے اور وانیا نے کہا اس دن اپنے گھر والوں کا منہ میٹھا کراتے ہیں اور ان سے دعائیں لیتے ہیں۔۔۔”
مرجان نے اسے بتایا جبکہ ویرہ کہیں کھو سا گیا تھا۔بہت سال پہلے کا ایک منظر اسکی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا۔ادھی رات کے وقت اسکی آنکھ کھلی تھی جب اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے سامنے پایا تھا۔
“ہیپی برتھڈے ٹو یو ہیپی برتھڈے ٹو یو ہیپی برتھڈے ڈئیر عبداللہ ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔۔”
اسکی ماں نے گایا تو اسکے بابا ہنستے ہوئے تالیاں بجانے لگے۔پھر انہوں نے ایک کیک عبداللہ کے سامنے کیا۔
“چلو اب جلدی سے کیک کاٹو اور ہمارا منہ میٹھا کرواؤ تا کہ زیادہ سی دعائیں دیں تمہیں۔۔۔”
اسکی ماں نے اسکے بال سہلا کر کہا تو اس نے کیک کو دیکھا اور اس پر لگی موم بتیاں بجھا کر کیک کاٹ کر اپنی ماں کے ہونٹوں کی جانب کیا۔
“ارے واہ سب بچے ہمیشہ پہلے مما کو چوز کرتے ہیں یہ تو زیادتی ہے ناں۔۔۔”
اسکے بابا نے منہ بنا کر کہا تو وہ کیک کا ٹکڑا اپنے بابا کے ہونٹوں کے پاس لے گیا۔
“ہمیشہ خوش رہو بیٹا اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو لمبی عمر دیں آمین۔۔۔”
اسکی ماں نے اسکا ماتھا چوم کر کہا تو لاڈ سے ان سے لپٹ گیا۔
“ویسے بہت جلدی بڑا نہیں ہو رہا یہ گیارہ سال کا ہو گیا زرا بریک لگاؤ مسٹر عبداللہ ابھی مجھے میرا چھوٹا سا بیٹا ہی پسند ہے۔”
سجاد نے عبداللہ کے بال بکھیر کر کہا تو اسکی ماں ہنس دیں اور اپنے ماں باپ کو خوش دیکھ وہ بھی ہنس دیا تھا۔
“آج سارا دن ہم ہمارے بیٹے کی پسند سے گزاریں گے باہر گھومنے چلیں گے اور باہر کھانا کھائیں گے۔۔۔”
سجاد کی بات پر عبداللہ اور اسکی ماں کا چہرہ کھل اٹھا اور ان کی خوشی دیکھ کر سجاد بھی خوش ہو گیا۔
“سنیے۔۔۔”
مرجان نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھا تو ویرہ اپنی یادوں کے سحر سے باہر نکلا۔
“میں جاؤں کیا؟”
ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا تو مرجان اپنے کمرے میں جانے کے لیے مڑی۔
“سنو۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“جی۔۔۔؟”
ویرہ کھانا چھوڑ کر اٹھا اور اسکے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“میرا منہ میٹھا نہیں کرواؤ گی؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے بوکھلا کر ہاتھ میں موجود ڈبے کو دیکھا۔
“مجھ سے بھی تو تمہارا کوئی تعلق ہے اور اگر دیکھا جائے تو مجھ سے تمہارا سب سے گہرا تعلق ہے۔۔”
ویرہ کی آواز میں ایک جنون ایک احساس ملکیت سا تھا۔مرجان نے ہاں میں سر ہلایا اور ڈبہ کھول کر ویرہ کے سامنے کیا۔
“اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہیں۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے ایک نظر ہاتھ میں پکڑا ڈبہ دیکھا اور پھر اس میں سے ایک ٹکڑا نکال کر ویرہ کے ہونٹوں تک لے گئی۔ویرہ نے آدھا ٹکڑا اپنے منہ میں لیا تو اسکے ہونٹ مرجان کی انگلیوں سے مس ہوئے۔
اسکے اتنے سے لمس پر ہی مرجان کا دل بہت زور سے دھڑکا اور اس نے فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
“کتنے سال کی ہو گئی ہو تم؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے کپکپاتی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔وہ اسکے بہت قریب کھڑا تھا اور اسکی قربت پر مرجان کی ہتھیلیاں پسینے سے نم ہو رہی تھیں۔
“اٹھارہ۔۔۔”
“اٹھارہ؟”
ویرہ نے حیرت سے آنکھیں کھول کر پوچھا۔
“تم تو سولہ سال کی نہیں تھی؟”
اس سوال پر مرجان ہلکا سا ہنسی۔
“ہاں تو کیا میں نے ساری زندگی سولہ سال کا ہی رہنا تھا کیا؟ ہمارے نکاح کے وقت تھا لیکن اب ہمارے نکاح کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے اور آج میں اٹھارہ سال کا ہو گئی ہوں۔۔”
مرجان نے اترا کر کہا تو ویرہ نے گہرا سانس لے کر ہاں میں سر ہلایا۔
“اب میں جاؤں؟”
مرجان نے پھر سے پوچھا تو ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا۔مرجان وہاں سے جانے لگی تو اچانک ویرہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔
“منہ میٹھا کروانے کے بعد تحفہ بھی لیتے ہیں۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے پریشانی سے اسکی جانب دیکھا۔
“یہ تو وانیا نے نہیں بتایا تھا۔”
“لیکن میں بتا رہا ہوں ناں۔۔۔”
ویرہ نے اسے زرا سا کھینچ کر دوبارہ اپنے سامنے کیا۔مرجان نے بوکھلا کر اسے دیکھا۔
“میں کیا تحفہ لوں؟”
“جو تمہارا دل کرے۔”
ویرہ نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔اپنی قربت پر اسکا پلکیں جھکانا یوں ہچکچانا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
“جو بھی میرا دل کرے؟”
مرجان نے نظریں اٹھا کر پوچھا تو ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا لیکن اس سے پہلے مرجان کچھ کہتی ویرہ بول اٹھا۔
“اس لڑکی کی آزادی کے علاؤہ کچھ بھی۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان کا منہ بن گیا جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ وہی مانگنے والی تھی۔کافی سوچنے کے بعد ایک خیال مرجان کے دماغ میں آیا تو اس نے پر جوش نگاہیں اٹھا کر ویرہ کو دیکھا۔
“میں وہاں جانا چاہتی ہوں جہاں سے ہمارے گاؤں کا جھیل آتا ہے میں نے سنا ہے وہاں ایک جھرنا ہے مجھے وہ دیکھنا ہے۔۔۔”
مرجان کی فرمائش پر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“تم جانتی ہو گاؤں کی حدود سے باہر لڑکیوں کو جانے کی اجازت نہیں۔”
“جانتی ہوں لیکن اکیلا جانے کا اجازت نہیں اس لیے آپ میرے ساتھ چلے جانا پھر کسی کو مسلہ نہیں ہو گا۔۔۔”
مرجان نے جلدی سے کہا جبکہ اسکے چہرے پر موجود بے چینی اور آنکھوں کی چمک کو دیکھ کر ویرہ منع نہیں کر پایا۔
“ٹھیک ہے چلو۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا تھا۔
“مم۔۔۔میں یہ چھوڑ کر آتی ہوں۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان کمرے سے باہر بھاگ گئی اور ویرہ نے اپنی گرم چادر پکڑ کر اپنے گرد لپیٹ تھی۔اسکا دل اس سے پوچھ رہا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا اور اس نے دل سے جھوٹ بولا دیا کہ وہ ایسا اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے کر رہا ہے جبکہ اسکے جواب پر دل طنزیہ ہنسی ہنس دیا تھا۔تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد مرجان بھورے رنگ کی چادر پکڑ کر کمرے آئی۔
“چلیں؟”
مرجان کے پوچھنے پر ویرہ نے اسکی جانب دیکھا تو نظریں پلٹنا ہی بھول گیا۔وہ کپڑے بھی تبدیل کر آئی تھی اور اس وقت رنگ برنگی کڑھائی اور شیشوں کے کام سے سجے لال فراک اور سبز شلوار میں ملبوس تھی۔
آنکھوں کو گہرے کاجل سے سجا کر اس نے روایتی طور پر لگائے جانے والے تین کالے ٹیکے اپنی ٹھوڈی پر لگائے تھے اور اتنے سے سنگھار پر ہی وہ جنت سے اتری حور لگنے لگی تھی۔ویرہ کے قدم خود بخود اسکی جانب بڑھنے لگے اتنا کہ وہ اسکے بالکل پاس آ کر کھڑا ہو گیا جبکہ نظریں بس اس معصوم سرخ و سفید چہرے پر ٹکی تھیں۔
“چلیں ۔۔۔۔”
مرجان نے پوچھا تو ویرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔اسکے جواب پر مرجان نے مسکرا کر وہ بھوری چادر اپنے سر پر رکھی جو کہ انکا روایتی ٹوپی برقع تھا۔
اسے سر پر رکھ کر مرجان اسے اپنے چہرے پر گرانے لگی تو ویرہ نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔مرجان نے کاجل سے سجی سنہری آنکھیں اٹھا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“رکو۔۔۔ابھی مت چھپاؤ خود کو۔۔۔۔”
ویرہ کی آواز جزبات کی آنچ سے بوجھل تھی اور اسکی پر تپش نگاہوں نے مرجان کو پلکوں کا پردہ گرانے پر مجبور کر دیا تھا۔اسکی نگاہوں کی حرارت سے مرجان کے گال دہک کر مزید گلابی ہو گئے تھے جبکہ نازک گلابی ہونٹ کپکپا کر ویرہ کو مزید بے چین کر رہے تھے۔نہ جانے نظروں کی یہ کونسی پیاس تھی جو اسے دیکھنے سے بجھنے کی بجائے مزید بڑھتی جا رہی تھی۔
“دد۔۔۔دیر ہو جائے گا۔۔۔۔”
جب وہ کتنی ہی دیر مرجان کا ہاتھ تھامے وہاں کھڑا اسے دیکھتا رہا تو مرجان نے گھبرا کر کہا۔ویرہ نے اسکا ہاتھ چھوڑا تو مرجان نے فوراً وہ برقع خود پر گرا لیا جس نے اسے مکمل طور پر چھپا دیا تھا۔یہاں تک کہ اسکی آنکھیں بھی جالی سے چھپ گئی تھیں۔
ویرہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے کر گھر سے باہر نکل آیا۔کافی دشوار اور پتھریلے راستوں پر سے چلنے کے بعد آخر کار وہ دونوں اس جھرنے کے پاس پہنچ گئے تھے۔
وہ جھرنا ایک پہاڑ کے دامن سے نکل کر انکی جھیل میں گرتا تھا جبکہ جھرنے کے قریب ایک جگہ کافی سارے درخت سے جو جھرنے کے ساتھ موجود پہاڑ کے ساتھ اوپر کی جانب پھیلے ہوئے تھے۔
پہاڑوں کی چوٹیوں پر ابھی بھی سردیوں میں پڑنے والی برف موجود تھی جبکہ نیچے وادی میں اب سبزہ اور پتھر پھیلے ہوئے تھے۔
مرجان حیرت سے منہ کھولے قدرت کے اس حسین نظارے کو دیکھ رہی تھی۔جھرنے کے گرنے کی آواز اور لوگوں سے دور اس جگہ کا سکون مرجان کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔ویرہ نے اسکا ہاتھ چھوڑا تو مرجان نے اسکی جانب دیکھا۔
“جتنا وقت یہاں گزارنا چاہتی ہو گزار لو،جو کرنا چاہتی ہو کر لو بس میری نظروں سے اوجھل مت ہونا۔۔۔۔”
ویرہ حکم دے کر ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا اور مرجان اپنا برقع اٹھا کر سر پر رکھے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ وہاں چلنے والی ہوا کی وجہ سے مرجان کا برقع بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے گر کر اسے پریشان کر رہا تھا۔
“اسے اتار دو یہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے گھبرا کر اسے دیکھا۔
“لیکن میں اپنا دوپٹہ نہیں لایا ساتھ۔۔۔”
مرجان نے مسلہ بیان کیا تو ویرہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا اور اسکا برقع اسکے سر سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
“تو کیا ہوا میں کوئی غیر نہیں شوہر ہوں تمہارا،تمہارا محرم،اس جسم و جاں کا مالک مجھ سے کیسا پردہ۔۔۔”
ویرہ کی گمبھیر آواز میں کہے گئے الفاظ پر مرجان کانپ سی گئی تھی۔ویرہ اپنا ہاتھ اسکے سر کے پیچھے لے گیا اور اسکے بالوں کو پونی کی قید سے آزاد کرتے ہوئے کھول دیا۔
“میں چاہتا ہوں تم اپنی خواہش کو کھل کر جیو بغیر کسی گھبراہٹ کے بالکل ویسے جیسے تم اسے جینا چاہتی ہو۔۔۔”
مرجان کے لمبے بھورے بال ہوا میں اڑنے لگے تھے۔
“سچ۔۔”
مرجان نے چہرے سے بال ہٹا کر پوچھا تو ویرہ نے ہاں میں سر ہلایا۔اسکے جواب پر مرجان کھل کر مسکرائی اور بھاگنے والے انداز میں اس جھرنے کے پاس گئی۔وہ ان پلوں کو کھل کر جینا چاہتی تھی۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ اس پتھر پر بیٹھے مرجان کو دیکھ رہا تھا جو جھیل کے کنارے بیٹھی تیزی سے بہتا پانی اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہرے پر چھینٹے مار کر ہنس رہی تھی۔کتنی دیر سے وہ اسکی معصوم اٹھکیلیاں دیکھ رہا تھا۔
وہ کبھی بھاگتی تھی تو کبھی جھیل کے کنارے بیٹھ کر پیر جھلانے لگتی۔کتنی ہی دیر اسکے ریشمی گھنے بال ہوا میں لہراتے رہے تھے اور اب وہ انکی چوٹی بنا کر نہ جانے کون سے جنگلی پھول اکٹھا کر کے ان میں سجا چکی تھی۔
وہ اپنے ان پلوں کو ویسے ہی کھل کر جی رہی تھی جیسے وہ چاہتی تھی اور ویرہ بس اسے دیکھ کر ہی جی رہا تھا۔ بیس سالوں کے بعد آج مرجان کو یوں ہنستا کھیلتا دیکھ اسے لگ رہا تھا کہ وہ بھی زندہ تھا اسکے سینے میں بھی ایک دل تھا جو اس لڑکی کو دیکھ کر دھڑک رہا تھا۔
مرجان جو پانی کے چھینٹے اپنے چہرے پر مار رہی تھی اس نے پانی ہاتھوں میں پکڑا تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔وہ جلدی سے اٹھی اور بھاگ کر ویرہ کے پاس آئی۔
“یہ دیکھیں کتنا پیارا مچھلی ہے۔۔۔۔”
مرجان نے اپنے ہاتھ اسکے آگے کیے جن میں موجد تھوڑے سے پانی میں چھوٹی سی مچھلی تیر رہی تھی۔ایک نظر اس مچھلی کو دیکھ کر ویرہ نے مرجان کے چہرے پر جگمگاتی خوشی کو دیکھا۔
“ہم بہت بہت زیادہ خوبصورت ہے یقین کرو کبھی اتنا حسین کچھ اور نہیں دیکھا۔۔۔۔”
ویرہ نے اسکا معصوم چہرہ دیکھتے ہوئے کہا تو مرجان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
“ہے ناں۔۔۔۔لیکن پانی ختم ہو رہا ہے یہ مر جائے گا۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان واپس پانی کے پاس گئی اور اس مچھلی کو واپس پانی میں پھینک دیا۔اس کے بعد مرجان واپس درختوں کی جانب چلی گئی جب اسکی نظر ایک عجیب سے درخت پر پڑی جس پر سفید پھول تھے۔
“آپکو پتہ ہے یہ کونسا پھول ہے؟”
مرجان کے سوال پر ویرہ نے انکار میں سر ہلایا۔
“لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ اس درخت کو ہلاؤ گی تو یہ پھول تم پر اپنی برسات کر دیں گے۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے آنکھیں بڑی کر کے اسے دیکھا اور پھر اس درخت کو ہلایا۔اسکے ہلکا سا ہلانے پر کتنے ہی پھول ٹوٹ کر مرجان پر گرے۔
یہ دیکھ کر مرجان کھکھلا کر ہنسی اور اس درخت کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ہلانے لگی اور اب وہ پھول بارش کی مانند اس پر برس رہے تھے۔ویرہ اسے پھولوں کی اس بارش میں یوں خوشی سے کھلکھلاتا دیکھ کر کھو سا گیا تھا۔
اس وقت کوئی اس سے اس لڑکی کی وقعت پوچھتا تو وہ بلا خوف کہتا کہ وہ اس لڑکی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر سکتا تھا۔مرجان ان پھولوں کو اپنے چہرے پر گرتا محسوس کر آنکھیں موند گئی اور ویرہ اسکو دیکھ کر اپنے دل میں سکون اتارتا رہا تھا۔
تم میرے ہو اس پل میرے ہو
کل شائید یہ عالم نہ رہے
کچھ ایسا ہو تم تم نہ رہو
کچھ ایسا ہو ہم ہم نہ رہیں
یہ راستے الگ ہو جائیں
چلتے چلتے ہم کھو جائیں
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
اس چاہت میں مر جاؤں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
میری جان میں ہر خاموشی میں
تیرے پیار کے نغمے گاؤں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا
جب پھول درخت سے گرنا بند ہو گئے تو مرجان ہنستے ہوئے ویرہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“اتنا مزہ مجھے کبھی نہیں آیا۔۔۔۔”
مرجان نے ہنستے ہوئے اسے بتایا تو ویرہ حسرت سے اسکے چہرے کی اس خوشی کو دیکھنے لگا۔پھر اس نے نرمی سے اپنا ہاتھ اسکے اس گال پر رکھا جس پر اس نے تھپڑ مارا تھا جسکا ہلکا سا نشان ابھی بھی قائم تھا۔
“تو کیا تم نے مجھے معاف کرو گی۔۔۔۔؟”
ویرہ نے اسکا گلا سہلا کر پوچھا تو مرجان کی مسکان غائب ہو گئی۔وہ سمجھ گئی تھی ویرہ کا اشارہ کس جانب تھا۔پہلے تو وہ خاموش رہی پھر نگاہیں اٹھا کر ویرہ کو دیکھا۔
“جب میرا آپ سے شادی ہونے والا تھا تو اماں نے کہا تھا کہ آپ بالکل اچھا نہیں بلکہ برا ہے بالکل میرے ابا کی طرح۔۔۔۔”
یہ بات کہتے ہوئے مرجان کے چہرے پر افسردگی آئی تھی جو ویرہ کو بالکل اچھی نہیں لگی تھی۔
“لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا تھا مجھے لگتا تھا آپ بالکل ویسا نہیں ہو گا آپ میرا خیال رکھے گا،مجھ سے پیار کرے گا اور کبھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا۔”
مرجان نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنے گال کو انگلیوں کے پوروں سے ہلکا سا چھوا۔
“آپ نے مجھے پیار نہیں کیا میں برداشت کر گیا۔۔۔۔”
مرجان کی پلکوں پر پھر سے آنسو ٹھہر گئے تھے۔
“آپ نے میرا خیال نہیں رکھا مجھے بیوی کی بجائے اپنا غلام سمجھا میں وہ بھی برداشت کر گیا۔۔۔”
پلکوں پر ٹھہرے آنسو بہہ کر مرجان نے گال پر بہے تھے اور ویرہ اپنے دوسرے ہاتھ کو مٹھی میں بھینچ گیا۔
“لیکن یہ۔۔۔یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔۔۔اگر آپ نے بار بار ایسا کیا تو نہیں سہہ پائے گا۔۔۔۔ میں مر جائے۔۔۔۔”
اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی ویرہ نے اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا تھا۔
“پھر کبھی مرنے کی بات نہیں کرنا ۔۔۔۔”
ویرہ نے سختی سے حکم دیا تو مرجان نے اسکا ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں پکڑ کر اپنے منہ سے ہٹایا۔
“تو پھر آپ بھی پھر کبھی مجھ پر ہاتھ نہ اٹھانا کبھی نہیں۔۔۔”
مرجان کی بات پر ویرہ اپنی آنکھیں موند گیا۔اس نے مرجان کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں نرمی سے پکڑا۔
“وعدہ کرتا ہوں پھر ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔”
اسکی بات پر مرجان نے اپنے آنسو پونچھے اور مسکرا دی۔
“تو میرا بھی وعدہ ہے میں پھر کبھی ایسی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔”
مرجان نے اتنا کہہ کر اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں پر رکھ دیے۔
“اور میں نے آپ کو معاف کیا۔۔۔”
مرجان نے نرمی سے کہا جبکہ ویرہ تو بس اسے دیکھتا جا رہا تھا۔مرجان نے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے ہٹائے لیکن ویرہ نے اپنے ہاتھ اسکے چہرے سے نہیں ہٹائے۔
وہ آہستہ آہستہ اسکے قریب ہونے لگا تھا اور مرجان کی دھڑکنیں اسکے سینے میں تھمنے لگیں۔ویرہ کو اپنے قریب ہوتا دیکھ مرجان اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی۔
ویرہ کے ہونٹوں کا لمس اور مونچھوں کی چبھن اپنے گال پر محسوس کر مرجان کا روم روم کانپ گیا تھا۔جبکہ ویرہ اسکے گال کو اپنے محبت بھرے لمس سے منور کرنے بعد اسکے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ ان گلاب کی پنکھڑیوں کو اپنی گرفت میں لیتا مرجان بول اٹھی۔
“مجھے بھوک لگا ہے۔۔۔”
مرجان کی بات پر ویرہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور اس سے دور ہوا۔مرجان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“لیکن میں نے ابھی واپس نہیں جانا۔۔۔۔اتنی جلدی نہیں۔۔۔۔”
ویرہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوا اور اسے لے کر گھنے درختوں کی جانب چل دیا تھوڑی دیر یہاں وہاں دیکھنے کے بعد اسے جنگلی بیروں کی ایک بیل دیکھائی دی۔
ویرہ نے اس سے بیریاں اتار کر مرجان کو دیں تو مرجان نے حیرت سے انکی جانب دیکھا۔
“انہیں کھاتے ہیں؟”
“کھاتے ہیں تو ہی دے رہا ہوں ناں۔۔۔۔”
ویرہ کی بات مانتے ہوئے مرجان نے ایک بیری کو ہلکا سا چکھا۔اسکا ذائقہ ترش اور میٹھا تھا اور وہ بہت مزے کی تھیں۔ویرہ نے اسے جتنی رس دار بیریاں دیں مرجان انہیں کھا چکی تھی۔
اسکے بعد ویرہ اسے جھرنے کے پاس واپس لایا مرجان نے پانی پیا اور مسکرا کر ویرہ کی جانب دیکھا۔
“مننه”(شکریہ)
مرجان نے مسکرا کر کہا اور پھر ویرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی اپنے ساتھ یہاں وہاں گھمانے لگی۔اسے یہاں وہاں گھماتے ہوئے مرجان کتنی ہی معصوم باتیں اسے کر چکی تھی۔اپنے جزبات اپنی معصوم خواہشیں وہ سب ویرہ کو بتانے لگی تھی اور اسکی باتوں میں کھویا ویرہ آج اتنے سالوں کے بعد کھل کر جیا تھا۔
سارا دن کیسے گزر گیا دونوں کو ہی اسکا اندازہ نہیں ہوا تھا۔جب آسمان پر شام کے سائے لہرانے لگے تو ویرہ نے مرجان کی چادر واپس پکڑی اور اسے مرجان کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
“اب ہمیں واپس چلنا ہے۔۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے منہ بنا کر اسے دیکھا اور پھر اسکی اگلی حرکت نے ویرہ کو حیران کر دیا۔وہ اپنی باہیں ویرہ کے گلے میں ڈال کر اس سے لپٹ چکی تھی۔
“یہ میری زندگی کا سب سے اچھا دن تھا میری سالگرہ کو میرے لیے اتنا خاص بنانے کا شکریہ۔۔۔۔”
مرجان نے اس سے لپٹ کر کہا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ویرہ کے ہاتھ اسکی نازک کمر کے گرد لپٹے تھے۔اس نے مرجان کو سینے سے لگا کر سکون سے آنکھیں موند لیں۔
مرجان نے سر اسکے سینے سے اٹھا کر اونچا کرتے ہوئے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“میں نہیں چاہتی آج کا دن ختم ہو۔۔۔۔”
“میں بھی۔۔۔”
ویرہ نے اسکا حسین چہرہ دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اسکی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کر دیے۔
“لیکن ہر اچھی چیز کو ختم ہو جانا ہوتا ہے اور یہی اس زندگی کی تلخ سچائی ہے۔۔۔”
مرجان نے اسکی بات پر غور کر کے ہاں میں سر ہلایا اور وہ چادر اپنے سر پر لے کر خود کو چھپانے لگی۔اس سے پہلے کہ وہ برقع خود پر گراتی ویرہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
“ابھی نہیں۔۔۔۔ابھی مت چھپاؤ خود کو۔۔۔”
ویرہ کے یہ بات کہنے پر مرجان کے گال دہک کر گلابی ہوئے تھے اور وہ پھر سے کتنی ہی دیر وہاں کھڑا اسے دیکھتا رہا تھا۔شام کو نکلنے والے جگنو اب دونوں کے گرد منڈرا کر انہیں روشنی دے رہے تھے۔
“دیر ہو جائے گا۔۔۔”
مرجان نے آہستہ سے کہا کہ شائید ویرہ اسے چھوڑ دے یا لو دیتی وہ نظریں اسکے چہرے سے ہٹا لے۔
“ہو جانے دو۔۔۔”
ویرہ نے گھمبیر آواز میں کہا تو مرجان اسکی آواز کی شدت پر کانپ سی گئی۔ویرہ نے اسے سردی میں کپکپاتے دیکھا تو گہرا سانس لے کر خود ہی اسے چھپا دیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس لے جانے لگا۔گھر واپس پہنچ کر مرجان اپنی چادر اتارنے لگی۔
“تمہیں اماں کے گھر جا کر انکا منہ میٹھا نہیں کروانا۔۔۔”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“چلو میں تمہیں وہاں چھوڑ دیتا ہوں آج رات تم وہیں رک جانا۔۔۔”
ویرہ ایسا چاہتا تو نہیں تھا لیکن فلحال یہی بہتر تھا کہ وہ اسے خود سے دور کر دیتا۔وہ لڑکی بہت بری طرح سے اسکے حواس پر طاری ہو گئی تھی اور ویرہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ جزبات میں خود پر باندھے ضبط توڑ دے۔
“شکریہ۔۔۔۔”
مرجان نے واپس برقع خود پر ڈالا اور برفی کا ڈبہ لینے گئی۔
“مرجان۔۔۔”
ویرہ کے پکارنے پر مرجان نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“مجھے باچا بلایا کرو اور کچھ بھی ہو جائے مجھے باچا بلانا مت چھوڑنا۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان کا منہ خوشگوار حیرت سے کھل گیا تھا۔
“میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔”
اتنا کہہ کر ویرہ گھر سے باہر نکل گیا اور مرجان آج کا دن یاد کر کے مسکراتی باورچی خانے سے وہ ڈبہ لے کر اسکے پیچھے چلی گئی۔ویرہ نے اسے اسکی ماں کے گھر چھوڑا اور باہر سے ہی مڑ کر واپس جانے لگا جب مرجان کی آواز نے اسکے قدم روکے تھے۔
“خدا حافظ زما باچا”
مرجان اتنا کہہ کر شرمیلی سی مسکان کے ساتھ اپنی ماں کے گھر میں چلی گئی اور ویرہ اپنی پرانی مرجان کو واپس پا کر سکون حاصل کرتا اپنے گھر کی جانب چل دیا تھا۔