Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 3
Rate this Novel
Ana Parast Episode 3
Ana Parast by Hamna Tanveer
“امی میری منتظر ہوں گی… “
وہ ہاتھ مسلتی ہوئی بولی۔
فہد کی نظر اس کے گلابی موٹے موٹے ہاتھوں پر ٹھہر گئی۔
“اور جو انتظار میں کرتا ہوں؟ اس کی کوئی پرواہ نہیں تمہیں؟”
وہ خفا ہو رہا تھا۔
“آپ سمجھا کریں نہ مجھے… “
وہ بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم جب جب مجھے دیکھتی ہو محبت پھر سے ہو جاتی تم سے… “
وہ بغور اس کی آنکھوں میں دیکھتا بول رہا تھا۔
“اچھا…خدا حافظ… “
وہ گھبرا کر کہتی مڑ گئی۔
“میں انتظار کر رہا ہوں… بھول مت جانا۔”
وہ اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔
رانیہ مسکراتی ہوئی نیچے چلی گئی۔
~~~~~~~~
“میں نے عمر کی امی سے بات کی ہے… “
وہ مسکراتی ہوئی بولیں۔
“کیا بات؟”
عائشہ رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
“میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ رشتہ لے کر آئیں… تم بلکل فکر مت کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
وہ اس کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولیں۔
“امی مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیسے آپکی شکریہ ادا کروں…”
عائشہ آنکھوں میں نمی لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں دیر ہو رہی ہے… جاؤ اب اور پریشان مت ہونا تمہاری امی تمہارے ساتھ ہے۔”
وہ اس کا بیگ اٹھاتی ہوئی بولیں۔
“جی ٹھیک ہے امی… “
وہ ہلکی پھلکی سی ہو گئی۔
“عمر کیسے ہیں آپ؟”
بے قرار سا لہجہ۔
“میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ ٹھیک ہو نہ؟”
دوسری جانب بھی فکر نمایاں تھی۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں… اور آپ کو پتہ ہے امی میرے ساتھ ہیں وہ ابو سے بات کریں گے… “
اس کی آواز میں خوشی کی رمق تھی۔
“سچ؟”
وہ بے یقینی سے گویا ہوا۔
“ہاں جی… صبح ہی انہوں نے آپکی امی سے بات کی۔ میرا دل کہتا ہے ابو مان جائیں گے۔”
وہ پر امید تھی۔
“شکر ہے… ورنہ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔”
اس کی آدھی فکر دور ہو چکی تھی۔
“اچھا عمر میں آپ کو بریک ٹائم میں فون کرتی ہوں… ابھی لیکچر کا ٹائم ہو رہا ہے۔”
وہ ہاتھ پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔
“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا… “
وہ مسکراتا ہوا بولا۔
“آپ بھی… “
عائشہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
چند لمحے مسکراتے ہوئے وہ فون کو دیکھتی رہی۔
“آپ کی آواز سن کر لگتا ہے پھر سے زندہ ہو گئی ہوں میں…”
وہ فون سینے سے لگاتی ہوئی بولی۔
“بس ابو مان جائیں….”
وہ کہتی ہوئی فون بیگ میں رکھتی باہر نکل آئی۔
“پتہ نہیں امی کیسے منائیں گیں ابو کو… “
پریشانی جوں کی توں برقرار تھی۔
“نہیں.. نہیں… مجھے یقین ہے وہ مان جائیں گے۔”
وہ خود کو دلاسے دیتی کلاس میں آ گئی۔
“حنا میں تمہارے بیگ میں ڈال رہی ہوں تمہارا فون… “
وہ سیٹ پر بیٹھتی ہوئی دھیرے سے بولی۔
“ہاں ٹھیک ہے رکھ دو….”
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
~~~~~~~~
“امی کب جائیں گیں آپ؟”
عمر نے بے قراری سے استفسار کیا۔
“صبیحہ کہہ رہی تھی کہ کچھ دن رک جاؤں… عائشہ کے بھی پیپرز ہونے والے ہیں وہ فری ہو جاےُ پھر۔”
وہ اس کے انداز پر مسکرانے لگیں۔
“جواب ہاں ہی ہوگا نہ؟”
وہ کچھ سوچ کر بولا۔
“اچھے کی امید رکھو…. سب اچھا ہی ہوگا۔”
وہ پر امید تھیں۔
“چلیں ٹھیک ہے آپ کھانا بنائیں میں پھر فون کروں گا۔”
جونہی یاد آیا وہ بول پڑا۔
فون جیب میں ڈال کر وہ ٹہلنے لگا۔
بے چینی ہی بے چینی تھی۔
“جب تک میرے حق میں فیصلہ نہیں ہو جاتا مجھے سکون نہیں ملے گا… “
وہ ہاتھ مسلتا باہر نکل آیا۔
“مجھے بس اس دن کا انتظار ہے جب تم میرے ساتھ ہو گی… “
لب دم بخود مسکرانے لگے۔
وہ سانس خارج کرتا تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔
~~~~~~~~
“آپ فکر مت کریں عائشہ کا رشتہ تو میں آپ کو ہی دوں گی۔”
وہ بھرپور مسکراہٹ لئے بولیں۔
“مجھے تو انتظار ہے کب میں اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤں۔”
وہ جواباً مسکرائیں۔
“آپ سمجھیں اب عائشہ آپ کی امانت ہے میرے پاس… میں خاندان میں کسی کو نہیں دوں گی اس کا رشتہ…. عمر کے ساتھ ہی کرواؤں گی اس کی شادی… “
وہ مسرور سی بولیں۔
“مجھے خوشی ہو رہی ہے…. یقین مانیں میری فکر ختم کر دی آپ نے۔”
وہ تشکرانہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
“ہاں باقی سب تو ٹھیک ہے…. اس کے ابو آ جائیں پھر میں ان سے بات کروں گی۔ ویسے بھی ابھی تو عائشہ کی یونیورسٹی شروع ہوئی ہے۔”
وہ پر سوچ انداز میں بولیں۔
“ٹھیک ہے انتظار تو ہم کر لیں گے…. لیکن ….”
“آپ پریشان مت ہوں… بس ابھی کچھ وقت کے لئے خاموش ہو جائیں۔ عائشہ آپ کے گھر کی بہو بنے گی بے فکر ہو جائیں آپ۔”
وہ گلاس ان کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔
“بہت شکریہ… “
وہ گلاس پکڑتی ہوئی بولیں۔
عائشہ بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔
“امی؟”
جیسے ہی عائشہ کی نظر ان پر پڑی بول اٹھی۔
“ہاں میں نے بات کر لی ہے تم زیادہ سوچو مت اس بارے میں… اور اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔”
وہ مسکراتی ہوئی باورچی خانے کی سمت چل دیں۔
وہ خاموشی سے دروازے کو گھورنے لگی۔
“کتنا پیچیدہ ہے یہ سب… “
وہ جھرجھری لیتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
سامنے کتاب پڑی تھی جسے اٹھا کر وہ صفحے الٹنے لگی۔
دماغ دور کہیں عمر کے خیالوں میں گم تھا۔
~~~~~~~~
“کہاں جا رہی ہو؟”
آواز سنتے ہی رانیہ چہرہ موڑ کر گاڑی کو دیکھنے لگی۔
فہد کا مسکراتا ہوا چہرہ دکھائی دیا۔
“کالج جا رہی تھی… “
وہ چادر درست کرنے لگی۔
“اچھا چلو آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں… میں بھی شہر کی طرف ہی جا رہا ہوں۔”
وہ سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے اس کے جواب کا منتظر تھا۔
“نہ.. نہیں… میں بس لے کر چلی جاؤں گی آپ جائیں… “
وہ اردگرد نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔
“اب اس طرح کہو گی مجھے تم؟”
وہ مصنوعی خفگی سے دیکھ رہا تھا۔
“آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں؟ کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جاےُ گی۔”
وہ گھبرا کر دائیں بائیں دیکھ رہی تھی۔
“تم اس چادر سے نقاب کر لو… اگر کوئی دیکھ بھی لے گا تو معلوم نہیں ہوگا۔”
اس نے سہولت سے حل پیش کیا۔
“نہیں… آپ جائیں میں خود چلی جاؤں گی۔”
وہ نفی میں سر ہلاتی اسے دیکھنے لگی۔
“تم اتنی ضدی کیوں ہو آخر؟”
وہ تنگ آکر بولا۔
“آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ عزت میری خراب ہوگی,,, رسوائی میری ہوگی۔ یہ معاشرہ مرد کو کچھ نہیں کہتا سارے قصور عورت کے حصے میں ڈال دیتا ہے۔ اسی لئے میں ضد کرتی ہوں۔”
آج وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔
“تم جانتی ہو میں تمہیں کبھی رسوا نہیں ہونے دوں گا… “
وہ پورے وثوق سے بول رہا تھا۔
“لیکن میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتی… آپ کو بھی سمجھنا ہوگی یہ بات۔”
کہہ کر وہ رکی نہیں اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس کی گاڑی سے دور ہوتی گئی۔
فہد افسردگی سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
~~~~~~~~
عمر نے جب سے یہ خبر سنے تھی پھولے نہ سما رہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آ رہا….”
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔
“اب تم اس اچھی خبر پر یقین نہیں کرو گے؟”
زبیر آبرو اچکا کر بولا۔
“ایسی بات نہیں ہے…. مطلب….”
وہ اپنی کیفیت بتانے سے قاصر تھا۔
چہرے پر ایک نا ختم ہونے والی مسکراہٹ تھی۔
“میں سمجھ رہا ہوں… “
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرانے لگے۔
“خوشی اتنی ہے سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا بولوں…. “
وہ سر کھجاتا ہوا بولا۔
“الله سے اچھے کی امید رکھو ہمیشہ…. جیسا انسان گمان رکھتا ہے ہوتا بھی ویسا ہی ہے۔”
وہ چاےُ کا مگ اٹھاتے ہوئے بولے۔
“جی بلکل…. مجھے امید ہے بہت جلد وہ دن بھی آ جاےُ گا۔”
وہ مسرور سا بول رہا تھا۔
“ہاں بلکل اور اب تم پریشان مت ہونا,,, ہم سب سنبھال لیں گے تمہیں اس کے لئے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔تم بیٹھو میں یہ کال سن کر آیا۔”
زبیر فون اٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔
“کاش اس وقت میں پاکستان ہوتا…. کم از کم تمہیں دیکھ ہی لیتا…. “
وہ حسرت سے گویا ہوا۔
“خیر کوئی بات نہیں… بہت جلد دیکھوں گا تمہیں۔ کتنی باتیں کرنی ہیں تم سے مجھے۔”
وہ مگ کے کنارے پر انگلی پھیر رہا تھا۔
“وہ دن دور نہیں جب تمہیں میرے نام سے پکارا جاےُ گا۔”
لب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
کچھ سوچ کر اس نے مگ اٹھایا اور کمرے کی سمت چل دیا۔
~~~~~~~~
عائشہ فون کان سے لگاےُ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
نجانے کون سی وہ گالی ہو گی جو انہوں نے عائشہ کو نہیں دی ہوگی۔
آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔
“میری بات کان کھول کر سن لو تم یہ جو سوچ رہی ہو نہ ایسا کبھی نہیں ہوگا…. آ رہا ہوں میں پاکستان,, اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا تمہیں۔”
آواز اتنی بلند تھی کہ عائشہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
اس سے قبل کہ وہ لب کھولتی کھٹاک کی آواز کے ساتھ فون بند ہو چکا تھا۔
وہ ہچکیاں لیتی فون کو دیکھنے لگی۔
“یہ سب کیا ہو گیا؟”
وہ وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
“مجھے تو لگا تھا سب ٹھیک ہو جاےُ گا…. لیکن ابو… “
آنسو لڑی کی صورت میں اس کے رخسار کو بھگو رہے تھے۔
“ابو تو بہت غصے میں ہیں… “
وہ ہچکیاں لیتی پھر سے فون کو دیکھنے لگی۔
“مہ… میں کیا کروں… “
وہ غم و بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں…. “
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی ہوئی بولی۔
“ایسے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا… “
“مہ… میں کسی دوسرے انسان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی… “
وہ سر گھٹنوں پر گراےُ بول رہی تھی۔
“نہیں ہوگا مجھ سے یہ…. میرے بس میں نہیں ہے…. “
وہ دھیرے دھیرے سے سرگوشیاں کرتی زاروقطار رو رہی تھی۔
“پلیز الله میری مدد کریں… مجھے اس مشکل سے نکال لیں۔ میں نے بس وہی ایک انسان مانگا ہے آپ سے,, میں اسے نہیں چھوڑ سکتی میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر…. “
اردگرد کی پرواہ کئے بغیر وہ خود کلامی کر رہی تھی۔
جانے کتنی دیر وہ یونہی بیٹھی رہی۔
اب کمرے میں صرف عائشہ کی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔
ایک نہ ختم ہونے والے کرب کا آغاز ہو چکا تھا۔
~~~~~~~~
“عائشہ کچھ بتاؤ گی کیا ہوا ہے تمہیں؟”
حنا گزشتہ آدھ گھنٹے سے یہی ایک سوال پوچھ رہی تھی۔
اور عائشہ ایسے بیٹھی تھی مانو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔
“یار بتاؤ تو…. “
وہ عائشہ کا منہ اپنی جانب موڑتی ہوئی بولی۔
“ابو پاکستان آ رہے ہیں…. پتہ نہیں کیا ہوگا اب…. “
وہ جو صبح سے ضبط کئے بیٹھی تھی چہرہ ہاتھوں میں چھپاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“کچھ کہا ہے انکل نے؟ مجھے بتاؤ تو۔ یار پلیز ایسے مت رو مجھے بھی رونا آ رہا ہے تمہیں دیکھ کر۔”
وہ افسردگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا…. میں بس اتنا جانتی ہوں میں نہیں رہ سکتی عمر کے بغیر…. “
آواز قدرے مدھم ہو گئی۔
“اچھا تم رونا تو بند کرو… دیکھو سب دیکھ رہے ہیں تمہیں… “
وہ دائیں بائیں نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی۔
وہ دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھیں تھیں۔
عائشہ اثبات میں سر ہلاتی چہرہ صاف کرنے لگی۔
“مہ… میں ٹھیک ہوں… “
اس نے حنا کو تسلی دینا چاہی۔
“ہاں نظر آ رہا ہے…. چلو اب کچھ کھانے کو لیتے ہیں۔”
وہ کھڑی ہوئی تو ناچار عائشہ کو بھی کھڑا ہونا پڑا۔
~~~~~~~~
“امی یہ بڑے لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں نہ؟”
وہ کسی گہری سوچ میں گم ان سے مخاطب تھی۔
“کیوں کیا ہوا اب؟”
وہ چولہا جلاتی ہوئی بولیں۔
“ہم لوگوں کو اچھوت سمجھتے ہیں… ہمیں تو انسان سمجھتے ہی نہیں ہیں ایسے جیسی کوئی گندی چیز ہیں ہم۔”
وہ پیشانی پر بل ڈالے سامنے اس بوسیدہ سی دیوار کو دیکھ رہی تھی۔
“بس بیٹا ایسا ہی ہے یہ زمانہ… یہی سب چل رہا ہے نجانے کب سے۔”
وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولیں۔
“امی کیوں یہ بڑے لوگ ایسے کرتے ہیں… کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہمارے احساسات نہیں؟ ہمیں تکلیف نہیں ہوتی کیا؟”
وہ پے در پے سوال کرنے لگی۔
“کسی نے کچھ کہا ہے کیا تمہیں؟ جو آج اتنے سوال پوچھ رہی؟”
وہ ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگیں۔
رانیہ تلخی سے مسکرانے لگی۔
“اچھا چھوڑیں یہ سب آپ…. میں چھت سے کپڑے اتارنے جا رہی ہوں۔”
وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔
“ہاں جاؤ… اور جلدی واپس آ جانا مغرب کی اذان ہونے والی ہے۔”
وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو چکی تھیں۔
رانیہ اس چھوٹے سے صحن کو عبور کرتی ان ٹوٹی پھوٹی سیڑھیوں پر قدم رکھتی اوپر آ گئی۔
“کدھر گم تھی؟”
فہد دیوار پر ہاتھ رکھ کر اِدھر کو جھکا ہوا تھا۔
“کام کر رہی تھی…. “
وہ سپاٹ انداز میں کہہ کر کپڑے اتارنے لگی۔
“کیا ہوا تمہارا چہرہ اترا کیوں ہوا ہے؟”
وہ جانچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں بس تھک گئی ہوں شاید… “
وہ اسے دیکھے بنا بول رہی تھی۔
“چھوڑو یہ کام اور اِدھر دیکھو… “
وہ تحکم سے بولا۔
“کیوں مانوں میں آپ کی؟ اور آپ بھی یہ سب ختم کر دیں تو بہتر ہوگا… “
وہ ایک نظر اس پر ڈال کر وہاں رکی نہیں بلکہ تیزی سے نیچے چلی گئی۔
فہد ہکا بکا رہ گیا۔
“اس کو کیا ہوا؟”
وہ پیچھے ہوتا ہوا بولا۔
“پہلے تو ایسے کبھی بات نہیں کی مجھ سے… “
وہ پر سوچ انداز میں کہتا چیئر پر بیٹھ گیا۔
“آج کچھ عجیب سی لگ رہی تھی…. کہیں امی یا ابو نے تو کچھ نہیں دیا… انہیں علم تو نہیں ہوگیا؟”
وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“نہیں… مجھے نہیں لگتا انہیں کچھ بھی معلوم ہوگا ورنہ اب تک عدالت لگا چکے ہوتے ابو… “
وہ نفی میں سر ہلاتی اپنی نفی کرنے لگا۔
“پھر ایسا کیوں کہہ کر گئی یہ…. “
وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔
“حد ہے…. پتہ نہیں کیا مسئلہ تھا اسے۔”
وہ اکتا کر بولا۔
“اب سامنے آےُ گی نہیں اور میں ایسے ہی ہلکان ہوتا رہوں گا…. “
وہ ہنکار بھرتا زینے اترنے لگا۔
~~~~~~~~
“حنا وہ عمر ہے نہ؟”
جونہی عائشہ نے گیٹ عبور کیا سامنے عمر کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
حنا نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔
“ہاں عمر ہی ہے…. یہ پاکستان کب آیا؟ تم نے تو بتایا ہی نہیں۔”
وہ برا مان گئی۔
“مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا… “
نگاہیں ہنوز عمر پر تھیں۔
دونوں یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
عائشہ کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔
وہ جتنا دور اس سے اس وقت تھا حقیقت میں فاصلہ اس سے بھی زیادہ تھا۔
وہ اس سے اتنا دور تھا کہ لگتا تھا شاید یہ عمر کم پڑ جاےُ گی فاصلہ ختم کرتے کرتے۔
عائشہ اداسی سے مسکرانے لگی۔
“کچھ بھی ہو جاےُ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی…. “
وہ دل ہی دل میں خود سے عہد کر رہی تھی۔
عمر ایک نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتا آگے بڑھ گیا۔
محبت کرنے والے رسوا نہیں کرتے وہ بھی ایسا نہیں چاہتا تھا اسی لئے نہ چاہتے ہوئے بھی دل پر بندھ باندھتا چل دیا۔
وہ سر جھکائے چل رہا تھا۔
“کیسا ستم ہے قسمت کا؟ چند پل کے لئے دیکھ بھی نہیں سکتا تمہیں… “
وہ دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہا تھا۔
“جب تم میرے گھر آ جاؤں گی پھر دیکھنا اپنے سامنے بٹھا کر رکھوں گا… جی بھر کے دیکھوں گا۔”
وہ اپنی بات پر خود ہی مسکرا دیا۔
دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔
~~~~~~~~
“عمر آپ کو دیکھ کر بہت ہمت ملتی ہے مجھے… “
وہ ڈائری کھولے بیٹھی تھی۔
“حالات کیسے بھی ہوں مجھے یقین ہے ایک دن سب ٹھیک ہو جاےُ گا… “
وہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگی۔
صبیحہ بیگم کی آواز سنتے ہی اس نے ڈائری بند کی اور کھڑی ہو گئی۔
“جی امی… “
وہ سرعت سے باہر نکل آئی۔
“کھانا رکھو,,, سب انتظار کر رہے ہیں۔ اور ہاں تمہارے ابو کا فون آیا تھا ایک دو دن میں شاید آ جائیں وہ۔”
عائشہ جو جگ میں پانی ڈال رہی رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
صبیحہ بیگم کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔
