Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 12
Rate this Novel
Ana Parast Episode 12
Ana Parast by Hamna Tanveer
“اب کیا کام تھا؟”
ابتسام دونوں آبرو اچکا کر بولا۔
“میرے کفن دفن کا انتظام کر دے… “
وہ سیگرٹ سلگاتا ہوا بولا۔
“یہ بات تُو اپنے باپ کو کہہ….. مجھے نہیں۔”
وہ ٹیبل پر پاؤں رکھتا ہوا بولا۔
“مجھے بتا میں کیا کروں اب؟”
وہ سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلتا اسے دیکھنے لگا۔
“نکاح کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ مانگا تھا تو نے؟ تب تو میں فری میں مشورہ دے رہا تھا۔”
وہ سخت خفا دکھائی دے رہا تھا۔
“یار اب تو ہو گیا… اب پرانی باتوں کو یاد کر کے کیا کرنا؟”
وہ بے بس دکھائی دے رہا تھا۔
“یا تو کوئی چھوٹی موٹی جاب کر کے زندگی ایسے ہی گزار دے یا پھر خاموشی سے اسے طلاق دے کے گھر بھیج دیں۔”
وہ بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔
“بس یہی دو راستے ہیں…. میرے پاس کوئی مشورہ نہیں ہے کیونکہ یہ وقت ہی نہیں ہے ایسا…. “
وہ برہمی سے گویا ہوا۔
فہد لب بھینچ کر دوسری سمت دیکھنے لگا۔
~~~~~~~~
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
وہ کچن میں آتی ہوئی بولی۔
چہرے پر حیرانی کا عنصر تھا۔
“چاےُ بنا رہا ہوں… “
وہ چولہے کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔
“کس کے لیے؟”
وہ کہتی ہوئی سامنے آ گئی۔
“ایاز ماموں آےُ ہیں نہ…. ان کی بیٹی بھی آئی ہے۔”
وہ رازداری سے کہنے لگا۔
“تو؟”
عائشہ کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“تو کیا میں نے سوچا بیچاری کو چاےُ پلا دوں… “
وہ چہرے پر معصومیت جاےُ اسے دیکھ رہا تھا۔
“عمر…. “
وہ مٹھی زور سے بند کرتی ہوئی بولی۔
“جی عمر کی جان…. “
وہ ان کی ناک دباتا ہوا بولا۔
“آپ سے بات نہیں کروں گی اب میں… “
وہ خفا انداز میں کہتی مڑ گئی۔
“تو پھر میں ثوبیہ سے بات کروں؟”
وہ اس کی کلائی پکڑتا شریر لہجے میں گویا ہوا۔
“امی کو بتاتی ہوں میں…. “
وہ مڑ کر اسے دیکھتی ہوئی بولی۔
“کیا بتاؤں گی امی کو؟”
وہ دوسرے ہاتھ سے آنچ دھیمی کرتا اس کے قریب ہوا۔
“آپ کو کیوں بتاؤں؟”
وہ نروٹھے پن سے بولی۔
“چاےُ تیار ہے…. چھت پر چلیں یا صحن میں؟”
وہ محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
“جس کے لئے بنائی ہے اسی کے ساتھ پئیں… “
وہ ناک چڑھا کر بولی۔
“ہاں تو اسی سے پوچھ رہا ہوں… “
وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“اچھا میرا ہاتھ تو چھوڑیں کوئی آ جاےُ گا۔”
وہ گردن گھماتی دروازے کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں تو آ جاےُ…. بیوی ہو میری۔ پورا حق ہے میرا۔”
وہ مضبوط لہجے میں گویا ہوا۔
“پھر اس کے بعد ہم واک پر چلیں گے؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ٹھیک ہے سرکار…..”
وہ سر کو خم دے کر بولا۔
“اب مجھے چاےُ نکالنے دو… “
وہ کہتا ہوا کپ ٹرے میں رکھنے لگا۔
عائشہ ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھنے لگی۔
“چلیں اب؟”
وہ دروازے کی جانب بڑھتی ہوئی بولی۔
“رکو…. شال لے کر جاؤ…. “
وہ الماری کی جانب بڑھتا ہوا بولا۔
“اتنی بھی سردی نہیں ہے باہر…. “
عائشہ منہ بناتی ہوئی بولی۔
“رات میں ہو جاتی ہے…. “
وہ شال اس کے شانوں پر ڈالتا ہوا بولا۔
“چلیں؟”
وہ مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہاں اب چلتے ہیں… “
عمر اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔
وہ مسرور سی اس کے ہمراہ چلنے لگی۔
ہر سوں خاموشی اور تاریکی کے ڈیرے تھے۔
ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی تھی۔
وہ دونوں خاموش قدم اٹھا رہے تھے۔
“جب میں واپس چلا جاؤں گا تب مجھے یہ واک بہت یاد آنے والی ہے۔”
عمر کے لہجے میں اداسی کا عنصر تھا۔
“آپ ابھی واپس چلے جائیں گے؟”
عائشہ ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں… ابھی تو نہیں۔ ابھی تو مجھے تم دونوں کے ساتھ بہت سا وقت گزارنا ہے۔”
وہ اس کی جانب دیکھتا ہوا مسکرایا۔
“آپ کے ساتھ قدم ملانے کے لئے کتنی مشکلیں دیکھیں تھی ہم نے…. “
وہ ماضی میں پہنچ گئی۔
“اب کچھ بھی برا یاد کرنے کی ضرورت نہیں…. سب ٹھیک ہے بس یہی یاد رکھنا ہے۔”
وہ خفا انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
“چاکلیٹ کھاؤ گی؟”
وہ جیب سے اس کی پسندیدہ چاکلیٹ نکالتا ہوا بولا۔
“کیوں نہیں…. “
وہ اس کے ہاتھ سے لیتی ہوئی بولی۔
پھر سے دونوں کے بیچ گفتگو کرتی خاموشی حائل ہو گئی۔
آسمان کی سیاہ چادر پر ستارے چمک رہے تھے۔
آس پاس گھنے درخت تھے۔ ایسے میں وہ دونوں اس دلکش منظر کا حصہ معلوم ہو رہے تھے۔
“اب کچھ دیر کے لیے بیٹھ جاتے ہیں… “
عمر کی نظر بینچ پر پڑی تو بول اٹھا۔
“آپ تھک گئے ہیں؟”
وہ عمر کو دیکھتی ہوئی بولی۔
عمر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ اس کا خیال کر کے کہہ رہا تھا۔
عمر کسی سوچ میں گم تھا۔
عائشہ چاکلیٹ ختم کر کے اسے دیکھنے لگی۔
اسے دیکھتے ہی شرارت سوجھی۔
وہ عمر کے قریب ہوئی اور اس کی شرٹ سے اپنا منہ صاف کر لیا۔
“یہ کیا؟”
عمر اپنی شرٹ دیکھتا ہوا بولا جہاں چاکلیٹ کا دھبہ لگ چکا تھا۔
عائشہ ہنس رہی تھی۔
“اب میں ایسے گھر جاتی کیا؟”
وہ منہ پھلا کر بولی۔
“اس کا بدلہ لوں گا میں…. “
وہ منہ بناتا ہوا بولا۔
“کیسے لیں گے؟”
وہ دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“پہلے سے تھوڑی نہ بتایا جاتا ہے…. “
وہ اس کے سر پر چت لگاتا ہوا بولا۔
“امی کی کال آ رہی…. گھر چلتے ہیں۔ یقیناً وہ تمہاری فکر میں ٹہل رہی ہوں گیں۔”
وہ کھڑا ہوا اور ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔
“امی بہت اچھی ہیں… “
وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“ہاں اور اب مجھے جلن ہو رہی ہے…. “
وہ رازداری سے بولا۔
عائشہ قہقہ لگاتی سامنے دیکھنے لگی۔
“دیکھنا جب ہمارا بےبی آ جاےُ گا تو میں اسے اپنی طرف کر لوں گا… “
عمر کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“وہ کیوں؟”
عائشہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔
“تاکہ ہم دونوں تمہیں مل کر تنگ کریں…. “
وہ محظوظ انداز میں بولا۔
“کتنے برے ہیں نہ آپ…. “
وہ برا مان گئی۔
“تم پر گیا ہوں نہ… “
وہ اس کے شانے پر بازو رکھتا چلنے لگا۔
عائشہ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔
~~~~~~~~
“پھر سے انڈہ…. “
وہ پلیٹ کو گھورتا ہوا بولا۔
“کچھ اور خریدنے کے پیسے نہیں تھے….”
رانیہ کہتی ہوئی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“تم کھا لو… میرا دل نہیں چاہ رہا۔”
وہ بیزاری سے پلیٹ پرے کرتا ہوا بولا۔
“دوپہر میں بھی نہیں کھایا کچھ آپ نے… “
وہ فکرمندی سے گویا ہوئی۔
“بھوک نہیں ہے…. “
وہ سرد آہ بھرتا ہوا بولا۔
“فہد…. “
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اس کے یوں پکارنے پر بھی فہد نے اس جانب نہیں دیکھا۔ دیکھتا تو شاید کمزور پڑ جاتا۔
“کل سے میں سکول جاؤں گی…. “
وہ پلیٹ کو گھورتی ہوئی بولی۔
“مسئلے ختم نہیں ہوں گے اس سے…. “
وہ مایوس ہو چکا تھا۔
“کم تو ہو ہی جائیں گے…. “
وہ یاس سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کھا کے سو جانا تم…. “
وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں؟”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتی کھڑی ہو گئی۔
“کیا کر رہا ہوں میں؟”
وہ انجان بنتا ہوا بولا۔
“یہی جو کر رہے ہیں…. “
وہ جتانے والے انداز میں بولا۔
“ایسے حالات میں تم کیا چاہتی ہوں میں کیا کروں؟”
وہ چڑ کر بولا۔
“لیکن…. “
اس سے قبل وہ کچھ بول پاتی فہد نے اسے ٹوک دیا۔
“پاگل ہو گیا ہوں میں… اور اب تو لگتا ہے جلد مر ہی جاؤں گا۔”
وہ برہمی سے گویا ہوا۔
“الله نہ کرے…. “
وہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
فہد نے بے رخی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
“پتہ نہیں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں…. “
وہ اس کا ہاتھ پیچھے کرتا چلنے لگا۔
دو موتی رانیہ کے رخسار پر آ گرے۔
“فہد پھر فیصلہ کیوں نہیں لے رہے آپ؟”
وہ بے دردی سے آنسو رگڑتی ہوئی بولی۔
وہ نم آنکھوں سے پلیٹ کو دیکھنے لگی۔
“اب ختم ہو جانا چائیے یہ سب…. “
وہ بھی شاید تھک چکی تھی۔
“ایک ایسے رشتے میں بندھی ہوں جو بنا ہی ٹوٹنے کے لئے ہے…. “
وہ تلخی سے گویا ہوئی۔
“لوگ کس قدر بے حس ہوتے ہیں نہ…. “
وہ زخمی سا مسکرائی۔
“یاسر بلوچ اپنی انا کی آڑ میں کبھی مجھے نہیں اپنائیں گے…. “
وہ پلیٹ اٹھاتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔
“یہ دنیا شاید ایسے ہی انا پرست لوگوں کے لئے ہے۔”
وہ مدھم آواز میں بڑبڑائی۔
نیند اب کہاں سے آنے والی تھی۔
نیند تو شاید کئی راتوں سے خفا تھی اور آگے بھی شاید خفگی برقرار رکھنے والی تھی۔
~~~~~~~~
“امی میں بعد میں کھا لوں گی…. “
عائشہ نے انہیں تسلی دینا چاہی۔
“نہیں میرے سامنے کھاؤ… اگر تم بھول گئی پھر؟”
وہ خفا انداز میں بول رہی تھیں۔
“آپ فکر مت کریں….میں یاد رکھوں گی۔”
عائشہ نے انہیں قائل کرنا چاہا۔
“چلو شاباش جلدی سے شروع کرو… “
وہ اس کی پشت تھپتھپاتی ہوئی بولیں۔
عائشہ منہ بناتی کھانے لگی۔
ان کی محبت دیکھ کر اسے خود پر رشک آتا تھا۔
“میں اویس کے ساتھ ماموں کی طرف جا رہی ہوں… اگر کوئی کام ہو تو مجھے بتا دینا۔”
وہ اسے کھاتے دیکھ کر کھڑی ہو گئیں۔
“جی امی ٹھیک ہے… “
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
کچھ دیر اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ اویس کے ساتھ باہر نکل گئیں۔
“آپ کو دیکھ کر امی کی یاد آنے لگتی ہے…. “
وہ آنکھوں میں نمی لئے بول رہی تھی۔
“کاش امی آپ سے بات ہی ہو جاتی…. “
اشک ٹوٹ کر رخسار پر آگرے۔
“بہت یاد آ رہی ہے آپ کی… کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی میں تو۔”
وہ سسکی۔
“کاش آپ اس دن کی طرح اچانک آ جائیں مجھ سے ملنے….”
وہ آہ بھرتی سامنے دیکھنے لگی۔
“عمر کو نہیں بتاتی میں… مگر یہ دکھ کتنا گہرا ہے میں ہی جانتی ہوں۔ کوئی بھی ایسا دن نہیں ہوگا جب میں نے آپ کو یاد نہ کیا ہو۔”
نمکین پانی اس کے رخسار سے ہوتا گردن تک آ رہا تھا۔
“مجھ سے رابطہ کر لیں امی….. اب نہیں ہو رہا مجھ سے۔”
وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔
“کتنا مشکل ہے یہ…. “
وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
طلحہ کی آواز سنتے ہی وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
عمر فون کان سے لگاےُ ادھر آ نکلا۔
“کس کا فون ہے؟”
وہ گزشتہ پانچ منٹ سے اسے خاموش دیکھ کر پوچھ بیٹھی۔
“کسی کا نہیں… “
وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا۔
“تم دیکھنا عائشہ بہت جلد میرے پاس ہوگی…. “
فدا حسین کی آواز پر عمر چونکا۔
“کیسے؟”
اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“زبیر سے بات ہو گئی ہے میری…. دس لاکھ مانگے ہیں اس نے۔ اور اس کے بعد عائشہ واپس یہاں ہو گی… “
وہ ہنس رہے تھے۔
“میں ایسے مذاق پر یقین نہیں کرتا…. “
عمر قطعیت سے بولا۔
“جس روز میں اسے یہاں لے آؤں گا…. تب یقین آ جاےُ گا۔”
کہتے ہوئے انہوں نے فون بند کر دیا۔
صبیحہ بیگم چاےُ کا کپ رکھتی ہوئی بیٹھ گئیں۔
“مریم سکول کیوں نہیں جاتی؟”
وہ کپ اٹھاتے ہوئے بولے۔
“اس نے پڑھائی چھوڑ دی ہے…. “
وہ افسردہ سی دکھائی دے رہی تھیں۔
“کیوں؟”
ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“کہتی ہے شادی تو کسی ان پڑھ سے ہونی ہے پھر کیا فائدہ پڑھائی کا…. “
وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“اچھا بات ہے…. اور فضا کا بھی سکول بند کر دو۔ کوئی ضرورت نہیں پڑھانے کی انہیں,, سر میں خاک ہی ڈالنی ہے۔”
وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔
“لیکن وہ تو ابھی پانچویں جماعت میں ہے…. “
صبیحہ بیگم متحیر سی انہیں دیکھنے لگیں۔
“زیادہ زبان مت چلاؤ میرے سامنے جاہل عورت…. تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے ہی عائشہ نکل گئی میرے ہاتھوں سے…. “
وہ قہر آلود نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
“میری وجہ سے تو نہیں…. “
وہ آہستہ سے منمنائیں۔
“اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟ دفع ہو یہاں سے…. اور اگر وہ دونوں سکول گئیں تو ٹانگیں توڑ دوں گا ان کی…. “
وہ آگ بگولہ ہوتے ہوئے بولے۔
صبیحہ بیگم نے خاموشی سے جانے میں ہی عافیت جانی۔
“کیا ہوا؟”
عائشہ کھڑی ہو گئی۔
عمر کا سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔
“ابو کا فون تھا نہ؟”
وہ جیسے بھانپ گئی۔
“ہاں… “
وہ پر سوچ انداز میں بولا۔
“مجھے بتائیں پھر کیا کہہ رہے تھے وہ؟”
وہ بے چینی سے گویا ہوئی۔
“کچھ نہیں کہا… “
وہ مسکراتا ہوا بولا۔
عائشہ چند لمحے اس کا چہرہ تکتی رہی۔
“اب تم شکی بیویوں کی طرح تو مت دیکھو… “
وہ برا مان گیا۔
“اچھا چلو میں تمہیں بتاتا ہوں ہم کل کہاں گھومنے جائیں گے… “
وہ اس کا دھیان ہٹانے کو بولا۔
“ویسے کتنا ٹائم ہو گیا نہ کہیں باہر نہیں گئے۔”
وہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہاں… اسی لئے میں نے سوچا کہ تھوڑی آؤٹنگ ہو جاےُ۔”
وہ کمرے کے سامنے آتا ہوا بولا۔
“تم آرام کرو میں ابھی آتا ہوں… “
وہ کہتا ہوا مڑ گیا۔
“جلدی آنا… میں انتظار کر رہی ہوں۔”
وہ کہتی ہوئی اندر چلی گئی۔
“دس لاکھ…. “
عمر نے قہقہ لگایا۔
“اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں یہ سن کر بھیا سے بدگمان ہو جاؤں گا تو آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے…. دس لاکھ کیا آپ بھیا کو دس کروڑ بھی دیں وہ تب بھی ایسا نہیں کریں گے۔”
وہ فون نکالتا خود کلامی کر رہا تھا۔
“یقیناً آپ نے ہمیں تنگ کرنے کے لیے یہ مذاق کیا ہے…. لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔”
وہ نمبر ملاتا ہوا بولا۔
“ہاں ایک ٹیبل ریزرو کروانا تھا مجھے کل کے لیے۔”
وہ فون کان سے لگاتا ہوا بولا۔
“ہر چیز پرفیکٹ ہونی چائیے…. “
وہ تنبیہ کرتا چلنے لگا۔
“ٹھیک ہے… “
اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔
چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ تھی۔
“تمہیں ضرور پسند آےُ گا…. “
وہ کہتا ہوا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
