Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 7
Rate this Novel
Ana Parast Episode 7
Ana Parast by Hamna Tanveer
“اگر زندہ رہنا چاہتی ہے تو اسے کہو جس سے میں کہتا ہوں چپ چاپ شادی کرے اس سے…. “
وہ خونخوار نظروں سے گھور رہے تھے۔
“اچھا ٹھیک ہے…. “
صبیحہ بیگم نے صورتحال پر قابو پانا چاہا۔
“ابو خدا کے واسطے یہ ظلم نہ کریں مجھ پر… میں نہیں کر سکتی جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔”
وہ اشک بہاتی بولتی رہی تھی۔
عائشہ کو لگا تھا شاید اس کے آنسو باپ کا دل نرم کر دیں لیکن وہ غلط تھی اس کا احساس اسے اگلے ہی پل میں ہو گیا۔
فدا حسین نے صبیحہ بیگم کو پرے کیا اور ایک زوردار تھپڑ عائشہ کے گال کی زینت بنا دیا۔
بھاری مردانہ ہاتھ وہ معصوم کہاں برداشت کر سکتی تھی۔
جتنی قوت سے تھپڑ مارا عائشہ زمین پر جا گری۔
ہونٹ پھٹ چکا تھا جس سے خون بہہ کر تھوڑی تک آنے لگا۔
“تم یہ زبان نہیں سمجھو گی…. برقع لاؤ اس کا آج اسے میں پھینک کر ہی دم لوں گا۔”
وہ جو خود کو سنبھالتی اٹھی ہی تھی کہ دوسرے تھپڑ سے دوبارہ زمین بوس ہو گئی۔
“مت کریں… خدا کا واسطہ ہے آپ کو….”
صبیحہ بیگم عائشہ کے سامنے ڈھال بنتی ہاتھ جوڑنے لگی۔
“باپ کے آگے زبان چلاتی ہے…. ذرا جو شرم آتی ہو اسے اور تم ہٹ جاؤ بیچ سے۔”
وہ قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“آپ جیسا کہیں گے وہ کرے گی… جس سے کہیں گے نہ اسی سے شادی کرے گی میں گارنٹی دیتی ہوں آپ کو…. “
وہ بے بسی سے گویا ہوئیں۔
“دیکھتے ہیں… “
دونوں پر ایک نگاہ ڈال کر وہ باہر نکل گئے۔
عائشہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
یہ کیسی آزمائش تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔
“امی خدا گواہ ہے میرا بس نہیں چلتا میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں عمر کو نکال دوں اپنے دل سے… میں مجبور ہوں بہت مجبور ہوں…. نہیں ہوتا مجھ سے۔”
وہ ہچکیاں لیتی صفائی پیش کر رہی تھی۔
صبیحہ بیگم نے ایک افسردہ نگاہ اس پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔
“اس سے اچھا تو ابو مجھے پھینک آئیں دریا میں… زندہ لاش بننے سے تو موت قبول ہے مجھے۔”
وہ اس بات سے انجان کہ صبیحہ بیگم جا چکی ہیں بولتی جا رہی تھی۔
“مار دیں مجھے لیکن عمر سے دور نہ کریں…. “
وہ فرش پر بیٹھی سسک رہی تھی لیکن یہاں کوئی بھی نہیں تھا اس کی سسکیاں سننے والا۔
~~~~~~~~
“آنٹی میں نہیں چھوڑ سکتا رانیہ کو….”
وہ بے چینی سے گویا ہوا۔
“بیٹا تمہیں کچھ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے… تم جانتے ہو ہم لوگوں کی کیا مجال تم لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی… “
نقاہت کے باعث وہ کھانسنے لگیں۔
“امی پانی…. “
رانیہ کی نظریں فہد پر تھیں۔
“میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ابو مان جائیں گے,,,ہاں ناراض ہوں گے لیکن یہ ناراضگی کچھ روز رہے گی آخر انہیں قبول کرنا ہی پڑے گا۔”
وہ پر اعتماد لہجے میں بول رہا تھا۔
“بیٹا تمہاری زندگی کا فیصلہ ہے تم خود ہی بتا دو… میں نہیں چاہتی کل کو تم مجھے ذمہ دار ٹھہراؤ کسی بھی شے کے لیے۔”
وہ رانیہ کو دیکھتی نرمی سے بولنے لگیں۔
رانیہ نے ایک نظر فہد پر ڈالی جس کے چہرے پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔
“آپ جانتے ہیں آپ کے گھر میں کوئی راضی نہیں ہوگا.. “
وہ بولتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا نہیں بس اتنا بتاؤ؟ تمہیں الگ رکھنا پڑا تو میں رکھ لوں گا… حویلی نہیں لے جاؤں گا۔”
وہ اسے اعتماد میں لینے کی ہر ممکن سعی کر رہا تھا۔
“ہاں میں رہنا چاہتی ہوں لیکن…. “
وہ پر سوچ انداز میں کہتی خاموش ہو گئی۔
“لیکن کیا؟”
وہ بے چینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔
“لیکن مجھے ڈر لگتا ہے… “
وہ کہتی ہوئی سر جھکا گئی۔
“تمہیں کہہ تو رہا ہوں کہ الگ گھر میں رکھ لوں گا۔ پھر کیا ٹینشن ہے؟”
وہ جھنجھلا کر بولا۔
“رانیہ لیکن ایک بات یاد رکھنا ایک بار تم اس گھر سے فہد کے ساتھ گئی تو واپسی کے دروازے بند ہو جائیں گے تمہارے لئے… کیونکہ اس قصبے میں کوئی تمہیں نہیں اپناےُ گا۔”
انہوں نے مداخلت کی۔
رانیہ چند پل خاموشی سے فہد کو دیکھتی رہی۔
وہ الجھی ہوئی تھی اور کوئی بھی فیصلہ لینے سے گھبرا رہی تھی۔
~~~~~~~~
“اختر کی بات کر رہے ہیں آپ؟”
وہ تعجب سے انہیں دیکھنے لگی۔
“ہاں میں سوچ رہا ہوں ابھی صرف نکاح کر دوں…. رخصتی پھر بعد میں کر دیں گے۔”
وہ کسی گہری سوچ میں دکھائی دے رہے تھے۔
“لیکن اختر تو شادی شدہ ہے…. پانچ سال ہو گئے ہیں آپ کو معلوم تو ہے سب۔”
وہ ہق دق سی انہیں دیکھ رہی تھیں۔
“تم میری ماں مت بنو…. اچھے سے جانتا ہوں میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔”
وہ ہنکار بھرتے انہیں دیکھنے لگے۔
صبیحہ بیگم نا چاہتے ہوےُ بھی خاموش ہو گئیں۔
عائشہ کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
وہ پتھر کی مورت بنے قدم اٹھانے لگی۔
“اگلے ہفتے کا دن سوچ رہا ہوں… جانے سے پہلے یہ کام کر کے جاؤں۔”
وہ کچھ توقف کے بعد بولے۔
“جی اچھا…. “
وہ آہستہ سے گویا ہوئیں۔
“اپنی بیٹی کو بھی سمجھا دینا… چپ چاپ یہ نکاح کر لے ورنہ مجھے سمجھانے میں زیادہ دقت پیش نہیں آےُ گی۔”
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
“ابو میرے ساتھ یہ کی… کیا کر رہے ہیں؟”
اس کے لئے بولنا دو بھر ہو چکا تھا۔
“میں یہ نکاح نہیں کروں گی…. “
وہ ہاتھ کی پشت کی رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔
لیکن اگلے ہی لمحے اشک اس کے رخسار پر بہتے پھر سے نم کر گئے انہیں۔
“مہ…. میں عمر کے علاوہ کسی کا سوچ بھی نہیں سکتی…. اور اب اس اختر کو لے آےُ ہیں وہ۔”
وہ سر پر ہاتھ رکھے بول رہی تھی۔
دماغ کی نسیں درد سے پھٹنے کو تھیں۔
“مہ… میں کیا کروں؟”
وہ خود کلامی کر رہی تھی۔
“میں اس اختر سے نکاح نہیں کر سکتی…. ابو آپ کیوں یہ سب کر رہے ہیں؟آپ ایک باپ ہو کر اپنی ہی بیٹی کی خوشیوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں…. کیسے اتنے ظالم ہو سکتے ہیں آپ؟”
بے بسی ہی بے بسی تھی۔
وہ خاموش ہوتی اس مشکل سے نکلنے کا حل سوچنے لگی۔
ایک آنسو ہی تھے جو ہر لمحہ اس کا ساتھ نبھا رہے تھے اس کڑے وقت میں۔
~~~~~~~~
“رانیہ میں تمہیں یقین دلا تو رہا ہوں…. کچھ بھی ہو جاےُ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔”
وہ پھر سے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“اور اگر آپ کے گھر والوں نے آپ کو مجبور کیا ایسا کرنے پر پھر؟”
رانیہ کی آنکھوں میں بے یقینی کے ساتھ ساتھ ہزاروں سوالات تھے۔
“زیادہ سے زیادہ کیا کر لیں گے؟ تمہیں حویلی میں رہنے کی اجازت نہیں دیں گے, تو ہم کہیں اور رہ لیں گے۔”
وہ اسے قائل کرنے کی جستجو میں لگا تھا۔
رانیہ کا دل ابھی بھی مطمئن نہ تھا۔
“پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا ہے جیسا ہم سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہوگا… “
وہ اپنے خدشات ظاہر کرنے لگی۔
“تم اتنا کیوں سوچ رہی ہو؟ اور اچھا سوچو…انسان جیسا گمان رکھتا ہے اس کے ساتھ ہوتا بھی ویسا ہی ہے۔”
وہ خفا انداز میں بولا۔
“کوئی بھی نہیں مانے گا…. “
وہ نفی میں سر ہلاتی افسردگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“یہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو….مجھے بس تمہاری ہاں چائیے۔”
وہ بغور اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
رانیہ لب کاٹتی اسے دیکھنے لگی۔
دونوں کے بیچ فاصلہ ہنوز برقرار تھا۔
“ٹھیک ہے…. آپ کے کہنے پر میں یہ رسک لے رہی ہوں۔”
وہ اثبات میں سر ہلا رہی تھی۔
“ہاں اور میں ہی ذمہ داری لیتا ہوں ہر بات کی۔”
وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا طمانیت سے بولا۔
“کل تم تیار رہنا…. میں تمہیں اور آنٹی کو لینے آؤں گا۔”
وہ نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتا الٹے قدم اٹھانے لگا۔
رانیہ نے سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا۔
وہ ہاں تو کر بیٹھی تھی لیکن دل میں ابھی بھی ہزاروں وسوسے جنم لے رہے تھے۔
جن کو ختم کرنے کے لیے اس کے پاس مناسب دلیل موجود نہ تھی۔
“پتہ نہیں کیا ہوگا اس سب کے بعد…. “
فہد وہاں سے جا چکا تھا۔
“بیگم صاحبہ تو شاید مجھے قتل ہی کر دیں…”
وہ متفکر سی کہتی ٹہلنے لگی۔
“اور ان کے ابو…. وہ… پتہ نہیں کیا کریں گے۔”
وہ سر دونوں ہاتھوں سے تھامتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“رانیہ تم نے ہاں تو کہہ دیا ہے لیکن اس کے نتائج ممکن حد تک بہت خوفناک ہوں گے۔”
وہ خود کو کوسنے لگی تھی۔
“میں بھی کیا کرتی مجبور ہو گئی ان کے آگے… “
وہ بے بسی سے اپنی صفائی دینے لگی۔
~~~~~~~~
“عائشہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا؟”
صبیحہ بیگم اس کے ہاتھ میں پکڑی بوتل کو ہاتھ مارتی ہوئی بولیں۔
تیزاب کی وہ بوتل زمین پر جا گری۔
“امی کیوں کیا آپ نے یہ؟”
وہ شکوہ کناں نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
صبیحہ بیگم نے ایک تھپڑ اس کے رخسار کی زینت بنا دیا۔
ابھی وہ سنبھلی نہ تھی کہ ایک اور تھپڑ اس کے گال پر آ لگا۔
اس کے بعد نجانے کتنے تھپڑ انہوں نے مارے عائشہ نے حساب نہ رکھا۔
جب مار کر وہ خود تھک گئیں تو رک کر اسے دیکھنے لگیں۔
“دوبارہ اگر ایسی کوئی حرکت کرنے کا تم نے سوچا تو اس سے برا حال کروں گی تمہارا…. “
وہ طیش کے عالم میں کہتیں وہاں سے چلی گئیں۔
عائشہ لمبے لمبے سانس لیتی بے حال سی دروازے کو دیکھنے۔
آنکھوں سے اشک جاری تھی۔
بال بکھر کر چہرے پر آ رہے تھے۔
چہرے پر ان کے ہاتھ کے نشاں ثبت ہو گئے تھے۔
وہ ہچکیاں لیتی زمین پر گری بوتل کو گھور رہی تھی۔
جسم سے درد اٹھ رہا تھا۔
آنکھیں جل رہی تھیں۔
وہ تکلیف کی انتہا پر تھی۔
کچھ سمجھ نہ آیا تو سوں سوں کرتے ہوئے اس نے سر گھٹنوں پر رکھ دیا۔
یہ کمرہ اس کی ہر اذیت ہر کرب کا گواہ تھا۔ آج بھی اس کی سسکیاں سننے والا صرف یہ کمرہ ہی تھا۔
جسم کا ایک ایک عضو تکلیف سے کراہ رہا تھا۔
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے، سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے ، جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
وہ گاؤں کا اک ضعیف دہقاں، سڑک کے بننے پہ کیوں خفا تھا
جب ان کے بچے جو شہر جاکر کبھی نہ لوٹے تو لوگ سمجھے
~~~~~~~~
“کیا سوچ رہی ہو؟”
وہ کافی دیر سے رانیہ کو ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے دیکھتے ہوئے بولیں۔
“سوچ رہی ہوں کیا ہوگا آگے…. “
وہ ایک سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“فہد نے کیا کہا ہے؟”
وہ متجسس تھیں۔
“کل نکاح کے لیے لینے آےُ گا…. “
کہتے ہوئے وہ سر جھکا گئی۔
“ٹھیک ہے پھر کیوں گھبرا رہی ہو؟”
وہ جانتے ہوئے بھی انجان بنیں۔
“آپ اچھے سے جانتی ہیں… “
انداز جتانے والا تھا۔
“ہاں جانتی ہوں…. لیکن خواہش بھی تو تمہاری ہے۔”
وہ زور دے کر بولیں۔
“دل کے ہاتھوں مجبور ہوں… تبھی یہ انتہائی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہوئی ہوں۔”
وہ سامنے دیوار کو دیکھنے لگی۔
دونوں کے بیچ چند پل کی خاموشی حائل ہو گئی۔
“اگر فیصلہ لے ہی چکی ہو تو الله پر چھوڑ دو….وہ بہتر کرے گا۔”
وہ کچھ توقف کے بعد بولیں۔
“میں نماز پڑھ لوں…. دیر ہو رہی ہے۔”
وہ اس موضوع سے بھاگ رہی تھی۔
“ہاں پڑھ لو…. “
وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی سر ہلانے لگیں۔
رانیہ انہیں دیکھے بنا وہاں سے اٹھ کر باہر نکل آئی۔
~~~~~~~~
“واپس جاؤ اپنے کمرے میں… “
صبیحہ بیگم کی گرج دار آواز گونجی۔
عائشہ نقاب اتارتی آنکھوں میں حیرانی لئے انہیں دیکھنے لگی۔
“تم یونیورسٹی نہیں جاؤ گی… “
وہ سخت لہجے میں گویا ہوئیں۔
“کیوں امی؟ میں سمجھی نہیں…. “
وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھ رہے تھی۔
“اب سے تمہاری یونیورسٹی بند…. پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا۔”
انہوں نے بے رخی سے کہتے ہوئے منہ موڑ لیا۔
“لیکن کیوں؟”
وہ ششدر رہ گئی۔
“بس کہہ دیا نہیں جاؤ گی تو مطلب نہیں جاؤ گی۔”
وہ اسے دیکھتی قطعیت سے بولیں۔
“ٹھیک ہے… “
وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔
آنکھوں میں امڈ آنے والی نمی کو اس نے پیچھے دھکیلا۔
“میں مر جاؤں گی لیکن کسی اور سے شادی نہیں کروں گی…. “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئی بولی۔
اس سے قبل کہ صبیحہ بیگم مزید کچھ کہتی وہ واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
صبیحہ بیگم نفی میں سر ہلاتی باورچی خانے چل دیں۔
“اب میں کیا کروں؟”
وہ برقع بیڈ پر رکھتی ہوئی بڑبڑائی۔
“عمر تو یہاں ہیں بھی نہیں…. امی یونیورسٹی جانے نہیں دے رہیں میں کیسے عمر کو بتاؤں؟”
وہ انگلی دانتوں تلے دباےُ سوچ رہی تھی۔
“مجھے عمر کو بتانا ہوگا…. سب بتانا ہوگا…”
وہ بے چینی سے کہتی ٹہلنے لگی۔
“اگر میری بات نہ ہوئی عمر سے…. اور ابو نے زبردستی میرا نکاح کروا دیا پھر؟”
وہ حونق زدہ سی سوچنے لگی۔
“نہ… نہیں ایسا نہیں ہوگا… عمر ضرور کچھ نہ کچھ کریں گے۔”
وہ بولتی ہوئی نفی میں سر ہلانے لگی۔
“لیکن میں انہیں بتاؤں کیسے؟”
وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی۔
سر کا درد دماغ سے ہوتا ہوا کنپٹی تک آ گیا تھا۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“کچھ سمجھ نہیں آ رہا…”
اس نے کہتے ہوئے سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
“مجھے کوئی راستہ نکالنا ہوگا…جتنی جلدی ہو سکے۔”
وہ مدھم آواز میں خود سے مخاطب تھی۔
جسم سے اٹھنے والے درد نے اسے لیٹنے پر مجبور کر دیا۔
آنکھوں پر بازو رکھے وہ عمر کے متعلق سوچنے لگی۔
~~~~~~~~
“امی؟”
رانیہ رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
“الله تم دونوں کو خوش رکھے…. “
وہ فہد اور رانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔
“میں اب چلتی ہوں حویلی میں بہت سا کام ہے…. تم دونوں آپس میں مشورہ کر لو کیسے کرنا ہے سب…. “
وہ دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔
“آنٹی میں چھوڑ دوں گا آپ کو…. “
فہد اپنی نشست سے کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
“ارے نہیں نہیں…. تم کیوں تکلیف کرو گے قریب تو ہے پھر مجھے راستے میں کچھ کام بھی ہے۔”
وہ بہانہ بناتی چلنے لگیں۔
“مبارک ہو بھائی…. “
ابتسام اس کے گلے لگتا ہوا بولا۔
“تجھے آرام سے شکریہ کہوں گا۔”
وہ اس سے الگ ہوتا ہوا بولا۔
“ہاں ہاں کوئی مسئلہ نہیں…. مولوی صاحب چلیں؟”
ابتسام نظروں کا زاویہ موڑتا انہیں دیکھنے لگا۔
“ہاں بیٹا… “
وہ اثبات میں سر ہلاتے دوسرے گواہ کے ہمراہ دروازے کی سمت بڑھ گئے۔
“اگر کوئی کام ہو تو فون کر دینا بس…. بندہ حاضر ہو جاےُ گا۔”
وہ اس کے کان میں سر گوشی کرنے لگا۔
“جانتا ہوں… “
فہد اثبات میں سر ہلاتا مسکرانے لگا۔
“اوکے ملتے ہیں پھر…. “
وہ ہاتھ ہلاتا آگے بڑھ گیا۔
“ایسی شکل کیوں بنا رکھی ہے؟”
وہ اس کی جانب چہرہ موڑتا ہوا بولا۔
“ڈر لگ رہا ہے…. پتہ نہیں آپ کے گھر والے کیا کریں گے یہ جاننے کے بعد۔”
وہ ہاتھ مسل رہی تھی۔
“جلاد نہیں ہیں وہ جو جان سے مار دیں گے…. “
وہ ہنستا ہوا بیٹھ گیا۔
رانیہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔
“تم اتنا مت سوچو…. “
وہ اس کا حونق زدہ چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔
رانیہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
