Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 20
Rate this Novel
Ana Parast Episode 20
Ana Parast by Hamna Tanveer
“کام کے لیے بلایا ہے اور یہاں باتیں ختم نہیں ہو رہی اس کی بیوقوف عورت کی….”
وہ پیر پٹختے ہوےُ باہر نکل گئے۔
~~~~~~~~
“صبح صبح کہاں کی تیاری ہے؟”
نسیم بغور اسے دیکھتی ہوئی بولیں۔
“ملتان جا رہا ہوں اویس کو ہاسپٹل لے جانا ہے پٹی کروانے کے لیے اور مجھے ہائی کورٹ جانا ہے گرفتاری کا وارنٹ نکالنے…. شاید دیر بھی ہو جاےُ۔”
وہ چارجر اتارتا ہوا بولا۔
“اچھا میں ناشتہ بنا دیتی ہوں پھر جلدی سے…. ایسے مت جانا۔”
وہ دروازے کی سمت بڑھتی ہوئی بولیں۔
“نہیں امی… ناشتے کا ٹائم نہیں میں وہاں سے کر لوں گا ابھی نکلنا ہے مجھے۔”
وہ فون جیب میں ڈالتا ہوا مڑا۔
“عمر ایسے کیسے…. پتہ نہیں کتنا وقت لگ جائے تمہیں,, تم بس پانچ منٹ دو میں ابھی بنا لاتی ہوں۔”
وہ تشویش سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“میری پیاری امی… آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں اور بھوک لگے گی تو کھا لوں گا پکا… “
وہ ان کے ہاتھ پکڑے نرمی سے بول رہا تھا۔
نسیم افسردگی سے اسے دیکھنے لگیں۔
آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں… شاید وہ رات بھر سو نہیں سکا۔ چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا, اس کا چہرہ اس کی پریشانی کی عکاسی کر رہا تھا۔
“الله کرے جلد عائشہ ہمارے پاس واپس آ جاےُ… وہ بلکل ٹھیک ہوگی پریشان مت ہو۔”
وہ اس کے رخسار پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔
“آمین…. “
وہ چاہ کر بھی مسکرا نہ سکا۔
کہہ کر وہ رکا نہیں اور چلتا ہوا اویس کے کمرے میں آ گیا۔
“میں آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا۔”
اویس انہیں دیکھتا ہوا بولنے لگا۔
چند لمحے عمر رک کر اسے دیکھنے لگا۔
ٹانگ پر سفید رنگ کا پلاسٹر تھا۔
بازو اور ہاتھ کی پٹی بھی ویسی کی ویسی ہی تھی البتہ چہرے کے نیل کچھ کم ہو گئے تھے۔
وہ تکلیف میں تھا لیکن ظاہر نہیں کر رہا تھا۔
“کیا ہوا؟”
اویس اسے خاموش پا کر پھر سے گویا ہوا۔
“معاف کر دینا مجھے… “
وہ آنکھوں میں نمی لئے دل ہی دل میں اویس سے مخاطب تھا۔
“چلیں؟”
عمر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“جی… “
وہ اثبات میں گردن ہلانے لگا۔
عمر آگے بڑھا اور اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا۔
اویس کے چہرے پر بے بسی کے آثار نمایاں تھے۔
اپنے شانے پر اویس کی بازو رکھے وہ اسے سہارا دئیے چلنے لگا۔
نسیم دکھ سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔
آنکھیں پھر سے جھلملانے لگیں۔
یہ وقت ہی ایسا تھا کہ کبھی بھی آنکھیں بھر آتیں۔
“یا الله تو ہی مشکلوں کو دور کرنے والا ہے…. اس گھر کی تمام پریشانیاں دور فرما دے۔ میرے بچوں کو صحیح سلامت واپس اس گھر میں لے آ… میری بچی کی حفاظت کرنا۔”
وہ دوپٹے سے آنکھیں صاف کرنے لگیں۔
“پتہ نہیں اس کا خیال رکھ بھی رہے ہوں گے یا نہیں وہ لوگ, جانے کس حال میں رکھا ہو… “
وہ متفکر سی کہتی باورچی خانے کی جانب چل دی۔
“خدا کرے تم جہاں بھی ہو بس ٹھیک ہو… “
وہ دل ہی دل میں دعا کرتی برتن سمیٹنے لگیں۔
~~~~~~~~~
“عائشہ اپنے ابو کی بات مان لو…. وہ تمہیں کبھی سکون سے جینے نہیں دیں گے۔ سکون سے رہنا چاہتی ہو تو عمر کو طلاق دے….”
“امی آپ کیسے سوچ سکتی ہیں ایسا؟”
وہ ان کی بات کاٹتی تیزی سے گویا ہوئی۔
“میں مر جاؤں گی لیکن عمر کو طلاق نہیں دوں گی…. ابو کو جو کرنا ہے کریں مجھے پرواہ نہیں۔ لیکن میں اپنے آخری دم تک عمر کو نہیں چھوڑوں گی اور بہتر ہوگا آپ مجھے قائل کرنے کی ناکام کوشش بند کر دیں۔ کیونکہ جو آپ لوگ چاہتے ہیں وہ میں کسی شرط پر بھی نہیں کروں گی۔”
وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی۔
“نہ میں اپنے بچے کو کچھ ہونے دوں گی نہ ہی اپنے رشتے کو…. “
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئی بولی۔
صبیحہ لب بھینچ کر دوسری سمت دیکھنے لگی۔
“پتہ نہیں کیسے دل ہیں آپ سب کے…. غیروں کا تو سمجھ میں آتا ہے مگر اپنی اولاد پر بھی ترس نہیں آتا آپ کو تو… “
وہ تاسف سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
شاید افسوس کرنے کے سواء اس کے پاس کچھ تھا بھی نہیں۔
وہ اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کئے ہوئے تھے۔
صبیحہ کے نکلتے ہی عائشہ نے سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
درد کی انگلیاں پیشانی سے ہوتے ہوےُ کنپٹی تک آ رہی تھیں۔
“آہ…. عمر کب آئیں گے آپ؟ میں یہاں پاگل ہو جاؤں گی…. ہر وقت خوف لگا رہتا ہے نجانے کس پل ابو کیا کر جائیں…. مجھے لے جائیں یہاں سے۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹنے لگی۔
“یہ وقت کتنا مشکل ہے میں ہی جانتی ہوں۔ پتہ نہیں ابو کو کیوں سمجھ نہیں آتا… کیا انہوں میں دکھائی نہیں دیتی میرا حال نظر نہیں آ رہا۔”
اشک پھر سے اس کے رخسار کو تر کرنے لگے۔
“عمر آپ بس لے جائیں مجھے یہاں سے… “
وہ سرد آہ بھرتی سر تکیے پر گراتی ہوئی بولی۔
آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔اگلے چند لمحوں میں وہ نیند کی وادی میں اتر چکی تھی۔
~~~~~~~~
“انکل دیکھیں اس وقت ابارشن نہیں ہو سکتا…. “
وہ دو ٹوک انداز میں بولی۔
فدا حسین نے ناگواری سے حماد کو دیکھا۔
“وہ ڈاکٹر ہے ہم سے بہتر جانتی ہے… “
وہ بے بسی سے شانے اچکاتا ہوا بولا۔
“ہونہہ…. ٹھیک ہے تو تم نے خلع کے پیپرز تیار کرواےُ؟”
وہ نا خوش دکھائی دے رہے تھے۔
“جی تیار ہو جائیں گے… آپ اس کی فکر مت کریں۔ یہاں سے ہی پیپرز میں بھیجوا دوں گا۔”
وہ تسلی دینے کو مسکرایا۔
“چلو ٹھیک ہے…. “
وہ اثبات میں سر ہلانے لگے۔
“نفیس تم کہاں تھے؟”
فدا حسین انہیں آتے دیکھ کر بولے۔
“کچھ سامان چائیے تھا وہ لینے گیا تھا… تم بتاؤ ناشتہ کر لیا؟”
وہ ان کے ساتھ براجمان ہوتے ہوئے بولے۔
“ہاں ہو گیا… “
وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوےُ۔
“مجھے امی بلا رہی ہیں آتی ہوں میں…”
نادیہ معذرت کرتی وہاں سے اٹھ گئی۔
~~~~~~~~
“یہ آج نوکر کہاں ہیں سارے؟”
یاسر اردگرد کا جائزہ لیتے ہوئے بولے۔
“ویسے کام تو کر گئے ہیں سارے…. وہ رانیہ تھی نہ مر گئی ہے۔ اس کے جنازے میں گئے ہیں۔”
وہ فون کی اسکرین پر انگلیاں چلاتی بے نیازی سے بولی۔
“وہ کم ذات؟”
یاسر بلوچ دائیں آبرو اچکا کر بولے۔
“ہاں وہی جس سے نکاح کیا تھا فہد نے…. سنا ہے خودکشی کی ہے۔”
وہ ناگواری سے گویا ہوئی۔
“ہمیں کیا… خود کشی کرے یا کچھ بھی۔ میں ڈیرے پر جا رہا ہوں آج کچھ دوست آئیں گے تو نوکروں کو واپس بلاؤ…”
وہ اخبار ٹیبل پر رکھتے کھڑے ہو گئے۔
“آپ مجھے ٹائم بتا دیں میں بلوا لیتی ہوں…. “
وہ انہیں دیکھتی ہوئی بولیں۔
“چار یا پانچ بجے تک…. اب دیر مت کر دینا…واپس بلاؤ سب کے سب کو… “
وہ خفا انداز میں کہتے باہر نکل گئے۔
ابتسام دروازے میں کھڑا سب سن چکا تھا۔ انہیں آتے دیکھ کر ایک سائیڈ کو ہو گیا۔
چہرے پر بے یقینی نمایاں تھی۔
“رانیہ نے خود کشی کر لی؟”
وہ خود کلامی کرتا واپس مڑ گیا۔
“اور انکل کی پیشانی پر ایک شکن تک نہیں آئی…. “
وہ ششدر سا تھا۔
“اتنی بے حسی…. “
وہ تاسف سے کہتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔
وہ گاڑی فل سپیڈ پر چلا رہا تھا۔
فون پر نظر ڈالی جہاں فہد کا میسج جگمگا رہا تھا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے سپیڈ کم کی اور دوسری سٹرک پر گاڑی ڈال دی۔
“تو یہاں عیاشی ہو رہی ہے؟”
وہ فارم ہاؤس میں داخل ہوتا ہوا بولا۔
“عیاشی کہاں یار….. بس تھوڑی سی آؤٹنگ کے لیے آیا تھا موڈ بدل جاےُ کچھ… “
وہ سیگرٹ ایش ٹرے میں مسلتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
“یہ صحیح ہے… وہ وہاں تیری محبت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور تو یہاں موڈ چینج کرنے میں لگا ہے… “
وہ اثبات میں سر ہلاتا چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“کیا مطلب ہے اس بکواس کا؟”
وہ پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگا۔
“بلکل درست کہا میں نے…رانیہ نے خود کشی کر لی ہے۔ اور مجھے نہیں لگتا وجہ جاننے کی ضرورت ہے کسی کو۔”
وہ جتانے والے انداز میں بولا۔
“مذاق کر رہا ہے نہ تو؟ ابتسام یہ آج تک کا سب سے گھٹیا مذاق ہوگا…. “
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔
“مذاق نہیں کر رہا…سچ ہے یہ۔”
وہ ہنکار بھرتا دوسری سمت دیکھنے لگا۔
“نہیں… “
وہ نفی میں سر ہلاتا گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا۔
ابتسام استہزائیہ ہنسی ہنسا۔
“تجھے کیوں افسوس ہو رہا ہے؟ اسی دن کے لئے تو چھوڑا تھا تو نے…. اگر میرا انتظار کر لیتا تو تجھے یہ حرکت کبھی نہ کرنے دیتا میں۔ انکل سے جھوٹ بول دیتا کہ دے دی طلاق اور اسے شہر میں رکھ لیتا لیکن نہیں تجھے تو بہت جلدی تھی نہ…. “
نجانے کیوں اسے غصہ آنے لگا تھا۔
فہد آنکھوں میں نمی لئے اسے دیکھنے لگا۔
“بس کر دے یار…. “
وہ تنک کر بولا۔
فہد لب بھینچ کر دوسری سمت دیکھنے لگا۔
“جا رہا ہوں میں… کام ہے مجھے۔”
وہ بے رخی سے کہتا کھڑا ہو گیا۔
فہد کی زبان کنگ ہو چکی تھی۔
شاید وہ صدمے میں تھا۔
“بعد میں کال کرتا ہوں…. “
وہ اشارہ کرتا گیٹ کی جانب بڑھ گیا۔
دو اشک ٹوٹ کر فہد کے رخسار پر آگرے۔
سر نفی میں حرکت کر رہا تھا۔
اشکوں کی روانی میں اضافہ ہونے لگا۔
وہ سر دونوں ہاتھوں میں تھامے ڈبڈباتی آنکھوں سے زمین کو گھورنے لگا۔
لفظ شاید دم توڑ چکے تھے۔
~~~~~~~~
“تم جیسی جاہل عورت کسی کام کی ہے ہی نہیں…. “
وہ سخت خفا دکھائی دے رہے تھے۔
“میں نے بہت کوشش کر کے دیکھی ہے…. “
صبیحہ نے کمزور سی دلیل پیش کی۔
“بس بس…. دیکھ لی تمہاری کوششیں…”
وہ کوفت سے بولے۔
“آپ اپنی ضد چھوڑ دیں نہ…. مت کریں یہ سب۔”
وہ کچھ توقف کے بعد بولیں۔
“میری انا کو یہ گوارا نہیں… کہ میں ان سے ڈر کر ان کی بات مان لوں۔”
وہ منہ بناتے ہوےُ بولے۔
“گھٹنے ٹیک دوں میں ان کے سامنے…. یہ چاہتی ہو تم؟”
وہ دیکھتے ہی دیکھتے آگ بگولہ ہو گئے۔
“میں تو بس چاہتی ہوں…. “
وہ گھبرا کر انہیں دیکھنے لگیں۔
“بکواس بند رکھو اپنی…. ایک کام تو تم سے ہوا نہیں چلی ہو مجھے مشورہ دینے۔اپنی اوقات میں رہ کر بولا کرو۔”
وہ تنک کر بولے۔
“دفع ہو جاؤ تم دونوں واپس…. کسی کام کی نہیں۔”
وہ ہنکار بھر کر کہتے کمرے سے باہر نکل گئے۔
صبیحہ ان کی بات پر سر جھکا گئی۔
“کیا خبر دوں تمہیں یہاں کی؟”
زکیہ ٹھنڈی آہ بھرتی ہوئی بولی۔
“عائشہ ابھی تک رضامند نہیں ہوئی؟”
عامر بے چینی سے پہلو بدلتا ہوا بولا۔
“اس کے تیور دیکھ کر تو نہیں لگتا کبھی مانے گی…. لیکن تم نا امید مت ہونا شادی تو تم سے ہی ہوگی اسکی۔ مجھے بھائی صاحب پر پورا بھروسہ ہے۔”
وہ مسکرا رہی تھیں۔
“لیکن امی عائشہ مانے گی تب نہ… “
وہ زور دے کر بولا۔
“ہاں تو مان ہی جاےُ گی… آخر کتنے دن تک انکار کرے گی۔ بھائی صاحب اسے پنجاب واپس تبھی لے جائیں گے جب وہ خلع کے لئے مان جاےُ گی۔”
وہ قدرے مدھم آواز میں بولیں۔
“چلیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے…. “
وہ مایوسی سے گویا ہوا۔
“تم فکر مت کرو… انہوں نے کہا ہے نہ تو شادی بھی کروائیں گے تمہاری عائشہ سے۔ ہم دونوں تو واپس آ رہے ہیں لیکن بھائی صاحب اِدھر ہی رہیں گے جب تک وہ مان نہیں جاتی۔”
زکیہ نے تسلی دینا چاہی۔
“ٹھیک ہے امی…. مجھے امید ہے ایسا ہی ہوگا۔”
کہتے ہوےُ اس نے فون بند کر دیا۔
~~~~~~~~
“کیا مطلب پولیس آئی ہے؟”
فدا حسین اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے۔
“تم جلدی سے چلو اس سے قبل کہ وہ ہمارے گھر تک آ جائیں…. “
نفیس گاڑی کی چابی تلاشنے لگے۔
“کیسے آ گئی پولیس آخر…. “
وہ سر پر ہاتھ مارتے باہر نکل آےُ۔
“چلو آؤ میرے ساتھ…. “
وہ عائشہ کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹنے لگے۔
“ابو…. “
وہ حیرت سے انہیں دیکھنی لگی جنہیں ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں تھی اس کی۔
“چلو جلدی کرو…. “
وہ اسے گھوری سے نوازتے ہوےُ گاڑی تک لے آےُ۔
“اب پتہ نہیں کہاں لے جانا ہے…. “
وہ آنکھوں میں نمی لئے گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“چلو نفیس…چلاؤ… “
وہ فرنٹ سیٹ سنبھالتے ہوےُ بولے۔
“عائشہ نم آنکھوں سے عقب میں دیکھنے لگی۔
“عمر کیسے پہنچیں گے مجھ تک؟”
آنسو پلکوں کی باڑ کو توڑ کر رخسار پر آ گرے۔
“سب مشکل سے مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے؟”
گاڑی سپیڈ سے بھاگنے لگی تھی۔
“کب تک یوں در بدر ہوتے رہیں گے ہم… “
وہ تنگ آ کر بولی۔
فدا حسین نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
“میری بات مان لو تو سب سکون سے رہیں گے۔”
وہ خفا انداز میں بولے۔
“کبھی نہیں… “
عائشہ قطعیت سے کہتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“مجھے الله کی ذات پر بھروسہ ہے وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ وہ عمر کو میرے پاس بھیج دے گا۔”
وہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑتی ہوئی خود کلامی کرنے لگی۔
وہ کافی دور نکل آےُ تھے عائشہ جاننے سے قاصر تھی آخر وہ جا کہاں رہے ہیں۔
“یہاں کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں….”
نفیس نے کہتے ہوےُ گاڑی سائیڈ پر لگا دی۔
“تم یہ بتاؤ کتنے پیسے دو گے مجھے؟”
فدا حسین فون کان سے لگاےُ بول رہے تھے۔
“ہاں ہاں لڑکی بلکل جوان ہے…. ٹھیک ہے سودا منظور ہے مجھے۔”
وہ اثبات میں سر ہلا رہے تھے۔
عائشہ کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے فدا حسین کو دیکھنے لگی۔
ہاتھ پاؤں ڈھنڈے پڑ گئے۔
“یا الله یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ابو کس کی بات کر رہے ہیں؟”
وہ اپنی کیفیت پر قابو پانے کی ممکن سعی کر رہی تھی۔
اس کے حواس ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے۔
“تم عائشہ کو بیچ رہے ہو؟”
نفیس ان کے سامنے آتے ہوےُ بولے۔
“ہاں سودا کر دیا یے میں نے اس کا…. اب تم دیر مت کرو اور چلو وہ انتظار کر رہے ہیں۔”
وہ فون جیب میں ڈالتے ہوےُ بولے۔
