599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 19

Ana Parast by Hamna Tanveer

نادیہ خاموش مگر شکوہ کناں نظروں سے حماد کو دیکھنے لگی۔

“ٹھیک ہے آپ فکر مت کریں ہم کرتے ہیں کچھ…. “

حماد نے بات سنبھالنا چاہی۔

“کچھ بھی کرو مگر اس بچے کو ختم کر کے مسئلہ ختم کرو…. تاکہ وہ عمر سے خلع لے سکے ہمیں نہیں ضرورت اس بچے کی۔”

وہ سفاکی سے بولے۔

عائشہ کے لب کپکپانے لگے۔

“آپ کو تو میری بھی ضرورت نہیں ہے… آپ کو تو بس اپنی انا کی تسکین چائیے پھر چاہے اس کے عوض کسی کی جان ہی کیوں نہ چلی جاےُ…. “

وہ شکایتی انداز میں کہتی کمرے میں آ گئی۔

“اویس پتہ نہیں کس حال میں ہوگا…. میری وجہ سے اسے اتنا مارا…. “

وہ ندامت کے احساس میں گھر چکی تھی۔

“ابو آپ کیوں سب کی پرسکون زندگیاں تباہ کرنے پر تلے ہوےُ ہیں….باقی سب نہیں تو کم از کم اپنی بیٹی کو ہی دیکھ لیں میں خوش ہوں اپنے گھر… لیکن آپ کو اس بات سے کہاں فرق پڑتا ہے۔”

بولتے بولتے وہ تلخ ہو گئی۔

“آپ کو تو بس اپنی ضد نظر آتی ہے باقی سب جائیں جنہم میں… “

نمکین پانی تسلسل کے ساتھ بہتا ہوا گردن تک آ رہا تھا۔

“آپ کچھ بھی کر لیں ابو میں اپنی اس معصوم جان کو کچھ نہیں ہونے دوں گی…. آپ بے حس ہو سکتے ہیں مگر میں نہیں, میں کسی شرط پر بھی آپ کی بات نہیں مانوں گی۔”

وہ مضبوط لہجے میں گویا ہوئی۔

عائشہ خاموش ہو چکی تھی اب تو اس کے آنسو بھی خشک ہو چکے تھے۔

لیکن اب وہ کمزور دکھائی نہیں دے رہی تھی ایک مضبوط عورت دکھائی دے رہی تھی جسے اپنی اولاد کی بقا کے لئے لڑنا تھا۔

~~~~~~~~

وہ گزشتہ پانچ منٹ سے خاموشی سے اس کا چہرہ تک رہا تھا۔

آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔

عمر نے ایک سرد آہ بھری۔

“یہ کیا ہو گیا…. “

وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا دھیرے سے منمنایا۔

“قصور کسی کے اور سزا تمہیں…. بہت غلط ہوا یہ اویس….”

وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولے۔

“معاف کر دینا مجھے… میری وجہ سے تم آج اس حال میں ہو۔”

وہ کرب سے اسے دیکھ رہے تھے۔

اویس کی حالت سے اس کی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔

“معاف کر دینا اپنے بھائی کو…. “

چہرہ جھک گیا۔

آواز پہلے سے بھی مدھم ہو گئی۔

“فدا حسین یہ آپ نے اچھا نہیں کیا…. بلکل اچھا نہیں کیا۔”

وہ مٹھیاں بھینچ کر بولا۔

نگاہیں اوپر کی تو ان میں لہو دوڑتا دکھائی دے رہا تھا۔

گردن کی رگیں تنی ہوئی تھیں۔

“بھائی…. “

اویس آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہا تھا۔

“اویس… “

وہ گردن گھما کر اسے دیکھنے لگا۔

“کیسے ہو تم؟”

عمر جھجھک کر کہتا نظریں چرا گیا۔

“ٹھیک ہوں… آپ کیسے ہو؟”

وہ معدوم سا مسکرایا۔

“ٹھیک… “

مختصر سا جواب آیا۔

“بھابھی کا کچھ معلوم ہوا؟”

وہ آنکھوں میں سوال لئے اسے دیکھ رہا تھا۔

“فلحال تو نہیں… “

درد کی ایک لہر اٹھی تھی۔

“آئم سوری بھائی….. میں بھابھی کو بچا نہیں سکا… وہ… “

“تم سوری کیوں بول رہے ہو؟ سوری تو مجھے بولنا چائیے کہ تمہارے ساتھ یہ سب ہو گیا… “

وہ اس کی بات مکمل ہونے سے قبل بول پڑا۔

اویس کا سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔

“تم زیادہ سوچو مت, آرام کرو…. اور دوبارہ ایسی بات کبھی مت کرنا۔میں پھر آؤں گا۔”

وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“ٹھیک ہے… “

وہ مدھم آواز میں بولا۔

“ٹھیک ہے علی…. پھر میں چلتا ہوں۔”

وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولے۔

علی انہیں دیکھ کر دروازے میں ہی رک گیا۔

“ہاں بلکل آپ جائیں…. میں اویس کے پاس ہوں۔ آپ فکر مت کریں۔”

وہ مسکرا رہا تھا۔

“بہت شکریہ…. “

وہ تشکرانہ نظروں سے دیکھتا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

جاتے جاتے مڑ کر ایک نظر اویس پر ڈالی۔

سفید پٹیوں کی نظر پڑی تو آنکھیں بھر آئیں۔

کرب سے آنکھیں میچ کر وہ باہر نکل گیا۔

“کچھ لاؤں تیرے لیے؟”

علی اس کے پاس آتا ہوا بولا۔

“نہیں یار…. “

وہ آہستہ سے گویا ہوا۔

وہ چند لمحے اپنے اس دوست کو دیکھنے لگا جو گزشتہ روز سے یہاں تھا۔ جسے نہ دن کی پرواہ تھی نہ رات کی۔

آنکھوں کی سوجن نیند نہ لینے کی چغلی کھا رہی تھیں۔

اویس کا سر بھاری ہو رہا تھا۔

اس نے آنکھیں موند لیں۔

کب وہ نیند کی آغوش میں گیا اسے خود بھی علم نہ ہوا۔

~~~~~~~~

“تم دونوں مناؤ اب عائشہ کو…. کہ وہ یہ بچہ گرا دے اور عمر سے طلاق لے۔”

وہ باری باری دونوں کا چہرہ دیکھنے لگے۔

زکیہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جبکہ صبیحہ کے چہرے پر پریشانی کی لکریں نمایاں تھیں۔

“جاؤ اب دیر مت کرو…. مجھے جلد از جلد سارے معاملات طے کرنے ہیں۔”

وہ خفا انداز میں بولے۔

صبیحہ نا چاہتے ہوےُ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“امی…. “

عائشہ انہیں دیکھتی کھڑی ہو گئی۔

“کیسی ہو میری بچی؟”

وہ اسے سینے سے لگاتی ہوئی بولیں۔

“پتہ نہیں امی…. لیکن ٹھیک نہیں ہوں اتنا جانتی ہوں۔”

وہ چاہ کر بھی آنسوؤں پر بندھ نہ باندھ سکی۔

“تم بیٹھ جاؤ اِدھر… “

وہ اسے بٹھاتی ہوئی ساتھ بیٹھ گئی۔

زکیہ پر نظر پڑتے ہی عائشہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔

اسے نفرت محسوس ہو رہی تھی اس عورت سے۔ جس نے اس کی زندگی تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

“بیٹا تمہارے ابو چاہتے ہیں تم عمر سے طلاق لے لو… “

صبیحہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔

“جا کر بتا دیں انہیں میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔”

اسے شاید ایسی ہی توقع تھی ان سے۔

آخر کو اپنے شوہر کا ساتھ ہی دینا تھا انہیں۔

“تم یہ بچہ گرا دو عائشہ…. پھر ہم تمہیں واپس لے جائیں گے تم عامر کے ساتھ بہت خوش رہو گی بہت مان کے ساتھ لے جاؤں گی تمہیں… “

زکیہ سامنے کرسی پر براجمان ہوتی ہوئی بولیں۔

عائشہ نے حقارت بھری نظر ان پر ڈالی۔

“خدا کا واسطہ ہے آپ کو میری جان چھوڑ دیں…. میں اپنے سسرال میں بہت خوش ہوں پتہ نہیں اتنی بے حسی آپ لوگ لاےُ کہاں سے ہیں۔ میرے بچے نے کیا بگاڑا ہے آپ کا جو سب اس کی جان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔اس معصوم کو کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟”

وہ انہیں گھورتی ہوئی پھٹ پڑی۔

کب تک اور کتنا برداشت کرتی۔ انسان تھی وہ بھی اور اب چیزیں اس کی برداشت سے باہر ہو رہی تھیں۔

“آرام سے….. “

صبیحہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

“مجھے کہا جا رہا ہے اپنے بچے کو مار دوں اور آپ کہہ رہی ہیں آرام سے۔ کیسی مائیں ہیں آپ دونوں؟”

وہ تاسف سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

“آپ قتل کر سکتی ہیں اپنی اولاد کا؟”

وہ زکیہ کو آڑے ہاتھوں لیتی ہوئی چلائی۔

“آپ کو کہا جاےُ آپ کریں گی ایسا؟ تو پھر مجھ سے کیوں یہ توقع رکھی جا رہی ہے؟”

وہ صبیحہ کو دیکھتی پیچھے ہو گئی۔

آنسو لڑی کی صورت میں بہنا شروع ہو گئے تھے۔

“مجھے آپ دونوں سے کوئی بات نہیں کرنی….جائیں یہاں سے۔”

وہ دروازے کی سمت ہاتھ سے اشارہ کرتی سرد لہجے میں گویا ہوئی۔

“تم تو سمجھنے کو تیار ہی نہیں ہو…. تمہارا باپ تمہارا بھلا سوچ رہا ہے۔ عامر ایک بہترین انتخاب ہے تمہارے لئے….ہمت تو دیکھو کب سے آس لے کر بیٹھا ہے وہ آج بھی خوشی خوشی اپنانا چاہتا ہے تمہیں….”

زکیہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“آپ لوگ میرا بھلا سوچنے کی زحمت مت کریں…. مجھ سے دور رہیں تو بہتر ہوگا۔”

وہ وارن کرنے والے انداز میں بولی۔

آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں۔

“بیٹا میں مجبور ہوں تمہارے ابو کی وجہ سے… “

صبیحہ کہتی ہوئی سر جھکا گئی۔

“خدارا مجھے اکیلا چھوڑ دیں…. نہ میں اپنے بچے کو کچھ ہونے دوں گی نہ ہی عمر سے خلع لوں گی جا کر بتا دیں اپنے شوہر کو۔”

وہ نا چاہتے ہوےُ بھی تلخ ہو گئی۔

زکیہ منہ بسورتی باہر نکل گئی۔

صبیحہ نے ایک افسردہ نگاہ اس کے سراپے پر ڈالی اور اٹھ کر چلی گئی۔

“حماد تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا…..میں یہ نہیں کر سکتی۔ جب میں جانتی ہوں اس کی جان چلی جاےُ گی تو پھر کیسے ان کی بات مان لوں؟”

وہ ہق دق سی اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

“ابو کے قریبی دوست ہیں تم کون سا واقف نہیں ہو… انکار کیسے کر دیں؟”

وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“تمہیں انکار کرنا کٹھن لگ رہا ہے تو میں کر دیتی ہوں لیکن میں کسی کا خون نہیں کروں گی نہ ہی کسی معصوم کی جان لوں گی۔”

وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے کہتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

کچھ سوچ کر اس نے عائشہ کے کمرے کا رخ کیا۔

“پاگل ہو جاؤں گی میں… “

وہ سر تھامے سرگوشی کر رہی تھی۔

دماغ کی رگیں مانو ابھی درد سے پھٹ جائیں گیں۔

“عائشہ…. “

وہ نرمی سے کہتی اندر آئی۔

وہ اشکوں سے تر چہرہ لئے انہیں دیکھنے لگی۔

نادیہ کو جی بھر کر اس پر ترس آیا۔

“اگر آپ کو بھی… “

“نہیں میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گی تم سے…. “

وہ اس کی بات کا مفہوم سمجھ کر اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی۔

“تم فکر مت کرو میں تمہارا ابارشن نہیں کروں گی…. “

وہ اس کے ساتھ بیٹھ چکی تھی۔

نادیہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دینا چاہی۔

“آپ پلیز اپنے ہزبینڈ کو منع کر دیں کہ وہ خلع کے پیپرز مت بنائیں…. میں نہیں الگ ہونا چاہتی عمر سے۔ یہ سب میرے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں۔مہ.. میں بہت خوش ہوں اپنے سسرال میں۔”

وہ ان کے ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔

“تم پریشان مت ہو….”

اس سے زیادہ اس کے پاس تسلی بخش الفاظ موجود نہ تھے۔

“یہ کون سی جگہ ہے؟ پلیز مجھے بتائیں مجھے اپنے گھر فون کرنا ہے۔”

وہ التجائیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“بلوچستان ہے یہ… “

وہ کچھ سوچ کر بولی۔

“مطلب ہم پنجاب سے باہر ہیں… “

وہ بے یقینی سے گویا ہوئی۔

“ہاں تم پنجاب کی حدود سے باہر ہو… “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“مجھے فون مل سکتا ہے؟ پلیز مجھے گھر فون کرنا ہے مجھے انہیں آگاہ کرنا ہوگا۔” پلیز آپ کو الله کا واسطہ…. “

وہ یاس سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

“میں ساری زندگی آپ کا یہ احسان نہیں بھولوں گی… پلیز مجھے فون دے دیں۔ مہ.. مجھے بس تھوڑی سی بات کرنی ہے مجھے بتانا ہے انہیں پلیز… “

وہ اشک بہاتی بول رہی تھی۔

“ٹھیک ہے… تم بات کر لو اپنے گھر والوں سے… “

اسے ترس آ رہا تھا عائشہ کی اس حالت پر۔

عائشہ کی نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے فون پر ٹھہر گئی جو وہ آگے کئے ہوئے تھی۔

~~~~~~~~

وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہی تھی۔

سر کا درد بڑھتا جا رہا تھا۔

“کیا مسئلہ ہے اب یہ…. “

وہ سر پکڑتی کوفت سے بولی۔

“یہ کلر تم پر بہت سوٹ کرتا ہے… بلکہ مجھے تو سارے کلر ہی اچھے لگتے ہیں تم پر… “

وہ چہرے پر مسکراہٹ سجاےُ اسے دیکھ رہا تھا۔

“جھوٹ بول رہے ہیں نہ؟”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی۔

“میں کیوں جھوٹ بولوں گا؟”

فہد کا منہ کھل گیا۔

“پھر؟”

وہ مسکرا رہی تھی۔

“بلکل سچ ہے…. شہزادی ہو تم میری۔”

رانیہ نے مٹھی زور سے بند کر لی۔

“دور ہو جائیں مجھ سے…. نکل جائیں میرے دماغ سے, دل سے… کیوں پیچھا نہیں چھوڑ دیتے میرا۔”

وہ یادوں کو جھٹکتی ہوئی بولی۔

“بس کر دیں…. میں تھک گئی ہوں۔ لیکن آپ کے نقش نہیں مٹا پا رہی۔”

وہ ہارے ہوئے انداز میں زمین پر بیٹھ گئی۔

“کچھ بھی نہیں بھولتا مجھے…. کچھ بھی نہیں۔”

وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“جتنا بھولتی ہوں اتنا شدت سے یاد آتے ہیں…. آہ یہ غم میری جان لے لے گا۔”

وہ سسکیاں لیتی بول رہی تھی۔

“کیوں سکون نہیں میرے پاس… “

وہ اپنے دونوں ہاتھ دیکھنے لگی۔

کچھ سوچ کر وہ اٹھی اور باورچی خانے کی سمت چل دی۔

واپس آئی تو دوپٹے میں چھری چھپا رکھی تھی۔

“لوگ کہا کریں گے کہ تھی ایک رانیہ جسے محبت راس نہ آئی…. “

وہ دائیں ہاتھ میں چھری پکڑے اپنی بائیں کلائی دیکھ رہی تھی۔

“محبت ہر کسی کے بس کی بات نہیں… اور یہ بات مجھے بخوبی سمجھ آ گئی ہے۔”

اس کی آنکھوں میں خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔

“آپ نے کہا تھا یہ محبت کسی اور کو مت دینا…. تو فہد دیکھ لیں میں اپنے آخری دم تک آپ کا نام لے رہی ہوں,,, میری سانسیں آج بھی آپ ہی کے نام پر چل رہی ہیں لیکن اب میں ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں۔”

وہ چھری الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔

“میں اپنی آخری سانسوں میں بھی آپ ہی کو پکار رہی ہوں آپ ہی کو یاد رکھا ہے۔”

ایک زخمی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔

“رانیہ صرف آپ کی ہے…. “

کہہ کر اس نے چھری کلائی پر رکھ دی۔

دونوں آنکھیں بند کیں اور چھری چلا دی۔

درد کی ایک لہر اس کے رگ و پے پر سرایت کر گئی۔

لیکن یہ درد اسے اس درد سے کم لگا جس سے وہ اب تک گزر رہی تھی۔

خون فوارے کی مانند اس کی کلائی سے بہنے لگا۔

“محبت ہر کسی کو راس نہیں آتی…. “

وہ فرش پر سرخی مائل خون کو دیکھتی ہوئی مسکرائی۔

سانس اکھڑنے لگا تھا۔

آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔

وہ مسکرا رہی تھی, اس کے بعد رانیہ سانس نہ لے سکی۔

سر زمین پر گر چکا تھا۔

سانس کی ڈور ٹوٹ چکی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کی اذیتوں کی مدت بھی تمام ہو چکی تھی۔

اسے سکون چائیے تھا جس کی تلاش میں اس نے زندگی سے منہ موڑ لیا۔

~~~~~~~~

“امی یہ مجھے بلوچستان لے آےُ ہیں… “

وہ فون کان سے لگاےُ بے تابی سے بولی۔

“بیٹا عمر آ گیا ہے لو تم بات کرو اس سے….”

وہ فون عمر کی جانب بڑھاتی ہوئی بولی۔

“عمر… عمر پلیز مجھے لے جائیں یہاں سے… “

وہ کہتی ہوئی رازوقطار رونے لگی۔

عائشہ کے آنسو عمر کے دل پر گر رہے تھے۔

“پلیز تم مت رو… میں تمہیں لے جاؤں گا وہاں سے… پلیز رونا بند کرو عائشہ۔”

وہ کمزور پڑ رہا تھا۔

“عمر یہ مجھے آپ سے دور کرنا چاہتے ہیں پلیز جلدی آ جائیں… مجھے لے جائیں یہاں سے… “

وہ اپنی ہی رو میں بولتی جا رہی تھی۔

“ٹھیک ہے… تم پلیز پریشان مت ہو میں آ رہا ہوں۔ تم میرا انتظار کرو میں تمہیں بہت جلد لے آؤں گا وہاں سے۔”

وہ پُرعظم لہجے میں گویا ہوا۔

“آپ بس جلدی آ جائیں…. “

وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔

فون بند ہو چکا تھا۔

“ہیلو… عائشہ… “

عمر اسے خاموش پا کر گویا ہوا۔

“بند ہو گیا ہے…. “

وہ لب بھینچ کر نسیم کو دیکھنے لگا۔

“چلو یہ تو معلوم ہو گیا کہ وہ کہاں ہے اب تم جلدی کرو جو بھی کرنا ہے۔ پتہ نہیں میری بچی کس حال میں ہوگی۔”

نسیم متفکر سی بولیں۔

“جی میں جاتا ہوں پولیس اسٹیشن…. “

وہ سر اثبات میں ہلاتا دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

~~~~~~~~

“امی عائشہ راضی ہوئی یا نہیں؟”

وہ متجسس تھا۔

“نہیں بھئی…. اتنی آسانی سے کہاں مانے گی وہ بہت ہی ہٹ دھرم ہے۔”

زکیہ فون کان سے لگاےُ بول رہی تھی۔

“تو پھر کب مانے گی وہ؟”

وہ مایوس ہوا۔

“آج یا کل میں قائل کر ہی لیں گے اسے….تم فکر مت کرو شادی اسی سے کروائیں گے تمہاری۔”

وہ کہتی ہوئی مسکرانے لگیں۔

فدا حسین کو دیکھ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

“کوئی مثبت جواب؟”

وہ دائیں آبرو اچکا کر بولے۔

“بہت ہی ضدی ہے…. نہ خلع کے لئے مان رہی ہے نہ بچہ ضائع کروانے پر… “

وہ ہنکار بھرتی ہوئی بولیں۔

“میں چاہتا ہوں سب کچھ یہاں سے ہی ختم کر کے یہ ہمارے ساتھ گھر چلے۔ خیر ابھی وقت ہے تم دونوں بہنو کے پاس اسے قائل کرو… “

وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہے تھے۔

“ہاں کوشش تو کریں گے ہی… “

وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

“مجھے نتیجہ چائیے… اسی لئے تم دونوں کو بلایا ہے۔ وہ صبیحہ کدھر ہے؟”

بولتے بولتے چہرے پر ناگواری در آئی۔

“پتہ نہیں… “

وہ لاعلمی سے شانے اچکاتی ہوئی بولی۔