599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 4

Ana Parast by Hamna Tanveer

“الله خیر کرے بس… ابو پتہ نہیں کیا کریں گے…. “

وہ متفکر سی بولی۔

“چلو رکھو اندر…. بچے کب سے انتظار کر رہے ہیں۔”

وہ خفا انداز میں کہتی باہر نکل گئیں۔

“جی آئی… “

وہ اپنے سوچوں کے محور سے باہر نکلتی ہوئی بولی۔

~~~~~~~~

“امی میں کیوں؟”

رانیہ اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑی ہو گئی۔

“بیگم صاحبہ نے کہا تھا تمہیں بھی ساتھ لے آؤں… ان کے ہاں کوئی تقریب ہے تو تم ساتھ کام کروا دینا۔”

وہ کچھ تلاش رہی تھیں۔

“امی مجھے نہیں جانا…. “

وہ قطعیت سے بولی۔

فہد کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا۔

“نہیں مجھے ان کا سامنا نہیں کرنا… “

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

“کیوں؟ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟”

وہ اس کی جانب گھومتی ناراضگی سے بولیں۔

“وہ… امی…وہ بیگم صاحبہ مجھے پسند نہیں کرتی نہ… اس لیے۔”

وہ عذر پیش کرنے لگی۔

“ہاں تو اب انہوں نے خود کہا ہے… اگر تمہیں ساتھ نہ لے گئی تو بلاوجہ غصہ کریں گے…”

وہ پھر سے صندوق پر جھک چکی تھیں۔

“اف….کیسے سمجھاؤں انہیں… “

وہ پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔

“فہد ضرور بات کرنے کی کوشش کریں گے۔”

وہ انگلی دانتوں تلے دباےُ سوچ رہی تھی۔

“رانیہ چلو بھی…. دیر کر دی تو کتنی باتیں سننی پڑیں گی مجھے معلوم نہیں کیا تمہیں؟”

وہ باہر نکلتی ہوئی بولیں۔

“اچھا… “

رانیہ واقف تھی اسی لیے مزید بحث سے گریز کیا۔

“چادر لے کر آتی ہوں… “

وہ نا چاہتے ہوےُ بھی چل دی۔

~~~~~~~~

“سفر کیسا رہا آپ کا؟”

صبیحہ بیگم ان کے ہاتھ سے بیگ پکڑتی ہوئی بولیں۔

“ہاں ٹھیک تھا… “

وہ تنقیدی نظروں سے عائشہ کو دیکھ رہے تھے۔

عائشہ ان سے ملنے کے لیے آگے بڑھی لیکن وہ نظر انداز کر کے آگے بڑھ گئے۔

عائشہ ہق دق سی ان کی پشت کو دیکھنے لگی۔

وہ مریم کو گلے لگا رہے تھے۔

عائشہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

“آپ ہمیشہ مجھے گلے سے لگاتے تھے… لیکن آج نہیں… ہاتھ تک نہیں ملایا آج تو…. “

وہ سرد آہ بھرتی انہیں دیکھ رہی تھی۔

وہ ندا اور نبیل سے مل کر اندر جا چکے تھے۔

وہ تنہا صحن میں کھڑی تھی۔

خوف اور بے بسی اس کی آنکھوں میں تیرتی دکھائی دے رہی تھی۔

“ٹھیک ہے…. مجھے ہمت سے کام لینا ہوگا… “

وہ خود کو دلاسہ دیتی آگے بڑھ گئی۔

کمرے میں سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

جونہی عائشہ اندر داخل ہوئی فدا حسین خاموش ہو گئے۔

عجیب سی خاموشی گنگنا رہی تھی کمرے میں۔

“تم دیکھنا میں عمر کو مروا دوں گا… زندہ نہیں چھوڑوں گا اس بے غیرت انسان کو…. “

وہ صبیحہ بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے طیش میں چلاےُ۔

ان کی بات پر عائشہ اندر تک لرز گئی۔

وہ تڑپ کر اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔

“تم دونوں کو کبھی ایک نہیں ہونے دوں گا میں دیکھنا تم کیا حشر کرتا ہوں میں اس عمر کا…. “

وہ قہر برساتی نظروں سے عائشہ کو دیکھ رہے تھے۔

عائشہ کا سر جھک گیا۔

ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔

یہ لمحے خاصے بھاری ثابت ہو رہے تھے اس پر۔

“سمجھتا کیا ہے وہ خود… ایسی موت ماروں گا سب یاد رکھیں گے۔”

وہ چلاتے جا رہے تھے۔

کمرے میں موجود تمام نفوس ہونق زدہ سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“میں سالن کے نیچے چولہا بند کرنا بھول گئی تھی جاؤ عائشہ بند کرو…کہیں جل نہ جاےُ۔”

صبیحہ بیگم نے مداخلت کی۔

عائشہ فوراً سے بیشتر وہاں سے غائب ہو گئی۔

فدا حسین صاحب کی آواز اسے باہر بھی سنائی دے رہی تھی۔

وہ عمر کو کوس رہے تھے گالیاں دے رہے تھے۔

“کاش میں اپنے کان بند کر سکتی… “

وہ سسکتی ہوئی دوسرے کمرے میں آ گئی۔

“میں کیسے برداشت کروں گی یہ سب… ابو سے تو اب اور بھی خوف آنے لگا ہے۔ اگر انہوں نے عمر کو کچھ کر دیا….”

اس سے آگے وہ کچھ سوچ نہ سکی۔

الفاظ دم توڑ گئے۔

“نہ… نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا… عمر کو کچھ نہیں ہوگا۔”

وہ نفی میں سر ہلاتی خود کو تسلی دینے لگی۔

آنسو کب پلکوں کی باڑ کو توڑ کر اس کے رخسار کو بھگونے لگے اسے علم ہی نہ ہوا۔

“پلیز الله پاک عمر کی حفاظت کرنا… اسے کچھ نہ ہو… ابو کا غصہ وقتی ہو… وہ کچھ نہ کریں عمر کو۔”

وہ اس مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی جسے پانی سے نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہو۔

“کچھ نہیں ہوگا عمر کو… مجھے یقین ہے الله پر… وہ کچھ غلط نہیں کرے گا ہمارے ساتھ۔”

وہ سوں سوں کرتی چہرہ صاف کرنے لگی۔

“نماز کا ٹائم ہو گیا ہے…. “

اچانک اس کی نظر گھڑی پر پڑی تو دوپٹہ اٹھاتی باہر نکل آئی۔

~~~~~~~~

“بس اب یہاں سے باہر نہیں جانا میں… “

رانیہ باورچی خانے کے دروازے میں کھڑی باہر دیکھتی ہوئی بولی۔

“یہاں وہ مجھے دیکھ بھی نہیں سکیں گے پھر بات کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… “

وہ ہلکی پھلکی سی ہو کر سلیب کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔

“رانیہ ان سب گلاس میں جوس ڈالوں… پھر باہر مہمانوں کو دینا ہے۔ نازو آےُ گی اسے دے دینا مجھے بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔”

وہ سرعت سے کہتیں باہر نکل گئیں۔

“اچھا امی… “

وہ کہہ کر گلاس میں جوس انڈیلنے لگی۔

“اچھا تو یہاں چھپ کر بیٹھی ہو تم… “

وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔

سیاہ شلوار قمیض پہنے, شانے پر شال رکھے, بال نفاست سے سیٹ کر رکھے تھے۔ شیو معمول کے خلاف بڑھی ہوئی تھی۔جو اس پر چار چاند لگا رہی تھی۔

“آپ؟”

وہ اچھل پڑی۔

“غالباً میں بھوت تو نہیں ہوں… “

وہ برا مان گیا۔

“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ کسی نے دیکھ لیا تو… “

“بس بس… تمہیں کسی کی فکر رہتی ہے لیکن میری نہیں۔”

وہ خفا انداز میں کہتا قدم اٹھانے لگا۔

“میں نے اس دن آپ کو بتا دیا تھا…اب پلیز خدا کے واسطے چلے جائیں یہاں سے… کسی نے دیکھ لیا تو مصیبت کھڑی ہو جاےُ گی۔”

وہ روہانسی ہو گئی۔

“اچھا ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں… لیکن اس رویے کی وجہ جان سکتا ہوں؟”

خاصے خشک لہجے میں جواب آیا۔

“آپ بڑے لوگ ہیں اور ہم چھوٹے…. ہمارا کوئی میل نہیں۔”

رانیہ نے کہتے ہوئے رخ پھیر لیا۔

“اس موضوع پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے اور میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ… “

“آپ نہیں سوچتے ایسا لیکن اس گھر کا ہر فرد ایسا ہی سوچتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔”

وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولی۔

مٹھیاں زور سے بند کر رکھی تھیں۔

“اچھا نہیں کر رہی تم میرے ساتھ…. “

وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا۔

وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔

آنسو رخسار سے ہوتے ہوئے سلیب پر گر کر بے مول ہو رہے تھے۔

“یہی چاہی ہو نہ تم… “

وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔

“ہاں یہی چاہتی ہوں میں… دور رہیں مجھ سے۔”

وہ اپنی کیفیت پر قابو پانے کی ممکن سعی کر رہی تھی۔

“ٹھیک ہے….پھر ایسا چاہتی تو یہی سہی… “

وہ ہرٹ ہوا تھا۔

چند لمحے رانیہ آنکھیں بند کئے آنسو بہاتی رہی۔

قدموں کی آہٹ سن کر وہ دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی۔

“جوس ڈال دیا تم نے؟”

یہ نازو کی آواز تھی۔

“ہاں بس ڈال رہی ہوں… “

وہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگی۔

“جلدی کرو ورنہ بیگم صاحبہ غصہ کریں گے… “

وہ دروازے کی سمت دیکھتی متفکر سی بولی۔

“ہاں بس ہو گیا یہ… “

وہ ٹرے اٹھاتی ہوئی بولی۔

“تمہیں کچھ ہوا ہے؟”

نازو اس کی سرخ ہوئی ناک کو دیکھ رہی تھی۔

“چھینکیں آ رہیں تھیں… “

وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔

“اچھا دوائی لے لینا پھر یاد سے…. “

وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل گئی۔

رانیہ لب بھینچے دروازے کو دیکھنے لگی۔

~~~~~~~~

“میں دیکھتا ہوں کیسے تمہاری شادی اس عمر سے ہوتی ہے…. آصف سے شادی کرو گی تم آئی سمجھ…. “

جونہی عائشہ کمرے سے نکلی ان کی گرج دار آواز گونجی۔

وہ جو برقع پہنے یونیورسٹی جانے لگی تھی سہم کر وہیں کھڑی ہو گئی۔

“نہیں ابو…. “

عائشہ بس اتنا ہی بول پائی۔

فدا حسین کے تھپڑ نے اسے مزید بولنے کے قابل نہیں چھوڑا۔

اس اچانک افتاد پر وہ کانپ اٹھی۔

سر دم بخود جھک گیا۔

آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔

“شرم نہیں آتی تمہیں…. یہ اے سی تم لوگوں کو لگوا کر دیا ہے میں,,,کھانے کو اتنا اچھا دیتا ہوں….ان لوگوں کو جا کر دیکھو جن کے گھر میں اے سی نہیں ہے۔ اتنا کچھ کرتا ہوں تم لوگوں کے لئے میں… “

وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے گھور رہے تھے۔

عائشہ کے قدم منجمد ہو چکے تھے۔

آنکھوں میں نمی لئے وہ دونوں ہونٹ آپس میں مبسوط کئے زمین کو گھور رہی تھی۔

“اچھے کالج میں پڑھایا,, اچھا پہننے کو دیتا ہوں,,,کوئی بھی نہیں کرتا یہ سب…..”

وہ ہنکار بھرتے ہوئے چارپائی پر آ بیٹھے۔

صبیحہ بیگم بھی یہ سب سن رہی تھیں لیکن خاموش رہیں کیونکہ یہ باتیں پہلی بار نہیں ہو رہی تھیں۔

وہ افسردگی سے عائشہ کو دیکھ رہی تھیں۔

“جاؤ تمہیں دیر ہو جاےُ گی…. “

اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ بولتے صبیحہ بیگم نے بت بنی عائشہ کو ہلا کر کہا۔

“جی…جی امی… “

وہ اثبات میں سر ہلاتی چل دی۔

“اتنا سب کرتا ہوں تم لوگوں کے لئے میں مجال ہے جو احساس ہو باپ کا…. “

وہ کہاں خاموش رہنے والے تھے۔

عائشہ آنسو پیتی دروازے سے باہر نکل گئی۔

“میں ناشتہ لاتی ہوں آپ کے لئے…. “

صبیحہ بیگم کو کچھ سمجھ نہ آیا تو باورچی خانے کی سمت چل دیں۔

“کھا کھا کے حرام کر رہے ہیں یہاں تو سب… باپ کما کما کے ان کی جھولیاں بھرتا رہے بس… “

وہ کوفت سے کہتے فون نکالنے لگے۔

~~~~~~~~

“کیا ہوا اتنی خار کیوں کھا رہا ہے؟”

ابتسام اس کے گھورنے پر تھوڑا فاصلے پر بیٹھ گیا۔

“میرا نہ دماغ پہلے ہی خراب ہے اب تو مزید خراب مت کرنا… “

وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

“اچھاااااا….. “

وہ اچھا کو لمبا کرتے بغور اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

“ویسے صحیح کب تھا؟ میرے ناقص علم میں اضافہ کرنا پسند کریں گے آپ؟”

وہ معصومیت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“اپنی جان عزیز ہے نہ تو چلا جا یہاں سے… ورنہ… “

وہ انگلی اٹھا کر بولا۔

“ورنہ کیا میری جان؟”

وہ قہقہ لگاتا پاؤں ٹیبل پر رکھنے لگا۔

“تیرے ابو کو وہ شہر والی رمشا کا بتا دوں گا میں… “

یک دم اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔

“بکواس بند رکھ….. اور اگر خود سے بھی یہ بات کی نہ تو پھر دیکھنا… “

وہ اپنے عقب میں دروازے کو دیکھتا ہوا رازداری سے بولا۔

“اب آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے…. “

فہد کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

“ویسے تجھے تو پہاڑ چلو مان سکتے ہیں… لیکن مجھے اونٹ سے بڑی خراب مشابہت دی ہے تو نے… “

وہ منہ بناتا ہوا بولا۔

“یار تو ہمیشہ مجھے تنگ کرنے ہی آتا ہے؟کبھی بندہ حال بھی پوچھ لیتا ہے…..”

وہ تنک کر بولا۔

“حال تو بندی پوچھتی ہے ہمارے پوچھنے کی کون سا اہمیت ہے… “

وہ سینے پر ہاتھ رکھتا دہائی دیتا ہوا بولا۔

“فٹے منہ تیرے…. “

فہد نے کشن اٹھا کر مارا جو ابتسام نے مہارت سے کیچ کر لیا۔

“ہر بار نہیں… “

وہ دانت نکالتا ہوا بولا۔

“فہد….”

آواز پر دونوں نے دروازے کی سمت دیکھا۔

“اوہ… یہ ڈائن میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی…. بچا لے یار میرا دماغ ویسے جگہ پر نہیں ہے۔”

وہ منت کر رہا تھا۔

“تو ٹینشن ہی نہ لے…. آخر یہ دوست کس مرض کی دوا ہے؟ اندر آنے دے اسے پھر دیکھنا… “

وہ بائیں آنکھ کا کونا دباتا ہوا بولا۔

فہد مطمئن سا ہو کر اثبات میں سر ہلانے لگا۔

~~~~~~~~

“عمر آپ ٹھیک تو ہیں نہ؟”

وہ گھبراہٹ کا شکار تھی۔

“ہاں… میں تو بلکل ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا ہے؟”

وہ سیدھا ہوا کر بیٹھ گیا۔

“ابو جب سے آےُ ہیں… آ… آپ کو… “

اس سے آگے عائشہ سے بولا نہ گیا۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی سسکیاں دبانے لگی۔

“ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ؟ تمہاری باتیں مجھے پریشان کر رہی ہیں؟”

وہ متفکر سا بولا۔

“وہ… وہ کہتے ہیں وہ آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے…. “

کہتے ہوےُ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“میں مر جاؤں گی اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو… مہ… مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے عمر… “

وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔

“پلیز تم رونا تو بند کرو…. مجھے تکلیف ہو رہی ہے عائشہ تم جانتی ہو میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا…. اور تم پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوگا مجھے… “

اس نے تسلی دینا چاہی۔

“عائشہ میری بات سن رہی ہو نہ؟ مجھے کچھ نہیں ہوگا اور دوبارہ تم رؤ گی نہیں ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا تم سے۔”

اس نے آخری حربہ استعمال کیا۔

وہ جو کچھ دیر سے خاموش تھی فوراً بول اٹھی۔

“ٹھیک ہے نہیں روتی میں… لیکن مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے کہیں وہ سچ میں… “

وہ بولتی ہوئی چپ ہو گئی۔

“کچھ نہیں ہوگا تم پریشان مت ہو…. حفاظت کرنے والی ذات الله کی ہے تم بس اس پر بھروسہ رکھو…. جب تک وہ نہیں چاہتا کوئی میرا کچھ نہیں کر سکتا۔”

وہ بھرپور طمانیت سے بولا۔

“اس پر تو یقین ہے لیکن…. “

“لیکن ویکن کچھ نہیں…. خبردار اگر تم نے خود کو دوبارہ پریشان کیا تو۔”

وہ تحکم سے بولا۔

“اچھا ٹھیک ہے…. “

وہ نا چاہتے ہوےُ بھی مان گئی۔

“پانچ منٹ بعد میرا لیکچر شروع ہو جاےُ گا…. “

وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔

“اچھا جی مطلب صرف پانچ منٹ ہیں… بہت زیادہ نہیں؟”

وہ شرارت سے بولا۔

عائشہ بے اختیار ہنس دی۔

“جی بہت زیادہ ہیں… آپ پہلے فون بند کر دینا۔”

لب دھیرے سے مسکرا رہے تھے۔

“کیوں بھئی میری مرضی جب کرنا ہوگا تبھی کروں گا میں….”

وہ تکیے سے ٹیک لگاتا ہوا بولا۔

“اچھا جی ٹھیک ہے…. “

اس نے سہولت سے ہتھیار ڈال دئیے۔

وہ جانتی تھی پانچ منٹ بعد وہ خود ہی فون بند کر دے گا۔

~~~~~~~~

“فہد تم کیا اندر چھپ کر بیٹھے ہو؟”

سامیہ اندر آتی خفا انداز میں بولی۔

“اور تمہارے ساتھ چپک کر بیٹھوں؟”

وہ جل کر بولا۔

ابتسام کے لیے قہقہ روکنا نا ممکن تھا۔

سامیہ گڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی۔

“میرا مطلب سب نیچے ہیں اور تم یہاں اپنے کمرے میں… “

وہ سنبھل کر بولی۔

“تمہارے ساتھ بھیج دیتے ہیں کیا خیال ہے؟”

ابتسام کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

فہد کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔

سامیہ مسکرا کر ابتسام کو دیکھنے لگی۔

“بڑی پھوپھو کو لینے جانا ہے تم اس کے ساتھ چلی جاؤ باتیں بھی کر لینا راستے میں… “

وہ فہد کو آنکھ مارتا ہوا بولا۔

فہد مٹھیاں بھینچ کر اسے گھورنے لگا۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا ابتسام کو کھڑے کھڑے گولی مار دے۔

“ہاں بہت اچھا آئیڈیا دیا ہے تم نے… فہد چلو چلتے ہیں؟”

وہ خوشی سے کھل اٹھی۔

ابتسام منہ پر ہاتھ رکھے مسکراہٹ دبانے کی ممکن سعی کر رہا تھا۔اور فہد کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔

“ہاں فہد جاؤ… نیچے تمہاری امی کو بھی یہی کہہ کر آیا ہوں میں….. “

وہ جلانے والی مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہا تھا۔

“تجھے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا اور تم…. چلو اب… “

وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا ہوا بولا۔

جاتے جاتے ابتسام پر قہر آلود نگاہ ڈالنا وہ بھولا نہیں تھا۔

“بیسٹ آف لک…. “

وہ باہر کو ہوتا اونچی آواز میں بولا۔

فہد دانت پیستا ہوا زینے اترنے لگا۔

ابتسام قہقہ لگاتا اس کے بیڈ پر گر گیا۔

“وہ دوست ہی کیا جو اینجواےُ نہ کرواےُ….جا بیٹا جی لے اپنی زندگی…. “

وہ فہد کی تصویر کو دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔

“آئم شیور وہ واپس آ کر سب سے پہلے میرا قتل عام کرے گا…. اس لئے مجھے یہاں سے غائب ہونا پڑے گا… “

وہ ہنستا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا۔

~~~~~~~~~

“کیسے ہیں آپ؟”

اسپیکر پر زنانہ آواز ابھری۔

“میں ٹھیک ہوں جمیلہ… “

خشک سا جواب آیا۔

“بھائی صاحب مجھے آپ کو عمر کے متعلق بہت اہم بات بتانی تھی… اس دن بھی پوری بات نہ ہو سکی تھی اسی لیے دوبارہ فون کیا تاکہ آپ کو سب بتا سکوں اس لڑکے کے متعلق… آپ تو کچھ بھی نہیں جانتے ان لوگوں کے بارے میں اپنی بیٹی دے کر غلطی مت کر بیٹھیے گا…. “

ووہ خاصی رازداری سے بول رہی تھی۔