Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 11
Rate this Novel
Ana Parast Episode 11
Ana Parast by Hamna Tanveer
“اندر دیکھتی ہوں دوبارہ…. “
وہ کہتی ہوئی صحن عبور کرتی ہال کی جانب بڑھ گئی۔
ابھی وہ کمرے کے پاس ہی پہنچی تھی کہ عقب سے کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
عائشہ اچھل کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو گئی۔
وہ منہ کھولے عمر کو دیکھ رہی تھی جو مسکرا رہا تھا۔
“کہاں تھے آپ؟”
وہ ششدر سی بولی۔
“اسی گھر میں تھا… “
وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
“اور فون کیوں بند تھا؟ آپ کو پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں… “
وہ برہم ہوئی۔
“میں تو تنگ کر رہا تھا تمہیں… “
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“ایسے تنگ کرتے ہیں جان نکل…. “
“خبر دار اگر منہ سے ایسا کوئی لفظ نکالا تو…. “
اس کی بات پوری ہونے سے قبل عمر اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“ایسے کون کرتا ہے…. “
وہ منہ بنا کر کہتی کمرے میں آ گئی۔
“تمہارا عمر… “
وہ شریر لہجے میں گویا ہوا۔
عائشہ کے لب دھیرے سے مسکراےُ لیکن بر وقت اس نے مسکراہٹ دبا لی۔
“یہاں میری چاکلیٹ اور چپس تھی… “
وہ دراز میں ہاتھ مار رہی تھی۔
“اچھا وہ…. “
عمر صوفے پر ڈھے چکا تھا۔
“جی… “
وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“وہ تو میں نے کھا لی…. “
عمر سر کھجاتا ہوا بولا۔
عائشہ کا منہ کھل گیا۔
“عمر…. “
وہ گھورتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
“جی عمر کی جان…. “
وہ جانتا تھا ایسے مخاطب کرنے پر اس کا سارا غصہ ہوا ہو جاےُ گا۔
“بہت چالاک ہیں آپ… “
وہ اس کی بازو پر مکا رسید کرتی ہوئی بولی۔
“میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا…. “
وہ معصوم سی شکل بناےُ اسے دیکھ رہا تھا۔
“اچھا اب جائیں میرے لئے لے کر آئیں کچھ کھانے کو… بھوک لگی ہے مجھے۔”
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“بندہ حاضر ہے… “
وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“جائیں نہ اب… “
عائشہ کے لب مسکرا رہے تھے۔
“میں طلحہ کو بھیجتا ہوں… “
وہ سلیپر پہنتا ہوا بولا۔
وہ خاموش مسکراتی نگاہوں سے اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔
“صحیح کہتے ہیں دکھ کے بعد ہی سکھ آتا ہے…. “
وہ مسرور سی گویا ہوئی۔
~~~~~~~~
“بھائی صاحب میری بات مانیں تو عائشہ کو واپس لے آئیں…. کیسے وہ لڑکا آپ کی اجازت کے بغیر اسے لے جا سکتا ہے۔”
وہ آج پھر سے ان کے کان بھر رہی تھیں۔
“کورٹ کا آڈر ہے…. کیسے لے آؤں اسے وہاں سے۔”
وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔
“تو کیا آپ ایسے ہی ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟ وہ عمر آپ کی عزت کے ساتھ کھیل کر چلا گیا اور آپ اسے ایسے ہی جانے دیں گے…. کمال ہے۔”
وہ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی۔
فدا حسین نے ایک تنقیدی نگاہ زکیہ پر ڈالی۔
“ایسے مت دیکھیں….بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں میں۔ میری تو آج بھی خواہش ہے کہ عائشہ میری بہو بنے۔ آپ اسے واپس لے آئیں تاکہ وہ اسی بستی میں اپنی برادری میں رہے۔”
وہ بغور ان کا چہرہ دیکھ رہی تھیں۔
کچھ سوچ کر فدا حسین نے عمر کا نمبر ملایا۔
“ہیلو؟”
عمر کی آواز اسپیکر پر ابھری۔
بس اس کے فون اٹھانے کی دیر تھی کہ فدا حسین اسی غلیظ زبان پر اتر آےُ جس میں وہ عمر سے بات کرتے تھے۔
عمر نے فون کان سے دور کیا۔
ایک سرد آہ بھر کر اس نے فون جیب میں ڈال دیا۔
“مجھے لگا شاید آج آپ کچھ بات کریں گے۔”
وہ تاسف سے کہتا چلنے لگا۔
“اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دوں گا میں عمر کو…. آخر سمجھتا کیا ہے یہ خود کو… “
وہ دانت پیستے ہوےُ بولے۔
تیر نشانے پر لگنے پر زکیہ مسکرانے لگی۔
“اچھا میں چلتی ہوں…. اختر انتظار کر رہا ہوگا میرا۔”
وہ شاطرانہ مسکراہٹ لئے کھڑی ہو گئیں۔
فدا حسین فون کو گھورتے اثبات میں سر ہلانے لگے۔
~~~~~~~~
“آج اِدھر کا راستہ کیسے بھول گئے؟”
یاسر بلوچ اسے دیکھتے قہقہ لگانے لگے۔
فہد کے چہرے پر ناگواری در آئی۔
“بات کرنے آیا ہوں آپ سے… “
وہ بے رخی سے کہتا بیٹھ گیا۔
“ہاں تو کرو…. ہم نے کب منع کیا تمہیں؟”
وہ اپنی جیت پر سرشار تھے۔
“ابو ضد چھوڑ دیں نہ…. میں رانیہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔”
وہ بے بسی سے گویا ہوا۔
“ہاں تو پھر یہ حویلی چھوڑ دو… اب کسی ایک چیز کا فیصلہ تو تمہیں لینا ہی پڑے گا وہ نیچ لڑکی یا یہ عیش و عشرت….”
وہ چشمہ لگاتے اخبار دیکھنے لگے۔
فہد لب بھینچ کر انہیں دیکھنے لگا۔
“آپ کیسے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال سکتے ہیں؟”
اب کی بار اس نے طریقہ بدلا۔
“تو تم کیسے اس کم ذات کو اس گھر کی بہو بنا سکتے ہو؟”
وہ اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بولے۔
“آپ بھول نہیں سکتے کہ اس کی ماں ہمارے گھر کام کرتی ہے… “
وہ تنگ آ کر بولا۔
“تم بھی یہ بھول جاؤ کہ وہ تمہاری بیوی ہے… “
وہ بھرپور طمانیت سے بولے۔
فہد آہ بھر کر رہ گیا۔
صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر اس نے پانی کا گلاس اٹھا لیا۔
یاسر بلوچ مسکرا رہے تھے۔
“پاگل کر دیا ہے آپ لوگوں نے مجھے… “
اسے اب غصہ آنے لگا تھا۔
“حل تمہارے سامنے ہے… اتنا حیل و حجت سے کام کیوں لے رہے ہو؟ فیصلہ کرو اور ایک طرف ہو جاؤ۔”
وہ اس کی باتوں کا اثر لئے بنا بولے۔
“آپ کو کیوں سمجھ نہیں آتا…. میں نے اسے یقین دہانی کروائی تھی اب کیسے میں اسے چھوڑ دوں؟”
وہ چلا کر کہتا کھڑا ہو گیا۔
“اس لہجے میں بات کرنی ہے تو دفع ہو جاؤ وہیں جہاں سے آےُ ہو… “
وہ اس کے انداز پر آگ بگولہ ہو گئے۔
“مجھے جھوٹا بنانا چاہتے ہیں آپ؟ دھوکہ باز ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں میں اپنی ہی نظروں میں گر جاؤں؟”
وہ جذباتی ہو گیا۔
“مجھ پر یہ سب اثر نہیں کرے گا…. اور دوسری بات اپنے باپ سے پوچھ کر نہیں کیے تھے تم نے یہ عہد و پیماں… تو اب بھگتو خود ہی۔”
وہ اخبار میز پر اچھالتے ہونے غراےُ۔
فہد مٹھیاں بھینچ کر ضبط کرنے لگا۔
“دوبارہ اس حویلی کا رخ تبھی کرنا جب اس لڑکی کو طلاق دے دو…. “
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھتے چل دئیے۔
فہد میز کو پاؤں مارتا چلنے لگا۔
“پاگل ہو جاؤں گا میں ایسے…. “
وہ گاؤں کی کچی سڑکوں پر چل رہا تھا۔
“آہ… میں نے پہلے یہ کیوں نہیں سوچا کہ ابو مجھے عاق کر دیں گے۔”
پچھتاوے آن گھر رہے تھے۔
“لعنت ہو فہد تم پر… “
وہ خود کو لعنت ملامت کرتا ابتسام کا نمبر ملانے لگا۔
~~~~~~~~
“میں امی کے پاس جا رہی ہوں… “
وہ الماری میں چیزیں رکھ رہی تھی۔
“اچھا… “
عمر نے کہتے ہوےُ بیڈ سے اترا اور عائشہ کی سلیپر چھپا دی۔
“میرے سلیپر…. “
وہ الماری بند کر کے مڑی تو حیرت سے بولی۔
“مجھے کیا پتہ…. “
وہ شانے اچکاتا فون پر انگلیاں چلانے لگا۔
“آپ نے چھپائی ہے نہ؟”
وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں نے کیا کرنا تمہاری سلیپر کا…. “
وہ آبرو اچکا کر بولا۔
“کہاں رکھی ہے بتائیں نہ…. مجھے امی کے پاس جانا ہے۔”
وہ آس پاس نگاہ ڈالتی ہوئی بولی۔
“ہاں تو جاؤ… میں نے کب منع کیا۔”
وہ مسکراہٹ دباتا ہوا بولا۔
عائشہ اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔
عمر مسلسل مسکرا رہا تھا۔
“دیکھو تمہارے سلیپر نہیں چاہتے کہ تم ابھی جاؤ اس کمرے سے…. “
وہ شریر لہجے میں گویا ہوا۔
“یہ آپ کا ہی کام ہے… اب بتا دیں مجھے۔”
وہ منہ بناتی ہوئی اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
“چپ کر کے میرے پاس بیٹھی رہو…. امی کام کر رہی ہوں گیں تم نے کیا کرنا ان کے پاس جا کر…. “
وہ نروٹھے پن سے بولا۔
عائشہ کے لب دھیرے سے مسکراےُ۔
“اچھا تو نہیں لگتا اب سارا دن میں کمرے سے باہر نہ جاؤں… “
وہ بیڈ پر انگلی چلا رہی تھی۔
“بہت اچھا لگتا ہے کہ تم سارا دن میرے پاس رہو…. “
وہ فون سائیڈ پر رکھ چکا تھا۔
“اگر آپ نے نہیں بتایا تو میں امی سے شکایت کروں گی آپ کی۔”
اس نے آخری حربہ استعمال کیا۔
“کہہ دو… میں نہیں ڈرتا امی سے۔”
وہ سر کے نیچے بازوؤں کا تکیہ بناتا ہوا بولا۔
عائشہ منہ بسورے اسے دیکھ رہی تھی۔
“بہت تنگ کرتے ہیں آپ مجھے…. “
وہ رخ پھیرتی ہوئی گویا ہوئی۔
“پیار بھی تو میں ہی کرتا ہوں… “
وہ مسکرا رہا تھا۔
“اب تو کافی ٹائم ہو گیا ہے اب تو جانے دیں…. “
وہ روہانسی ہو گئی۔
“اچھا اچھا… رکو۔”
وہ ہنستا ہوا بیڈ سے اترا اور اس کے سلیپر نکالنے لگا۔
“امی کو بتاؤں گی میں…. “
وہ ناک چڑھا کر کہتی کمرے سے نکل گئی۔
عقب میں اسے عمر کا قہقہ سنائی دیا۔
~~~~~~~~
“یار میں بہت پریشان ہوں… کچھ سمجھ نہیں آ رہا مجھے۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتا ہوا بولا۔
“پانی پئیں…. “
رانیہ اس کے سامنے گلاس لاتی ہوئی بولی۔
“مجھے لگ رہا ہے میں سوچ سوچ کر پاگل ہو جاؤں گا…. “
وہ بس رو دینے کو تھا۔
“یہاں جو قریب ہی سکول ہے نہ؟ آج میں وہاں گئی تھی… “
رانیہ نے مدھم آواز میں کہنا شروع کیا۔
“میرے منع کرنے کے باوجود…. “
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔
لیکن آج وہ غصہ نہیں ہوا تھا۔
“پیسے ختم ہو گئے ہیں….اب کچھ تو کرنا پڑے گا نہ… “
وہ بولتی ہوئی چہرہ جھکا گئی۔
“ہمممم…..”
فہد کے پاس الفاظ کا ذخیرہ کم پڑ رہا تھا۔
“آپ کو پتہ ہے مجھے جاب مل گئی ہے…”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی چہکی۔
“کتنی تنخواہ ہے؟”
فہد کا چہرہ کسی بھی تاثر سے عاری تھا۔
“آٹھ ہزار… ابھی میرے پاس تجربہ نہیں اس لئے اتنی ہے لیکن آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے وہ۔”
وہ افسردگی سے گویا ہوئی۔
رانیہ کے ہاتھ سے فہد کا ہاتھ نکل چکا تھا۔
اس نے نگاہیں جھکا کر اپنے خالی ہاتھ کو نہیں دیکھا وہ دم سادھے فہد کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
“آٹھ ہزار…. “
وہ بڑبڑاتا ہوا دوسری سمت دیکھنے لگا۔
“تم جانتی ہو اس سے زیادہ بجلی کا بل آ جاےُ گا… “
وہ الجھ کر بولا۔
“سکول سے آ کر میں کسی کے گھر کام کے لیے چلی جاؤں گی… کچھ نہ کچھ ہو ہی جاےُ گا۔”
وہ تڑپ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“گیا تھا میں انٹرویو کے لیے… چپڑاسی رکھنا چاہ رہے تھے۔ دس ہزار پر… “
وہ پیشانی مسلتا ہوا بولا۔
“تو پھر ہم اس میں گزارا کر لیں گے… ترقی ہو گی تو حالات بھی بہتر ہو جائیں گے… “
اس نے تسلی دینا چاہی۔
“تم نہیں سمجھ رہی…. میں نے آج تک کبھی حساب بھی نہیں لگایا کہ ایک مہینے میں کتنے خرچ کرتا ہوں۔ اور یہ پندرہ ہزار تو ہم ایک ایک دن میں اڑا دیا کرتے تھے۔”
وہ اسے دیکھتا زخمی سا مسکرایا۔
وہ خاموش ہو گئی۔
“آئم سوری… میری وجہ سے آپ کو سفر کرنا پڑ رہا ہے۔”
وہ نادم سی گویا ہوئی۔
“تمہاری وجہ سے نہیں…. اپنے باپ کی انا کی وجہ سے۔”
وہ تلخی سے کہتا کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
رانیہ نے مڑ کر اسے نہیں دیکھا۔
“جب لوگ کنارہ چاہ رہے ہوں تو شاید ہمیں سائیڈ پر ہو جانا چائیے۔”
وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“فہد میں تیار ہوں… “
وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتی ہوئی بولی۔
“ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی ہے…. اور یہی انجام تھا شاید ہماری محبت کا۔”
بولتے بولتے آواز بھرا گئی۔
پلکوں پر ٹھہرے موتی ٹوٹ نہ سکے۔
اسے ہمت سے کام لینا تھا اور اسی کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی۔
~~~~~~~~~
“اب تم نے عائشہ کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنا ہے…. “
وہ عائشہ کو اپنے ساتھ لگاتی ہوئی بولی۔
“آپ کا مطلب پہلے میں خیال نہیں رکھتا تھا؟”
عمر برا مان گیا۔
“میری بیٹی کو تنگ بھی نہیں کرنا تم نے…. “
وہ خفگی سے دیکھ رہی تھیں۔
“امی میں آپ کو ایسا لگتا ہوں؟”
وہ منہ کھولے انہیں دیکھنے لگا۔
عائشہ مسکراتی ہوئی عمر کو دیکھ رہی تھی۔
“اتنی بڑی خوشی دی ہے تم نے مجھے…. اب بہت خیال کرنا۔”
وہ عمر کے سر پر بوسہ دیتی ہوئی بولیں۔
“امی میں ہاتھ منہ دھو آؤں… “
عائشہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“ہاں جاؤ… اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو فوراً مجھے بتانا… “
وہ مسرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“میرا بھی خیال کر لیں تھوڑا سا…. “
عمر منہ بناتا ہوا بولا۔
“تمہارا بھی تو خیال رکھتی ہوں… “
وہ اس کے سر پر چت لگاتی ہوئی بولیں۔
“مجھے جلن ہو رہی ہے…. “
وہ شرارت سے بولا۔
“الله کرے خیر سے یہ بچہ اس دنیا میں آ جاےُ…. “
وہ کچھ پریشان سی نظر آنے لگیں۔
“آپ پریشان مت ہوں… اب کچھ برا نہیں ہوگا۔”
عمر ان کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
وہ اثبات میں سر ہلانے لگیں۔
عمر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گیا۔
“کیا کھاؤ گی؟”
عمر اس کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔
“ابھی تو کچھ نہیں… “
وہ تکیہ سیدھا کرتی ہوئی بولی۔
“مجھے سمجھ نہیں آ رہا کن لفظوں میں تمہارا شکریہ ادا کروں… “
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بول رہا تھا۔
“شکریہ کیوں؟”
وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی۔
“اس خوشی کے لئے…. “
عمر کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
عائشہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
“میں کچن میں دیکھ کر آتا ہوں…. “
وہ کہتا ہوا اٹھا اور باہر نکل گیا۔
“کچن میں کیا دیکھنا…. “
وہ مدھم آواز میں بڑبڑائی۔
وہ واپس آیا تو ہاتھ میں ٹرے تھی۔
“یہ کیا؟”
وہ اسے دیکھتی حیرت سے بولی۔
“امی نے کہا ہے تمہیں کھلانا ہے یہ…. “
وہ اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا۔
“اچھا لائیں دیں… “
وہ ہاتھ پھیلاتی ہوئی بولی۔
عمر کا سر نفی میں حرکت کرنے لگا۔
“کیا ہوا؟”
وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں خود کھلاؤں گا تمہیں… “
وہ نوالہ بنا کر اس کے سامنے کرتا ہوا بولا۔
عائشہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
“تم رو رہی ہو؟”
وہ ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگا۔
عائشہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
“خبر دار اگر روئی تم…. “
وہ خفا انداز میں کہتا نوالہ توڑنے لگا۔
ضبط کے باوجود ایک موتی اس کے رخسار پر آ گرا۔
“اب ان کی ہماری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے…. “
وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتا ہوا بولا۔
وہ مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“میں رکھ کر آتا ہوں یہ…. “
وہ ٹرے اٹھاتا ہوا بولا۔
عائشہ کو آج خود پر رشک آ رہا تھا۔
اس کا انتخاب غلط نہیں تھا اس بات کا احساس اس گھر میں اسے ہر روز ہوتا تھا۔
“ہر بار والدین درست نہیں ہوتے….. بہت بار وہ غلطی پر ہوتے ہیں بہت بار وہ اپنی اولاد کے ساتھ غلط کر جاتے ہیں۔”
عمر کمرے سے جا چکا تھا۔
“کاش امی آپ ہوتی یہاں…. یہ خوشخبری آپ کو سناتی میں…. آپ بھی کتنا خوش ہو جاتی نہ… “
وہ آنکھوں میں نمی لئے بول رہی تھیں۔
“امی بہت یاد آتی ہے آپکی….”
وہ دھیرے سے سسکی۔
“عمر کی امی بہت اچھی ہے…. وہ میرے ساتھ ایک ماں سے بڑھ کر دوستوں کی طرح ہیں۔ میں جتنی تعریف کروں کم ہے۔ مجھے لگا تھا شاید سب شروع شروع میں ہی اچھے ہیں….لیکن میرے سارے خدشے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔”
وہ ہاتھ سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔
اشک بار بار اس کے رخسار کو تر کر رہے تھے۔
“پلیز الله ابو کا غصہ ختم کر دیں…. سب ٹھیک ہو جاےُ۔”
وہ آنکھیں بند کئے دعا کرنے لگی۔
عمر اندر آتا الماری کھول کے کھڑا ہو گیا۔
“اچھا جی اب یہ بتاؤ کون سی شرٹ پہنوں میں؟”
وہ ہاتھ میں ہینگر پکڑے کھڑا تھا۔
“یہ دونوں نہیں…. “
وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
عمر نے ہاتھ میں پکڑی شرٹس پر نظر ڈالی پھر اندر سے دوسری نکال لیں۔
“یہ؟”
وہ آبرو اچکا کر بولا۔
“امممم…. یہ بھی نہیں… “
وہ نخرے کر رہی تھی کیونکہ وہ اس کے نخرے اٹھاتا تھا۔
“اچھا اور یہ؟”
وہ دوسری شرٹ نکالتا ہوا بولا۔
“یہ اچھی ہے…. “
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
“میں چینج کر کے آیا…. “
وہ اس کا چہرہ تھپتھپاتا ہوا بولا۔
