Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 9
Rate this Novel
Ana Parast Episode 9
Ana Parast by Hamna Tanveer
“کدھر ہے صاحبزادہ تمہارا؟”
یاسر بلوچ تنک کر بولے۔
“مجھے کیا معلوم…. اس دو کوڑی کی لڑکی کو لے کر چلا گیا ہے یہاں سے… “
وہ منہ بناتی ہوئی بولیں۔
“تمہاری لاپرواہی کے باعث ہوا ہے یہ سب… نظر رکھتی تو معلوم ہوتا چل کیا رہا ہے یہاں… “
وہ نفی میں سر ہلاتے تاسف سے بولے۔
“تو کیا آپ ڈر گئے ہیں اس کی اس حرکت سے؟”
وہ ششدر سی انہیں دیکھنے لگیں۔
“تمہیں لگتا ہے میں اس معمولی سی لڑکی سے ڈر جاؤں گا…. ڈھیل دے رہا ہوں تمہارے بیٹے کو شاید عقل آ جاےُ دو دن میں عشق کا بھوت اتر جاےُ گا تو واپس یہیں آےُ گا۔ صابر سے کہہ کر میں نے اس کا اکاؤنٹ بند کروا دیا یے۔ دیکھتے ہیں کتنے دن تک اس کا والٹ ساتھ نبھاتا ہے…. “
وہ اخبار کھولتے ہوئے طمانیت سے بولے۔
“اچھا…. میں بھی کہوں آپ اتنے پرسکون کیسے ہیں… “
وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔
“بہت دیکھے ہیں ایسے قصے,, دو چار دن کا شوق ہوتا ہے پھر سب سیٹ ہو جاتا ہے۔”
وہ محظوظ ہو رہے تھے۔
“صابر سے پوچھنا تھا ہمارے پوتے کو لے کر واپس کب آےُ گا؟”
وہ خفا انداز میں بولیں۔
“کہہ رہا تھا ایمان کی طبیعت سنبھل جاےُ تو کچھ دن میں آ جاےُ گا۔ تم شہر جا کر مل آنا اپنے پوتے سے۔”
وہ چشمہ اوپر کرتے انہیں دیکھنے لگے۔
“ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی…. کتنا وقت ہو گیا دیکھا نہیں اسے… “
وہ اداسی سے گویا ہوئیں۔
“ناشتہ کدھر رہ گیا ہے؟ مجھے کھیتوں میں جانا ہے….”
وہ گھڑی پر نظر ڈالتے خفگی سے بولے۔
“میں دیکھتی ہوں نازو کو پتہ نہیں کہاں مر گئی ہے…. “
وہ ہنکار بھر کر کہتی وہاں سے اٹھ گئیں۔
~~~~~~~~
“بھیا مجھے پاکستان جانا ہوگا… “
وہ بے چینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔
“ٹھیک ہے چلے جانا… میں تمہارے واپس جانے کا بندوبست کرتا ہوں…. “
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔
“مجھے دیر نہیں کرنی…. “
وہ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
“سب سے پہلے ہمیں کاغذی نکاح کروانا ہوگا تاکہ ہم عائشہ کو تحفظ فراہم کر سکیں… اس کی حفاظت سب سے اہم ہے۔”
زبیر پر سوچ انداز میں بولا۔
“جی میں فون کر کے عائشہ کو بتاتا ہوں سب… “
وہ فون جیب سے نکالتا ہوا بولا۔
“پریشان مت ہونا سب سنبھال لیں گے ہم…. “
زبیر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“تھینک یو بھیا… “
عمر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
زبیر نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا۔
“میں آتا ہوں… “
وہ معدوم سا مسکرا کر کھڑا ہو گیا۔
زبیر فون پر انگلیاں چلاتا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“جی وکیل صاحبہ! ایک کام ہے آپ سے…”
وہ بولتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔
~~~~~~~~
“کہاں مر گئی ہے تمہاری بیٹی؟”
وہ قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“اتنی دیر تو آج تک نہیں ہوئی…. پتہ نہیں کہاں رہ گئی آج۔”
وہ دروازے کی سمت دیکھتی ہوئی بولیں۔
“مجھے نہیں لگتا وہ آےُ گی…. خاک مل کر چلی گئی ہے میرے منہ پر۔”
وہ میز کو پاؤں مارتے ہوئے غراےُ۔
“آپ نے بھی تو حد ہی کر دی تھی… الله نبی کا واسطہ دیا تھا کہ یہ ظلم مت کریں جوان بچی پر۔ لیکن آپ نے کسی کی نہیں سنی…. “
وہ تاسف سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔
“مل جاےُ ایک بار مجھے دیکھنا کیا حشر کرتا ہوں…. “
وہ آگ بگولہ ہوتے گھر سے باہر نکل گئے۔
“الله کرے وہ آپ کو کبھی ملے ہی نہ…. میری بچی جہاں بھی ہو بس محفوظ ہو۔”
وہ دل ہی دل میں فدا حسین سے مخاطب تھیں۔
~~~~~~~~
“آپ کو لگتا ہے وہ مان جائیں گے؟”
رانیہ چاےُ کا مگ اس کے سامنے کرتی استفسار کرنے لگی۔
“کیوں نہیں مانیں گے؟ ان کو اپنا بیٹا بہت عزیز ہے۔ دیکھنا تم خود لینے آئیں گے مجھے… “
وہ مگ پکڑتا مسکرانے لگا۔
“آپ نے مجھے بتایا نہیں یہ گھر کس کا ہے؟”
وہ اردگرد نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔
“یار تم نے کیا کرنا ہے جان کر؟ جس کا بھی ہو ہم جب تک چاہیں یہاں رہ سکتے ہیں۔”
وہ بغور اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
“لیکن پھر بھی… “
رانیہ کو ابھی بھی تجسس تھا۔
“اچھا یہ سب چھوڑو اور مجھے یہ بتاؤ کون کون سی چیز چائیے تمہیں؟”
اس نے یکسر موضوع تغیر کر دیا۔
“مجھے؟”
وہ پر سوچ انداز میں بولی۔
“ہاں ظاہر ہے… ہم دونوں کے علاوہ یہاں کوئی تیسرا ہے کیا؟”
وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
“مجھے ایک دو سوٹ چائیے… گھر سے لے کر ہی نہیں آئی میں کچھ… “
بولی تو چہرے پر مایوسی در آئی۔
“ہاں تو میں کس لئے ہوں؟ اب سے تمہاری ہر چیز کی ذمہ داری میری ہے…. بلکہ ایسا کرتے ہیں تھوڑی دیر میں مارکیٹ چلتے ہیں تمہیں جو جو چائیے ہو لے لینا… “
وہ بائیں ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔
“ٹھیک ہے… “
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ایک منٹ میں یہ کال سن کر آیا…. “
فون پر ابتسام کا نمبر دیکھ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
“خدا کرے ایسا ہی ہو جیسا فہد سوچ رہے ہیں… “
وہ سرد آہ بھرتی دل ہی دل میں گویا ہوئی۔
~~~~~~~~
“یہاں پر سائن کر دیں اور یہاں انگوٹھا لگا دیں… “
وہ انگلی رکھے بول رہی تھی۔
جیسے وہ کہتی جا رہی تھی عائشہ کرتی جا رہی تھی۔
“اب آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں… آپ کی حفاظت عمر کے ذمے ہے۔ کوئی بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا…. “
وکیل صاحبہ پیشہ وارانہ مسکراہٹ لئے بولیں۔
عائشہ جبراً مسکرانے لگی۔
“اوکے میں چلتی ہوں اب… “
وہ فائل اٹھاتی کھڑی ہو گئی۔
اسے پانچ روز ہو چکے تھے اس دارالامان میں۔
عائشہ واپس کمرے میں آ گئی جہاں اور بھی لڑکیاں تھیں۔
اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھنے شروع کر دیا۔
“عمر یہ لوگ مجھ سے بہت کام کرواتے ہیں… صبح صبح اٹھا کر فرش پر پوچا لگواتے ہیں میں نے تو کبھی یہ کام کئے بھی نہیں ہیں…. “
اسے لکھتے ہوئے رونا آ رہا تھا۔
“پتہ ہے یہاں کا کھانا بھی بہت گندا ہے۔ بلکل بھی دل نہیں کرتا کھانے کو۔ کچھ بھی اچھا نہیں ہے یہاں۔ بس جلدی سے آ جاؤ اور مجھے یہاں سے لے جاؤ۔”
وہ انگلی سے آنکھ کا گوشہ صاف کرتی ڈائری بند کرنے لگی۔
“مجھے بس آپ کا انتظار ہے۔ یہاں ہر وقت ایک ڈر سا لگا رہتا ہے….”
وہ تنقیدی نظروں سے آس پاس دیکھ رہی تھی۔
“تم سے کوئی ملنے آیا ہے…. “
آواز پر وہ چونک کر اس لڑکی کو دیکھنے لگی۔
“مجھ سے؟”
اسے شبہ ہو رہا تھا۔
“ہاں تم سے… “
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
“کون ہے؟”
آنکھوں میں خوف تیرنے لگا تھا۔
“امی ہیں شاید تمہاری…. “
وہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
“امی… “
عائشہ زیر لب دہراتی کھڑی ہوئی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
“عائشہ میری بچی…. تم ٹھیک ہو نہ؟”
وہ اسے گلے لگاتی ہوئی بولیں۔
“جی امی میں ٹھیک ہوں… “
وہ ان سے الگ ہوتی ہوئی بولی۔
“چلو واپس گھر چلتے ہیں… تمہارے ابو کو میں سمجھاؤں گی۔”
وہ نرمی سے کہنے لگیں۔
“کیا سمجھائیں گیں آپ ابو کو؟ وہ آپ کی سنتے ہی کہاں ہیں؟”
وہ زخمی سا مسکرائی۔
“میں بات کروں گی ان سے…. تم بس میرے ساتھ واپس چلو,, یہ ضد ختم کرو۔”
وہ خفا انداز میں بولیں۔
“سوری امی… لیکن میں واپس وہاں نہیں جا سکتی۔ عمر آ رہے ہیں اور مجھے اپنے گھر لے جائیں گے یہاں سے۔”
وہ سپاٹ انداز میں بول رہی تھی۔
“عائشہ میں تمہیں لینے آئی ہوں… “
انہوں نے اپنی سی کوشش کی۔
“امی یہ دیکھ رہی ییں؟”
وہ بازو پر بنا زخم دکھانے لگی۔
“اس سے زیادہ زخم میری روح پر لگے ہیں… میں کیسے وہاں واپس چلی جاؤں؟”
وہ سسکتے ہوےُ انہیں دیکھنے لگی۔
“ابو تو مجھے مارنا چاہتے ہیں نہ اسی لئے آپ کو بھیجا ہوگا یہاں… “
آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
صبیحہ بیگم خاموش ہو گئیں۔
“میری خوشی کو آپ لوگوں نے میری سزا بنا دیا امی…. کیا کوئی اپنی سگی اولاد کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے؟”
وہ اشک بہاتی پے دے پے سوال کرنے لگی۔
ان کے پاس عائشہ کے سوالوں کا کوئی جواب موجود نہ تھا سو خاموش رہیں۔
“معاف کر دیں مجھے…. لیکن میں ایک اچھی بیٹی نہیں بن سکی۔ میں ابو کی ضد کی خاطر خود کو ایک زندہ لاش نہیں بنا سکی کیونکہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ابو کی انا کی تسکین کی خاطر میں گھٹ گھٹ کے نہیں جی سکتی۔ سانس لینے کے ساتھ ساتھ مجھے بھی جینے کا حق حاصل ہے۔”
وہ مدھم آواز میں کہتی الٹے قدم اٹھانے لگی۔
صبیحہ بیگم نے ایک افسردہ نگاہ اس پر ڈالی اور واپس مڑ گئیں۔
وہ شاید ٹھیک کہہ رہی تھی اور ان کے پاس اس کو غلط ٹھکرانے کے لیے فلحال کوئی دلیل موجود نہ تھی۔
عائشہ آنکھیں رگڑتی اندر چلی گئی۔
~~~~~~~~
“کورٹ جانا ہے؟”
عائشہ اس کے ہمراہ چلتی ہوئی بولی۔
“جی ہاں…. “
وکیل صاحبہ اثبات میں سر ہلاتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
ان کے اردگرد سیکورٹی گارڈ تھے۔
کورٹ پہنچے تو عائشہ کی نظر فدا حسین اور صبیحہ پر پڑی۔
وہ وہیں رک گئی۔
“گھبراؤ نہیں…. کوئی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔”
وکیل صاحبہ اسے دیکھتی ہوئی بولیں۔
عائشہ اثبات میں سر ہلاتی چلنے لگی۔
“مجھے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔”
عائشہ بیان دینے کے لئے کھڑی تھی جب عمر کی آواز سنائی دی۔
اس نے گردن گھما کر اس سمت دیکھا۔
بلیک جینز کے ساتھ براؤن کلر کی شرٹ پہنے, بال کھڑے کر رکھے تھے, شیو بڑھی ہوئی تھی, وہ ہمیشہ کی مانند پرکشش معلوم ہو رہا تھا۔
عائشہ کے لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
عمر چلتا ہوا اس کے ساتھ آ کھڑا ہوا۔
“اجازت ہے…. “
جج بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“تم ٹھیک ہو نہ؟ کسی نے کچھ کیا تو نہیں؟”
چہرے پر پریشانی کی لکریں تھیں۔
عائشہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
عمر نے عائشہ کا ہاتھ پکڑا اور بولنے کے لیے لب وا کئے۔
“یہ میری بیوی ہے…. اور میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔”
وہ بنا خوف و خطر گردن اکٹراےُ بول رہا تھا۔
“بیٹا آپ کس کے ساتھ جاؤ گی؟ اپنے ابو کے ساتھ یا پھر شوہر کے ساتھ؟”
جج صاحب کی آواز پھر سے گونجی۔
عائشہ نے ایک نظر فدا حسین پر ڈالی جو سرخ انگارہ بنی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
دوسری نگاہ عائشہ نے عمر پر ڈالی جو اس کے ہمراہ ڈھال بنا کھڑا تھا۔
“اپنے شوہر کے ساتھ… “
وہ جج کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے ہم آپ کو سیکورٹی دیں گے….”
جج صاحب کاغذ پر کچھ نوٹ کرتے ہوئے بولے۔
عمر عائشہ کا ہاتھ پکڑے اسی طرح باہر نکل آیا۔
باہر اس کے دوست کزن سب موجود تھے۔
“گاڑی میں بیٹھو… “
عمر نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔
فدا حسین لمبے لمبے ڈگ بھرتے باہر نکلے۔
انہوں نے زمین سے پتھر اٹھاےُ اور ان دونوں پر مارنے شروع کر دئیے۔
عائشہ کے ساتھ ہی عمر بھی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
لیکن وہ اپنے طیش میں پتھر مارتے جا رہے تھے جو گاڑی کو لگ رہے تھے۔
“گھبراؤ نہیں…. اب میں آ گیا ہوں۔”
عمر عائشہ کا حونق زدہ چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
“آپ کے آنے سے تو مجھے تسلی ہوئی ہے۔”
آنکھیں پھر نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
“رونا مت…. بہت رو لیا اب بس…. اب یہ آنسو نہیں آنے چائیے تمہاری آنکھوں میں۔”
وہ دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہا تھا۔
عائشہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
عمر اس سے نظر ہٹاتا باہر دیکھنے لگا۔
دائیں بائیں ان کی اپنی ہی گاڑیاں تھا۔
وہ مطمئن سا ہو گیا۔
~~~~~~~~
“میرا اکاؤنٹ کیسے بند ہو گیا؟”
وہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
“عجیب بات ہے… “
وہ کہتا ہوا ٹہلنے لگا۔
“ہیلو ابتسام؟”
وہ فون کان سے لگاتا ہوا بولا۔
“یار میرا اکاؤنٹ بند ہو گیا ہے… “
وہ جھنجھلا کر بولا۔
“تیرے ابا کا کام ہوگا… “
وہ طمانیت سے بولا۔
فہد کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“یہ تو سوچا نہیں میں نے… “
وہ سر پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔
“ہاں تیرے پاس اتنی عقل کہاں سے… “
وہ قہقہ لگاتا ہوا بولا۔
فہد نے دانت پیستے ہوےُ فون بند کر دیا۔
“اچھا تو اب یہ حل نکالا ہے آپ لوگوں نے… “
وہ اثبات میں سر ہلاتا گاڑی کی چابیاں ڈھونڈنے لگا۔
“حد ہوتی ہے…. “
وہ برہمی سے کہتا چابی لئے باہر نکل آیا۔
“رانیہ میں حویلی جا رہا ہوں…. دو گھنٹے شاید لگ جائیں…”
وہ اونچی آواز میں کہتا چلنے لگا۔
“اچھا میں کھانا ریڈی رکھوں گی…. “
وہ کچن سے باہر نکلتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے…. “
وہ ہاتھ ہلاتا باہر نکل گیا۔
رانیہ چند لمحے دروازے کو دیکھتی رہی۔
“حویلی…. “
اس نے زیر لب دہرایا۔
“گھر سے کسی نے بلایا ہے کیا؟”
وہ واپس کچن میں آتی سوچنے لگی۔
“پتہ نہیں کیا کہنا ہوگا… کیا وہ راضی ہو گئے ہوں گے؟”
دماغ میں ہزاروں سوال جنم لے رہے تھے۔
“پتہ نہیں کس کام سے گئے ہیں… اگر فہد واپس نہ آےُ….”
اس سے آگے وہ کچھ نہ سوچ سکی۔
“نہیں… ایسا نہیں کریں گے فہد میرے ساتھ۔”
وہ نفی میں سر ہلاتی گوشت اٹھانے لگی۔
“کوئی اور کام ہوگا…. ہو سکتا ہے ابتسام نے بلایا ہو۔”
وہ خود کو مطمئن کرتی کام کرنے لگی۔
“یہ کیا فضول حرکت ہے؟”
وہ اندر آتا حلق کے بل چلایا۔
“تمیز سے بات کرو تمہارا باپ ہوں میں….”
یاسر بلوچ طیش کے عالم میں چلاےُ۔
“باپ ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے پیسے بند کر دیں آپ… “
وہ چبا چبا کر کہتا ان کے سامنے آ گیا۔
یاسر بلوچ نے اخبار رکھا اور کھڑے ہو گئے۔
“تم کما کر دیتے ہو ہمیں؟”
وہ پر سکون انداز میں اسے دیکھ رہے تھے۔
“میرا اکاؤنٹ بند کرنے کا کیا مطلب ہے…. “
وہ ضبط کرتا ہوا بولا۔
“یہی کہ خود کماؤ اور اپنی بیوی کو کھلاؤ….ہم نے ساری زندگی کا ٹھیکا نہیں لے رکھا۔”
وہ طمانیت سے کہتے پھر سے بیٹھ گئے۔
“اس سے گھٹیا حرکت نہیں ملی تھی آپ کو؟”
وہ مٹھیاں بھینچ کر بولا۔
“فہد زبان سنبھال کر بولو…. “
طلعت بیگم نے مداخلت کی۔
“اوہ پلیز…. اب آپ بیچ میں مت آئیں….”
وہ اکتا کر بولا۔
“مزاج دیکھ لو اپنے صاحبزادے کے…. اس دو کوڑی کی لڑکی کے لیے کیسے بات کر رہا ہے ہم سے… “
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے طلعت کو دیکھ رہے تھے۔
“بلکل ٹھیک کیا ہے تمہارے ابو نے…. اگر اس لڑکی کے ساتھ رہنا ہے تو جاؤ کام کرو….. کماؤ اور کھاؤ دونوں… “
وہ اس کے عین مقابل آ کھڑی ہوئیں۔
“یہ زمینیں میرے دادا کی ہیں… آپ کی نہیں۔”
وہ یاسر بلوچ کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
“جاؤ میں تمہیں عاق کرتا ہوں….اور یہ گاڑی یہیں چھوڑ کر جانا۔”
وہ اخبار اٹھاتے ہوئے بولے۔
فہد کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو گیا۔
“آپ مجھے عاق کر رہے ہیں؟”
وہ شاک کی کیفیت میں تھا۔
“ہاں بلکل…. ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملے گی تمہیں…. تمہارے دادا کی زمینیں ہیں لیکن میرے نام ہیں اس لئے کچھ نہیں کر سکتے تم۔”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولے۔
“ابو یہ بہت غلط ہے… “
وہ احتجاجاً بولا۔
“کیا صحیح ہے اب یہ تم مجھے بتاؤ گے؟”
وہ آگ بگولہ ہو گئے۔
فہد دانت پیس کر رہ گیا۔
“اب جاؤ یہاں سے…. تمہاری طرح آوارہ نہیں ہیں ہم سب۔”
وہ نخوت سے بولے۔
فہد اثبات میں سر ہلاتا دونوں کو دیکھنے لگا۔
“اگر اس نیچ لڑکی کو طلاق دے دو تو یہ جائیداد, گاڑی سب مل سکتا ہے تمہیں… “
فہد کو جاتے دیکھ کر وہ بولے۔
“اپنے پاس ہی رکھیں یہ سب… “
وہ حقارت سے کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا۔
~~~~~~~~
“پتہ نہیں عمر کے گھر والے کیسے ہوں گے؟”
عائشہ ہاتھ مسلتی سوچ رہی تھی۔
“اگر اس طرح انہوں نے مجھے قبول نہ کیا پھر؟….”
وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
اب ایک نئی فکر میں گھر چکی تھی وہ۔
عمر فون کان سے لگاےُ محو گفتگو تھا۔
“اب آگے پتہ نہیں کیا ہوگا…. “
وہ تشویش سے کہتی باہر دیکھنے لگی۔
گاڑی تیزی سے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
