599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 21

Ana Parast by Hamna Tanveer

“یہ غلط ہے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا….”

وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بول رہے تھے۔

“میں اسے ہرگز عمر کے حوالے نہیں کروں گا… “

فدا حسین دانت پیستے ہوےُ بولے۔

“ہم واپس جا رہے ہیں… گھر چل کر سوچتے ہیں۔”

وہ حتمی انداز میں بولے۔

“تمہیں سمجھ کیوں نہیں آ رہا نفیس….”

وہ جھنجھلا کر بولے۔

“جو تم کر رہے ہو یہ اس سب کا حل نہیں ہے…. اور میں تمہیں یہ نہیں کرنے دوں گا۔”

وہ مڑ کر انہیں دیکھنے لگے۔

“ہونہہ…. “

وہ ہنکار بھر کر چلنے لگے۔

عائشہ بھی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔

گاڑی واپس گھر کی جانب گامزن تھی۔

نفیس کے اس قدم سے عائشہ کی جان میں جان آئی۔ کوئی تو تھا جنہیں احساس تھا کہ کتنا غلط ہو رہا ہے اس کے ساتھ۔

وہ تھک چکی تھی سوچ سوچ کر, خوفزدہ ہو کر۔

عائشہ نے سر سیٹ کی ٹیک سے لگا کر آنکھیں موند لیں۔

سکون نام کی نعمت سے تو وہ محروم ہی ہو چکی تھی۔

ہے لمحے خدشہ ہی لگا رہتا تھا کچھ برا ہونے کا۔

“ابو آپ انہیں پھر واپس لے آےُ ہیں؟”

نادیہ ششدر سی انہیں دیکھ رہی تھی۔

“بیٹا تم نہیں جانتی فدا کیا کرنے جا رہا تھا…. “

وہ سرد آہ بھرتے ہوےُ بولے۔

“لیکن آپ یہ بھی تو سوچیں اگر انکل کے ساتھ ساتھ پولیس نے ہمیں بھی پکڑ لیا پھر؟ ان کو پناہ تو ہم نے دے رکھی ہے نہ…. “

وہ زور دے کر بولی۔

“بات تو تمہاری ٹھیک ہے… حماد کہاں ہے؟”

وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوےُ بولے۔

“پولیس کے جاتے ہی وہ بھی نکل گئے… بتا کر نہیں گئے۔”

وہ لاعلمی سے شانے اچکاتی ہوئی بولی۔

“تم فکر مت کرو میں کچھ کرتا ہوں… “

وہ اسے تسلی دیتے باہر آ گئے۔

“فدا میں تم لوگوں کو دو تین روز کے لئے کسی اور جگہ بھیج دیتا ہوں… وہاں تم محفوظ رہو گے۔”

وہ ان دونوں کے سامنے آتے ہوےُ بولے۔

“ٹھیک ہے…. “

فدا حسین اثبات میں سر ہلانے لگے۔

“لیکن تم دوبارہ ویسا کوئی قدم نہیں اٹھاؤں گے… “

وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

“اس مسئلے کا حل ہم سب مل کر نکال لیں گے… ابھی فلحال تم لوگوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ درکار ہے۔”

وہ تحمل سے کہتے ہوےُ بیٹھ گئے۔

“ہاں ہاں ٹھیک ہے…. “

وہ اثبات میں سر ہلاتے کھڑے ہو گئے۔

عائشہ سر اونچا کئے اس جگہ کو دیکھنے لگی۔

چاروں سمت میں بلند و بالا پہاڑ دکھائی دے رہے تھے۔

ہریالی کا دور دور تک تعلق نہ تھا اس جگہ سے۔

سواےُ پہاڑوں کے کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔

وہ چلتے ہوےُ آگے آےُ تو تین چھوٹے چھوٹے مکان دکھائی دئیے۔

وہ دونوں سے ایک مکان میں داخل ہو گئے۔

مکان کے نام پر صرف ایک ہی کمرہ تھا نہ کوئی واش روم نہ باورچی خانہ۔

عائشہ وحشت زدہ سی اس جگہ کو دیکھ رہی تھی۔

“پتہ نہیں ابھی اور کیا کیا دیکھنا باقی ہے… “

وہ کوفت سے کہتی ایک سائیڈ کو ہو گئی۔

فدا حسین پیشانی پر بل ڈالے فون کو گھور رہے تھے۔

“ابو یہ سب ختم کیوں نہیں کر دیتے آپ؟ اور کتنا ذلیل کریں گے مجھے اس حال میں۔”

وہ زمین پر بیٹھتی ہوئی خود کلامی کرنے لگی۔

“آپ کو بلکل ترس نہیں آتا اپنی اولاد پر… ذرا سا بھی نہیں۔ مجھے ذہنی مریض بنا رہے ہیں آپ ہر پل کچھ برا ہونے کا گمان لگا رہا تھا۔”

وہ سوں سوں کرتی ہوئی بول رہی تھی۔

یہ رات بہت بھاری ثابت ہونے والی تھی اس پر۔

آنکھوں میں خوف تیرتا دکھائی دے رہا تھا۔

گھر میں عجیب سی بدبو تھی۔جس کے باعث اس کے دماغ میں عجیب و غریب نوعیت کے خیالات آ رہے تھے۔

وہ شب آنکھوں میں گزار کر صبح کے انتظار میں تھی۔

آنکھوں کی پتلیاں سرخ ہو چکی تھی۔

آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں لیکن ایسی جگہ پر نیند کا آنا بھی ممکن نہیں تھا۔

~~~~~~~~

“کیا ہوا عمر؟”

وہ اسے آتا دیکھ کر کھڑی ہو گئیں۔

“وہاں سے بھی چلے گئے… “

وہ مدھم آواز میں کہتا بیٹھ گیا۔

“کہاں چلے گئے؟ عائشہ سے ملے نہیں؟”

وہ بے چینی سے استفسار کرنے لگیں۔

“نہیں امی… جب میں وہاں پہنچا پولیس کے ساتھ تو وہ فرار ہو چکے تھے۔کہاں گئے معلوم نہیں۔”

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

“اچھا تم ہمت رکھو… مل جائیں گے جلد ہی۔ میں چاےُ لاتی ہوں تمہارے لیے۔”

وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی کھڑی ہو گئی۔

عمر خاموش رہا۔

ان کے جاتے ہی اس نے جیب سے فون نکالا۔

عائشہ کی تصویر نکالی اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔

آنسو کب پلکوں کی باڑ کو پار کرتے اسکرین پر گرنے لگے اسے علم ہی نہ ہوا۔

“پتہ نہیں کس حال میں ہوگی تم…. “

وہ فون رکھ کر سر تھامتا ہوا بولا۔

“چار دن ہو گئے ہیں تمہیں گئے ہوےُ اور میں کچھ نہیں کر پا رہا…. “

وہ خود کو کوس رہا تھا۔

“خدا کرے تم خیریت سے ہو بس… “

وہ آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا۔

وہ بے بس دکھائی دے رہا تھا۔

“یہ لو بیٹا… اور زیادہ سوچو مت الله سب ٹھیک کر دے گا۔”

وہ اسے کپ دیتی ہوئی بولیں۔

“اویس سو گیا؟”

وہ کپ کو گھورتا ہوا بولا۔

“ہاں دوائی لے کر سو گیا ہے… “

وہ کہتی ہوئی بیٹھ گئیں۔

“بھیا کی کال… میں آتا ہوں۔”

وہ فون کو دیکھتا کھڑا ہوا۔

“ہاں تم کر لو بات… “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگیں۔

عمر فون کان سے لگاتا وہاں سے چل دیا۔

اس گھر کے ہر فرد پر سکون کی نیند حرام ہو چکی تھی۔

نسیم گھڑی پر نظر ڈالتی وضو کرنے چل دیں۔

~~~~~~~~

سورج کی نرم کرنیں اندر آنے لگیں تو عائشہ کو تسلی ہوئی۔

فدا حسین فون کان سے لگاتے اٹھ کھڑے ہوےُ۔

“ابرار میری بات مانو تم یہاں آؤ اور ہم کوئٹہ نکل جاتے ہیں۔ رات بھی تمہیں یہی سمجھایا ہے۔ یہاں سے نکلنا ہی بہتر ہے۔”

وہ رازداری سے بول رہے تھے۔

ان کا خیال تھا عائشہ سو رہی ہے۔

“باقی سب کی فکر مت کرو…. تم بس یہاں پہنچو اور ہم نکلیں یہاں سے۔ جو بھی کرنا ہے میں خود اپنی مرضی سے کروں گا۔”

وہ خفا انداز میں بولے۔

“نہیں.. میں نے نفیس کو کچھ نہیں بتایا اور اسے خبر ہونے بھی نہیں چائیے میں اسے آگاہ کئے بغیر جانا چاہتا ہوں یہاں سے۔ اب بس تم جلدی سے آؤ۔”

وہ کوفت سے کہتے فون بند کر گئے۔

عائشہ دم سادھے انہیں دیکھنے لگی۔

“یا الله مجھے بچا لے…. مجھے میرے گھر واپس بھیج دے۔”

وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے دعا کرنے لگی۔

“اس آزمائش کو ختم کر دے۔”

آواز اتنی مدھم تھی کہ فدا حسین کے لئے سننا ممکن نہ تھا۔

~~~~~~~~

“فہد میری جان کیا ہوا ہے تمہیں؟”

طلعت اس کے سر پر ہاتھ پھرتی ہوئی بولیں۔

فہد خاموشی سے کھڑکی کو گھور رہا تھا۔

“بتاؤ تو ہوا کیا ہے؟ ایسے ہی بیٹھے ہو نہ کچھ کھا رہے ہو نہ پی رہے ہو۔”

وہ متفکر سی بولیں۔

فہد کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر وہ کمرے سے باہر نکل آئیں۔

واپس آئیں تو یاسر بلوچ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

“کیا ہوا ہے بھئی تمہیں… “

وہ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوےُ بولے۔

فہد نے لب بھینچ لیے۔

“برخوردار تم سے پوچھ رہے ہیں ہم… “

وہ اسے بازو سے ہلاتے ہوےُ بولے۔

“اگر آپ اس نکاح کو انا کا مسئلہ نہ بناتے تو آج رانیہ اس دنیا میں ہوتی…. “

وہ کچھ دیر بعد بول اٹھا۔

یاسر پیشانی پر بل ڈالے کبھی طلعت کو دیکھتے تو کبھی فہد کو۔

“آپ کی انا نے ایک زندگی ختم کر دی… اور میں جانتا ہوں آپ کو ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کیونکہ ان کی زندگی کی حیثیت ہی کیا ہے آپ کے سامنے….وہ تو کیڑے مکوڑے ہیں نہ مرنے کے لیے بنے ہیں۔”

وہ حلق کے بل چلا رہا تھا۔

“تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا… “

فہد کا یہ انداز ان کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔

“آپ قاتل ہیں اس کے….. آپ کی ضد نے قتل کیا رانیہ کا اور میری محبت کا۔ آپ نے مجبور کر دیا اسے کہ وہ اس دنیا سے ہی چلی گئی۔”

دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔

“فہد میرے بچے… “

طلعت کہتی ہوئی آگے بڑھی مگر فہد نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

“نفرت ہو رہی ہے آپ لوگوں سے مجھے… آپ کی انا نے ایک معصوم جان کو نگل لیا یاسر بلوچ…. “

وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چلا رہا تھا۔

“معافی نہیں ملے گی آپ کو… “

یاسر بلوچ اٹھے اور دروازے کی سمت بڑھنے لگی۔

“نہیں ملے گی معافی کسی کو بھی… “

وہ چلاتا ہوا زاروقطار رونے لگا۔

“فہد…. “

وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔

“چلی جائیں یہاں سے…. “

وہ ان کا ہاتھ ہٹاتا ناگواری سے بولا۔

طلعت شش و پنج میں مبتلا اسے دیکھتی رہی پھر کچھ سوچ کر باہر نکل گئی۔

“جانتا ہوں مجھے بھی معافی نہیں ملے گی…. تمہارے قتل کا سب سے بڑا ذمہ دار میں ہی تو ہوں… پتہ نہیں اس بوجھ کے ساتھ کیسا زندہ رہوں گا میں۔”

وہ منہ پر ہاتھ رکھے بلک رہا تھا۔

~~~~~~~~

“چلیں بی بی جی آپ کو لینے آیا ہوں میں… “

ڈرائیور اندر آتا ہوا بولا۔

“کس نے بھیجا ہے تمہیں؟”

فدا حسین ناگواری سے اسے دیکھنے لگے۔

“نفیس صاحب نے… “

وہ سر جھکاےُ مؤدب انداز میں بولا۔

فدا حسین پیر پٹختے عائشہ کو لئے چل دئیے۔

“جاؤ بیٹا تم کمرے میں جا کر آرام کرو…”

نفیس اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوےُ بولے۔

عائشہ بنا کچھ کہے کمرے کی سمت چل دی۔

“کیسی ہو تم؟”

نادیہ اس کے عقب سے بولی۔

“ٹھیک ہی ہوں شاید… “

وہ تھکے تھکے انداز میں بولی۔

“تم کمرے میں چلو میں کھانے کو کچھ لاتی ہوں…. “

وہ اسکی جانب مسکراہٹ اچھالتی واپس مڑ گئی۔

عائشہ سرد آہ بھرتی اندر آ گئی۔

“کبھی یہاں کبھی وہاں… زندگی اجیرن کر دی ہے ابو نے۔”

وہ کوفت سے بولی۔

“ابرار اب تم ہی سمجھاؤ فدا کو….یہ جو کر رہا ہے بلکل غلط ہے۔”

وہ اپنی بات ختم کر کے انہیں دیکھنے لگے۔

“بات تو ٹھیک ہے آپکی… بھائی صاحب آپ کو عائشہ کے متعلق صحیح فیصلہ کرنا ہوگا اور وہ یہی ہے کہ اسے عمر کے پاس بھیج دیا جاےُ… وہ میری بہن کی بیٹی نہیں بلکہ اپنی بیٹی جیسی ہے میں کیسے اس کے ساتھ غلط کروں؟”

وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“نہیں… ہرگز نہیں… میں ان لڑکوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔ سمجھتے کیا ہیں وہ خود کو جیت جائیں گے مجھ سے… “

وہ دانت پیستے ہوےُ رخ پھیر گئے۔

“بھائی صاحب آپ یہ سوچیں نقصان تو ہماری اپنی بچی کا ہو رہا ہے… عمر کا تو نہیں۔”

ابرار نے سمجھا چاہا۔

“مجھ پر کیس کیا ہے اس عمر نے…. اویس کی ٹانگ توڑنے پر… میں عائشہ کو واپس نہیں بھیجوں گا۔”

وہ نفی میں سر ہلاتے ہٹ دھرمی سے گویا ہوےُ۔

“بھائی صاحب ایسے کب تک یہاں سے وہاں بھاگتے رہیں گے؟ عائشہ کو دیکھیں وہ بیچاری اس سب میں مرجھا کر رہ گئی ہے آخر اس مسئلہ کو ختم بھی تو کرنا ہے… “

وہ ان کے شانے پر ہاتھ رکھتے تحمل سے بولے۔

“ٹھیک ہے پھر عمر کو بولو مجھے ایک کروڑ دے اور عائشہ کو لے جاےُ واپس…”

وہ کچھ توقف کے بعد بولے۔

“میں وہ پیسے کیس پر لگاؤں گا ورنہ عائشہ کو بھول جاےُ وہ… مجھے کوئی اعتراض نہیں یہاں سے وہاں جانے میں۔”

وہ ہنکار بھر کر کہتے باہر نکل گئے۔

“مجھے نہیں لگتا یہ کبھی اپنی ضد چھوڑیں گے… اب میں رقم کا مطالبہ کرتا اچھا لگتا ہوں بھلا؟ کبھی کسی نے اپنی بیٹی کے عوض رقم مانگی ہے؟”

وہ نفیس کو دیکھتے استفسار کرنے لگے۔

“پتہ نہیں کیا سوچ ہے فدا کی… “

وہ افسوس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

“خیر مجھے نہیں لگتا وہ ہماری سنیں گے…. بھائی صاحب کے انداز نے بتا دیا ہے وہ اپنی مرضی کریں گے۔”

وہ ہاتھ ملاتے کھڑے ہو گئے۔

“لیکن مجھے امید ہے آپ کچھ بھی غلط نہیں ہونے دیں گے… “

وہ یاس سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“ہاں میں پوری کوشش کروں گا… “

وہ سر اثبات میں ہلانے لگے۔

~~~~~~~~

“تم منہ ہاتھ دھو لو پھر ہمیں نکلنا ہے یہاں سے…. “

وہ نفیس صاحب کی بیگم شہناز تھیں۔

“کہاں جانا ہے ہمیں؟”

عائشہ تو مانو رو دینے کو تھی۔

“یہ تو میں بھی نہیں جانتی… تمہارے انکل اور ابو نے کہا ہے کہ ہمیں یہاں سے جانا ہے۔”

وہ نرمی سے بول رہی تھیں۔

عائشہ سر تھام کر وہیں بیٹھ گئی۔

“بیٹا پریشان مت ہو… سب ٹھیک ہو جاےُ گا۔ تم منہ ہاتھ دھو لو میں ناشتہ لے کر آتی ہوں۔”

وہ اس کے سر پر پیار دیتی باہر نکل گئی۔

“کب ختم ہوگا یہ سب…. اب پھر سے ایک نیا سفر اب پتہ نہیں کہاں لے جانا چاہتے ہیں ابو مجھے… “

وہ مٹھیاں زور سے بند کرتی ہوئی بولی۔

چہرے پر کوفت کے آثار نمایاں تھے۔

“تین دن سکون میں تھے آج پھر پتہ نہیں کیا مسئلہ ہو گیا ہے… “

وہ کہتی ہوئی ٹہلنے لگی۔

“ابو کیوں اپنی ضد چھوڑ نہیں دیتے…. کیوں مجھے ان تکلیفوں سے گزار رہے ہیں… کیا مل رہا ہے آپ کو یہ سب کر کے۔”

اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔

وہ دیوار سے ٹیک لگاےُ زمین پر بیٹھی تھی۔

“کتنا برداشت کروں؟ کیا میں انسان نہیں ہوں؟ ابو کو کیوں کچھ نظر نہیں آتا اپنی سگی اولاد کے ساتھ کیسے وہ یہ سب کر سکتے ہیں… “

وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

“پتہ نہیں کب… کب یہ تماشہ ختم ہوگا۔”

وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بول رہی تھی۔

سر کا درد پھر سے عود آیا تھا۔ وہ صرف صبر ہی کر سکتی تھی اور وہی کر رہی تھی۔

~~~~~~~~

“اب تو مسجد آنا پڑتا ہے تجھ سے ملنے کے لیے… “

وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑا تھا جب فہد باہر نکلا۔

“کوئی کام تھا؟”

وہ نظریں ملاےُ بغیر بولا۔

“نماز تو کب سے ہو گئی تو اندر کیا کر رہا تھا؟”

وہ دائیں آبرو اچکا کر بولا۔

“معافی طلب کر رہا تھا… شاید کہ مل جاےُ… “

وہ سینے پر بازو باندھنے چلنے لگا۔

ابتسام نے اس میں نظر آتی واضح تبدیلی کو محسوس کیا۔

معمول کے خلاف وہ شلوار قمیض پہنے ہوےُ تھا, سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی۔

“یہ سب سمجھ نہیں آیا… “

وہ اس کے ساتھ قدم اٹھاتا ہوا بولا۔

“حد ہے… “

فہد نے تاسف سے اسے دیکھا۔

“کیا مطلب حد ہے؟ تجھے پتہ ہے سب تیرا مذاق بنا رہے ہیں کہ اب مولوی فہد صرف مسجد میں نظر آتا ہے تبھی مجھے بھی یہاں بھیجا کہ وہی ملاقات ہو سکتی۔”

وہ متعجب سا اسے دیکھ رہا تھا۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا اب کسی بات سے بھی… “

وہ بے نیازی سے بولا۔

“ویل… اچھا ہے ویسے انسان میں چینج آنا چائیے۔”

وہ مسکراتا ہوا بولا۔

“امی نے بلایا ہے نہ تجھے؟”

وہ سمجھ چکا تھا۔

“ہاں ان کا ماننا ہے کہ تیری شادی ہو جاےُ گی تو ٹھیک ہو جاےُ گا تو… “

وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔

فہد خاموش ہو گیا۔

“اس نے معاف کر دیا ہوگا تجھے… “

وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا مدھم آواز میں گویا ہوا۔

” اس نے معاف ہی تو نہیں کیا تھا… “

وہ زخمی سا مسکرایا۔

“کر دیا ہوگا….ایسی نہیں تھی وہ… “

ابتسام نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔

“امی سے کہنا سامیہ کے علاوہ جس سے کہیں گیں شادی کر لوں گا میں۔”

وہ اس سے دور ہوتا ہوا بولا۔

“کہاں جا رہا ہے؟”

ابتسام وہیں رک گیا۔

“کام ہے کچھ…. فون کروں گا فری ہو کر۔”

وہ الٹے قدم اٹھا رہا تھا۔

“ٹھیک ہے… “

وہ اونچی آواز میں بولا۔

فہد اس کی سمت پشت کیے چلنے لگا۔

ابتسام پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔

“پتہ نہیں اب یہ فیصلہ بھی ٹھیک ہے یا نہیں… “

وہ جھنجھلا کر کہتا چلنے لگا۔

~~~~~~~~

“یہ کس کا گھر ہے؟”

عائشہ صوفے پر بیٹھتی ہوئی پوچھنے لگی۔

“یہ سردار صاحب کا گھر ہے… “

شہناز مسکراتی ہوئی بولیں۔

“تم عمر کو کال کرو کہ وہ یہاں آےُ۔ پھر تم دونوں کے لیے فیصلہ کریں گے اور وہ تمہیں واپس لے جاےُ۔”

وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتی شفقت سے گویا ہوئیں۔

عائشہ کو اپنی سماعت پر شبہ ہو رہا تھا۔

وہ بے یقینی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

“لو کرو فون… “

وہ فون اس کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔

“ایک بار وہ یہاں آ جاےُ پھر اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دوں گا…..”

عائشہ نے جوں ہی فون ہاتھ میں پکڑا فدا حسین بول اٹھے۔

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔

عائشہ کے ہاتھ سے فون پھسل کر نیچے گر گیا۔

“تم فکر مت کرو ہم سمجھا لیں گے انہیں… تم عمر کو فون کرو۔”

وہ فون اٹھاتی ہوئی بولیں۔

“بیٹا تم کرو فون… کچھ غلط نہیں ہوگا تمہارے ساتھ۔ اپنے ابو کی عادت معلوم تو ہے اتنی آسانی سے ماننے والے کہاں… ایسے ہی کہہ رہے ہیں کچھ نہیں کریں گے۔”

اب کہ نفیس نے اسے تسلی دینا چاہی۔

عائشہ کپکپاتے ہوےُ نمبر ڈائل کرنے لگی۔

“ہی… ہیلو عمر… “

بولی تو آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

“عائشہ… “

عمر اس کی آواز سنتا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

“عمر آپ آ جائیں یہاں اور مجھے لے جائیں یہاں سے… “

وہ فدا حسین کو دیکھتی ہوئی بولی جن کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا۔

“تم رو رہی ہو؟ یہ لوگ کیسا سلوک کر رہے ہیں تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ؟ کیا کیا ہے انہوں نے تمہارے ساتھ مجھ بتاؤ تم ٹھیک ہو؟”

وہ بے قراری سے استفسار کرنے لگا۔

“میں ٹھیک ہوں۔یں آپ کو ایڈریس بتاتی ہوں آپ آ جائیں مجھے لینے…. ابو کہتے ہیں آپ آئیں ہم فیصلہ کرتے ہیں۔پھر لے جائیں مجھے یہاں سے۔”

وہ شہناز کو دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔

“تم بلکل فکر مت کرنا… یہ لوگ تمہیں زمین کے نیچے بھی لے جائیں نہ میں تمہیں وہاں سے بھی ڈھونڈ لوں گا۔ ابھی تم ویسا ہی کرو جیسا وہ کہہ رہے ہیں۔ سمجھ رہی ہو نہ میری بات۔”

وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کچھ سوچ کر بولا۔

عائشہ اس کا جواب دینے کے بجاےُ ایڈریس لکھوانے لگی۔

“بس بہت ہے… “

فدا حسین فون اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولے۔

فون بند ہو چکا تھا۔

عائشہ متفکر سی فدا حسین کو دیکھنے لگی۔

“آنے دو اسے… دیکھنا اس بار نہیں چھوڑوں گا۔”

وہ عائشہ کو گھور کر کہتے وہاں سے چلے گئے۔