599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 16

Ana Parast by Hamna Tanveer

“امی میں تیار ہوں اس شادی کے لیے….”

وہ نیم مردہ دکھائی دے رہی تھی۔

زندہ لاش کی مانند۔

“تم سچ کہہ رہی ہو؟”

وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھیں جو آج ان سے بات کر رہی تھی۔

“جی امی… “

نجانے اتنا ضبط رانیہ کہاں سے لے کر آئی تھی۔ ایک قیامت اس پر گزری تھی اور اس نے اف تک نہ کی۔

“مجھے بہت خوشی ہے کہ تم سب بھلا کر آگے بڑھ رہی ہو۔ بیٹا زندگی اسی کا نام ہے اب انسان ایک شخص کے نام پر پوری زندگی تو اجیرن نہیں کر سکتا نہ… میری بیٹی نے بہت اچھا فیصلہ لیا ہے۔”

وہ اس کے بال سنوارتی ہوئی بولیں۔

رانیہ زخمی سا مسکرائی۔

“آپ کیا جانیں انسان چاہ کر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا…. “

وہ دل ہی دل میں ان سے مخاطب تھی۔

“آپ انہیں آج ہی ہاں کہہ دیں….”

وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔

نجانے وہ خود کو سزا دے رہی تھی یا اس صدمے سے نکلنے کی سعی کر رہی تھی یہ بات سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھی۔

“اب صبح تو وہ گئی ہے…. کل کام پر جاتے ہوئے اسے بتا دوں گی۔تم کچھ کھاؤ گی؟”

یکدم انہیں احساس ہوا۔

“نہیں… بس سونا چاہتی ہوں۔”

وہ سرد لہجے میں کہتی اٹھ کر اندر چلی گئی۔

“سوتی تو تم ہو نہیں…. اچھے سے جانتی ہوں بھاگتی ہو تم اس سب سے۔”

وہ افسردگی سے گویا ہوئیں۔

~~~~~~~~

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔

“امی کیا ہوا آپ کو؟”

وہ انہیں روتا دیکھ کر ششدر سی بولی۔

“عمر… “

وہ اشک بہاتی ہوئی بولیں۔

“کیا ہوا عمر کو؟”

وہ کہتی ہوئی سرعت سے ان کے پاس آئی۔

“امی مجھے بتائیں عمر کو کیا ہوا ہے؟”

وہ ان کے ہاتھ ہلا رہی تھی۔

“بھیا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے…. “

طلحہ کی مدھم سی آواز گونجی۔

عائشہ سانس نہ لے سکی۔

وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

“ی… یہ کیا مذاق ہے؟”

وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی ہوئی بولی۔

وہ باری باری دونوں کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

“یہ مذاق نہیں ہے بھابھی…. “

اویس اِدھر آتا ہوا بولا۔

“امی… دیکھیں یہ لوگ کیا بولے جا رہے ہیں… “

وہ بے چینی سے پہلو بدلتی ہوئی بولی۔

“امی ان کو منع کریں نہ آپ…. عمر ٹھیک ہیں نہ؟”

وہ تصدیق کرنا چاہ رہی تھی۔

“ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا…. وہ آئی سی یو میں ہیں۔”

اویس سرد آہ بھرتا ہوا بیٹھ گیا۔

“نہیں… تم مذاق کر رہے ہو…. “

وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔

اس سے قبل کہ کوئی کچھ بولتا اس کا فون رنگ کرنے لگا۔

اس کا فون مسلسل شور مچا رہا تھا۔

وہ آنکھوں میں اشک لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔

فون کی رنگ ٹون ابھی تک سنائی دے رہی تھی۔

عائشہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔

وہ پوری آنکھیں کھولے اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔

آنکھیں اشکوں سے تر تھیں۔

پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمایاں تھیں۔

فون کی رنگ ٹون خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

“وہ…. وہ خواب تھا؟”

وہ منہ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔

اسی دوران اس کا دھیان فون کی جلتی بجھتی اسکرین پر گیا جہاں عمر کا نام دکھائی دے رہا تھا۔

اس نے ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر فون اٹھا لیا۔

“ہیلو عمر! آپ ٹھیک ہیں نہ مجھے بتائیں؟”

وہ بےقراری سے گویا ہوئی۔

“ہاں میں ٹھیک ہوں… “

عمر کی آواز اسپیکر پر ابھری۔

“کہاں تھے آپ صبح سے؟ پتہ ہے کتنی کالز کی میں نے آپ کو…. “

وہ اشک بہاتی خفگی سے بولی۔

“آئم سوری…. میرا فون بند ہو گیا تھا اور میں شہر سے کافی دور تھا اس لئے واپس گھر آتے آتے ٹائم لگ گیا۔”

وہ نادم تھا۔

“میری جان نکال دی تھی آپ نے… اتنی لاپرواہی….”

وہ سخت خفا دکھائی دے رہی تھی۔

“میں کان پکڑتا ہوں… یہ دیکھو… “

وہ ویڈیو کال کرتا ہوا بولا۔

عائشہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔

“دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوگا…. آئی پرامس۔”

وہ التجائیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“صبح سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں میں… “

“ناراضگی ہنوز برقرار تھی۔

“میں جانتا ہوں… میری جان میرا انتظار کر رہی تھی۔”

وہ شرمندہ تھا اور دکھائی دے رہا تھا۔

“بہت برے ہیں آپ…. “

وہ چہرہ صاف کرتی ہوئی بولی۔

“جیسا بھی ہوں سرکار آپ کا ہوں… “

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا۔

“اب میں آپ سے بات نہ کروں نہ؟”

وہ منہ پھلاتی ہوئی بولی۔

“تو پھر میں ثوبیہ سے بات کروں؟”

وہ پر سوچ انداز میں بولا۔

“میں نے اس ثوبیہ کو اس شہر کیا اس ملک سے ہی باہر نکال دینا ہے۔”

وہ کڑے تیور لئے بولی۔

“اچھا جی… “

عمر دھیرے سے مسکرایا۔

“اور آپ کو بہت یاد آتی ہے وہ ثوبیہ….ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسی کے خیالوں میں گم ہوتے ہیں کیا؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے گھور رہی تھی۔

“مجھے تو بس ایک ہی لڑکی کا خیال آتا ہے…. وہ جو ناراض ہے مجھ سے۔”

وہ منہ بناتا ہوا بولا۔

“نہیں ناراض میں آپ سے… اچھا یہ بتائیں گھر کب آےُ آپ؟”

وہ مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی۔

“میں گزشتہ ڈیڑھ گھنٹے سے تمہیں فون کر رہا تھا گھر آتے ہی…. “

وہ شانے اچکاتا ہوا بولا۔

“اچھا… پتہ نہیں کیسی اتنی گہری نیند سو گئی میں۔”

وہ سر پر ہاتھ رکھتی تعجب سے بولی۔

“اچھا مجھے تھوڑی دیر میں ایک دوست سے ملنے جانا ہے بتاؤ کون سی شرٹ پہنوں؟”

وہ کیمرہ دوسری جانب موڑتا ہوا بولا۔

وہ باری باری ساری شرٹس دیکھنے لگی۔

“وہ گرے والی پہنیں… “

کچھ دیر بعد آخر وہ بول اٹھی۔

“ٹھیک ہے…. ایک ضروری کال ہے میں تمہیں ابھی کال بیک کرتا ہوں۔”

اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا۔

عائشہ نے فون رکھتا اور باتھ روم کا رخ کیا۔

تولیے سے چہرہ خشک کیا اور فون اٹھاےُ کمرے سے باہر نکل آئی۔

نسیم فون پر محو گفتگو تھیں۔

“امی میں کب سوئی؟”

وہ انہیں فون رکھتے دیکھ کر بولی۔

“تم اتنی ٹینشن لے رہی تھی تو ڈاکٹر نے دوائی بتائی کہ تمہیں پانی میں ملا کر دے دیں تاکہ کچھ دیر آرام کر لو۔”

وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔

“تبھی مجھے فون کا پتہ نہیں چلا…. “

وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی بولی۔

“عمر سے بات ہو گئی تمہاری؟”

وہ ریموٹ اٹھا کر چینل بدلتی ہوئی بولیں۔

“جی ہو گئی….بیٹری نہیں تھی فون کی۔”

وہ ایل سی ڈی پر نگاہیں مرکوز کرتی ہوئی بولی۔

“میں نے تو تمہیں کہا تھا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کبھی ہو جاتا ایسے۔”

وہ آہستہ سے گویا ہوئیں۔

“جی….

عائشہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

~~~~~~~~

وقت پنکھ لگاےُ اُڑ رہا تھا۔

رانیہ کو اس گھر میں آےُ دو ماہ ہو چکے تھے۔

“امی یہ بولتی کیوں نہیں ہے؟”

وہ رانیہ کی نند تھی۔

“معلوم نہیں…. جب سے آئی ہے ایسی ہی ہے۔ شاید کم گو ہو۔”

وہ رانیہ کو برتن دھوتے ہوےُ دیکھتی ہوئی بولیں۔

“مجھے تو مشکوک ہی لگتی ہے…. “

وہ بھی رانیہ کو دیکھ رہی تھی۔

“نہیں ایسے کیوں کہنا…. بیچاری ہے بہت اچھی ہے, میرا بہت خیال رکھتی ہے گھر کا سارا کام بھی اچھے سے کرتی ہے۔”

وہ مسکرا رہی تھیں۔

“پھر بھی پتہ نہیں کیوں کھٹکتی ہے مجھے… “

وہ ابھی بھی مطمئن نہیں ہوئی تھی۔

“تم اب تفتیش کرنے مت بیٹھ جاؤ… تمہارا بھائی خوش ہے تو پھر کیا چائیے… “

وہ اس کے سر پر چت لگاتی ہوئی بولیں۔

طاہرہ سر کھجاتی خفگی سے انہیں دیکھنے لگی۔

“نماز پڑھنے جا رہی ہوں میں… “

رانیہ ان کے سامنے آ کر کہتی کمرے کی سمت چل دی۔

“کچھ بھی بنا بتاےُ نہیں کرتی… “

وہ شاید اس کی خوبیاں گنوا رہی تھیں۔

“چلو اچھی بات ہے…. گاےُ جیسی بہو مل گئی تمہیں۔”

وہ شانے اچکاتی پیچھے ہو گئی۔

وہ نماز پڑھ چکی تھی۔

دعا کے لیے ہاتھ اٹھاےُ تو لب حرکت نہ کر سکے۔

آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔

کتنے پل کتنی ساعتیں یونہی بیت گئیں۔

کچھ سوچ کر اس کے لبوں نے حرکت کی۔

“یا الله میرے دل کو سکون بخش دے۔ مجھے صبر دے…. “

معدوم سی آواز گونجی۔

“اسے میرے دل سے,,,میرے دماغ سے نکال دے۔ اس محبت کو دور کر دے مجھ سے۔”

وہ خاموش ہوئی تو کمرے کی اس کی سسکیاں سنائی دینے لگیں۔

“میں نہیں سوچنا چاہتی اسے…. نہیں یاد رکھنا چاہتی کچھ بھی۔ تو اسے نکال دے میرے دل… دور کر دے مجھ سے۔”

وہ بے بسی کی کس انتہا پر کھڑی تھی یہ تو وہی جانتی تھی۔بے بسی بھی کتنی عجیب چیز ہے نہ انسان کو مرنے دیتی ہے نہ جینے۔ بس اپنی ذات تک محدود کر دیتی ہے ہر لمحہ آپ کو سسکنا تڑپنا ہوتا ہے, اپنی ذات سے جھگڑنا ہوتا ہے,, جہاں انسان کا بس نہ چلتا ہو وہاں کس قدر مشکل ہوتا ہے خود کو سنبھالا یہ ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا,, کتنا پیچیدہ اور اذیت ناک ہوتا ہے یہ اپنی ذات سے لڑنا, خود کو قائل کرنا,, جب انسان کو اپنے آنسو خود صاف کرنے پڑیں جب خود تسلی دینی پڑی خود کو , اپنی ذات کے ٹکرے خود سمیٹنے پڑیں تو وہ اپنی ذات میں ہی کہیں مر جاتا ہے,, اپنی میت کو دفنا بھی خود ہی پڑتا ہے اپنے ہی اندر کہیں,, اس سے بڑی اذیت کوئی دوسری ہو نہیں سکتی,, وہ بھی اسی کرب اسی غم سے گزر رہی تھی,, نہ جی سکتی تھی نہ مر سکتی تھی صرف صبر تھا جو وہ خدا سے مانگ رہی تھی۔

لب کپکپا رہے تھے۔

تکلیف شدت اختیار کر رہی تھی۔

ہاتھ دم بخود نیچے گر گئے۔

وہ ہچکیاں لیتی جاےُ نماز کو دیکھ رہی تھی۔

اس نے ہاتھ کی مٹھی زور سے بند کر لی۔ وہ لڑ رہی تھی خود سے اور شاید تھک بھی رہی تھی ضبط کرتی کرتی۔

~~~~~~~~

“میں ایک بار پھر آیا ہوں تاکہ تمہیں سوچنے کا موقع مل جاےُ…. “

وہ سامنے آتے ہوئے بولے۔

زبیر نے نگاہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔

ایک سرد اور خشک آہ بھری اور اپنا کام کرنے لگے۔

“پیسے لو اور مجھے میری بیٹی واپس کر دو…. “

وہ چبا چبا کر بولے۔

“آپ روز بھی آ کر پوچھیں گے تب بھی میرے جواب میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آےُ گا۔”

وہ بھرپور طمانیت سے بولے۔

“ویسے تمہاری یہ دکان اچھی ہے…. میں نہیں چاہتا کسی کا بھی نقصان ہو۔”

وہ شانے اچکاتے ہوےُ بولے۔

“اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں ان دھمکیوں سے ڈر کر آپ کی بات مان لوں گا تو بلکل غلط ہیں آپ۔”

وہ رک کر انہیں دیکھتا ہوا بولا۔

“عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ ایک بار پھر سوچ لو… کہیں تمہیں پچھتانا نہ پڑے…. “

وہ ہنس رہے تھے۔

“میں نہیں ڈرتا…. آپ نے جو کرنا ہے کریں۔”

وہ چیلنج کرنے والے انداز میں بولے۔

“کچھ بھی ہو سکتا ہے ویسے…. “

وہ الٹے قدم اٹھاتے ہوئے بولے۔

“میں دیکھ لوں گا…. “

وہ سینے پر بازو باندھتے ہوئے گویا ہوےُ۔

“دیکھ تو میں لوں گا تم سب کو…. ہونہہ…. “

وہ ہنکار بھر کر کہتے چل دئیے۔

زبیر نفی میں سر ہلاتے فون کو دیکھنے لگے۔

~~~~~~~~

“جانتا ہوں میں… “

وہ سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلتا ہوا بولا۔

“تجھے معلوم تھا؟ تو مجھے کیوں نہیں بتایا؟”

ابتسام متحیر سا اسے دیکھ رہا تھا۔

“کیا بتاتا کہ میری ایکس وائف کی شادی ہو گئی ہے…. “

اس نے قہقہ لگایا۔

“یہ تو ہونا ہی تھا…. اب ساری زندگی فہد نام کا روگ لے کر تو نہیں بیٹھ سکتی تھی وہ۔”

وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا ہوا بولا۔

“مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تو میرا خون جلانے آتا ہے؟”

وہ آنکھیں سکیڑے اسے گھور رہا تھا۔

“کب کیا میں نے ایسا؟”

فہد کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔

“جب بھی آتا ہے اور کرتا ہی کیا ہے…. “

وہ نا خوش دکھائی دے رہا تھا۔

“خوش ہے وہ اپنے گھر میں؟”

وہ ٹیبل پر پاؤں رکھتا ہوا بولا۔

“میں کیا اس کے ساتھ رہتا ہوں؟ اس کے شوہر سے جا کر پوچھ… “

وہ جل کر بولا۔

جواب میں اسے ابتسام کا قہقہ سنائی دیا۔

“شکل دیکھ اپنی…. “

وہ منہ پر ہاتھ رکھے مسکراہٹ دبانے کی ممکن سعی کر رہا تھا۔

“بیٹا تیرا ٹائم پورا ہوا اگر اپنی جان پیاری ہے نہ تو نکل جا…. “

وہ دانت پیستا ہوا بولا۔

“میں تیری دھمکیوں سے نہیں ڈرتا…. ویسے حویلی میں آج کوئی نظر نہیں آیا کہاں گئے سب؟”

اس نے یکسر موضوع تبدیل کر دیا۔

“صابر کے بیٹے سے ملنے گئے ہیں… “

وہ ناگواری سے بولا۔

“تو چاچو کیوں نہیں گیا؟”

وہ دائیں آبرو اچکا کر بولا۔

“میرا موڈ نہیں تھا۔”

وہ شانے اچکاتا لاپرواہی سے بولا۔

فون کی رنگ ٹون نے دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

“یہ فون سن کر آیا میں….”

وہ فون کی اسکرین کو دیکھتا باہر نکل گیا۔

“تم کسی اور کے ساتھ ہو یہ صدمہ….”

اس نے سانس خارج کرتے ہوئے بات ادھوری چھوڑ دی۔

“خیر خوش رہو… جہاں بھی رہو۔”

وہ ڈبی سے سیگرٹ نکالا ہوا بڑبڑایا۔

~~~~~~~~

“بھیا یہ سب کیا؟”

عمر کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔

زبیر آگے آےُ تو آنکھوں میں تحیر سمٹ آیا۔

ایک لمحہ لگا تھا انہیں سمجھنے میں۔

“ٹھیک ہے…. تو ایسا کر کے ہی انہیں سکون ملنے والا تھا شاید۔”

وہ ایک لمبا سانس لیتے ہوئے بولے۔

اندر موجود ہر چیز تہس نہس ہو چکی تھی۔

“کس نے؟ کس کا کام ہے یہ بھیا؟”

وہ ششدر سا انہیں دیکھ رہا تھا۔

“فدا حسین کا…. “

وہ کہتے ہوئے راستے سے چیزیں ہٹانے لگے۔

“آپ کو کیسے معلوم؟”

عمر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“دھمکی دی تھی… سو کر بھی گئے کام اپنا۔”

عمر کی جانب ان کی پشت تھی۔

عمر لب بھینچ کر اس پھیلاوے کو دیکھنے لگا۔

“آئم سوری… “

وہ ندامت سے بولا۔

“تمہیں سوری بولنے کی ضرورت نہیں…. اور تم تو جا رہے تھے نہ؟”

یاد آنے پر وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔

“جی… لیکن اب یہ سب بھی تو سمیٹنا ہے نہ… “

وہ شانے اچکاتا دوسری جانب مڑ گیا۔

“ہاں ٹھیک ہے…. “

زبیر ایسی حرکت پر صبر ہی کر سکتے تھے۔

اگر ایک کے پاس سمجھ بوجھ نہ ہو تو دوسرے کو ہی عقلمندی کا مظاہرہ کرنا پڑتا۔

~~~~~~~~

وہ جب سے آےُ تھے بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔

“کچھ بتائیں تو ہوا کیا ہے؟”

صبیحہ گھبرا کر انہیں دیکھ رہی تھی۔

“یہ لوگ خود کو نجانے کیا سمجھتے ہیں… میرے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ عائشہ کو مجھے واپس لانا ہے ہر حال میں۔”

وہ رک کر انہیں گھورتے ہوےُ بولے۔

“کیا کریں گے اسے واپس لا کر؟”

وہ تاسف سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔

“طلاق دلوا کر عامر سے شادی کروں گا اس کی… “

وہ ہٹ دھرمی سے گویا ہوےُ۔

“آپ چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ ضد… “

وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔

“میری انا گوارا نہیں کرتی یہ…. “

وہ ہنکار بھرتے بیڈ پر بیٹھ گئے۔

صبیحہ دل ہی دل میں زکیہ کو کوستی باہر نکل آئی۔

“پتہ نہیں یہ ماں بیٹا کیوں میری بیٹی کے دشمن بن گئے ہیں…. ارے جب اس کی شادی ہو گئی,, خوش ہے وہ تو پھر ایسی فضول حرکتوں کا مقصد… “

وہ سخت خفا دکھائی دے رہی تھیں۔

“جاؤ اپنے ابو کو پانی دے آؤ… “

وہ مریم کو گلاس دیتی ہوئی بولیں۔

مریم اثبات میں سر ہلاتی اندر چلی گئی۔

“پتہ نہیں کب سکون ملے گا انہیں… “

وہ نفی میں سر ہلاتی چولہا جلانے لگی۔

~~~~~~~~

“عائشہ ٹائم سے تیار ہو جانا یاد ہے نہ آج ڈاکٹر کے پاس جانا ہے… “

وہ اس کے کمرے میں آتی ہوئی بولیں۔

“جی امی مجھے یاد ہے…. آپ فکر مت کریں۔”

وہ دھیرے سے مسکرائی۔

“تم آرام کرو میں کچن میں سالن رکھ کر آئی تھی وہ دیکھوں جا کر۔”

وہ اسے اٹھتے دیکھ کر گویا ہوئیں۔

“ٹھیک ہے…. “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔

وہ ابھی باہر نکلی ہی ہوں گیں کہ عائشہ کا فون شور مچانے لگا۔

صبیحہ کا نمبر دیکھ کر لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔

“کیسی ہی آپ؟”

وہ چھوٹتے ہی بول اٹھی۔

“میں تو ٹھیک ہوں… تم بتاؤ کیسی ہو؟ سب ٹھیک ہے نہ وہاں؟”

وہ متجس تھیں۔

“جی امی سب ٹھیک ہے یہاں اور میں بھی ٹھیک ہوں….”

وہ تکیے سے ٹیک لگاتی ہوئی بولی۔

“ہاں کچھ دن پہلے سعودیہ میں دکان کا کافی نقصان ہوا تھا… “

وہ تاسف سے بتانے لگی۔

صبیحہ کی چھٹی حس بیدار ہوئی۔

“کیسے؟”

وہ کھڑی ہو گئیں۔

“پتہ نہیں امی…. مجھے زیادہ نہیں بتایا عمر نے۔ خیر آپ بتائیں اتنے دن بعد فون کیا مجھے…. “

وہ شکوہ کرنے لگی۔

“تمہارے ابو آےُ ہوےُ ہیں پاکستان… اسی لئے موقع نہیں ملتا فون کرنے کا۔ آج دعوت پر گئے تھے تو سوچا تم سے بات کر لوں… “

وہ دروازے کی سمت دیکھتی ہوئی بولیں۔

“او اچھا اچھا….”

وہ یکدم خاموش ہو گئی۔

“تم بتاؤ کیا کر رہی تھی؟”

وہ اسے خاموش پا کر بولیں۔

“کچھ خاص نہیں… آج ڈاکٹر کے پاس جانا ہے بس اسی کا انتظار ہے۔”

وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی۔

“اچھا میں فون رکھتی ہوں پھر…. دوبارہ بات کروں گی۔”

اس سے قبل کہ عائشہ کچھ بولتی فون بند ہو چکا تھا۔

~~~~~~~~~

“کام میں کوئی غلطی نہ ہو سمجھ رہے ہو نہ؟”

فدا حسین فون کان سے لگاےُ بول رہے تھے۔

“ہاں ہاں جو مرضی کرنا بس عائشہ کو میرے پاس لے آؤ۔”

وہ فون بند کر کے اسے گھورنے لگے۔

“اب دیکھنا کیسے بازی پلٹے گی… عائشہ میرے پاس ہو گی اور تم سب کچھ نہیں کر پاؤ گے۔”

وہ شاطرانہ مسکراہٹ لئے بیٹھ گئے۔