599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 18

Ana Parast by Hamna Tanveer

عائشہ کی آنکھ کھلی تو خود کو گاڑی میں پایا۔

آنکھوں میں تعجب سمٹ آیا۔

اس نے شیشے سے پار دیکھا تو پہاڑ نظر آنے لگے۔

اسے اپنی بینائی پر شبہ ہو رہا تھا۔

وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملنے لگی۔

“تو ابو مجھے شہر سے باہر لے آےُ ہیں… پولیس کی حدود کراس کر کے۔”

وہ ان بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ رہی تھی۔

“پتہ نہیں کہاں لے جائیں گے…. کیا کریں گے میرے ساتھ۔”

وہ ہونق زدہ سی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے فدا حسین کو دیکھ رہی تھی جن کے چہرے پر بلا کا اطمینان تھا۔

وہ شخص سب کا سکون غارت کر کے خود طمانیت سے بیٹھا تھا۔

~~~~~~~~~

وہ دروازہ کھول کر اندر آئیں تو آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

اویس دوائیوں کے زیر اثر سو رہا تھا۔

“کیا حال کر دیا ہے تمہارا…. “

نسیم اس کے پاس آتی مدھم آواز میں بولیں۔

“چہرہ دیکھو کیسے مرجھا گیا ہے…. “

وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولیں۔

اشک ٹوٹ کر بیڈ کی سفید چادر میں جذب ہو رہے تھے۔

ایک ٹانگ سفید رنگ کے پلاسٹر سے پوشیدہ تھی, بازو اور ہاتھ پر بھی سفید پٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔

ہونٹ پھٹا ہوا تھا, رخسار پر نیل کے نشان ابھی بھی واضح تھے۔

انہوں نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔

“پتہ نہیں کتنی تکلیف میں ہو گے تم…. “

وہ آہ بھرتی ہوئی بولیں۔

“خدا غارت کریں ان بے رحم لوگوں کو…. جنہیں ذرا ترس نہ آیا میرے معصوم بچے کا یہ حال کرتے ہوئے….”

اس وقت کمرے میں ان کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔

“کبھی سکھ نہیں ملے گا…. اور دیکھنا تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گے۔”

وہ شاید خود کو تسلی دے رہی تھیں۔

آنسو تسلسل کے ساتھ بہہ رہے تھے۔

دروازہ کھلنے کی آواز نے انہوں نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا۔

“کب سے سو رہا ہے اویس؟”

وہ علی کو اندر آتے دیکھ کر بولیں۔

“السلام علیکم آنٹی… “

وہ مسکرا کر سلام کرتا آگے آیا۔

“وعلیکم السلام! “

وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سکیں۔

“ڈاکٹر نے خود اسے دوائیوں کے ذریعے سلا رکھا ہے۔”

چہرے پر دکھ نمایاں تھا۔

“کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے؟”

وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔

“مسئلہ تو نہیں…مگر ہوش میں رہے گا تو پھر تکلیف ہوگی اویس کو… اسی لئے بے ہوش رکھا ہے تاکہ سکون میں رہے۔”

اس نے ایک افسردہ سی نگاہ اویس پر ڈالی جو آنکھیں بند کئے ہوئے تھا۔

“میرا بچہ…. “

وہ اویس کے بال سنوارتی ہوئی بولیں۔

“الله تمہاری ساری تکلیف دور کر دے۔ اور ان ظالموں سے ضرور بدلہ لے۔”

آنکھیں پھر سے جھلملانے لگیں۔

“آپ کے لئے کچھ لاؤں؟”

یکدم علی کو خیال آیا۔

“نہیں… نہیں میں تو بس اپنے اویس کو دیکھنے آئی تھی۔ جو حالات چل رہے ہیں تم تو واقف ہی ہو۔”

وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولیں۔

نگاہیں اویس پر تھیں۔

“مجھے لگا تھا بات ہو جاےُ گی اویس سے… مگر میں انتظار کر لیتی ہوں جب ہوش میں آےُ گا تب بات کر لوں گی۔”

وہ علی کو دیکھتی نظروں کا زاویہ موڑتی پھر سے اویس کو دیکھنے لگیں۔

“جیسے آپ کی مرضی… “

وہ کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔

نسیم خاموشی سے سانس لیتے اویس کو دیکھنے لگیں۔

اس کی حالت دیکھ کر دل بار بار بھر آتا۔

وہ انگلی سے آنکھ کا گوشہ صاف کرنے لگی۔

~~~~~~~~

“آج کریلے بنا لو…. “

وہ پر سوچ انداز میں بولیں۔

“فہد کو کریلے بہت پسند ہیں… “

وہ دور کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتی ہوئی بڑبڑائی۔

“ہیں…. کیا کہا تم نے؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھنے لگی۔

“اظہر کو پسند ہیں نہ…”

وہ ہڑ بڑا کر کہتی کھڑی ہو گئی۔

“ہاں ہاں میرے بیٹے کو بہت پسند ہیں….”

وہ مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلانے لگیں۔

“میں پیاز کاٹ لوں پھر….”

وہ ان سے نظریں ملاےُ بغیر وہاں سے چل دی۔

“پتہ نہیں میرا دماغ کہاں ہوتا ہے…. “

وہ خود کو کوستی باورچی خانے میں آ گئی۔

“شکر ہے بچ گئی… اگر سن لیتی تو پتہ نہیں کیا کیا باتیں سناتی۔”

وہ پیاز نکالتی ہوئی بولی۔

آنکھوں میں نمکین پانی تیرنے لگا۔

“پتہ نہیں کب میری جان چھوٹے گی ان سے…. کب ان کی یادیں مجھے آزاد کریں گے۔”

وہ ہارے ہوئے انداز میں کہتی بیٹھ گئی۔

“کب مجھے سکون ملے گا…. “

آنسو اس کے رخسار پر آ گرے۔

“شاید مرنے کے بعد مل جاےُ…. “

یونہی اس کی زبان پھسل گئی۔

وہ چند لمحے یونہی خاموش بیٹھی رہی۔

“جلدی کرنا ہوگا…. ورنہ دیر ہو جاےُ گی کھانے کو۔”

وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتی چھری اٹھانے لگی۔

~~~~~~~~

صبح سے شام ہو گئی تھی گاڑی ابھی تک سڑک پر رواں دواں تھی۔

باہر اس بیاباں کو دیکھتے ہوئے عائشہ سمجھنے سے قاصر تھی آخر وہ جا کہاں رہے ہیں۔

“عمر کیسے ڈھونڈیں گے مجھے… مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم ہم ہیں کہاں؟”

وہ آنکھوں میں ابھرتی نمی کو پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی۔

آواز اس قدر مدھم تھی کہ اس کے سواء کوئی نہ سن سکا۔

“ابو سے خوف آنے لگا ہے…. کیا معلوم کب کیا کر دیں۔”

اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔

“پلیز مجھے میرے گھر واپس بھیج دیں…. مجھے اپنے گھر جانا ہے۔”

وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے ہوئے تھی۔

سورج اپنی مسافت طے کر مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔

عروج سے زوال کی جانب آ رہا تھا۔

دھیرے دھیرے سیاہی پھیلتی جا رہی تھی۔ اجالے کی جگہ تاریکی لے رہی تھی۔

عائشہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو آنکھوں میں خوف تیرنے لگا۔

یہ اجڑا ہوا جنگل رات کی تاریکی میں مزید خوفناک معلوم ہو رہا تھا۔

“یہیں روک دو….”

وہ کافی دیر بعد گویا ہوےُ۔

عائشہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

“یہاں کیوں رک گئے؟”

وہ چاہ کر بھی خود کو بولنے سے باز نہ رکھ سکی۔

“چلو آؤ باہر…. “

وہ اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی سے نکل گئے۔

“یہاں کیا کام؟”

وہ متوحش سی باہر دیکھ رہی تھی۔

“اب تم نکلو گی یا…. “

وہ کھڑکی کے سامنے آتے ہوئے چلاےُ۔

عائشہ نہ چاہتے ہوئے بھی باہر نکل آئی۔

خشک پتوں پر پاؤں رکھا تو ان سے سرسرانے کی آواز آنے لگی؟

عائشہ نے گردن گھما کر چاروں اطراف کا جائزہ لینا چاہا۔

ہر طرف سناٹا اور تاریکی کا راج تھا۔

کہیں کہیں خشک اور بوسیدہ درخت دکھائی دے رہے تھے۔

یہاں کی ہر شے اجڑی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔

نجانے کس پرندے کے بولنے کی آواز تھی کہ اس خوف میں وہ پہچان نہ سکی۔

وہ فدا حسین کے ہمراہ چل رہی تھی۔

یکدم اسے اپنے پیچھے کسی چیز کا گمان ہوا۔

وہ جھٹ سے مڑی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔

دل کی دھڑکن معمول سے بڑھ گئی۔

وہ لمبے لمبے سانس لیتی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی لیکن وہاں کسی ذی روح کا کوئی نام و نشان تک نہ تھا۔

“شاید میرا وہم ہو… “

وہ سینے پر ہاتھ رکھے خود کو تسلی دینے لگی۔

“رک کیوں گئی ہو؟”

فدا حسین مڑ کر اسے ناگواری سے دیکھ رہے تھے۔

عائشہ خاموشی سے ان کی جانب بڑھنے لگی۔

ڈرائیور نے اس مکاں کا دروازہ کھولا جو آدھا تو شاید ٹوٹا ہوا تھا۔

ٹارچ آن کر کے وہ اندر داخل ہو گئے۔

دیواریں اتنی کمزور معلوم ہو رہی تھی مانو ابھی گر جائیں گیں۔

اندر ہر شے پر دھول جمی ہوئی تھی۔

سامنے لکڑی کا فریم تھا جسے دیمک نے کھا کر بگاڑ رکھا تھا۔

دیواروں پر جالے لٹک رہے تھے۔

وہ ناک پر ہاتھ رکھے فدا حسین کے پیچھے تھی۔

“صبح ہونے میں زیادہ وقت نہیں ہے…. رات یہیں رکیں گے۔”

فدا حسین کی بات سنتے ہی عائشہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

“یہاں کہ…. کیسے….”

اس کی آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

“کوئی تکلیف ہے تمہیں….”

وہ ڈرائیور کو اشارہ کرتے اس کی جانب متوجہ ہوےُ۔

“نہ… نہیں… “

وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔

آنکھوں میں خوف کی لکریں نمایاں تھیں۔

“ابو مجھے ماریں یا نہ ماریں لیکن میں یہاں ڈر سے مر جانا… “

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

اسی اثنا میں اس کے عقب میں کچھ گرنے کی آواز سنائی دی۔

“ابو….”

وہ ان کا ہاتھ پکڑتی گھبرا کر بولی۔

“ہٹو میں دیکھو…. “

وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے بولے۔

عائشہ لب بھینچ کر انہیں دیکھنے لگی۔

ڈرائیور باہر جا چکا تھا۔

“چوہا تھا…. ہونہہ…. “

وہ ٹارچ کی روشنی میں دیکھتے ہوئے بولے۔

کمرے کے وسط میں سفید چادر سے ڈھکے صوفے پڑے تھے۔

فدا حسین نے چادر اتار کر نیچے پھینک دی۔

“سو جاؤ اب…. “

وہ ہنکار بھر کر کہتے سامنے کھڑکی میں جا کھڑے ہوئے۔

“اس کھنڈر میں نیند کیسے آےُ گی؟”

وہ کہتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔

نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

نجانے کیسے باقی کی رات بسر ہونے والی تھی اس خستہ حال مکان میں۔

عائشہ لب کاٹتی بار بار دائیں بائیں دیکھتی جا رہی تھی۔

اسے اپنے گرد کسی چیز کا گماں ہو رہا تھا لیکن دکھائی کچھ نہیں دے رہا تھا۔

وہ خود کو تسلی دیتی بار بار اسے اپنا وہم قرار دینے لگی۔

~~~~~~~~

“کچھ سمجھ نہیں آ رہا… “

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا جھنجھلا کر بولا۔

“خدا کرے تم ٹھیک ہو بس…. “

عمر بے چینی سے کہتا ٹہلنے لگا۔

“پتہ نہیں انہیں سکون کیوں نہیں ملتا… اچھی بھلی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔”

وہ کوفت سے بولا۔

“کب ٹائم ہوگا اور کب جاؤں گا میں یہاں سے…. “

وہ گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔

پوری رات آنکھوں میں بسر ہوئی تھی یہ رات کتنی بھاری تھی اس پر یہ تو عمر ہی جانتا تھا۔

“معاف کر دینا مجھے عائشہ…. میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکا۔”

وہ نادم تھا۔

“میں تمہیں وہ تحفظ نہیں دے سکا… ورنہ آج وہ تمہیں لے نہ جاتے۔”

وہ تاسف سے بول رہا تھا۔

“پتہ نہیں کس حال میں ہوگی…. کہاں ہو گی۔ ٹھیک بھی ہوگی یا نہیں۔”

یہی پریشانی اسے کھاےُ جا رہی تھی۔

وہ کچھ سوچ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔

کافی بنائی اور مگ پکڑے واپس آ گیا۔

مگ ٹیبل پر رکھ کر وہ پھر سے ٹہلنے لگا۔

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسلسل اسی متعلق سوچ رہا تھا۔

“ٹائم کیوں نہیں ہو رہا… “

وہ جھنجھلا کر کہتا بیٹھ گیا۔

“ابھی بھی دو گھنٹے باقی ہیں… “

وہ دانت پیستا ہوا بولا۔

ٹیبل پر پڑی کافی ڈھنڈی ہو کر بدمزہ ہو چکی تھی بلکل اسی مانند جیسے ابھی ہر شے بدمزہ تھی۔

کافی پینے کے بجاےُ وہ کھڑکی میں آ کھڑا ہوا۔

سوچوں کا ایک لامحدود ذخیرہ تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی نظر گھڑی پر جا ٹھہرتی جو آج اسے رکی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔

~~~~~~~~

سفر پھر سے شروع ہو چکا تھا۔ یہ رات جیسے عائشہ نے کاٹی تھی وہی جانتی تھی۔

دو گھنٹے بعد گاڑی ایک گھر کے باہر آ رکی۔

“اب پتہ نہیں کہاں لے آےُ ہیں… ایسا معلوم ہو رہا یہ سفر کبھی ختم ہو گا ہی نہیں… “

وہ تھک چکی تھی جسمانی اور ذہنی طور پر,, گاڑی میں بیٹھ بیٹھ کر وہ تھکاوٹ کا شکار تھی لیکن یہاں پرواہ ہی کسے تھی۔

وہ بنا کچھ پوچھے فدا حسین کے ہمراہ چلنے لگی۔

وہ باری باری تمام افراد کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

یہ فدا حسین کے دوست کی فیملی تھی جو اکثر و بیشتر ان کے گھر آیا کرتی تھی۔

سب تپاک سے مل رہے تھے لیکن عائشہ کا چہرہ سپاٹ تھا۔

“آ جاؤ کمرے میں تم آرام کر لو۔”

نادیہ جو کہ فدا حسین کے دوست کی بہو تھی اس کے پاس آتی ہوئی بولی۔

عائشہ نے اس کے ساتھ جانا مناسب سمجھا اسی لئے خاموشی سے چل دی۔

“میں سوچ رہا ہوں واپس نہ جاؤں اور یہی سے خلع کے پیپرز بھیجوا دوں…. “

فدا حسین پرسوچ انداز میں بول رہے تھے۔

“ٹھیک ہے انکل آپ فکر مت کریں… میں دیکھ لوں گا۔”

حماد مسکراتا ہوا بولا۔

“اسی لئے تو بیٹا تمہارے گھر آےُ ہیں۔ تم وکیل ہو یہ کام آسانی سے کر لو گے… بس مجھے اس مسئلے کو اب سرے سے ختم کرنا ہے۔”

وہ صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے بولے۔

“آپ بے فکر رہیں… میں سارا کام دیکھ لوں گا۔”

وہ یقین دہانی کرا رہا تھا۔

“ابو کہاں ہیں تمہارے؟ مجھے لگا تھا گھر پر ہی ہوگا فون تو کیا تھا میں نے…”

انہوں نے موضوع بدلا۔

“جی گھر پر ہی تھے ابھی گئے ہیں باہر آ جائیں گے۔”

وہ جیب سے فون نکالتا ہوا بولا۔

“میں ابھی آتا ہوں… “

وہ فون کان سے لگاتا کھڑا ہو گیا۔

“ہاں ہاں جاؤ… کوئی مسئلہ نہیں۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔

“ہاں… ہیلو… “

وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولے۔

“تم زکیہ کو لے کر پہنچو ادھر…. اور خیال رہے کسی کو معلوم نہ ہو صبیحہ ورنہ میں وہ حشر کروں گا تمہارا قیامت تک یاد رکھوں گی۔”

ایک لمحہ لگا تھا انہیں بگڑنے میں۔

دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا کہ انہوں نے فون بند کر دیا۔

“ہمیں یہ بچہ گرانا ہے…. اور یہ کام آپ کو کرنا ہوگا۔”

وہ نادیہ کو دیکھتے ہوئے بول رہے تھے۔

نادیہ لیڈی ڈاکٹر تھی اور فدا حسین بخوبی واقف تھے اس بات سے۔

نادیہ رک کر حماد کو دیکھنے لگی۔

عائشہ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔

اس نے دیوار کا سہارا لے لیا مبادہ گر ہی نہ جاےُ۔

“لیکن دیکھیں اس وقت اگر ابارشن کیا تو عائشہ کی جان بھی جا سکتی ہے…. “

وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔

“میں کچھ نہیں جانتا…. بس اس بچے کو مار دو کسی بھی طرح۔”

شاید یہ بے حسی کی انتہا تھی۔

“نہیں… میں کسی صورت یہ نہیں ہونے دوں گی۔”

اشک کب عائشہ کے رخسار کو بھگونے لگے اسے علم ہی نہ ہوا۔

“مجھے نہیں لگتا عائشہ مانے گی… “

وہ کچھ توقف کے بعد بولی۔

“ڈاکٹر آپ ہیں وہ نہیں… آپ بس یہ کام کریں۔”

وہ قطعیت سے بولے۔

“یا الله یہ سب کیا ہے؟”

عائشہ ہکا بکا سی ان کی آوازیں سن رہی تھیں۔

“ابو آپ اس حد تک چلے جائیں گے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی….”

وہ اشک بہاتی بول رہی تھی۔

“اس معصوم جان نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جسے دنیا میں آنے سے قبل ہی آپ مار رہے ہیں…. “

وہ سسکیاں لیتی بول رہی تھی۔

“یا الله میری مدد کر…. مجھے اور میری اولاد کو اس مشکل سے نکال لے۔”

وہ ہاتھ اٹھاےُ دعا مانگنے لگی۔