599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 2

Ana Parast by Hamna Tanveer

“چلو اب جلدی ورنہ ڈانٹ پڑے گی سر سے….”

عائشہ گھورتی ہوئی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔

حنا منہ بسورتی اس کے عقب میں چلنے لگی۔

~~~~~~~~

“کس کو سوچ رہے ہو؟”

ابتسام اس کے ہاتھ سے سیگرٹ لیتا ہوا بولا۔

“شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے لیکن تمہارا تو دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں اس سے….”

وہ جی بھر کے بد مزہ ہوا۔

“دراصل ساری تجھ میں آ گئی نہ تو میرے لئے بچی ہی نہیں… “

وہ معصومیت سے کہتا سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔

فہد ٹراؤذر کے ساتھ گرے ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا,, بال ماتھے پر منتشر تھے, گندمی رنگ پر بڑھی ہوئی شیو غضب ڈھا رہی تھی۔

“بکواس کروا لو تم سے بس… “

وہ ہنکار بھر کر دوسری سیگرٹ سلگانے لگا۔

“گریجویشن ہوگیا رانیہ کا؟”

ابتسام ٹانگ پے ٹانگ چڑھاتا ہوا بولا۔

“ہاں…”

مختصر سا جواب آیا۔

“تیرے والا حال تو نہیں؟”

ابتسام کا قہقہ سنائی دیا۔

فہد نے گھورنے پر اکتفا کیا۔

“سامیہ آئی تھی آج…. عجیب بیوقوف سی لڑکی ہے۔”

چند پل کی خاموشی کو فہد نے توڑا۔

“اوہ تمہاری منگیتر…. “

ابتسام کے لہجے میں شوخی تھی۔

“کوئی منگیتر نہیں ہے وہ میری…. خود ہی کہتی رہتی ہے سب کو۔ گواہ لے کر آےُ نہ۔”

وہ کش لیتا ہوا بولا۔

سرمئی دھواں ہوا میں معلق ہو گیا۔

ایش ٹرے بھر چکا تھا لیکن فہد کی ٹینشن جوں کی توں برقرار تھی۔

“ہاں تو ٹینشن کیا ہے؟ وہ تو اکثر آتی ہے۔”

ابتسام الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔

“رانیہ کا سوچ رہا تھا۔”

وہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔

“تو بھی جانتا ہے اچھے سے کہ جو سوچ رہا نا ممکن ہے۔”

وہ ٹیک لگاتا ہوا بولا۔

کمرے میں سیگرٹ کی بو زور پکڑ چکی تھی۔

“اگر ایسا فضول ہی بولنا کے تو وہ دروازہ ہے سامنے جا سکتا ہے تو… “

وہ جو پہلے ہی فکرمند تھا ابتسام کی بات پر مزید پریشان ہو گیا۔

“اچھا مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ دروازہ وہاں ہے…. “

وہ خفگی سے بولا۔

“کھانے میں کیا بنا ہے؟”

فہد نے موضوع تبدیل کیا۔

“تیرے گردے… “

وہ کہاں سنجیدہ ہونے والا تھا۔

“اٹھ….دفع ہو…. عزت راس نہیں تجھے۔”

وہ تپ کر کہتا اسے بازو سے پکڑ کر دروازے تک لا چکا تھا۔

“تیری صحبت کا اثر ہے میرا کیا قصور؟”

وہ مظلومیت سے کہتا باہر نکل گیا۔

اپنے عقب میں اسے زور سے دروازہ بند کرنے کی آواز سنائی دی۔

فہد دروازے سے ٹیک لگائے سامنے کھڑکی کو گھورنے لگا۔

“پتہ نہیں کیا ہوگا… “

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بستر پر گر گیا۔

~~~~~~~~

“امی میری پاکٹ منی؟”

عائشہ بیگ شانے پر ڈالے انہیں دیکھ رہی تھی۔

“بند ہے اب سے… جب تک تم میری بات سمجھ نہیں جاتی۔”

وہ تلخی سے گویا ہوئیں۔

“امی ایک چھوٹی سی بات کیوں سمجھ نہیں آ رہی آپ کو؟”

وہ جھنجھلا کر بولی۔

“تمہیں کیوں سمجھ نہیں آتا جب جانتی ہو کہ تمہارے ابو برادری سے باہر تمہارا رشتہ نہیں کریں گے پھر کیوں فضول کی ضد کر رہی ہو؟”

وہ کہتی ہوئیں کھڑی ہو گئیں۔

“وہ کوئی غیر تو نہیں ہیں آپ کے رشتے دار ہیں پھر کیا برائی ہے اس رشتے میں؟”

عائشہ نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔

“میری ماں مت بنو تم… جو کہا ہے مان لو وہی اور بھول جاؤ عمر کو ایسا کبھی نہیں ہوگا۔”

بولتے بولتے چہرے پر سختی در آئی۔

“کاش امی آپ صحیح کے ساتھ کھڑی ہوتیں تو میں بھی آپکی بات مان لیتی…”

وہ تاسف سے دیکھتی الٹے قدم اٹھانے لگی۔

“تمہیں شرم آنی چائیے ایسی باتیں کرتے ہوئے….دو چھوٹی بہنیں ہیں تمہاری کیا اثر پڑے گا ان پر؟”

اب کی بار انہوں نے طریقہ بدلا۔

“امی میں نے کچھ غلط نہیں کیا نہ ہی غلط مانگ رہی ہوں… اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے تو پھر آپ لوگ کیوں نہیں؟ ہماری محبت بہت پاک ہے بہت… صرف ایک بار دیکھا ہے عمر نے مجھے,,,جو عزت وہ مجھے دیں گے یہ ان پڑھ لوگ نہیں دے سکتے۔ یہاں کے لوگوں کی جہالت سے آپ بھی اچھے سے واقف ہیں۔”

وہ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو گئی۔

اس سے قبل کہ وہ مزید کچھ بولتی صبیحہ بیگم کے تھپڑ نے اس کے الفاظ کا گلا گھونٹ دیا۔

وہ دائیاں ہاتھ رخسار پر رکھے نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔

“اپنی جان عزیز ہے نہ تو یہ بے جا ضد چھوڑ دو… اور جاؤ کالج دیر ہو رہی ہے۔”

وہ ناگواری سے گویا ہوئیں۔

تکلیف ان کے تھپڑ نے نہیں لہجے نے دی تھی۔

عائشہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

“کچھ تو کرنا پڑے گا ورنہ یہ لڑکی مجھے یونہی تنگ کرتی رہے گی… “

وہ پرسوچ انداز میں کہتیں باورچی خانے کی سمت چل دیں۔

“کیا ہوا تمہیں؟”

حنا ہق دق سی اسے دیکھ رہی تھی۔

سرخ انگارہ بنی آنکھیں اپنی داستاں آپ سنا رہی تھیں۔

“کچھ نہیں… “

وہ نظریں چراتی آگے چل دی۔

“یار بتاؤ تو… “

وہ متفکر سی بولی۔

“میں نہیں کر سکتی کسی اور سے شادی… میں کیسے سمجھاؤں امی کو مجھے سمجھ نہیں آتا… “

وہ سر جھکائے بولتی جا رہی تھی۔

“کیا آج پھر سے کچھ ہوا ہے؟”

حنا اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہی تھی۔

“میرے بس میں نہیں ہے۔ میں عمر سے محبت کرنا ترک نہیں کر سکتی,, میرا اختیار نہیں ہے۔ میں بہت مجبور ہوں چاہ کر بھی نہیں کر سکتی ایسا…. “

وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔

“اچھا تم پریشان مت ہو…. کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے تم پہلے واش روم چل کر منہ دھو لو… ایسے سب کو معلوم ہو جاےُ گا۔”

وہ اس کا شانہ تھپتھپاتی ہوئی بولی۔

عائشہ سر ہلاتی اس کے ہمراہ چلنے لگی۔

~~~~~~~~

“آج پھر تم آئی ہو؟”

وہ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھیں۔

“ثناء بی بی نے بلایا تھا… “

جھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔

“تمہارا یہاں روز روز آنا جانا مجھے بلکل پسند نہیں…”

وہ تلخی سے کہتی چلنے لگی۔

رانیہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔

“میں اپنی مرضی سے تو نہیں آئی نہ… “

وہ منمناتی ہوئی چلنے لگی۔

“اتنی دیر کیوں لگا دی تم نے؟”

وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔

“و…وہ… “

رانیہ مناسب عذر تلاش کرتی اندر آ گئی۔

“اچھا خیر چھوڑو…. لو اب بناؤ میری پریکٹیکل کی کاپی۔”

وہ اس کے سامنے کتابیں رکھتی ہوئی بولی۔

“رکو… “

اس سے قبل کہ رانیہ کتاب اٹھاتی ثناء بول اٹھی۔

“جی؟”

وہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔

“ہاتھ دھو کر آؤ پہلے… اور نہا کر آئی ہو نہ تم؟”

وہ ناگواری سے اس کا جائزہ لے رہی تھی۔

رانیہ کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

“جی…”

وہ کہہ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔

“جلدی بنانا… ویسے تم اتنی اچھی ڈائیاگرامز کیسے بنا لیتی ہو؟”

وہ صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھی۔

رانیہ کتابیں لے کر زمین پر بیٹھ چکی تھی۔

“مجھے بچپن سے ہی شوق تھا… “

وہ محو سے انداز میں بولی۔

“ویسے مجھے بلکل بھی نہیں پسند یہ…”

وہ ناگواری سے کہتی لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگی۔

رانیہ خاموشی سے اپنا کام کرنے لگی۔

“کیا میں اپنے ساتھ گھر لے جاؤں؟ ابھی بہت کام باقی ہے؟”

رانیہ فکرمند سی گھڑی کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“گھر… پتہ نہیں اچھے سے صاف کرتے بھی ہو گے یا نہیں,,, سمیل بھی ہوتی ہوگی…نہ.. نہیں تم گھر مت لے جاؤ کل دوبارہ آ جانا اور یہاں میرے سامنے بنانا۔”

وہ نیل پینٹ اٹھاتی ہوئی بولی۔

“ٹھیک ہے میں آ جاؤں گی… کہاں رکھنا ہے ان کتابوں کو؟”

وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔

“وہاں ریک میں رکھ دو… “

ثناء آنکھیں چھوٹی کئے اپنے ناخن کو گھور رہی تھی جس پر ابھی اس نے نیل پینٹ لگائی تھی۔

“میں چلتی ہوں… “

وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔

وسیع راہداری میں دوپہر کے اس وقت کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

رانیہ پر سوچ انداز میں چلتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی۔

~~~~~~~~~

“جیسے آپ کہیں گے وہ بلکل ویسے ہی کرے گی…. “

صبیحہ بیگم بوکھلاہٹ کا شکار تھیں۔

“نہیں نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔”

انہوں نے مسکراتے ہوئے تلخی کم کرنا چاہی۔

“اچھا ٹھیک ہے….خدا حافظ۔”

جبراً مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا۔

“عائشہ کس مصیبت میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے…. “

وہ ہنکار بھرتی کمرے سے باہر نکل آئیں۔

“تم دعا کرنا میرے پیپرز اچھے ہو جائیں… “

عائشہ اپنے دھیان بیٹھی بول رہی تھی۔

“آپی آپ فکر نہ کریں دیکھنا بہت اچھے نمبر آئیں گے آپ کے…. “

مریم نے مسکراتے ہوئے تسلی دی۔

عائشہ بس مسکرا کر رہ گئی۔

“عائشہ بات سنو میری… “

مریم کو دیکھ کر وہ کچھ نرم پڑیں۔

“جی آتی ہوں… “

وہ اپنی کتابیں بند کرتی کھڑی ہو گئی۔

“جی امی؟”

وہ کمرے میں آتی ہوئی بولی۔

“تمہارے ابو کا فون تھا…. جانتی ہو کتنا غصہ کر رہے تھے عثمان نے تمہارا رشتہ مانگا ہے ان سے۔”

وہ رک کر اسے دیکھنے لگیں۔

عائشہ کا بجھا ہوا چہرہ یکدم کھل اٹھا۔

“پھر؟”

وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی اپنے تاثرات نارمل رکھنے کی سعی کرنے لگی۔

“دیکھو میری بچی…. مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے عمر پڑھا لکھا ہے سعودیہ میں اچھا کماتا ہے پھر خوبصورت شکل و صورت کا مالک ہے۔ لیکن تم جانتی ہو نہ اپنے ابو کو وہ کسی صورت برادری سے باہر تمہارا رشتہ نہیں کریں گے۔”

وہ اس کے ہاتھ پکڑے نرمی سے کہنے لگیں۔

“تو پھر آپ منائیں ابو کو….وہ اتنے اچھے رشتے کو رد کر کے ایسے انسان سے میرا رشتہ کرنا چاہتے ہیں جس میں سرے سے کوئی اچھائی موجود نہیں ہے۔ میں کبھی بھی خوش نہیں رہ سکوں گی کسی اور کے ساتھ۔”

بولتے بولتے آواز بھرا گئی۔

“تمہارے لئے میں کوشش کروں گی… وہ پاکستان آئیں گے تو پھر ان سے بات کروں گی۔ لیکن تب تک تمہیں انتظار کرنا ہوگا اور کوئی ایسی حرکت نہیں کروں گی جس سے مجھے شرمندگی ہو۔”

وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔

“ٹھیک ہے امی…. “

وہ نم آنکھوں سے مسکرانے لگی۔

عائشہ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

“مجھے امید ہے اسی طرح ابو بھی راضی ہو جائیں گے جیسے آپ مان گئیں ہیں۔”

وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتی ہوئی کمرے میں آ گئی۔

ڈائری نکالی اور قلم لے کر بیٹھ گئی۔

“عمر میں بہت خوش ہوں…. میں جانتی تھی تم اپنا کہا ضرور پورا کرو گے۔ آج میرے دل میں تمہارے لئے محبت اور عزت اور بھی بڑھ گئی ہیں۔”

آنسو رخسار سے ہوتے ہوئے صفحے پر گر رہے تھے۔

“تم نے جو کہا وہ کیا بھی… میں جانتی تھی تم میرا مان نہیں توڑو گے اور اسی طرح ایک دن ابو بھی مان جائیں گے…. “

“بس میری دعا ہے جلد ہی یہ سب ہو جاےُ…. تم سے دور رہنا کتنا مشکل ہے میں بتا نہیں سکتی۔ ایک ایک لمحہ بھاری لگتا ہے۔ گھڑی تو مانو رک گئی ہے جیسے چلتی ہی نہیں ہے۔”

وہ ڈائری بند کرتی دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی۔

“میری دعائیں ضرور قبول ہوں گی مجھے یقین ہے…. اور ایک دن ہم ساتھ ہوں گے۔”

وہ ڈائری کو دیکھتی مسکرانے لگی۔

~~~~~~~~

“آئم سوری بھیا… “

عمر نادم سا ان کے سامنے کھڑا تھا۔

“تم سوری کیوں بول رہے ہو؟”

زبیر نے مسکرا کر ٹالنا چاہا۔

“میری وجہ سے آپ کو اتنا سب سننا پڑا… وہ ساری باتیں جو انکل نے کہیں میں نے سن لیں تھیں۔”

“کوئی بات نہیں… تم پریشان مت ہو۔”

وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکراےُ۔

“مجھے بہت برا لگ رہا ہے بھیا میری وجہ سے…. “

“بس اب مزید کچھ نہیں بولو گے تم… جو بھی کہا تم بھول جاؤ۔ تم میرے بھائی ہو تمہارے لئے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں میں۔”

وہ اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولے۔

عمر کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی۔

“تھینک یو سو مچ بھیا… مجھے نہیں پتہ نہیں کیسے۔”

“تم مجھ سے اب غیروں والی باتیں کرو گے؟”

وہ اس کی بات کاٹتے خفگی سے بولے۔

“مجھے سمجھ نہیں آ رہا…. “

وہ لاچاری سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

“تم پریشان مت ہو…. الله بہتر کرے گا۔”

زبیر مسکراتے ہوئے بولا۔

“آپ شاید کہیں جا رہے تھے؟”

وہ ان کے ہاتھ میں چابی دیکھ کر بولا۔

“ہاں کچھ کام تھی بس اسی کے لئے…. پھر میں آ کر تم سے بات کرتا ہوں اس متعلق۔”

وہ اس کا شانہ تھپتھپاتے چل دئیے۔

“ٹھیک ہے… “

آواز قدرے مدھم تھی۔

“آپ جیسا بھائی ملنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ اتنا سب سننے کے بعد بھی ماتھے پر ایک شکن تک نہیں آپ کے….”

وہ نم آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔

“انکل نے تو منع کر دیا ہے…. اب کیسے ہوگا یہ سب؟”

وہ متفکر سا بولا۔

“پتہ نہیں تمہیں کچھ علم ہے بھی یا نہیں اس بارے میں۔”

وہ کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔

براؤن ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک ٹراؤذر پہنے, بال معمول کے خلاف منتشر تھے۔

وہ داڑھی مسلتا کچھ سوچ رہا تھا۔

اس بکھرے بکھرے سے حال میں بھی وہ خاصا دلکش معلوم ہو رہا تھا۔

“مجھے جلد از جلد تم سے بات کرنی ہے… لیکن آج تو شاید ممکن نہیں۔”

وہ گھڑی پر نظر ڈالتا ہوا بولا۔

“کل تم کالج جا کر ہی رابطہ کر سکو گی مجھ سے… “

وہ سامنے دیوار کو گھورتا خود کلامی کر رہا تھا۔

“پتہ نہیں کیسے ہوگا یہ سب… “

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔

یہی ایک فکر اسے تب سے کھاےُ جا رہی تھی۔

کچھ سوچ کر عمر نے جیب سے فون نکالا۔

فون خاموش تھا۔

“آہ… یہ انتظار کتنا مشکل ہوتا ہے!!! “

وہ سر صوفے کی پشت پر گراتا ہوا بولا۔

آنکھیں بند کیں تو عائشہ کا سراپا گھوم گیا۔

وہ اک پل جس پل میں اس نے اپنا دل کھویا تھا۔

ایک ہی بار دیکھا تھا اس نے اسے اور وہی چہرہ آنکھوں میں لئے بیٹھا تھا۔

وہ بند آنکھوں سے مسکرانے لگا۔

~~~~~~~~

گرمیوں کی خاموش دوپہر ہر سو چھائی ہوئی تھی۔

اس تپتی دھوپ نے سب کو کمروں تک محدود کر دیا تھا۔

ہوا پتوں کو تنگ کرتی سرسراہٹ پیدا کر رہی تھی۔

حویلی کے گیٹ کے پاس کھڑے یہ ہرے بھرے درخت دھیرے دھیرے سرگوشیاں کر رہے تھے۔

رانیہ دم سادھے ان پتوں کو دیکھ رہی تھی جو ذرا سی ہوا کے چلنے سے حرکت کرنے لگتے۔

اپنے عقب میں اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔

چند پل وہ دم سادھے باہر دیکھتی رہی پھر دھیرے سے مڑی۔

فہد کو دیکھ کر اس کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔

“آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا… “

وہ لمبا لمبا سانس لینے لگی۔

“تم مجھ سے ملے بغیر جا رہی تھی؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے گھور رہا تھا۔

“میں تو کام سے آئی تھی… “

جھٹ سے جواب آیا۔

“ہو تو بہت معصوم جواب تو تیار ہوتے تمہارے پاس ہمیشہ….”

وہ خفگی سے دیکھ رہا تھا۔

“میں نے کب جواب دئیے آپ کو؟”

وہ معصومیت سے اسے دیکھنے لگی۔

“مار ڈالو گی ایک دن ایسے ہی مجھے… “

وہ سینے پر ہاتھ رکھتا مسرور سا بولا۔

“الله نہ کرے… “

آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔

“اتنا ڈرتی ہو؟”

وہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔

“ایسی باتیں کوئی کرتا ہے؟”

وہ برا مان گئی۔

“اچھا پھر کیسی باتیں کرتے ہیں تم بتاؤ؟”

وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوا بولا۔

وائٹ پینٹ, وائٹ شرٹ کے ساتھ چیک والا کوٹ پہنے وہ پرکشش دکھائی دے رہا تھا۔ بھورے بال ماتھے پر گرا رکھے تھے۔ بھوری آنکھیں اس پر جمی تھیں۔

“مجھے کیا پتہ… “

وہ آہستہ سے بولی۔

سیاہ سادہ سی شلوار قمیص کے ساتھ جامنی دوپٹہ اس پر جچ رہا تھا۔

گھنی پلکوں کی چادر بار بار اٹھتی اور گرتی۔

“اچھی لگ رہی ہو… “

لب دم بخود مسکرانے لگے۔

“اچھا میں جاؤں اب؟”

وہ مسکراہٹ دبانے کی ممکن سعی کر رہی تھی۔

“تم بلش کر رہی ہو؟ اوپر دیکھو مجھے دیکھنا ہے….”

وہ اشتیاق سے اس کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا۔