599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 8

Ana Parast by Hamna Tanveer

“چلو شہر چلتے ہیں۔گھر کچھ دن بعد جائیں گے۔”

وہ اس کے سامنے ہاتھ پھلاتا ہوا کھڑا ہو گیا۔

رانیہ کبھی اس کے ہاتھ کو دیکھتی تو کبھی اس کے چہرے کو۔

فہد منتظر نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

رانیہ نے جھجھکتے ہوےُ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

“پریشان مت ہو….”

وہ اسے دلاسہ دیتا چلنے لگا۔

وہ اس کے چہرے کو دیکھتی اس کے ہمراہ چلتی جا رہی تھی۔

“جتنا آسان آپ سمجھ رہے ہیں یہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔”

وہ دل ہی دل میں فہد سے مخاطب تھی۔

~~~~~~~~

“ایسے تو ایک دن وہ بھی آ جاےُ گا جب ابو زبردستی میرا نکاح اختر سے کر دیں گے…. “

وہ بلی کے جلے پیروں کی مانند یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی۔

“مجھے عمر سے بات کرنی ہیں… انہیں بتانا ہے سب۔”

بے چینی ہی بے چینی تھی۔

“کیسے بات کروں عمر سے؟ کیسے انہیں بتاؤں؟”

دو موتی آنکھ سے ٹوٹ کر اس کے رخسار پر آ گرے۔

وہ تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔

ڈائری نکالی اور لکھنے لگی۔

“عمر یہ وقت انتہائی کٹھن ہے,,, ایک تو آپ اتنے دور ہیں دوسرا یہ نکاح…. “

آنسو ڈائری پر گرنے لگے۔

“آپ کی آواز سنے اتنے دن ہو گئے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ سن ہی نہیں رہی میں…. بہت یاد آ رہے ہیں آپ عمر…. “

اشکوں نے آنکھوں کے سامنے منظر کو دھندلا دیا۔

عائشہ دوپٹے سے آنکھیں رگڑنے لگی۔

“عمر دیکھو زندگی کیسے کیسے آزماتی ہے… امی نے میری یونی اکیڈمی سب بند کر رکھا ہے۔ میرے لئے تو ایک ایک پل گزارنا مشکل ہے۔”

وہ سوں سوں کرتی لکھتی جا رہی تھی۔

“کل اور پرسوں ابو نے مجھے پھر مارا… میرے منہ سے خون نکل رہا تھا لیکن پھر بھی وہ نہیں رکے۔ بہت مارا مجھے,, آپ سے رابطہ نہیں ہو رہا تو اسی لئے سب اس ڈائری میں لکھتی جا رہی ہوں۔”

وہ قلم رکھ کر انگلی سے سوجھے ہوئے ہونٹ کو چھونے لگی۔

“سی…. “

تکلیف کے احساس کے ساتھ ہی اس نے انگلی ہٹا لی۔

“پتہ نہیں یہ کیسا امتحان ہے…. “

وہ ڈائری بند کرتی ہوئی بڑبڑائی۔

~~~~~~~~

“عمر واپس سعودیہ چلا گیا ہے… میں تو کہتی ہوں یہی صحیح وقت ہے۔ عائشہ کا نکاح کر دیں تاکہ عمر سے جان چھوٹ جاےُ آپ کی۔”

اسپیکر پر جمیلہ کی آواز گونج رہی تھی۔

“ہاں بات تو درست ہے…. وہ فوراً سے تو واپس نہیں آےُ گا اب… “

فدا حسین پرسوچ انداز میں بولے۔

“میری نسیم سے بھی بات ہوئی تھی بتا رہی تھی اب جلدی نہیں آ سکے گا وہ ویزے کا کچھ مسئلہ ہے۔”

وہ رازداری سے بول رہی تھیں۔

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے…. میں سمجھ گیا ہوں۔”

وہ اثبات میں سر ہلانے لگے۔

“اور ہاں میرے پیسے بھیجوا دینا…. انتظار کر رہی تھی میں۔”

وہ مدعے پر آئی۔

“ہاں کل مل جائیں گے تمہیں تمہارے پیسے… “

کہتے ساتھ ہی انہوں نے فون بند کر دیا۔

“لالچی عورت…. “

وہ فون کو گھورتے ہوےُ بڑبڑاےُ۔

“عمر کا بھوت اس کے سر سے اترا یا نہیں؟”

صبیحہ بیگم الماری کے سامنے کھڑی تھیں۔

“ایسے کہاں اترے گا… ابھی بھی اسی کے لئے روتی رہتی ہے۔”

وہ تاسف سے بولتی کپڑے نکالنے لگیں۔

“اس کا کھانا پینا بند کر دو…. دو دن میں عقل ٹھکانے آ جاےُ گی اور اگر تم نے اس پر ترس کھانے کی سعی کی تو دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔”

وہ خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“نہ… نہیں میں کیوں حمایت کرنے لگی اس کی۔”

انہوں نے جلدی سے تصحیح کی۔

“جاؤ روٹی لے کر آؤ… “

وہ فون کو دیکھتے ہوئے بولے۔

وہ کام چھوڑ کر باہر نکل گئیں۔

~~~~~~~~

فہد رانیہ کا ہاتھ پکڑے حویلی میں داخل ہوا۔

طلعت بیگم جو ملازمہ پر برس رہی تھیں فہد پر نظر پڑتے ہی اس کی جانب گھومی۔

آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔

“یہ کیا بیہودہ حرکت ہے؟”

وہ ناگواری سے دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔

“ابو کہاں ہیں؟”

فہد ان کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا بولا۔

“تمہارے ابو…. “

وہ کہہ کر عقب میں دیکھنے لگیں۔

یاسر بلوچ پیشانی پر بل ڈالے اِدھر ہی آ رہے تھے۔

“یہ سب کیا ہے؟”

وہ دونوں کو دیکھتے ہوئے غراےُ۔

“ابو میں نے نکاح کر لیا ہے رانیہ سے…. “

چہرے پر خوف کا شائبہ تک نہ تھا۔

“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟ عقل ٹھکانے پر ہے؟”

وہ ناگواری سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔

“یہی سچ ہے… “

وہ شانے اچکاتا ہوا رانیہ کو دیکھنے لگا جو مجرموں کی مانند سر جھکائے کھڑی تھی۔

” تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا؟”

انہیں آج اس کی عقل پر شبہ ہو رہا تھا۔

“اس میں دماغ خراب ہونے والی کیا بات ہے ابو؟”

وہ چہرہ دوسری جانب موڑتا انہیں دیکھنے لگا۔

“ابھی طلاق دو اس لڑکی کو,, اور پھینک کر آؤ وہیں جہاں سے اٹھا کر لاےُ ہو…. “

وہ طیش میں آ کر چلاےُ۔

“ابو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے نکاح اس لئے نہیں کیا…. “

وہ متحیر سا انہیں دیکھنے لگا۔

“تم جانتے نہیں کیا؟ ہم ایسی کم ذات لڑکی کو اپنے گھر کی بہو نہیں بناتے….میں یہاں تمہیں یاد دہانی نہیں کروانے والا,,,طلاق دو اور فارغ کرو اس لڑکی۔”

وہ ہنکار بھر کر دوسری سمت دیکھنے لگے۔

رانیہ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔

“میں اسے طلاق نہیں دوں گا…. “

وہ رانیہ کا ہاتھ چھوڑتا ان کی جانب بڑھنے لگا۔

“ایسی نیچ لڑکی کو ہم اپنی بہو بنا لیں؟ بیٹا باپ کو مت سکھا کیا کرنا ہے…. “

وہ تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھ رہے تھے۔

“اور تم بے حیا لڑکی,,,میرے بیٹے پر ڈورے ڈالتے ہوئے ذرا شرم نہ آئی تمہیں؟”

طلعت بیگم اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتی ہوئی چلائیں۔

“امی چھوڑیں اسے… “

وہ اِدھر آتا رانیہ کی بازو آزاد کرواتا ہوا بولا۔

“اپنے بیٹے کو یہ بات اپنے طریقے سے سمجھا دو گی تو بہتر ہوگا ورنہ میرے پاس بہت سے طریقے ہیں ان کے عشق کے بھوت اتارنے کے۔”

وہ تنبیہ کرتی نگاہوں سے طلعت بیگم کو دیکھ رہے تھے۔

اس سے قبل کہ وہ کچھ بول پاتیں,, یاسر بلوچ تیز تیز قدم اٹھاتے باہر نکل گئے۔

“کیا چاہتے ہو تم فہد تمہارا باپ اس عمر میں مجھے بھی گھر سے نکال دے تمہارے ساتھ؟”

وہ اس کی بازو پکڑتی ہوئی چلانے لگیں۔

“آپ لوگ اتنا ہائیپر کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا یہ انسان نہیں ہے؟ خوبصورت بھی ہے….اور کیا چائیے آپ کو؟”

وہ تنک کر بولا۔

“اس لڑکی کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ بیٹھے اور تم اس گھر کی بہو بنانے کی بات کرتے ہو… کمال ہے۔”

وہ مسکراےُ بنا رہ نہ سکی۔

“امی خدا کے واسطے سمجھائیں ابو کو… میں نہیں چھوڑ سکتا رانیہ کو,, وہ محبت ہے میری۔”

فہد دونوں شانوں سے انہیں پکڑے نرمی سے کہنے لگا۔

“اگر ایسا ہے تو چند دن رکھ لو اپنے ساتھ اسے… لیکن آخر میں تم کو طلاق ہی دینا ہے یہ بات جتنی جلدی سمجھ جاؤ گے تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔ اس حویلی میں اس گھٹیا لڑکی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے جہاں لے کر جانا ہے جاؤ لیکن یہاں نہیں۔”

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھیں۔

فہد کی آس ٹوٹ گئی۔

طلعت نے فہد کے ہاتھ ہٹاےُ اور قدم اٹھاتی ان سے دور ہو گئی۔

“تم پریشان مت ہو…. ایک دو دن میں ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جاےُ گا… “

فہد اس کے آنسو دیکھتا اس کی جانب بڑھا۔

“مجھے معلوم تھا ایسا ہی کچھ ہوگا… “

وہ دونوں ہاتھوں سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔

“چلو… فلحال ہم یہاں نہیں رک سکتے….”

وہ اس کا ہاتھ پکڑے باہر کی جانب چلنے لگا۔

رانیہ خاموشی سے اس کے ہمراہ چلنے لگی۔

اب تو اس کا ہر راستہ اسی کے ساتھ تھا خواہ وہ کانٹوں کا ہو یا پھولوں کا۔

~~~~~~~~

“صبح تمہارا نکاح ہے اختر کے ساتھ…. تم مانو یا نہ مانو لیکن ہم یہ نکاح کریں گے۔”

صبیحہ بیگم اس کے سامنے آتی ہوئی بولیں۔

“امی یہ کیا مذاق ہے؟”

وہ ششدر سی ان کا چہرہ تک رہی تھی۔

“بیٹا تمہارے ابو کا فیصلہ ہے یہ,,,میں کچھ نہیں کر سکتی۔”

وہ سرد آہ بھر کر رہ گئیں۔

“میں کیسے ایک ایسے انسان سے شادی کر لوں؟ اس میں کتنے عیب ہیں کیا آپ نہیں جانتیں؟اس کی عمر دیکھیں نہ وہ پڑھا لکھا ہے کیا اس دن کے لئے مجھے پڑھا رہے تھے آپ لوگ؟ وہ شادی شدہ ہے امی… “

وہ انہیں بازوؤں سے پکڑتی ہوئی بولی۔

بولتے بولتے آواز مدھم ہو گئی۔

“تمہارے ابو نے زبان دے رکھی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا… نکاح کا وقت بھی مقرر ہو چکا ہے۔”

جھکا ہوا سر مزید جھک گیا۔

“مجھے یہ نکاح کسی صورت منظور نہیں…”

وہ چند قدم پیچھے ہوئی۔

آنکھیں غم اور بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھیں۔

“تمہیں اپنے ابو کی بات ماننی ہوگی بیٹا… اچھی بیٹیاں یہی کرتی ہیں۔”

انہوں نے اپنی سی کوشش کی۔

عائشہ نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔

“کیا آپ لوگوں کے لئے ایک اچھی بیٹی وہی ہے جو اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دے؟ جب اسلام نے اجازت دی ہے کہ لڑکی سے اس کی مرضی پوچھی جاےُ تو پھر یہ معاشرہ کیوں ہم سے یہ حق چھین لیتا ہے؟”

بولتے بولتے دو موتی اس کے گال پر آ گرے۔

“یہ باتیں ختم کرو….اور تیاری کرو تم وقت گزرا جا رہا ہے۔”

وہ پریشان سی گویا ہوئیں۔

“میں یہ نکاح نہیں کروں گی سن لیں آپ بھی…. “

وہ چاہ کر بھی چلا نہ سکی۔

“بیوقوفی کی باتیں مت کرو… تمہیں یہ نکاح کرنا ہی ہوگا,,پڑھائی تمہاری ہوگی رخصتی بعد میں کریں گے۔”

وہ منہ پھیر کر بولنے لگیں۔

“نکاح تو کل ہے نہ؟”

ہونٹ کپکپا رہے تھے۔

“ہاں کل ہے… اور ایک اچھی بیٹی ہونے کا ثبوت دینا ہے تم نے۔”

وہ اس کی جانب دیکھتی ہوئی بولیں۔

“امی آپ نے ٹھیک کہا اچھی بيٹياں اپنے امی ابو کے لیے قربانی دیتی ہے مگر وہ جو جائز ہو امی شايد میں آپ کی اچھی بیٹی نہیں بن سکتی۔”

ضبط کے باوجود آنکھیں برس رہی تھیں۔

“میں ایک اچھی بیٹی نہیں بن سکتی….میں ایک شادی شدہ انسان سے نکاح نہیں کر سکتی۔ کہنا تو نہیں چائیے لیکن اسے دیکھیں تو کہاں عمر اتنا خوبصورت اور کہاں وہ….”

وہ مدھم آواز میں بول رہی تھیں۔

“یہ چھلہ مجھے دو…. “

وہ عائشہ کی انگلی کی زینت بنا چھلا اتارنے لگی۔

یہ چھلا عمر نے عائشہ کو دیا تھا۔

“امی میں نہیں دوں گی یہ آپ کو… “

وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔

“یہ جائز ہو یا نا جائز….تمہیں اپنے باپ کی بات ماننی پڑے گی۔ چاہے اس میں تمہاری خوشی شامل ہو یا نہ ہو۔”

وہ چھلہ اتارنے میں ناکام ہوئیں تو چلاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

“ہر بار والدین ٹھیک نہیں ہوتے…. نہیں ہوتے….”

عائشہ سسکتے ہوےُ زمین پر بیٹھ گئی۔

“کیسے مجھ پر یہ ظلم کر سکتے ہیں آپ؟ اپنی بیٹی کو ایک ایسے شخص کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں آپ ابو؟”

وہ ہچکیاں لیتی خود سے استفسار کرنے لگی۔

“نہیں… میں یہ نکاح نہیں کر سکتی… “

وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“مہ… مجھے عمر کو بتانا ہوگا کسی بھی طرح…. “

وہ خود کو نارمل کرنے کی سعی کرنے لگی۔

“اس کے پکے وعدے ہیں عمر کے ساتھ….”

صبیحہ بیگم ان کے سامنے بیٹھی بول رہی تھیں۔

“یونہہ…. دیکھتا ہوں میں کیسے نہیں کرتی یہ نکاح…. “

وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔

“کل کو ساری عقل خود بہ خود ٹھکانے آ جاےُ گی۔ ابھی اس کمینے کو فون کرتا ہوں… “

چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

وہ فون نکالتے ہوےُ بولے۔

ہمیشہ کی مانند آج بھی عمر نے فون اٹھا لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس کے لئے کبھی اچھے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔

توقع کے عین مطابق وہ بات کرنے کی بچاےُ گالی گلوچ کرنے لگے۔

عمر کی گرفت سٹیرنگ پر اور مضبوط ہو گئی۔

وہ گاڑی سائیڈ پر لگا چکا تھا۔

وہ ضبط کر رہا تھا شاید یہی اسے کرنا چائیے تھا۔

لب سختی سے بھینچ رکھے تھے۔

کشادہ پیشانی پر شکنیں ابھرنے لگیں۔

“خدا حافظ…. “

عمر نے سانس خارج کرتے ہوئے فون بند کر دیا۔

اس سے زیادہ غلیظ زبان سننے کا اتفاق شاید آج تک نہیں ہوا تھا۔

“عائشہ کا فون کیوں نہیں آیا؟ اتنے دن ہو گئے ہیں… “

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا سامنے سڑک کو دیکھنے لگا۔

“پتہ نہیں وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں….”

چہرے پر پریشانی کی لکریں نمایاں تھیں۔

“خدا کرے تم خیریت سے ہو… مجھے انتظار ہے تمہارا عائشہ….. کب تم مجھ سے رابطہ کرو… “

عمر نے سر سٹیرنگ پر گرا دیا۔

“انتظار کتنا مشکل ہوتا ہے… “

وہ دھیرے سے گویا ہوا۔

جانے کتنے لمحے وہ اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا۔

فون کی رنگ ٹون خاموشی میں ارتعاش پیدا کیا۔

“جی بھیا؟”

وہ فون کان سے لگاتا ہوا بولا۔

“جی بس میں راستے میں ہوں… “

وہ سرد آہ بھرتا ہوا بولا۔

فون جیب میں ڈالا اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔

“مریم اندر سے امی کو بلا کر لاؤ…. “

عائشہ دروازے سے کچھ دور کھڑی بول رہی تھی۔

“اچھا… “

مریم نے بس اتنا کہا اور کمرے میں چلی گئی۔

“کیا کام ہے؟”

وہ باہر نکلتی ہوئی بولیں۔

“امی مجھے یونی تو جانے دیں… کتنا حرج ہو رہا ہے میرا۔”

وہ یاس سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

“اچھا اچھا ٹھیک ہے…. کل چلی جانا۔”

وہ منہ بنا کر کہتی واپس کمرے میں چلی گئیں۔

“جو میں نے سنا وہ ٹھیک ہے؟”

وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔

“کل عمر کو سب بتاؤں گی…. لیکن کل ہوگیا کیا؟عمر تو یہاں ہیں نہیں… “

چہرے پر جو خوشی تھی وہ لمحے میں غائب ہو گئی۔

وہ مایوسی چہرے پر طاری کئے واپس کمرے میں آ گئی۔

مریم کتابیں لئے بیڈ پر بیٹھی تھی۔

عائشہ خاموشی سے بیڈ کے دوسرے کنارے پر ٹک گئی۔

آنکھوں کے پپوٹے سوجھ چکے تھے۔

چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔

وہ سر جھکاےُ چھلے کو دیکھنے میں محو تھی۔

~~~~~~~~

“عمر مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں؟ ابو زبردستی میرا نکاح اس اختر سے کروا رہے ہیں… “

وہ سسکتے ہوےُ گویا ہوا۔

“عائشہ دیکھو میری بات سنو… “

عمر جو گزشتہ پانچ منٹ سے شاک کی کیفیت میں تھا آخر بول پڑا۔

“میں نہیں کر سکتی ایسا…. “

وہ اپنی ہی دھن میں بولتی جا رہی تھی۔

“عائشہ میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا…. مجھے جس حد تک جانا پڑا میں جاؤں گا… مجھے ایک بات بتاؤ اب… “

وہ پر اعتماد لہجے میں گویا ہوا۔

“کیا؟”

عائشہ کے لب آہستہ سے پھڑپھڑاےُ۔

“میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟”

وہ کچھ سوچ کر بولا۔

“جی ہاں… “

جھٹ سے جواب آیا۔

“مجھ سے پر بھروسہ ہے؟”

ایک اور سوال آیا۔

“خود سے بھی زیادہ…. “

ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر جواب آیا۔

“ٹھیک ہے… اب ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے…. عائشہ تم دارالامان چلی جاؤ…. میں کوشش کرتا ہوں کہ تین چار دن تک پاکستان آ جاؤں پھر تمہیں وہاں سے لے جاؤں گا۔”

وہ بے چینی سے کہتا ٹہلنے لگا تھا۔

“آپ ابھی تو واپس گئے تھے اتنی جلدی کیسے؟”

وہ الجھ کر بولی۔

“مجھے ویزہ ختم کروانا پڑا تو کروں گا لیکن تمہیں نہیں چھوڑ سکتا میں۔”

وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“ٹھیک ہے عمر…. میں دارالامان چلی جاتی ہوں۔”

وہ اثبات میں سر ہلانے لگی مانو وہ سامنے کھڑا ہو۔

“میں تمہیں دوبارہ فون کروں گا اور پھر سمجھاؤں گا آگے کیا کرنا ہے۔”

وہ پر سوچ انداز میں بولا۔

“ٹھیک ہے عمر…. مجھے آپ کا انتظار رہے گا۔”

اس نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

“تم فکر مت کرو…. میں تمہیں ظلم سہنے کے لیے وہاں نہیں چھوڑوں گا,,, بس بہت ہوگیا بہت سمجھا لیا بہت کوشش کر لی اب یہی راستہ بچا ہے۔”

وہ نم آنکھوں سے سامنے کھڑکی کو دیکھ رہا تھا۔

“ٹھیک ہے میں فون رکھتی ہوں… دارالامان جا کر فون کروں گی آپ کو… “

آہٹ سنتے ہی اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔

“کاش ابو آپ اپنی انا کی تسکین میں اس حد تک نا جاتے تو شاید میں بھی یہ قدم کبھی نہ اٹھاتی لیکن جو آپ کر رہے ہیں وہ ظلم ہے۔”

وہ انگلی سے آنکھ کا گوشہ صاف کرتی ہوئی بولی۔