Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 23
Rate this Novel
Ana Parast Episode 23
Ana Parast by Hamna Tanveer
“دیکھو بیٹا اب آپ ڈرو مت آپ قانون کے دائرے میں آ چکی ہو اس لئے سچ بولو…. کوئی کچھ نہیں کر سکتا یہاں۔”
جج اس کے انداز سے بھانپ گیا۔
عائشہ نے ایک نظر فدا حسین پر ڈالی جو اسے گھورتے ہوےُ نفی میں سر ہلا رہے تھے پھر ایک نظر جج صاحب پر ڈالی جو منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
عائشہ نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کیا اور ساری کہانی سنا ڈالی کس طرح اسے اغوا کیا اور یہاں لے آےُ۔
“میں فدا حسین کو اس کی بیٹی واپس نہیں کر رہا…میں اسے پنجاب اس کے شوہر کے پاس بھیج رہا ہوں… “
وہ فدا حسین کو دیکھتے ہوےُ بول رہے تھے۔
فدا حسین خطرناک تیور لئے عائشہ کو دیکھ رہے تھے۔
“بیٹا یہ تینوں اہلکار آپ کو پنجاب لے جائیں گے میری گاڑی میں…. اب آپ بلکل محفوظ ہو اس لئے گھبرانے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں… “
وہ عائشہ کو دیکھ کر کہتے کھڑے ہو گئے۔
“آپ اپنے شوہر کا نمبر مجھے دے دو…. “
وہ اس کے سامنے آ رکے۔
عائشہ نے فوراً سے عمر کا نمبر انہیں لکھوا دیا۔
“انہیں بحفاظت پنجاب چھوڑ آؤ…. “
وہ اہلکاروں کو دیکھتے ہوےُ بولے۔
فدا حسین مٹھیاں بھینچے یہ سب دیکھ رہے تھے عائشہ ان کے ہمراہ ان کے سامنے سے چلی گئی۔
“سب برباد کر دیا اس لڑکی نے…. “
وہ اس کے نکلتے ہی بولنے لگے۔
“مجھے اس پر اعتبار کرنا ہی نہیں چائیے تھا…. اب یہ لے جا کر عمر کے حوالے کر دیں گے اسے۔”
وہ سخت خفا دکھائی دے رہے تھے۔
“اب کیا کر سکتے ہیں فدا؟ جو ہونا تھا ہو گیا وہ تو…. “
نفیس ٹھنڈی آہ بھرتے ہوےُ بولے۔
“دیکھ لوں گا سب کو…. ہونہہ…. “
وہ ہنکار بھر کر کہتے باہر نکل گئے۔
سفر تمام ہوا تو عائشہ کو پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
“ہمارا کام پورا ہوا آپ اپنے شوہر کو کال کر لیں تاکہ وہ آپ کو لے جائیں یہاں سے…. “
اہلکار عائشہ سے مخاطب تھا۔
اس وقت وہ پولیس اسٹیشن کھڑے تھے۔
عائشہ اثبات میں سر ہلاتی فون لے کر نمبر ملانے لگی۔
“ہیلو عمر…. “
فون پہلی ہی بیل پر ریسیو ہو چکا تھا۔
“عائشہ؟”
عمر جواباً بولا۔
“عمر مجھے یہاں سے لے جائیں…. میں پولیس اسٹیشن میں ہوں۔”
وہ آس پاس دیکھتی ہوئی بولی۔
“تم یہاں کے پولیس اسٹیشن میں ہو؟”
وہ حیرت اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں تھا۔
“جی…. آپ جلدی سے آ جائیں اور مجھے لے جائیں۔”
وہ مدھم آواز میں بول رہی تھی۔
“میں بس ابھی آ رہا ہوں… “
عمر سلیپر میں پاؤں ڈالتا ہوا بولا۔
چابیاں اٹھائی اور سرعت سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
“کہاں جا رہے ہو عمر؟”
نسیم اسے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“امی آ کر بتاتا ہوں… “
چہرے پر خوشی کی رمق تھی۔
کہہ کر رہ رکا نہیں اور باہر نکل گیا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آیا تو اکیلا نہیں تھا۔
نسیم کے چہرے پر پہلے حیرت اور پھر خوشی کے ڈیرے جما لیے۔
“میری بچی واپس آ گئی؟”
وہ آگے بڑھ کر اسے سینے لگاتی ہوئی بولیں۔
عائشہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔
“کیسی ہو تم؟ ٹھیک ہو نہ؟ خیال رکھتے تھے وہ تمہارا؟”
ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
“امی آرام سے… اب وہ یہیں ہے جو پوچھنا ہو پوچھ لیں۔”
عمر ان کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔
“الله کا بہت شکر ہے کہ تم صحیح سلامت واپس آ گئی… “
وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتی ہوئی بولیں۔
“آؤ بیٹھو… “
وہ اسے ساتھ لئے صوفے پر بیٹھ گئیں۔
عمر پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے انہیں دیکھ رہا تھا۔
عائشہ آنکھوں میں نمی لئے انہیں سب بتاتی جا رہی تھی۔
“الله پوچھے گا ایسے ظالموں کو… کیا حال کر دیا تمہارا۔”
وہ اس کے رخسار پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔
“اب میں ٹھیک ہوں امی….”
عائشہ نے مسکراتے ہوےُ تسلی دینا چاہی۔
“اچھا جاؤ تم آرام کرو…. تھک گئی ہو گی سفر سے۔ میں کچھ کھانے کو بناتی ہوں تمہارے لیے۔”
یکدم انہیں خیال آیا۔
“امی اویس کہاں ہے؟”
وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔
“اپنے کمرے میں ہے۔”
وہ اشارہ کرتی ہوئی بولیں۔
عائشہ عمر کے ہمراہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
اویس بیڈ پر لیٹا تھا۔ ٹانگ پر سفید رنگ کا پلاسٹر تھا۔
وہ احساس ندامت میں گھر گئی۔
“بھابھی آپ کب آئیں؟”
وہ حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
عمر اثبات میں سر ہلانے لگا۔
“مجھے معاف کر دینا اویس میری وجہ سے…. “
وہ آگے بڑھتی نادم سی بولنے لگی۔
“معاف تو مجھے کر دیں…. میں بچا نہیں سکا آپ کو…. وہ لوگ لے گئے آپ کو۔”
وہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بول پڑا۔
عائشہ آنکھوں میں نمی لئے اسے دیکھنے لگی۔
“ٹھیک ہے… باقی باتیں بعد میں اب آرام کر لو۔”
عمر آگے آتا ہوا بولا۔
عائشہ اسے دیکھ کر غمگین سی ہو گئی۔
“میری وجہ سے اویس کا کتنا نقصان ہو گیا…. میرے باعث وہ اس حال میں ہے۔”
وہ دل ہی دل میں کہتی باہر نکل گئی۔
~~~~~~~~
“اب تو خوش ہوں گے نہ آپ لوگ؟”
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔
“تمہاری شادی پر خوش نہیں ہوں گے کیا؟”
طلعت اس کے سر پر پیار دیتی ہوئی بولی۔
“اپنی حیثیت کی بہو لا کر آپ کے دل کو تسلی مل گئی ہو گی نہ…. “
وہ یاسر بلوچ کو گھورتا چبا چبا کر بولا۔
“آج بھی تمہاری زبان اس کم ذات کی حمایت میں چل رہی ہے… “
چہرے پر ناگواری در آئی۔
“فکر مت کریں… یہاں بچ بھی جائیں تو اس دنیا میں بچ نہیں سکیں گے آپ۔ وہاں حساب دینا پڑے گا آپ کو۔”
وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
“یہ کس طرح بات کر رہے ہو اپنے ابو سے؟”
طلعت کلس کر بولی۔
“جس طرح کرنی چائیے…. “
وہ یاسر بلوچ کو گھور رہا تھا۔
“دفع ہو جاؤ ہماری نظروں سے…. “
وہ تنک کر بولے۔
“آپ کو شاید چھوٹ مل رہی ہے اس لیے تیار رہیں ابو…. جب الله آپ سے حساب لے گا تب کے لیے۔”
وہ خود کلامی کرتا چلنے لگا۔
“حد سے زیادہ خود سر اور بدتمیز ہوتا جا رہا ہے یہ… “
وہ نخوت سے سر جھٹکتے ہوےُ بولے۔
~~~~~~~~
“مجھے نہیں لگتا اب تمہاری شادی ہو گی عائشہ سے…. “
زکیہ منہ بناتی ہوئی بیٹھ گئی۔
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے…. اگر آپ لوگ اسے قائل کر لیتے تو آج وہ اپنے سسرال نہیں بلکہ یہاں ہوتی۔”
وہ برہمی سے گویا ہوا۔
“مجھ پر مت ڈالو… وہ ہے ہی اتنی ہٹ دھرم… سنتی کہاں ہے کسی کی۔ بھائی صاحب نے اسے بیچنے کی دھمکی بھی دی تھی پھر دیکھو کورٹ میں جا کر سب سچ بول دیا۔”
وہ خفگی سے گویا ہوئیں۔
“اب سچ میں ایسا نہیں ہو سکتا؟”
وہ یاس سے زکیہ کو دیکھ رہا تھا۔
“تمہارا دماغ جگہ پر تو ہے نہ؟ وہ عمر اب ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گا کسی کو…..ابھی تو بھائی صاحب کیس کی فکر کریں جو عمر نے ان پر کیا ہوا ہے۔”
وہ دانت پیستی ہوئی بولیں۔
“آپ ہی کے باعث میں عائشہ کے انتظار میں تھا… آپ نے کہا تھا کہ میری شادی کروائیں گیں اس سے۔”
وہ خفا انداز میں بول رہا تھا۔
“تو میں کیا کر سکتی ہوں اب؟ مجھے فدا حسین نے آس دلائی تھی… اتنا سب کرنے کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہوا…..”
وہ شانے اچکا کر کہتی وہاں سے چل دیں۔
~~~~~~~~
“مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے…. “
نرس گود میں بچی کو اٹھاےُ باہر آتی ہوئی بولی۔
عمر آنکھوں میں نمی لئے آگے بڑھا اور بچی کو گود میں لے لیا۔
یہ ننھی سی جان آنکھیں بند کئے سو رہی تھی۔
عمر نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا پھر رخسار پر…. وہ دیوانہ وار اسے چومتا جا رہا تھا۔ آنکھیں برس رہی تھیں۔
“امی یہ دیکھیں… “
وہ ان کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“ماشاءالله….. الله نظر بد سے بچائے ہماری اس چھوٹی سی جان کو…”
وہ اسے گود میں اٹھاتی ہوئی بولیں۔
“میری وائف کیسی ہیں؟”
وہ نرس کی جانب متوجہ ہوا۔
“وہ بھی ٹھیک ہیں… کچھ ہی دیر میں آپ ان سے مل سکتے ہیں۔”
وہ پیشہ وارانہ مسکراہٹ لئے بولی۔
“آنکھیں دیکھو بلکل تم پر گئیں ہیں۔”
وہ مسکراتی ہوئی بول رہی تھیں۔
عمر نے مسکراتے ہوےُ سر اثبات میں ہلا دیا۔
“میں بھیا کو فون کر لوں… “
وہ کہتا ہوا سائیڈ پر ہو گیا۔
“ہماری گڑیا سو رہی ہے….”
نسیم اس کے گلابی گال پر بوسہ دیتی ہوئی بولی۔
~~~~~~~~
“عائشہ کی بیٹی ہوئی ہے…. “
صبیحہ ان کے سامنے آتی ہوئی بولی۔
“ہونہہ… میں کیا کروں پھر؟”
وہ چڑ کر بولے۔
“کہیں کا نہیں چھوڑا مجھے ان لڑکوں نے…. تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔”
وہ برہمی سے کہتے ٹہلنے لگے۔
“اگر آپ عائشہ کو اغوا نہ کرواتے تو ایسا نہ ہوتا…. “
وہ دھیرے سے منمنائی۔
“بھائی میرا جیل ہے… تمہاری بیٹی کی وجہ سے۔”
وہ ان پر برس پڑے۔
“عائشہ کی وجہ سے کیوں؟ کیا عائشہ نے کہا تھا اویس کی ٹانگ توڑنے کو…. آپ کی وجہ سے جیل میں ہیں وہ۔”
وہ خفا انداز میں بولیں۔
“اپنی بکواس بند کر لو…. کچھ زیادہ ہی زبان چلنے لگی ہے تمہاری۔”
وہ خطرناک تیور لئے آگے بڑھے۔
اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ بولتے صبیحہ بیگم کمرے سے باہر نکل گئیں۔
“اب اور کتنا پیسہ لگاؤں…. پہلے وہ وکیل دو لاکھ کھا گیا ہے۔”
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوےُ بولے۔
“کچھ تو کرنا پڑے گا ورنہ میں سڑک پر آ جاؤں گا…. “
وہ پرسوچ انداز میں کہتے رک گئے۔
~~~~~~~~
“ماشاءالله بہت پیاری ہے ہماری گڑیا…. “
نور اسے گود میں اٹھاتی ہوئی بولی۔
“امی آنکھیں دیکھیں اس کی…. “
وہ نسیم کی جانب متوجہ ہوئی۔
یشفع سیاہ بڑی بڑی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
“میں عائشہ کے لیے کھانا گرم کر کے آتی ہوں تم یہیں بیٹھی رہنا…. “
وہ یاد آنے پر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
اویس اسٹک کا سہارا لئے اِدھر آیا۔
“تم تو سو رہے تھے؟”
نور مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“آپ نے جگا دیا…. “
وہ مسکرا کر کہتا اس سے ساتھ بیٹھ گیا۔
“بھابھی سو رہی ہیں؟”
وہ عائشہ کو دیکھتا ہوا بولا۔
“ہاں شاید…. “
وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔
“مجھے پکڑائیں اس موٹو کو…. “
وہ ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتا ہوا بولا۔
نور نے مسکراتے ہوےُ یشفع کو اس کی گود میں دے دیا۔
“ہاتھ دیکھیں کتنے پیارے ہیں…. “
اویس اس کے موٹے موٹے گلابی ہاتھ دیکھ رہا تھا۔
“پتہ نہیں شاید اسی کا نصیب تھا جو عائشہ نے اتنی مشکلوں کا سامنا کیا۔”
وہ آنکھوں میں نمی لئے بول رہی تھیں۔
“آپی بھول جائیں وہ سب…. ایک برا خواب سمجھ کر۔”
وہ خفا انداز میں بولا۔
“میں تو یہ سوچ رہا ہوں کب یہ چاچو بلاےُ گی مجھے… “
وہ ہنستا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔
“ابھی انتظار کرنا پڑے گا تمہیں بہت… “
نور بھی اس کی بات پر ہنس دی۔
“عمر نظر نہیں آ رہا؟”
وہ کمرے میں نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی۔
“شاید کسی کام سے گئے ہیں…. “
عائشہ کہتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
“ہم نے شاید تمہاری نیند خراب کر دی….”
نور نادم سی بولی۔
“نہیں نہیں… میں کافی دیر سے سو رہی تھی اب کھانے کا ٹائم ہو رہا ہے ویسے بھی… “
وہ گھڑی کی جانب اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“تمہاری طبیعت اب کیسی ہے؟”
وہ اس کے پاس آ بیٹھی۔
“امی اتنا خیال رکھتی ہیں کہ دیکھیں بلکل ٹھیک ہوں میں اب…. “
وہ کھل کر مسکرا رہی تھی۔
“اپنی جان کو دیکھتی ہوں تو ساری تکلیفیں سارے رکھ بھول جاتی ہوں… “
عائشہ کی نگاہیں اویس کی گود میں لیٹی یشفع پر تھیں۔
“بلکل اولاد کی خوشی ہی ایسی ہے…. “
وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“مجھے تو یہ ملی بھی بہت مشکلوں سے ہے… آپی میرے لئے میرا کل اثاثہ میری یشفع ہی ہے۔”
وہ آنکھوں میں نمی لئے بول رہی تھیں۔
“اب رونا مت ورنہ عمر کہے گا میری بیوی پر ظلم ہو رہا ہے…. “
نور آئینے میں عمر کو دیکھ چکی تھی۔ اسی لئے شرارت سے گویا ہوئی۔
“بلکل میری غیر موجودگی میں میری معصوم سی مسز پر ظلم کیا جا رہا ہے…. “
وہ تائیدی انداز میں کہتا آگے آ گیا۔
