599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 22

Ana Parast by Hamna Tanveer

“اب کیا ہوگا؟عمر کو فون نہ کرتی تو واپس کیسے جاتی؟ اور اب عمر اگر آ گئے تو ابو….”

وہ دل ہی دل میں کہتی چپ ہو گئی۔

“میں آتی ہوں… “

شہناز کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔

“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا…. شاید مجھے فون نہیں کرنا چائیے تھا۔ لیکن منع کرنے کا اختیار ہی کہاں تھا میرے پاس… “

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

پریشانی گھٹنے کی بجاےُ بڑھ گئی تھی۔

“اب پتہ نہیں کیا ہوگا… “

وہ انگلی دانتوں تلے دباےُ پر سوچ انداز میں بولی۔

“اب عمر آےُ گا تو تم فیصلہ کر لینا تمہیں رشتہ چائیے یا چٹی…. “

فدا حسین واپس آ کر بیٹھے تو نفیس نے گفتگو کا آغاز کیا۔

بلوچی ثقافت کے مطابق اس طرح شادی کرنے کے بعد لڑکے والے یا تو رشتہ دیتے ہیں یا پھر چٹی(پیسے)۔

“مجھے چٹی پورے ایک کروڑ چائیے…. وہ پیسے میں کیس پر لگاؤں گا جو ان لوگوں نے مجھ پر کیا ہے‍۔”

وہ ہنکار بھرتے ہوےُ بولے۔

“ہاں ٹھیک ہے وہ آ جاےُ تو ہم بات کریں گے…. “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگے۔

عائشہ بت بنی ان کی گفتگو سن رہی تھی۔

“ہاں جمیلہ بولو؟”

فدا حسین فون کان سے لگاتے ہوےُ بولے۔

“میرے پاس ہی ہے کہاں ہونا ہے عائشہ نے…. “

وہ برہم ہوےُ۔

“بھائی صاحب کسی بھی شرط پر عائشہ کو واپس مت آنے دینا….”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“ہاں تو میں کہاں بھیج رہا ہوں…. اب واپسی ممکن بھی نہیں۔”

وہ عائشہ کو گھورتے ہوےُ بولے۔

“اگر عائشہ واپس چلی گئی تو یہ آپ کی توہین ہوگی… مطلب آپ عمر سے ہار گئے ہاےُ کتنی شرم کی بات ہوگی کہ اس کے سامنے اگر آپ گھٹنے ٹیک دیں۔”

وہ جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی۔

“ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا…. وہ ہارے گا تم دیکھنا کسی شرط پر بھی جیتنے نہیں دوں گا میں اسے۔”

وہ آگ بگولہ ہوتے فون بند کر گئے۔

“میں بھی دیکھتی ہوں نسیم آخر کیسے تمہارا گھر خوشحال رہتا ہے… “

وہ فون کو دیکھتی شاطرانہ مسکراہٹ لئے بولی۔

~~~~~~~~

“بھیا اب بتائیں میں کیا کروں؟”

وہ فون کان سے لگاےُ ٹہل رہا تھا۔

“تم وہاں مت جاؤ…. یہ فدا حسین کی چال بھی ہو سکتی ہے۔ خطرے سے خالی نہیں یہ۔”

زبیر پرسوچ انداز میں بولے۔

“مجھے بھی شک گزر رہا ہے…. اب کیسے مان گئے اتنی آسانی سے۔”

وہ تشویش سے بولا۔

“مت جانا وہاں اور ان کے اگلے فون کا انتظار کرو… آخر کب تک چھپتے رہیں گے….”

وہ خفا انداز میں بولے۔

“جی بلکل…. کتنا بھاگ لیں گے آنا تو یہاں ہی ہے۔”

عمر کو کچھ ڈھارس ملی۔

“اچھا میں تمہیں تھوڑی دیر میں دوبارہ کال کرتا ہوں… ایک چھوٹا سا کام ہے۔”

وہ گھڑی پر نظر ڈالتے ہوےُ بولے۔

“جی ٹھیک ہے بھیا…. “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“بہت جلد تم یہاں پر ہوگی عائشہ دیکھنا تم بہت جلد…. “

وہ فون بند کرتا خود کلامی کرنے لگا۔

“تمہاری آواز سن کر کچھ تو تسلی ہوئی ہے کہ خیریت سے ہو۔”

وہ فون بیڈ پر اچھالتا جیب میں ہاتھ ڈالے ٹہلنے لگا۔

~~~~~~~~

“مجھے نہیں لگتا وہ عمر آنے والا ہے….. “

فدا حسین یہاں سے وہاں چکر لگا رہے تھے۔

“مجھے بھی کچھ ایسا ہی معلوم ہو رہا ہے…. “

نفیس پرسوچ انداز میں بولے۔

“اگر آنا ہوتا اس نے تو اسی دن آ جاتا… کچھ اور کرنا پڑے گا ہمیں… “

وہ کہتے ہوےُ ان کے ہمراہ بیٹھ گئے۔

“کیا مطلب تمہارا؟”

وہ دائیں آبرو اچکا کر بولے۔

“ایک منٹ…. “

وہ فون کو دیکھتے ہوئے بولے۔

“ہاں بولو زکیہ…. “

وہ فون کان سے لگاتے ہوےُ بولے۔

“بھائی صاحب آپ عائشہ کو اپنے ساتھ لے کر آئیں گے نہ؟”

وہ اپنا خدشہ دور کرنا چاہ رہی تھی۔

“ہاں ہاں تم کیوں پریشان ہوتی ہو…. اسے اپنے ساتھ ہی لے کر آؤں گا۔”

وہ ہنستے ہوےُ بولے۔

“مجھے تو بس یہی فکر کھاےُ جا رہی کہیں آپ اسے عمر کے حوالے نہ کر دیں… بھائی صاحب عامر کا کیا ہوگا؟ جو ابھی تک امید لگاےُ بیٹھا ہے؟”

وہ بیچارگی سے پوچھنے لگی۔

“اس عمر کو تو واپس نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں… “

وہ دانت پیستے ہوےُ کسی اور ہی سوچ میں گم تھے۔

“بس آپ جلدی سے یہ معاملہ نمٹا کر آ جائیں اور میری امانت میرے سپرد کر دیں۔”

وہ مسکرانے لگی۔

“ہاں ہاں آئیں گے جلد ہی…. “

کہتے ساتھ ہی انہوں نے فون بند کر دیا۔

“ہم کورٹ جائیں گے اور عائشہ سے جھوٹا بیان دلوائیں گے تاکہ وہ کیس ختم ہو جاےُ… “

وہ فون رکھتے ہوےُ ناگواری سے بولے۔

“عائشہ کرے گی ایسا؟”

وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتی…. “

وہ برہمی سے کہتے کھڑے ہو گئے۔

اس سے قبل کہ نفیس کچھ بولتے وہ کمرے کی جانب بڑھ گئے۔

وہ سرد آہ بھر کر رہ گئے۔

~~~~~~~~

“مبارک ہو بھئی…. “

ابتسام اسے دیکھتا کھڑا ہو گیا۔

فہد نے مسجد سے نکلتے ہوےُ اس پر نگاہ ڈالی۔

“کس بات کی؟”

چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔

“تمہارا رشتہ پکا ہو گیا…. سنا ہے جلدی شادی کرنے کا ارادہ ہے۔”

وہ اسے گلے لگاتا ہوا بولا۔

“مجھ سے زیادہ خبر تو تمہارے پاس ہے۔”

وہ اس سے الگ ہوتا ہوا بولا۔

“تمہیں اس دنیا کی خبر ہو تب نہ… “

وہ منہ بناتا ہوا بولا۔

“ہاں نہیں ہے مجھے خبر اب اس دنیا کی…. “

وہ سرد آہ بھرتا ہوا بولا۔

“کبھی کبھی مجھے شبہ ہوتا ہے تجھ پر…. “

وہ کہے بنا رہ نہ سکا۔

“تو دوست ہے کہہ سکتا ہے…. تجھ سے زیادہ کون جانتا ہے مجھے؟”

وہ معدوم سا مسکرایا۔

ابتسام نے اس عرصے میں اسے پہلی بار مسکراتے دیکھا تھا۔

“داڑھی بھی بڑی ہو گئی ہے…. کتنے دن کا شوق ہے؟”

وہ ہنس رہا تھا۔

“جب تک معافی نہیں مل جاتی…. “

وہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔

ابتسام خاموش ہو گیا۔

“کیا سچ میں تجھے اتنا پچھتاوا ہے؟”

وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔

“اتنا کہ میں بیان نہیں کر سکتا…. “

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا۔

کچھ تھا اس کی آنکھوں میں کہ ابتسام نے نظروں کا زاویہ موڑ لیا۔

“خیر الله تجھے کامیاب کرے… “

وہ سامنے دیکھتا چلنے لگا۔

فہد نے جواب میں کچھ نہ کہا۔

دونوں خاموشی سے حویلی کی جانب بڑھ رہے تھے۔

باقی کا سفر یونہی خاموشی کی نذر ہوا۔

~~~~~~~~

“میں ایسا نہیں کروں گی… میں کوئی جھوٹا بیان نہیں دوں گی۔”

وہ انہیں دیکھتی قطعیت سے بولی۔

“مجھے لگتا ہے تمہیں اپنے بچے سے بلکل پیار نہیں…. “

وہ چبا چبا کر کہتے اس کے سامنے آےُ۔

عائشہ سہم کر پیچھے ہو گئی۔

“کیا مطلب ہے آپ کا؟”

وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی سعی کر رہی تھی۔

“یہی کہ اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں تمہارے بچے کو زندہ نہیں چھوڑوں گا…. اور اسے ہرگز میری دھمکی مت سمجھنا۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔”

وہ مسکرا کر کہتے کمرے سے باہر نکل گئے۔

عائشہ آنکھوں میں پانی لئے دروازے کو دیکھنے لگی۔

“کیا بس یہی رہ گیا تھا دیکھنے کو؟”

وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولی۔

“اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہیں آپ؟ مجھے تو دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا….”

ضبط کے باوجود اشک پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر آ گرے۔

“ہر روز کوئی نیا تماشہ….. جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے آپ میری؟”

وہ چہرے پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

یکدم اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔

“عمر نے کہا تھا جیسے ابو کہتے ہیں ویسے کرتی جاؤ…. “

وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی ہوئی دھیرے سے بڑبڑائی۔

“ابو کا کوئی اعتبار نہیں وہ جو کہہ رہے ہیں سچ مچ کر گزریں گے…. نہ….نہیں میں اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔”

وہ نفی میں گردن ہلانے لگی۔

“ابو جیسے کہتے ہیں ویسے ہی بولوں گی میں…. يا الله مجھے معاف کر دینا اس جھوٹی گواہی کے لئے… “

وہ ہاتھ اٹھاےُ بول رہی تھی۔

“میں اپنی اولاد کو نہیں کھو سکتی…. مجھے معاف کر دینا… “

وہ اشک بہاتی بول رہی تھی۔

“بس ہمیں واپس اپنے گھر بھیج دے… یہ آزمائش ختم کر دے۔ اب اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ مزید برداشت کر سکوں۔”

آنسو اس کی ہتھیلی پر گرتے تھے۔

~~~~~~~~

“یہ کیس رفع دفع ہو جاےُ تو پھر واپس چلا جاؤں گا…. “

وہ نفیس کے ہمراہ بیٹھتے ہوےُ بولے۔

“اور عائشہ؟”

نفیس سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“عائشہ کو عمر کے حوالے کر دو گے؟”

وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔

“کبھی نہیں…. عمر کے حوالے تو نہیں کروں گا میں۔”

وہ نفی میں سر ہلاتے قطعیت سے بولے۔

“تو پھر؟ عمر نے ایف آئی آر کٹوائی ہوئی ہے گھر کیسے لے جاؤ گے؟”

وہ الجھ گئے۔

“میں نے کب کہا اسے ساتھ لے جاؤں گا؟”

وہ مسکرا رہے تھے۔

“میں اکیلا واپس جاؤں گا…. اسے یہیں چھوڑ جاؤں گا۔”

وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوےُ بولے۔

“یہاں کس کے پاس؟”

وہ سیدھے ہو گئے۔

“تمہارے پاس…. چاہے تو بیچ دینا چاہے تو باہر پھینک دینا۔ جو تمہارا دل کرے کرنا لیکن عمر کے پاس نہیں جانے دینا۔”

بولتے بولتے چہرے پر سختی در آئی۔

نفیس ششدر سے انہیں دیکھنے لگے۔

“ایسے مت دیکھو…. صحیح کہہ رہا ہوں میں پیسے چائیے ہوں تو بیچ دینا ورنہ جو مرضی کرنا میری بلا سے…. “

وہ ناگواری سے بولے۔

“مجھے لگتا ہے کورٹ کا ٹائم ہو گیا ہے ہمیں چلنا ہے…. “

انہیں فدا حسین کی بات ہضم نہ ہوئی تو اٹھ کھڑے ہوےُ۔

“ہاں عائشہ کو بلاتا ہوں میں تم گاڑی نکالو…. “

وہ کھڑے ہوتے ہوےُ بولے۔

نفیس سر اثبات میں ہلاتے باہر نکل گئے۔

گاڑی غیر ہموار راستوں سے گزر رہی تھی۔

فدا حسین آج پچھلی نشست پر بیٹھے تھے۔

راستہ خراب ہونے کے باعث عائشہ کبھی اِدھر کو گر رہی تھی تو کبھی اُدھر کو۔

فدا حسین نے اسے دھکا دیا تو عائشہ کا سر فرنٹ سیٹ سے پشت سے جا ٹکرایا۔

“ابو؟”

آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔

“مرتا بھی نہیں ہے یہ بچہ…. “

وہ ہنکار بھر کر کہتے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔

ایسا دوسری بار ہو رہا تھا اور اب عائشہ کو سمجھ آیا تھا کہ وہ دھکا اس لئے دے رہے تھے کہ شاید اس کے بچے کو کچھ ہو جاےُ۔

شاید اب اسے حیران ہونا چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

عائشہ کا سر گھومنے لگا تھا۔

دماغ میں ہزاروں سوچیں گردش کر رہی تھیں جو مسلسل اسے پاگل کر رہی تھیں۔

“یہ مجھے سچ میں پاگل کر دیں گے…. “

دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔

سکون کی غرض سے اس نے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

فدا حسین کے عزائم سے انجان عائشہ ان کے حق میں بیان دینے جا رہی تھی۔

~~~~~~~~

“کچھ معلوم ہوا عائشہ کے متعلق؟”

وہ اس کے سامنے کھانا رکھتی ہوئی بولیں۔

“جی بلوچستان میں ہی ہے…. اور شاید ٹھیک بھی ہے۔”

عمر ان سے نظریں ملاےُ بغیر بول رہا تھا۔

“الله کرے ٹھیک ہی ہو اور جلد اسے پاس واپس آ جاےُ… “

وہ کہتی ہوئی گلاس میں پانی انڈیلنے لگیں۔

“کھاؤ بیٹا…. “

وہ اسے فون میں مصروف دیکھ کر بولیں۔

“امی بھوک نہیں ہے…. آپ ایسے ہی لے آئیں… “

وہ چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھنے لگا۔

“میں جانتی ہوں… لیکن پھر بھی کھانا پڑے گا۔ ان سب حالات کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر اپنی صحت کا بھی خیال رکھو۔”

وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولیں۔

“اویس جاگ رہا ہے؟”

اس نے یکسر موضوع تبدیل کر دیا۔

“ہاں کھانا دے کر آئی ہوں اسے بھی…. “

وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئیں۔

“میں اسے دیکھ لوں مجھے کچھ کام تھا… “

وہ عذر پیش کرتا اس کے کمرے میں چل دیا۔

نسیم افسردگی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔

“میری تو بس یہی دعا ہے کہ تو جلد از جلد اس گھر کی مشکلیں دور کر دے… “

وہ نم آنکھوں سے دروازے کو دیکھ رہی تھیں۔

“کیسے ہو؟”

عمر اندر آتا ہوا بولا۔

اسے دیکھ کر کچھ معیوب سا لگ رہا تھا ایسا پوچھنا۔

“بہتر ہوں… “

وہ معدوم سا مسکرایا۔

“کل صبح ملتان جانا ہے پٹی کروانے کے لیے۔”

وہ اسے دیکھنے بغیر بول رہا تھا۔

“ٹھیک ہے میں اٹھ جاؤں گا ٹائم سے….”

وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“بھابھی کا کچھ معلوم ہوا؟”

وہ بغور عمر کو دیکھتا ہوا بولا۔

“وہیں ہے…. بھیا نے منع کیا تھا مجھے جانے سے۔ شاید ان کا پلان کچھ اور ہی ہو۔”

وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔

“اس کے بعد کوئی فون نہیں آیا؟”

وہ آبرو اچکا کر بولا۔

“ابھی تک تو نہیں… “

چہرے پر فکر نمایاں تھی۔

اویس جس نے بولنے کے لیے لب وا کئے ہی تھے کہ فون کی رنگ ٹون نے مزید بولنے نہ دیا۔

“میں آتا ہوں…. “

عمر فون دیکھتا باہر نکل گیا۔

~~~~~~~~

“حج صاحب مہ… میں اپنے ابو کو ملنے ان کے گھر آئی ہوئی تھی۔”

عائشہ نے گھبراتے ہوےُ بولنا شروع کیا۔

حج بغور اسے دیکھ رہا تھا۔

“تو میرے سسرال والوں نے اغوا کی ایف آئی آر درج کروا دی۔ اس لئے کیونکہ… “

آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔

“میرے ابو اور میرے دیور اویس کا جھگڑا ہوا تھا…اسی… اسی لئے انہوں نے غلط ایف آئی آر کروا دی۔”

اشک ٹوٹ کر اس کے رخسار پر آ گرے۔

“مہ… مجھے اغوا نہیں کیا کسی نے… “

آنسوؤں کی روانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔