599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 13

Ana Parast by Hamna Tanveer

“یہ پیسے کہاں سے آےُ تمہارے پاس؟”

وہ اس کے ہاتھ میں نوٹ دیکھتا ہوا بولا۔

“وہ عائشہ ہے نہ اس کے باپ سے لئے ہیں….”

وہ دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی بولی۔

“اس کے باپ نے تمہیں کیوں پیسے دئیے ہیں جمیلہ؟”

وہ قدرے حیران تھا۔

“اسے میں نسیم کے گھر کی خبریں دیا کرتی تھی…. اور ابھی بھی دوں گی تاکہ وہ مزید پیسے دے۔”

وہ پیسے گن کر پرس میں ڈالنے لگی۔

“عمر تمہارے سگے بھائی کا بیٹا ہے… “

انہوں نے شرم دلانا چاہی۔

“مجھے پیسوں سے مطلب ہے…. بہتی گنگا سے ہاتھ کیوں نہ دھوئیں ہم… وہ عائشہ کا باپ تو بیوقوف انسان ہے اسی بہانے ہمیں پیسے ملتے رہیں گے۔”

وہ قہقہ لگاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

~~~~~~~~

“میری آنکھیں کیوں باندھ رکھی ہیں آپ نے؟”

وہ عمر کا ہاتھ پکڑے چل رہی تھی۔

“بس چند قدم اور…. “

وہ آگے دیکھتا ہوا بولا۔

“ہم جا کہاں رہے ہیں؟”

وہ متجسس تھی۔

“سرکار ابھی معلوم ہو جاےُ گا… “

وہ کہتا ہوا رک گیا۔

“پہنچ گئے؟”

عائشہ خوشی سے چہکی۔

“بلکل…. “

عمر نے کہتے ہوےُ اس کی آنکھوں سے سیاہ پٹی ہٹا دی۔

عائشہ تھوڑی تھوڑی آنکھیں کھولے اردگرد دیکھنے لگی۔

یہ جگہ گلاب کے پھولوں کی خوشبو سے معطر تھی۔

چاروں طرف گلاب بکھرے ہوئے تھے۔

دیواریں سیاہ رنگ کی تھی جن پر سرخ روشنیاں ایک فسوں بکھیر رہی تھیں۔

ایک طرف ٹیبل رکھا ہوا تھا۔

سیاہ رنگ کے ٹیبل کو گلابوں سے مزین کیا گیا تھا۔

وہ اس خوابناک ماحول میں کھو سی گئی۔

عمر سیاہ تھری پیس پہنے ہوئے تھے, بال جیل لگا کر کھڑے کر رکھے تھے، شیو معمول کے خلاف قدرے ہلکی تھی جو اسے پر کشش بنا رہی تھی۔

وہ جیب میں ہاتھ ڈالے اپنی زندگی کو دیکھ رہا تھا۔

عائشہ اس وقت سرخ رنگ کی میکسی پہنے ہوئے تھی, سیاہ لمبے بال کمر پر کسی آبشار کی مانند گرے ہوئے تھے, میک اپ کے نام پر صرف لپ اسٹک لگا رکھی تھی, یہ سرخ رنگ اسے حد درجہ دلنشین بنا رہا تھا۔ اردگرد سے بیگانہ وہ پری اسی منظر کا حصہ لگ رہی تھی۔

“عمر… “

وہ کافی دیر بعد جیسے ہوش میں آئی۔

“حکم…. “

وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“یہ سب…. “

وہ دائیں بائیں دیکھتی اسے دیکھنے لگی۔

آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔

“پسند نہیں آیا تمہیں؟”

وہ سیدھا ہو گیا۔

“نہیں… “

وہ کہتی ہوئی آگے آئی۔

“سچ میں؟”

وہ مایوس ہوا۔

“بہت پسند آیا ہے… “

وہ مسکراتی ہوئی بولی۔

“اوہ… مجھے لگا پسند نہیں آیا…. “

وہ سانس خارج کرتا ہوا بولا۔

“ڈنر کریں؟”

وہ ہاتھ سے ٹیبل کی سمت اشارہ کرتا ہوا بولا۔

“ضرور…. “

وہ میکسی سنبھالتی آگے بڑھی۔

عمر نے آگے بڑھ کر چیئر پیچھے کی تاکہ وہ بیٹھ سکے۔

“آئی وش یہ لمحے ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس رہ جائیں…. “

وہ عمر کو دیکھتی ہوئی دل ہی دل میں بولی۔

“نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟”

وہ اس کی نظریں خود پر محسوس کرتا ہوا بولا۔

لب مسکرا رہے تھے۔

“میری مرضی میں چاہے نظر لگاؤں… “

وہ کہنی ٹیبل پر رکھے تھوڑی ہاتھوں پر رکھے ہوئے تھی۔

“اچھا پھر میں ثوبیہ سے اتروا لوں گا….”

وہ لب دباےُ مسکرا رہا تھا۔

“جا کے تو دکھائیں اس کے پاس…. “

وہ گھورتی ہوئی بولی۔

“کیا کرو گی پھر؟”

وہ محظوظ ہو رہا تھا۔

“اس چڑیل کو میں خود دیکھ لوں گی….”

وہ منہ بسورتی ہوئی بولی۔

“مطلب ہم دونوں اسے دیکھیں گے؟”

وہ منہ پر ہاتھ رکھتا اسے دیکھنے لگا۔

“آپ کو گھر سے نکلنے ہی نہیں دوں گی میں… اور عمر آپ ایسے کریں گے میرے ساتھ۔”

وہ خفا انداز میں بولی۔

“نہیں… میں اپنی جان کو کھانا کھلاؤں گا۔”

وہ پلیٹ آگے کرتا ہوا بولا۔

عائشہ کی ساری خفگی ہوا ہو چکی تھی۔

وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی۔

~~~~~~~~

“ٹھیک ہے میں تیار ہوں رانیہ کو چھوڑنے پر…. “

وہ یاسر بلوچ کے سامنے بیٹھا تھا۔

“طلاق دے کر آنا ہم نے یہ کہا تھا…. “

وہ فاتحانہ مسکراہٹ لئے بولے۔

“دے دوں گا طلاق بھی… “

وہ مدھم آواز میں بول رہا تھا۔

“تو پھر یہاں کیا لینے آےُ ہو؟”

وہ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔

“پیسے چائیے…. کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے بسوں میں دھکے کھا رہا ہوں۔”

یاسر بلوچ نے غور سے اسے دیکھا جو کافی علیل معلوم ہو رہا تھا۔

“تمہارا کیا بھروسہ جھوٹ بول رہے ہو… کل کو مکر جاؤ پھر؟”

وہ بے اعتبار دکھائی دے رہے تھے۔

“جاؤں گا کہاں جھوٹ بول کے؟”

وہ ہارے ہوئے انداز میں بولا۔

“رکھو یہ…. اور اب واپس جانے کی ضرورت نہیں پیپرز بھیجوا دو بس۔”

وہ کچھ نوٹ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولے۔

باپ تھے ترس آ گیا جوان بیٹے پر۔

“نہیں… مجھے ایک بار جانا ہوگا۔”

وہ مٹھی بند کرتا ہوا بولا۔

“ٹھیک ہے…. ہم تمہارا انتظار کریں گے۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولے۔

فہد بند مٹھی کو دیکھتا کھڑا ہو گیا۔

“چلتا ہوں… “

وہ ایک نظر ان پر ڈالتا ہوا بولا۔

آج اسے اپنا آپ کسی فقیر کی مانند معلوم ہو رہا تھا جو یہاں سے بھیک لے کر جا رہا تھا۔

“ڈرائیور سے کہو تمہیں چھوڑ آےُ….. جب آنا ہو فون کر دینا لے آےُ گا تمہیں ڈرائیور ہی۔ یاسر بلوچ کا بیٹا بسوں کے دھکے کھاےُ گا تو توہین ہے ہماری۔”

وہ اسے دیکھے بنا بول رہے تھے۔

فہد زخمی سا مسکرایا۔

انہیں اپنے بیٹے کی نہیں اپنی شان و شوکت کی پرواہ تھی۔

“ڈرائیور کے ساتھ ہی جاؤں گا….. “

وہ کہتا ہوا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

“دیر آےُ درست آےُ…. “

وہ خوش دکھائی دے رہے تھے۔

~~~~~~~~

“میں کھا لوں گی خود…. “

وہ اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔

“نہیں… مجھے اپنے ہاتھ سے کھلانا ہے تب تک جب تک میں یہاں ہوں۔”

لہجے میں افسردگی در آئی۔

عائشہ خاموش ہو گئی۔

“تم ریڈی ہو جاؤ ہم باہر چل رہے ہیں…. “

وہ پانی کا گلاس اس کی جانب بڑھاتا ہوا بولا۔

“اب آج کہاں؟”

وہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو بیڈ سے اتر چکا تھا۔

“ایسے ہی کہیں بھی…. “

وہ شانے اچکاتا باہر نکل گیا۔

عائشہ بیڈ سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ اس کے دماغ میں جھماکا ہوا۔

“امی کا نمبر… “

وہ دماغ پر زور ڈالنے لگی۔

کچھ دیر میں اسے نمبر یاد آ چکا تھا۔

“شاید بات ہو جاےُ…. “

وہ کہتی ہوئی نمبر ملانے لگی۔

پہلی بیل, دوسری بیل, بالآخر تیسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔

“ہیلو؟”

صبیحہ بیگم کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

آنسو ٹپ ٹپ اس کے رخسار کو بھگونے لگے۔

“ہیلو… “

پھر سے ان کی آواز سنائی دی۔

“ہیلو امی…. “

اس خوف سے کہ کہیں وہ فون بند نہ کر دیں عائشہ فوراً سے بول اٹھی۔

“عائشہ میری بچی کیسی ہو تم؟”

وہ بھیگی ہوئی آواز میں بولیں۔

“امی میں بلکل ٹھیک ہوں…. آپ کیسی ہیں اور گھر میں باقی سب…. “

لہجے میں بے قراری تھی۔

“ہم سب ٹھیک ہیں… تم خوش ہو نہ اپنے گھر؟”

وہ مدھم آواز میں بول رہی تھیں۔

“جی امی میں بہت خوش ہوں… بس آپ کی یاد آ رہی تھی۔”

وہ غمگین ہو گئی۔

“مجھے بھی تمہاری بہت یاد آتی ہے… میں تو بس تمہارے لئے دعا کرتی رہتی ہوں کہ تم بہت خوش رہو وہاں…. “

وہ آسودگی سے بولیں۔

“مجھے آپ کی دعائیں ہی چائیے…. “

وہ ہلکی پھلکی ہو گئی تھی۔

“ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں…. “

وہ مدھم سا مسکرائیں۔

“اچھا امی میں عمر کے ساتھ ابھی شہر جا رہی ہوں آ کر آپ کو دوبارہ فون کرتی ہوں…. “

گھڑی پر نظر پڑتے ہی اسے وقت کا احساس ہوا۔

“ہاں ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ…. ہم پھر بات کر لیں گے۔”

وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“امی آپ ابو کو تو نہیں بتائیں گیں نہ؟ ورنہ وہ آپ پر غصہ ہوں گے۔”

وہ پریشان سی گویا ہوئی۔

“نہیں نہیں…. مجھے معلوم ہے تمہارے ابو ناراض ہوں گے اس لئے میں ان کے علم میں آنے ہی نہیں دوں گی۔”

وہ رازداری سے بولیں۔

” ٹھیک ہے خدا حافظ…. “

وہ خوشی سے کہتی برقع نکالنے لگی۔

“چلیں؟”

وہ عمر کے سامنے آتی ہوئی بولی۔

آنکھیں چمک رہی تھیں۔

“بلکل سرکار…. میں آپ کے انتظار میں تھا۔”

وہ بولا تو لب دم بخود مسکرانے لگے۔

“آج ہم کہاں جائیں گے؟”

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔

“ایسے ہی کسی پارک میں یا پھر جہاں میری جان کہے گی۔”

وہ سٹیرنگ سنبھالتا اسے دیکھتا ہوا بولا۔

“جگہ سے فرق نہیں پڑتا آپ ساتھ ہیں تو کہیں بھی لے جائیں….”

وہ اس کے شانے پر سر رکھتی ہوئی بولی۔

عمر نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔

“میں نے امی سے بات کی…. “

یکدم اسے خیال آیا تو بول اٹھی۔

“کب؟”

عمر سپاٹ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔

“ابھی تھوڑی دیر پہلے… “

آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔

“اچھی بات ہے….”

وہ معدوم سا مسکرا کر کہتا سپیڈ بڑھانے لگا۔

“میں نے انہیں منع کر دیا کہ ابو کو مت بتائیں….خواہ مخواہ کوئی مسئلہ کھڑا کر دیں گے۔”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“بہت اچھا کیا میری جان نے… “

وہ نظریں سڑک پر جماےُ ہوےُ تھا۔

~~~~~~~~

“تم دیکھنا دس لاکھ لے کر وہ خود عائشہ کو یہاں چھوڑ کر جاےُ گا…. “

وہ مسکراتے ہوئے بول رہے تھے۔

“کون؟”

صبیحہ بیگم کا سمجھی سے انہیں دیکھنے لگیں۔

“وہ زبیر…. اور کون… “

وہ یہاں سے وہاں ٹہل رہے تھے۔

“آپ کیوں نہیں چھوڑ دیتے ان لوگوں کو؟”

وہ تنگ آ کر بولیں۔

“میرا سکون تباہ کر رکھا ہے اس عمر نے…. جب تک میں عائشہ کو واپس یہاں لے نہیں آتا مجھے چین نہیں ملے گا۔”

وہ مٹھیاں بند کرتے ہوئے بولے۔

“آپ معاف کر دیں ان دونوں کو… آپ کہیں گے تو وہ معافی بھی مانگ لیں گے۔لیکن یہ عداوت ختم کر دیں۔”

وہ التجائیہ انداز میں بولیں۔

“ایسے کیسے ختم کر دوں…. اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا۔ سمجھتا کیا ہے یہ عمر خود کو…. “

وہ ہنکار بھر کر کہتے چلنے لگے۔

“کیوں اپنی ہی بیٹی کے دشمن بن گئے ہیں آپ؟”

وہ ششدر تھیں۔

“میں نے پہلے ہی آگاہ کیا تھا اس کو… کہ اگر اس نے شادی کر بھی لی تو اس کا گھر آباد نہیں ہونے دوں گا میں…. اسی بستی میں مرے گی وہ چاہے کچھ بھی کر لے۔”

وہ سرخ انگارہ بنی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

“سارے زمانے میں مجھے بدنام کر کے چلا گیا وہ…. “

وہ دانت پیستے ہوےُ بولے۔

“بدنام تو آپ خود ہو رہے ہیں…. ہر شخص کو بتانے بیٹھ جاتے ہیں جو بھی آتا ہے…. لوگ ایسی باتوں کے اشتہار تو نہیں لگاتے۔”

وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

“کیوں نہ بتاؤں میں؟ سب کو بتاؤں گا کہ اس نے کِیا کیا ہے میرے ساتھ۔”

وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئے۔

صبیحہ تاسف سے دروازے کو دیکھنے لگیں۔

“شاید یہ کبھی نہیں بدلیں گے…. “

وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بیڈ کو گھورنے لگیں۔

~~~~~~~~

“فہد اتنی دیر لگا دی آپ نے…. “

وہ اسے دیکھتی خفا انداز میں بولی۔

“ہاں آج کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی…. “

وہ کھوےُ کھوےُ انداز میں بولا۔

“چاےُ بناؤں آپ کے لیے؟”

وہ کچن سے باہر نکلتی ہوئی بولی۔

“ہاں دو کپ بناؤں… دونوں ساتھ پئیں گے۔”

وہ قدم اٹھاتا ہوا بولا۔

“ٹھیک ہے میں ابھی بناتی ہوں… “

وہ مسکرا کر کہتی واپس کچن میں آ گئی۔

فہد بھی کچن میں آ گیا۔

سلیب سے ٹیک لگا کر وہ بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔

“سب اتنا مشکل ہے…. لیکن اس کے ماتھے پر ایک شکن تک نہیں۔”

وہ الجھ کر اسے دیکھ رہا تھا۔

“آپ کمرے میں کیوں نہیں گئے… “

وہ گیس آن کرتی اسے دیکھنے لگی۔

“آج تمہیں دیکھنے کا دل چاہ رہا ہے… “

وہ غمگین دکھائی دے رہا تھا۔

“آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟”

وہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔

“ہاں ٹھیک ہے…. “

وہ اس کا نرم گداز ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا۔

“تمہیں پتہ ہے نہ مجھے تمہارے یہ موٹے موٹے ہاتھ بہت پسند ہیں,,, تم کام کرتی رہو گی تو یہ خراب ہو جائیں گے اور میں ایسا نہیں چاہتا… “

وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لئے اپنی ہی دھن میں بولتا جا رہا تھا۔

“نہیں خراب ہوں گے… دیکھیں ابھی تک ویسے ہی ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔”

وہ آنچ دھیمی کرتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔

“لیکن میں پھر بھی نہیں چاہتا تم یہ سب کام کرو…. “

فہد کا سر جھکا ہوا تھا۔

“تم میری پہلی اور آخری محبت ہو… “

وہ چہرہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔

رانیہ مسکرا رہی تھی۔

“جانتی ہوں…. “

وہ اس کے مفہوم سے انجان بول اٹھی۔

“ہمیشہ میری ہی رہو گی نہ؟”

وہ اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتا ہوا بولا۔

“آپ کی ہوں تو آپ ہی کی رہوں گی نہ….”

وہ برا مان گئی۔

“میری محبت کسی اور کو تو نہیں دو گی؟”

وہ لاشعوری طور پر بولتا جا رہا تھا۔

“کیا ہو گیا ہے؟ آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں؟”

اس کا دل ہول اٹھا۔

“چاےُ باہر گر جاےُ گی…. “

وہ چولہے کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا۔

رانیہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا اور چولہا بند کرنے لگی۔

فہد چند لمحے اپنے خالی ہاتھ تکتا رہا۔

“ایسا ہی ہونے والا ہے…. “

وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھا۔

“پتہ نہیں زندگی کیسے چلے گی…. “

وہ اسے دیکھ رہا تھا جو چاےُ کپ میں انڈیل رہی تھی۔

“ٹیرس پر چل کر پیتے ہیں… “

وہ اسے ٹرے اٹھاےُ دیکھ کر بولا۔

رانیہ اس میں تبدیلی محسوس کر رہی تھی۔

آج وہ اس کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔

وہ اداس دکھائی دے رہا تھا یا شاید بیمار۔ رانیہ فیصلہ نہ کر پائی۔

“تمہیں پتہ ہے تم دنیا کی بیسٹ بیوی ہو…. “

وہ اس کے ہاتھ سے کپ لیتا ہوا بولا۔

“آج اتنی تعریف…. “

وہ کہتی ہوئی اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔

“نہیں کر سکتا کیا؟”

وہ رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔

“میں آپ کو منع کر سکتی ہوں کیا؟”

اس نے الٹا سوال داغا۔

فہد کے لب مسکرانے لگے۔

“اتنی محبت ہے مجھ سے…. “

وہ سپ لیتا ہوا بولا۔

“شاید اس سے بھی زیادہ…. مجھے نہیں معلوم کتنی ہے۔”

وہ شانے اچکاتی ہوئی بولی۔

آج آسمان اتنا پر رونق دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کہیں کہیں دور دور ستارے نظر آ رہے تھے جو اس تاریکی کو چیرنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ آج مہتاب بھی بادلوں کی اوٹ میں تھا۔ ہوا میں خنکی کچھ بڑھ گئی تھی۔

“تمہیں سردی تو نہیں لگ رہی؟”

وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔

“نہیں… “

ہلکی سی سرگوشی سنائی دی۔

فہد نے سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا۔

~~~~~~~~~

وہ دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے چل رہے تھے۔

پارک میں اکا دکا لوگ دکھائی دے رہے تھے۔

“عمر…. “

عائشہ سر جھکاےُ چل رہی تھی۔

“جی عمر کی جان… “

وہ اپنے اُسی انداز میں بولا۔

“نظر اتارنے کا سوچ رہی ہوں میں… “

وہ ہنستی ہوئی بولی۔

“کس کی؟ میری؟”

وہ جواباً ہنسا۔

“ہاں جی…. ایسے کہیں میری نظر ہی نہ لگ جاےُ۔”

وہ منہ پر ہاتھ رکھے مسکراہٹ دبا رہی تھی۔

“ایک تمہاری نظر نہیں لگ سکتی مجھے… ہاں البتہ ثوبیہ کی ضرور لگ سکتی۔”

عمر کو شرارت سوجھی۔

“آپ کو ثوبیہ بہت یاد آتی ہے…. “

وہ چڑ کر بولی۔

عمر دلچسپی سے اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔

“کیا ہے نہ…. “

“عمر میرے چاچو… “

اس سے قبل کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا عائشہ نے اسے ٹوک دیا۔

“انہوں نے ہمیں دیکھا تو نہیں… “

وہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔

“مجھے نہیں لگتا…. “

عائشہ کی نگاہیں انہی پر تھیں جن کا چہرہ فلحال دوسری سمت تھا۔

“ہمیں ان کی نظروں میں آےُ بغیر نکلنا ہوگا یہاں سے…. “

وہ الٹے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔

“ہاں ٹھیک ہے…. “

وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔