Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

مرجان کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو کمرے میں تنہا پایا۔وہ اٹھ کر بیٹھی تو نظر خود پر گئی۔اس وقت وہ ویرہ کی ہی کالے رنگ کی قمیض میں ملبوس تھی جو اسکے لیے بہت زیادہ کھلی تھی۔کل رات کا گزرا ہر پل یاد کر کے مرجان نے حیا سا دہکتا چہرہ اپنے گھٹنوں میں چھپایا۔
لیکن اسکا شوہر کہاں تھا کیا وہ جا چکا تھا۔مرجان نے اٹھ کر گھر کا جائزہ لیا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ سچ میں جا چکا تھا۔یہ جان کر اسے زرا سی مایوسی ہوئی تھی ۔وہ ابھی اس سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی۔وہ اپنا وقت اسکے ساتھ گزارنا چاہتی تھی ۔
خیر اس نے فریش ہو کر کپڑے بدلے اور ناشتہ بنا تیار کر کے راگا کے گھر کی جانب چل دی۔وہ آج بہت زیادہ خوش تھی جیسے اسے پورا جہان مل گیا ہو۔مرجان نے دروازہ ہلکا سا کھٹکھٹانے کے بعد کھولا اور وانیا کے پاس گئی جو اپنا سر گھٹنوں پر رکھے گم سم سی بیٹھی تھی۔
“کیسا ہے پیارا لڑکی؟”
مرجان نے محبت سے پوچھا تو وانیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“دم گھٹنے لگا ہے اپنی اس قید سے۔۔۔”
“ارے اس میں کونسا بڑی بات ہے چلو آج میں تم کو یہاں سے باہر لے کے جاتا ہے زرا تم کو یہ دیکھا دے گا کہ ہمارا گاؤں کتنا پیارا ہے اور ہم جھیل سے انکے کپڑے بھی دھو لے گا۔۔۔”
وانیا نے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا تو مرجان مسکرا دی اور اسے اپنے ساتھ جھیل کے کنارے لے آئی جہاں وہ کپڑے دھویا کرتی تھی۔انکی وادی کی خوبصورتی کو وانیا منہ کھولے حیرت سے دیکھ رہی تھی اور ایسا کرتے ہوئے وہ کوئی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔مرجان نے ہنس کر اسے دیکھا۔
“چلو وانی اب تم بھی لالہ کے کپڑے دھو لو ماڑا یا بس نظارے دیکھنے آئی ہو ساتھ۔۔۔”
مرجان کی بات پر وانیا نے کپڑے پکڑ کر پانی میں ڈالے لیکن پانی کی ٹھنڈک پر فوراً اپنا ہاتھ واپس کھینچ گئی۔
“اففف اتنا ٹھنڈا پانی۔۔۔مم۔۔۔میں نہیں کر رہی یہ گندے کپڑے پہنیں میری بلا سے۔۔۔”
وانیا کی بات پر مرجان قہقہ لگا کر ہنس دی اور راگا کے کپڑے بھی خود ہی پکڑ لیے۔
“تم بس نظارے دیکھو۔۔۔”
مرجان اتنا کہہ کر کپڑے دھونے لگی۔
“یہ تمہاری گردن پر کیا ہوا؟”
وانیا کے سوال پر مرجان کا ہاتھ اپنی گردن تک گیا اور پھر اسکا چہرہ گلال ہو گیا۔
“”کک ۔۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔”
“تم اتنا گھبرا کیوں رہی ہو کسی چیز نے کاٹا ہے کیا؟”
وانیا کے اس سوال پر مرجان نے شرما کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
“ارے مرجان ہوا کیا ہے؟”
“کک۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا ماڑا یہ تو بس۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے وانی میں اتنا خوش کیوں ہے کیونکہ جب کل رات وہ واپس آئے تو انہوں نے۔۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ میرے بغیر شہر انہیں کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا اور انہوں نے مجھے زما مینہ کہا۔۔۔۔”
مرجان نے شرماتے ہوئے وانیا کو بتایا۔
” ویسے اس سب کا تمہاری چوٹ سے کیا تعلق ہے؟”
مرجان کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے یہ لڑکی کس حد تک بیوقوف تھی۔
“یہ چوٹ نہیں ہے ماڑا۔۔۔۔۔یہ تو بس وہ۔۔۔۔انہوں نے”
مرجان اتنا کہہ کر پھر سے اپنا چہرہ شرم سے ہاتھوں میں چھپا گئی جبکہ وانیا اسکا مطلب سمجھتی خود بھی شرم سے گلابی ہوئی تھی۔
“مم۔۔۔۔میں گھر جا رہی ہوں۔۔۔”
وانیا نے جلدی سے اٹھ کر کہا لیکن اسکا پاؤں پھسلا اور اپنا توازن برقرار نہ رکھتی وہ سیدھا جھیل کے پانی میں جا گری۔مرجان کا دل حلق کو آیا۔
“وانیا۔۔۔۔”
مرجان ایک چیخ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور وانیا کو دیکھنے لگی جو پانی میں ڈوبنے سے خود کو بچانے کے لیے ہاتھ پیر چلا رہی تھی لیکن سب بے سود ہی ثابت ہوا۔
“بچاؤ کوئی بچاؤ ۔۔۔۔۔مرسته”
مرجان روتے ہوئے چلائی اور اسکی چیخ و پکار سن کر ویرہ اور راگا بھاگ کر اسکے پاس آئے۔
“کیا ہوا ؟”
ویرہ نے گھبرا کر مرجان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔
“وہ وانیا۔۔۔۔وہ پانی میں گر گیا۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا تو بغیر کچھ سوچے سمجھے راگا نے اپنی جیکٹ اتار کر پانی میں چھلانگ لگا دی۔کچھ دیر بعد ہی وہ وانیا کو پانی سے نکال چکا تھا اور کبھی بے چینی سے اسکے سینے پر دباؤ ڈالتا تو کبھی اسکو اپنی سانسیں دیتا۔
آخر کار وانیا گہرے سانس بھرنے لگی تو راگا کے ساتھ ساتھ مرجان نے بھی سکھ کا سانس لیا اور وانیا کو لے کر راگا کے گھر چلے گئے۔مرجان نے اسے کپڑے تبدیل کروائے اور اسکے اوپر کمبل اوڑھا کر گھر واپس آ گئی۔
اسکا ارادہ تھا کہ وانیا کے لیے گرم یخنی بنائے تا کہ اسے آرام ملے اور اپنے ارادے کے تحت وہ کام کر رہی تھی جب اپنے پیچھے سے ویرہ کی آواز آئی۔
“تم ٹھیک ہو؟”
ویرہ کی موجودگی پر اسکا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔
“جج۔۔۔جی۔۔۔”
مرجان نے گھبرا کر کہا تو ویرہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا اور اسکے ہاتھ پکڑ کر ٹٹولنے لگا جیسے تسلی کرنا چاہ رہا ہو کہ وہ ٹھیک تھی۔
“میں سچ میں ٹھیک ہوں باچا۔۔۔”
مرجان نے مسکرا کر کہا تو ویرہ کے چہرے پر سکون آیا۔
“ویسے اگر میں ٹھیک نہ ہوتا تو آپ کیا کرتے اگر وانیا کی جگہ میں پانی میں گر۔۔۔”
مرجان کے الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے جب ویرہ نے اسکا سر بالوں سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنے قریب کھینچا۔
“بولا تھا ناں کہ ایسا پھر کبھی مت کہنا کیوں مجھے تڑپا کر سکون ملتا ہے تمہیں۔۔۔؟”
ویرہ نے غصے سے پوچھا تو مرجان اپنی آنکھیں زور سے میچ گئی۔۔
“جاننا چاہتی ہو کیا کرتا میں تو سنو اس پورے گاؤں کو جلا دیتا سب کچھ نیست و نابود کر دیتا۔۔۔”
ویرہ کی بات پر مرجان نے سہم کر اسے دیکھا۔
“تمہارے لیے یہ جنون کس حد تک بڑھ چکا ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی اور یہی میرا سب سے بڑا مسلہ ہے تم میرا سب سے بڑا مسلہ ہو۔۔۔”
ویرہ نے اسے جھٹکے سے چھوڑا اور مڑ کر وہاں سے جانے لگا۔مرجان جلدی سے اسکے پاس آئی اور پیچھے سے اسکی کمر سے لپٹ گئی۔
“تو مسلہ ختم کرتے ہیں باچا چلے جاتے ہیں یہاں سے دور بہت دور جہاں آپ کے اور میرے سوا کوئی نہ ہو کوئی مجبوری نہیں،کوئی پابندی نہیں بس ہم اور ہمارا محبت۔۔۔”
مرجان کی بات پر ویرہ اپنی آنکھیں موند گیا۔
“کاش کاش ایسا ہو سکتا مرجان لیکن نہیں یہ زندگی ہی تمہارے شوہر کی سچائی ہے جو تمہیں اور مجھے دونوں کو قبول کرنی ہو گی۔”
اتنا کہہ کر ویرہ خود کو چھڑوا کر گھر سے باہر نکل گیا اور مرجان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔وہ اسکا مسلہ سمجھ سکتی تھی۔وہ مرجان کو اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتا تھا کیونکہ انکے معاشرے میں کمزور مرد کی کوئی جگہ نہیں تھی۔
تو کیا مرجان کو ساری زندگی اسی بھرم میں گزارنی تھی کہ اسکا شوہر اس سے محبت کرتا تھا۔جنون تھی وہ اسکا،اسکا سکون،اسکی بے چینی سب وہ تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے احساسات اسے نہیں بتا سکتا تھا ۔
مرجان کرب سے اپنی آنکھیں موند گئی وہ بس دعا کر سکتی تھی کہ کوئی ایسا معجزہ ہو جائے کہ وہ اپنے شوہر کو اس دنیا اور یہاں کی مجبوریوں سے دور لے جائے بہت بہت دور۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ رات کافی دیر تک گھر واپس نہیں آیا تھا۔سب سے دور تنہا بیٹھا وہ مرجان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اس نے تو خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی اسکے قریب نہیں جائے گا کبھی اسے خود سے نہیں جوڑے گا پھر نہ جانے کل رات وہ کیسے بہک گیا۔
اسے یاد تھا صبح اسکی آنکھیں کھلی تو پہلی نگاہ اپنی باہوں میں سوتی ہوئی مرجان پر پڑی۔چہرے پر اسکی محبت کے رنگ سجائے وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ ویرہ کا دل کیا ایک بار پھر سے اسکی آغوش میں کھو کر پورا جہان بھلا دے۔
اس نے کیسے خود کو اس سے دور کیا تھا یہ وہی جانتا تھا۔دل پر ایک بوجھ سا تھا کہ جب وہ اسے وہ محبت نہیں دے سکتا تھا جس کے وہ قابل تھی تو اس نے کیونکر اسے خود سے باندھا۔ساری زندگی اسے اذیت دینے کے لیے؟
عورتیں بہت بڑی کمزوری ہوتی ہیں ویرہ انہیں سر نہیں چڑھاتے ورنہ آدمی کو برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔
یعقوب خان کے کہے الفاظ ویرہ کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔کیا سچ میں مرجان اسکی کمزوری بنتی جا رہی تھی اور وہ لڑکی وانیا راگا کی کمزوری بنتی جا رہی تھی؟ویرہ نے سرد آہ بھر کر اپنے ہاتھ اپنے بالوں میں چلائے۔
اسے خود کو مرجان سے دور کرنا ہو گا وہ اس میں اس قدر نہیں کھو سکتا تھا کہ خود کو ہی بھول جائے اپنی پہچان بھول جائے۔وہ ایک دہشت تھا اور اسکی کوئی کمزوری نہیں ہو سکتی تھی بالکل جیسا یعقوب خان نے اسے بچپن سے سمجھایا تھا۔ وہ راگا کو بھی ایسا کرنے سے روکے گا۔ان کا مقصد کچھ اور تھا اور یہ لڑکیاں انہیں کمزور نہیں کر سکتی تھیں۔
ویرہ کے ذہن پر منفی سوچوں نے گھیرا کیا تھا اور اپنی سوچوں کو جھٹکتا اٹھ کر گھر واپس جانے لگا۔وہ اپنے کمرے میں آیا تو نظر اپنے بستر پر پڑی جہاں مرجان اسکے کمبل میں چھپی سکون کی نیند سو رہی تھی۔
لالٹین کی روشنی میں اسکا چہرہ دمک رہا تھا ویرہ کے قدم خود بخود اسکی جانب اٹھے۔مرجان کے پاس بیٹھ کر اس نے نرمی سے اسکے گال کو چھوا تو مرجان کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے مسکرا کر ویرہ کو دیکھا۔
“آپ کہاں تھا باچا میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔”
مرجان لاڈ سے کہتے ہوئے اس سے لپٹ گئی اور اپنا چہرہ اسکے پہلو میں چھپا لیا۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
ویرہ کے سوال پر مرجان نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
“یہاں کے سوا جاؤں گی بھی کہاں میں تو وہیں رہوں گی ناں جہاں میرے باچا ہیں۔۔۔”
مرجان کے لہجے میں بہت محبت بہت نرمی تھی۔ویرہ اسکے چہرے کی معصومیت میں کھو سا گیا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ پھر سے بہک جاتا اس نے اٹھ کر وہاں سے جانا چاہا لیکن مرجان نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
“جو دل میں ہے وہ صبح مجھے بتا دینا ابھی سو جائیں رات بہت ہو گیا ہے۔۔۔”
مرجان نے اپنے ساتھ جگہ بنا کر کہا تو ویرہ کچھ کہے بغیر اسکے ساتھ لیٹ گیا۔مرجان نے اپنا سر اسکے سینے پر رکھا اور آنکھیں موند گئی۔
“صبح جب آپ میری چیخ سن کر وہاں آیا تھا تو اتنا گھبرایا ہوا کیوں تھا؟”
مرجان کے سوال پر ویرہ نے گہرا سانس لیا۔
“مجھے لگا تمہیں کچھ ہو گیا۔”
ویرہ کی پکڑ اسکی کمر کے گرد مظبوط ہوئی تھی۔
“اور اگر وانیا کی جگہ میں پانی میں گرتا تو کیا آپ بھی راگا لالہ کی طرح مجھے بچاتا؟”
مرجان نے اسکی قمیض کے بٹن پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے پوچھا۔
“ایسی باتیں کرنے میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
ویرہ نے بے رخی سے کہا۔
“تو کیسی باتیں کرنے میں دلچسپی ہے؟”
مرجان نے مسکرا کر پوچھا تو ویرہ نے اسکی جانب دیکھا اور اسکے چہرے کی مسکان میں کھو گیا۔
“مجھے اس وقت باتیں کرنے میں ہی دلچسپی نہیں ہے۔”
اس سے پہلے کے مرجان کچھ کہتی ویرہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا اور اسے اپنی پناہوں میں چھپا لیا۔ایک بار پھر سے وہ اپنے جزبات سے لڑی جانے والی جنگ ہار چکا تھا۔
یہ لڑکی آہستہ آہستہ اسکی رنگوں میں نشے کی طرح شامل ہو رہی تھی،اسے کمزور کر رہی تھی بالکل جیسا یعقوب نے اسے سمجھایا تھا۔اب دیکھنا یہ تھا کہ ویرہ کی یہ کمزوری اسے آباد کرنے والی تھی یا برباد۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
صبح ویرہ کی آنکھ کھلی تو نظر مرجان پر پڑی جو اسکی پناہوں میں سمٹی سو رہی تھی۔اسے دیکھ کر ویرہ کو کل رات کا خیال آیا کہ وہ کیسے ایک بار پھر اسکے سامنے جھک گیا تھا۔
نہیں اب وہ مزید ایک عورت کے ہاتھ کا کھلونا بننے والا نہیں تھا اسے اپنی پہچان یاد رکھنی ہو گی کہ وہ کون تھا۔ویرہ اٹھ کر فریش ہوا اور گھر سے باہر نکل گیا۔اپنے مخصوص ڈیرے پر پہنچ کر وہ کافی دیر تک راگا کا انتظار کرتا رہا تھا جب راگا نہیں آیا تو وہ خود اسکے گھر کی جانب چل دیا۔
دروازا کھٹکھٹانے پر راگا باہر آیا جو ویرہ کو وہاں دیکھ کر دلکشی سے مسکرا دیا۔
“کیا ہو گیا لالے کی جان آج تم کو کیسے یاد آ گیا اس نا چیز کا۔۔۔”
راگا نے شرارت سے پوچھا لیکن ویرہ اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچ گیا۔
“تم کیا کر رہے ہو راگا؟اپنا مقصد بھول چکے ہو کیا؟بھول گئے ہو ہم کون ہے بس ایک لڑکی کے غلام ہو کر رہ گئے ہو تم۔”
ویرہ کے غصے سے کہنے پر راگا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“اپنے لہجے پر قابو رکھو ویرہ اور مجھے بتاؤ کہ کہنا کیا چاہتے ہو تم؟”
راگا نے غصے زرا سختی سے کہا۔
“وہ لڑکی دشمنوں کی بیٹی ہے اور کل تمہاری آنکھوں میں میں نے اسکے لیے پروا دیکھی تم بدل گئے ہو راگا کمزور ہوتے جا رہے ہو۔”
ویرہ نے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر کہا کہیں ناں کہیں وہ یہ باتیں خود سے بھی کہنا چاہتا تھا۔آخر مرجان بھی تو اسے کمزور کر رہی تھی۔
“کہاں ہے وہ راگا جس سے سب ڈرتے تھے کہاں ہے وہ جو ہر انسان کو خود سے دور بھگانے کی طاقت رکھتا تھا؟تم وہ راگا نہیں ہو ایسا لگتا ہے جیسے تم کوئی اور ہو۔۔۔۔”
ویرہ کی بات پر راگا کے ماتھے پر بل آئے اور پھر وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا۔ویرہ نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
“او ماڑا دھوکا کھا گیا ناں راگا ہے ہی اتنا کمال کوئی اسے سمجھ ہی کہاں پایا ہے۔۔۔”
ویرہ نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسکی جانب دیکھا۔
“تجھے کیا لگا لالے کی جان کہ راگا اپنا مقصد بھلا دے گا وہ بھی ایک لڑکی کی خاطر؟ہوں۔۔۔۔اتنا آسان نہیں ہے راگا کو مٹھی میں لینا وہ لڑکی اور اس کے لیے فکر اور نرمی بس ایک کھیل ہے ماڑا۔۔۔”
“کھیل۔۔۔؟”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا تو راگا مسکرا دیا۔
“ہاں ماڑا کھیل اس لڑکی کے دل میں اتر کر اسکے باپ کو قابو میں لانے کا کھیل۔”
راگا نے سفاک مسکان کے ساتھ کہا جبکہ ویرہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“”کچھ پلوں کا کھیل رہ گیا ہے بس ویرہ پھر دیکھنا جو فوجی ہماری راہ کا کانٹا بن رہے ہیں نا وہ ہی میری راہ کے کانٹے ہٹائیں گے۔۔۔۔”
“تمہیں کیا لگتا ہے راگا صرف ایک لڑکی کی وجہ سے ایسا ہوگا؟”
ویرہ کے سوال پر راگا ہلکا سا ہنس دیا۔
“وہ صرف ایک لڑکی ہی تو نہیں ہے ویرہ وہ ایک بہت خاص فوجی کی لاڈلی بیٹی ہے۔۔۔۔تم شاید جانتے نہیں وجدان خان کو آئی ایس آئی ایجنٹ رہ چکا ہے وہ۔۔۔ہمارے جیسے کتنے ہی دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا ہے اس نے۔۔۔۔”
راگا کی بات پر ویرہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔وہ وجدان خان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا تھا بس نام سنا تھا اس نے اس کا۔
“اور اب جب اسے یہ پتا چلے گا کہ اس کی جان سے پیاری بیٹی ایک دہشت گرد کو اپنا دل دے بیٹھی ہے تو تم یہ سوچو ماڑا کہ وہ بے بس ہو کر کیا کچھ نہیں کرے گا ہمارے لیے۔۔۔۔”
ویرہ نے نگاہیں اٹھا کر راگا کی جانب دیکھا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔تم دیکھنا ویرہ مجھ سے اپنی بیٹی کی آزادی کے لیے ملک کے ساتھ بغاوت تک کر جائے گا وہ۔۔۔۔”
” اسی لئے تم اس سے نرمی اور پیار کا کھیل کھیل رہے تھے؟اسے جو لگا کہ تم نے اسے کال سے بچانے کے لئے یہ نکاح کیا تھا وہ سب۔۔۔۔۔”
ویرہ نے حیرت سے پوچھا۔اس نے راگا کی سفاکی اور بے رحمی کو بہت کم سمجھا تھا یہ شخص اسکی سوچ سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا تھا۔
“ہاں ویرہ اس فوجی کی اولاد سے وہ محبت بس ایک کھیل تھا تاکہ اس لڑکی کے ذریعے میں وجدان خان کو قابو میں لا سکوں۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ ویرہ اسے کچھ کہتا وانیا دروازہ کھول کر باہر آئی اور اس نے ایک تھپڑ راگا کے منہ پر مارا۔ویرہ نے حیرت سے اس لڑکی کی اس جرات کو دیکھا۔
“مجھے لگا تھا کہ تم اتنے برے انسان نہیں جتنے بنتے ہو۔۔۔۔مجھے لگا تھا کہ تمہارے اندر بھی اچھائی ہے لیکن میں غلط تھی تم برے نہیں انتہائی گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔۔جس کے نزدیک کسی کے جذبات بس کھلونا ہیں۔۔۔۔”
وانیا زارو قطار روتے ہوئے اسکے سینے پر مکے برسا رہی تھی۔
“لیکن اب میں تمہارا کھلونا نہیں بنوں گی۔۔۔چلی جاؤں گی میں یہاں سے کچھ بھی ہو جائے چلی جاؤں گی۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر وانیہ وہاں سے جانے لگی لیکن اگلے ہی لمحے اس کے بال راگا کی مٹھی میں تھے۔
“تم نے کہا کہ تم یہاں سے چلی جاؤ گی اور ہم تمہیں جانے دیں گے؟ تم تو ضرورت سے زیادہ معصوم ہو جان راگا اچھا ہی ہے تمہیں سب معلوم ہوگیا اب تمہارے بدلے تمہارے باپ سے ایک خودکش دھماکہ کروانے کا زیادہ مزہ آئے گا۔۔۔۔۔”
ویرہ نے راگا کو ستائشی نگاہوں سے دیکھا۔وہ ایک لڑکی کی خاطر کمزور نہیں ہوا تھا اور ویرہ کو بھی ایسا ہی کرنا تھا۔وہ بھی مرجان کو یہاں کے باقی مردوں کی طرح بس ضروت کا سامان سمجھے گا اور اسے اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دے گا۔
“تم اپنے ناپاک ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوگے دیکھنا تم۔۔۔۔۔”
وانیا نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو راگا ہنس کر اسکے کان کے قریب ہوا اور کچھ سرگوشی میں کہا جو ویرہ نہیں سن پایا۔راگا وانیا کے جھٹپٹاتے وجود کو واپس گھر میں لے گیا اور ویرہ واپس ڈیرے کی جانب چل دیا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ بھی مرجان کو اپنے حواس پر طاری ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
مرجان نے شام کا کھانا تیار کیا اور اسے وانیا کے لیے لے جانے لگی۔آج اسے اچھی خاصی دیر ہو گئی تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ وانیا کا بھوک سے برا حال ہو رہا ہو گا۔مرجان جب راگا کے گھر پہنچی تو اسے وانیا ایک کونے میں سمٹ کر روتی ہوئی نظر آئی۔
“وانی۔۔۔کیا ہوا رو کیوں رہا ہے تم؟”
مرجان نے گھبرا کر اسکے پاس آ کر پوچھا تو وانیا اسکے گلے سے لگ کر سسک سسک کر رو دی۔
“وہ بہت برے ہیں مرجان بہت برے۔۔۔۔مجھے لگا تھا کہ وہ بھی انسان ہیں ان کے سینے میں بھی دل ہے لیکن نہیں۔۔۔۔وہ انسان کے روپ میں بس ایک درندہ ہے جس کے لیے۔۔۔۔انسان یا اسکے جزبات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔۔”
وانیا نے رو کر کہا تو مرجان گھبرا کر اسکی کمر سہلانے لگی۔
“مجھے بتاؤ تو سہی کہ ہوا کیا ہے؟”
وانیا نے روتے ہوئے ہر بات مرجان کو بتا دی اور وہ باتیں سن کر مرجان پریشان ہوئی تھی۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔راگا کیا تھا یا اسکا کونسا روپ سچا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
شام تک مرجان وانیا کے پاس اسے دلاسہ دیتی رہی تھی لیکن وانیا کے رونے میں کمی نہیں آئی نہ ہی اس نے کچھ کھایا تھا۔آخر کار شام ہو جانے پر مرجان اپنے گھر واپس جانے لگی۔
گھر سے نکلتے ہی اسکا سامنا راگا سے ہوا تو مرجان ہمت کرتے ہوئے اسکے پاس آئی۔
“آپ نے وہ سب کیوں کہا لالہ؟”
مرجان کے سوال پر راگا نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
“میں جانتی ہوں آپ ہی وہ آدمی ہے جس نے مجھ سے وانیا کا مدد کرنے کا کہا تھا پھر آپ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟”
مرجان نے بے یقینی سے پوچھا تو راگا نے گہرا سانس لیا۔
“میں نہیں جانتا کہ تم کیا کہہ رہی ہو۔”
“آپ جانتا ہے میں کیا کہہ رہی ہوں اور سمجھتا ہے بس۔۔۔بس میں آپ کو سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔”
مرجان نے افسردگی سے اسکی جانب دیکھا۔
“اس نے صبح سے کچھ کھایا بھی نہیں بس روتا جا رہا ہے۔”
مرجان کی بات پر راگا نے ایک نظر اسے دیکھا تو مرجان اپنا سر جھکا گئی۔
“میں نہیں جانتی آپ کون ہے یا کیا چاہتا ہے۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں کہ آپ برا نہیں آپ کی آنکھوں میں میں نے وانیا کے لیے عشق دیکھا ہے آپ مر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دے سکتا۔۔۔”
مرجان نے وضاحت دے کر راگا کو دیکھا جو بغیر کوئی تاثر دیے اسکی بات سن رہا تھا۔
“میری دوست کا خیال رکھنا لالہ وہ بہت معصوم اور نازک سا دل رکھتا ہے۔۔۔”
اتنا کہہ کر مرجان وہاں سے چلی گئی۔گھر آ کر وہ کتنی ہی دیر ویرہ کا انتظار کرتی رہی تھی لیکن ویرہ گھر آیا ہی نہیں تھا۔آخر کار تھک ہار کر وہ اسکے بستر پر لیٹ گئی اور اسکے تکیے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
اس تکیے میں سے مرجان کو ویرہ کی خوشبو آرہی تھی۔کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند میں جا چکی تھی۔
رات کے تقریباً دو بجے ویرہ گھر واپس آیا تو اس نے مرجان کو اپنا تکیہ سینے سے لگا کر سوتے ہوئے پایا۔ویرہ کو اس تکیے سے جلن ہو رہی تھی جو اسکی باہوں میں تھا۔
اسے دیکھتے ہی اپنے دل کے بدلنے والے احساسات پر ویرہ اپنی مٹھیاں بھینچ کر باہر آ گیا اور سگریٹ سلگا کر اپنے ہونٹوں میں دبا لی۔
نہیں ویرہ تم ایک لڑکی کے سامنے نہیں جھکو گے کمزور نہیں پڑ سکتے تم۔جو تمہارا دل خواہش کر رہا ہے وہ تمہاری منزل نہیں۔تم ایک عام آدمی کی طرح اسکے ساتھ خوشحال زندگی نہیں گزار سکتے کیونکہ تم عام آدمی نہیں ہو۔اس بات کو سمجھو اور پہلے جیسے ویرہ بن جاؤ ورنہ وہ تمہاری پہچان مٹا کر رکھ دے گی اور تمہاری پہچان کے ساتھ وہ تمہاری خودی کو مٹا کر رکھ دے گی۔
ویرہ کے دماغ نے اس سے کہا تو وہ اپنے بال اپنی مٹھیوں میں نوچ گیا۔ہاں وہ کمزور نہیں پڑے گا وہ پہلے جیسا ویرہ بن جائے گا سنگ دل اور سرد مہر جس کے دل تک کسی کی رسائی نہیں ہو گی اسکی دلِ جاناں کی بھی نہیں۔
🅗🅐🅡🅡🅐🅜 🅢🅗🅐🅗
ویرہ نہا کر آیا تھا اور اب تیار ہو رہا تھا۔حسب معمول مرجان فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد پھر سے سو چکی تھی اور وہ روز کی طرح اسکے اٹھنے سے پہلے ہی گھر سے نکل جانا چاہتا تھا۔
ویرہ اپنی قمیض کے بٹن بند کر رہا تھا جب اچانک دو نازک ہاتھوں نے اسکے ہاتھ تھامے اور مرجان اسکا بٹن اپنے ہاتھ میں لے کر بند کرنے لگی۔
“پھر سے میرے اٹھنے سے پہلے ہی تیار ہو کر گھر سے جانے والا تھا ناں آپ۔۔۔۔”
مرجان نے سنہری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا لیکن ویرہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔
“آپ مجھے نظر انداز کیوں کر رہا ہے باچا؟”
مرجان کے لہجے کی افسردگی پر ویرہ کا دل بہت بے چین ہوا تھا لیکن اس بے چینی کو وہ چھپا گیا۔
“مییں تمہیں نظر انداز کیوں کروں گا؟”
ویرہ نے سرد مہری سے اپنا گریبان اسکے ہاتھوں سے چھڑاتے ہوئے کہا اور اپنے نم بال اپنی انگلیوں سے سنوارنے لگا۔
“آپ کر رہے ہیں باچا روز میرے سونے کے بعد گھر آتے ہیں اور اٹھنے سے پہلے چلے جاتے ہیں۔۔۔مجھ سے کوئی غلطی ہوا ہے کیا؟”
مرجان نے نم آواز میں پوچھا تو ویرہ اپنی مٹھیاں بھینچ گیا۔یعنی اب وہ اس لڑکی کی آنکھ میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
“ہاں غلطی ہوئی ہے تم سے مرجان میرے قریب آنے کی غلطی کی ہے تم نے مجھے نہیں پسند کہ ہر وقت کوئی میرے قریب ہونے کی کوشش کرتا رہے بھول گئی ہو کیا کہ نفرت ہے مجھے ہر انسان سے۔۔۔”
ویرہ نے بے رخی کی انتہا سے کہا لیکن اسکے دل نے اسے جھوٹا کہا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔نہیں بھولا میں باچا کرتے ہوں گے آپ سب سے نفرت لیکن مجھ سے نہیں۔۔۔آپ مجھ سے نفرت نہیں کرتا باچا محبت کرتا ہے آپ مجھے سے۔۔۔۔”
مرجان کی بات ویرہ کا دل بہت زور سے دھڑکا گئی تھی اور اپنے دل کی اس بے اختیاری سے نفرت ہوئی تھی ویرہ کو۔اسکے جزبات اس سے زیادہ اب اس لڑکی کی سننے لگے تھے۔
“نہیں مرجان تم بھی سب میں شامل ہو نفرت ہے مجھے ہر انسان سے۔۔۔۔۔تم سے بھی۔۔۔۔”
ویرہ نے زرا سا رک کر کہا تو مرجان حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔سنہری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔وہ ویرہ کے سامنے آئی اور اسکے بازو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے۔
“تو وہ سب کیا تھا جو میں نے محسوس کیا جو میں نے آپ کی آنکھوں میں دیکھا باچا جب آپ اپنا پیار مجھ پر لٹا رہے تھے کیا تھا وہ سب۔۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے چلا کر پوچھا۔ویرہ کچھ دیر خاموشی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا تھا۔ان حسین آنکھوں میں وہ آنسو اسے بہت تکلیف دے رہے تھے لیکن ویرہ نے سب ابھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ نہیں چاہتا تھا دیر ہو جائے اور یہ آنسو ان دونوں کے لیے روگ بن جائیں۔
” ضرورت صرف تمہارے وجود کی طلب تھی مجھے جو پوری ہو گئی۔۔۔۔”
مرجان کے ہاتھ ویرہ کے بازوں سے دور ہوئے اور وہ ہکی بکی سی اسے دیکھنے لگی۔کیا وہ جانتا تھا وہ کیا کہہ رہا تھا وہ ان کی پاکیزہ محبت کو ہوس کا نام دے رہا تھا۔
“جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ بول رہا ہے آپ زما باچا۔۔۔”
مرجان نے بے یقینی سے کہا اور اسے یوں بکھرتا دیکھ ویرہ کا دل تڑپ اٹھا تھا۔اسکا دل کیا کہ اسے اپنی باہوں میں لے لے اسے چیخ چیخ کر کہے کہ ہاں وہ جھوٹ بول رہا تھا۔
“اگر تمہیں یہ سب جھوٹ سمجھ کر خوش ہونا ہے تو ہوتی رہو لیکن میں نے وہی بتایا ہے جو میرے دل میں تھا۔”
ویرہ نے کندھے اچکا کر کہا اور وہاں سے جانے لگا لیکن مرجان اسکے سامنے آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھ دیا۔
“یہی بات میرے سر کی قسم کھا کر کہیں کہ آپ کو مجھ سے پیار نہیں۔۔۔۔اور اگر ایسا ہی ہے تو دعا کریں کہ اگلے پل سے پہلے موت آ جائے مجھے کیونکہ یہ احساس موت سے زیادہ دردناک ہے۔۔۔۔”
مرجان نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ بے بسی سے اپنی آنکھیں موند گیا۔اس نے مرجان کے سر سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور وہاں سے جانے لگا۔
“ڈرپوک ہو آپ باچا ڈرپوک۔۔۔”
مرجان کی طنزیہ آواز نے ویرہ کے قدم روکے۔
“دنیا آپ سے ڈرتا ہے اور آپ اپنے دل سے کہ کہیں اس میں کوئی اتر نہ جائے۔۔۔لیکن آپ کو پتہ ہے باچا۔۔۔”
مرجان اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی اور پھر ویرہ کے سامنے آئی۔اسکے ہونٹوں پر گھائل مسکان اور آنکھوں میں آنسو تھے۔
“میں اس دل میں اتر چکا ہے اب اگر آپ کو اپنے دل سے ہی جھوٹ بولنا ہے تو بول کے خوش ہوتے رہو لیکن سچ یہی ہے یہاں صرف پر میں بس چکا ہے اور آپ چاہ کر بھی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا۔”
مرجان نے ویرہ کے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا اسکے ہونٹوں پر ایک فاتح مسکان تھی جیسے کہ وہ جیت گئی ہو۔اس سے پہلے کہ ویرہ اسے کچھ کہتا انکے گھر کا دروازا دھڑام سے کھلا اور ایک آدمی پریشانی کے عالم میں گھر میں داخل ہوا۔
“ویرہ ہم پر فوج نے حملہ کر دیا ہے۔۔۔۔”
اس آدمی کی بات پر ویرہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں جبکہ مرجان کا دل خوف سے بند ہوا تھا۔