Ana Parast by Hamna Tanveer NovelR50455 Ana Parast Episode 17
Rate this Novel
Ana Parast Episode 17
Ana Parast by Hamna Tanveer
“بس کچھ ہی دیر میں عائشہ میرے پاس ہو گی…. “
وہ گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے بولے۔
“پھر مزہ آےُ گا…”
وہ محظوظ ہوتے انتظار کرنے لگے۔
~~~~~~~~
“چلیں امی؟”
وہ کوریڈور میں کھڑا تھا۔
نسیم اور عائشہ کو کیبن سے باہر نکلتے دیکھ کر اویس استفسار کرنے لگا۔
“ہاں چلو… “
وہ اثبات میں سر ہلاتی چلنے لگیں۔
گاڑی ہاسپٹل کے عین مقابل کھڑی تھی۔
اویس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا اور خود فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔
ابھی اس نے سیٹ سنبھالی ہی تھی کہ سامنے ایک شخص آ گیا۔
گاڑی کے آگے ایک بائیک آ رکی۔
اویس جو دروازہ بند کرنے لگا تھا تعجب سے اسے دیکھنے لگا۔
اس سے قبل کہ وہ کچھ پوچھتا اس شخص نے اویس کو گریبان سے پکڑ لیا۔
“یہ کیا؟”
نسیم ہکا بکا سی انہیں دیکھنے لگی۔
وہ اویس کو گاڑی سے باہر کھینچنے لگا۔
“امی…. “
عائشہ گھبرا کر انہیں دیکھنے لگی۔
سانس اتھل پتھل ہو رہی تھی۔
اسی اثنا میں دو لوگ آےُ اور پیچھے کے دروازے کھول کر کھڑی ہو گئے۔
مزاحمت کرنے پر اس نے پے دے پے اویس کے سر میں ڈنڈے مارنے شروع کر دئیے۔
سیٹ بیلٹ کھلی تو اس نے اویس کو باہر کھینچ کر زمین پر پٹخ دیا۔
“روکو اسے…. “
نسیم ڈرائیور کو دیکھتی ہوئی چلائیں۔
وہ ابھی کھڑا ہی ہوا تھا کہ بائیں جانب سے کسی نے اس کی ٹانگ پر ڈنڈا مارا۔
اس اچانک حملے کے لیے اویس تیار نہ تھا۔
“امی انہیں دیکھیں…. “
عائشہ کپکپاتی ہوئی بولی۔
وہ پھر سے زمین بوس ہو چکا تھا۔
آس پاس سارے تماشائی موجود تھے لیکن کوئی اس کی مدد کو آگے نہ بڑھا۔
اویس منہ اٹھا کر انہیں دیکھنے لگا۔
اس کے آس پاس قریب قریب پندہ سے بیس لوگ کھڑے تھے۔
اویس کو دیکھتے ہوئے دوسری آدمی نے گاڑی سے عائشہ کو کھینچ باہر نکالا۔
“رکو….”
نسیم چلائیں۔
“چپ….. “
ان کی جانب کھڑا آدمی انہیں دھکا دیتا ہوا غرایا۔
وہ بنا دیکھے اویس کو بے دردی سے پیٹ رہے تھے۔
ڈنڈا ٹوٹ چکا تھا مگر ان کا دل ابھی بھرا نہیں تھا۔
“بھابھی…. “
ٹانگ ٹوٹ چکی تھی مگر اویس بولتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
وہ عائشہ کو گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے تھے۔
“چھوڑو مجھے…. “
وہ چیخ رہی تھی لیکن ان ہٹے کٹے نوجوانوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“بھابھی… “
وہ اٹھ کر آگے ہی ہوا کہ عقب سے کسی نے اس کے سر میں ڈنڈا مارا۔
اویس کو دنیا گھومتی ہوئی نظر آنے لگی۔
دماغ سائیں سائیں کرنے لگا۔
دو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے آنکھیں کھلی رکھنے کی سعی کر رہا تھا۔
اگلے لمحے وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہو چکا تھا۔
انہوں نے گاڑی میں عائشہ کو ڈالا اور نکل گئے۔
“اویس…. “
نسیم غم و الم کی کیفیت میں کہتی ہوئی باہر نکلیں۔
“اویس…. “
وہ اشک بہاتی اس کا چہرہ تھپتھپا رہی تھی جس پر جا بجا نیل پڑ چکے تھے۔
وہ بےہوش ہو چکا تھا۔
ان کی نظر اویس کے ہاتھ پر پڑی تو آنسوؤں کی رفتار میں اضافہ ہو گیا۔
ہاتھ اور بازو خون سے لبریز تھا۔
ڈرائیور ایمبولینس کو کال کرتا اِدھر آیا۔
“اویس میرے بیٹے…. “
وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لئے بلک رہی تھیں۔
اس کی حالت دیکھ کر دل اچھل کر سینے سے باہر نکل رہا تھا۔
وہ سب عائشہ کے چچا اور رشتے دار تھے۔ نسیم پہچان چکی تھی انہیں۔
~~~~~~~~
رانیہ خاموشی سے ان سبز کھیتوں کو دیکھ رہی تھی۔
دماغ سوچوں میں الجھا ہوا تھا اور ان سوچوں کا محور کوئی اور نہیں فہد تھا۔
“آخر کیوں نہیں نکل جاتے آپ… “
وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھامتی ہوئی بولی۔
“حقیقت کو قبول کر چکی ہوں میں…. آگے بڑھ چکی ہوں پھر کیوں مجھے رہا نہیں کرتے آپ؟”
وہ معدوم سی آواز میں خود کلامی کر رہی تھی۔
“مجھ سے دور تو ہو گئے ہیں تو پھر مجھ سے جدا کیوں نہیں ہوتے؟ کیوں مجھے خود سے باندھ رکھا ہے؟”
وہ سسکتے ہوےُ زمین پر بیٹھ گئی۔
“مجھے سکون کیوں نہیں ملتا؟ کیوں ہر لمحہ مجھ پر میری سوچوں پر قابض رہتے ہیں آپ؟”
وہ اشک بہاتی بولتی رہی تھی۔
رخسار تر ہو چکے تھے۔
آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھیں۔
ایک تکلیف تھے جو اسے اپنے حصار میں لئے ہوئے تھی۔
“میں تھک رہی ہوں… ہار رہی ہوں… خود سے لڑتے لڑتے….خود کو سمجھاتے سمجھاتے آخر یہ سب انجام کو کیوں نہیں پہنچ جاتا۔”
وہ ہاتھ کی مٹھی زور سے بند کرتی ہوئی بولی۔
“مجھے سکون مل جاےُ… میرے مولا مجھے سکون مل جاےُ۔ میں بس سکون کی تلاش میں جہاں ملے گا چلی جاؤں گی۔”
وہ بے دردی سے رخسار رگڑتی ہوئی بولی۔
“انسان ہوں میں بھی…. کتنا اور کس حد تک برداشت کروں۔ کس حد تک آزمایا جاےُ گا مجھے۔”
لب کپکپا رہے تھے۔
“رانیہ دودھ ابل جاےُ گا کدھر چلی گئی ہے… “
آواز سنتے ہی وہ ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“یہ زندگی تو نہ ہوئی…. اسے جینا نہیں کہتے….”
وہ آئینے کے سامنے آتی ہوئی خود کو دیکھنے لگی۔
“نہیں کہتے اسے جینا…. اسے تو پل پل مرنا کہتے ہیں۔”
وہ چہرہ صاف کرتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔
~~~~~~~~
گاڑی کسی گھر کے آگے رک چکی تھی۔
عائشہ اشک بہاتی ان بے رحموں کی منتیں کر رہی تھیں۔
فدا حسین نے اسے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سکارف اتر گیا۔
“ابو…. “
وہ متحیر سی انہیں دیکھنے لگی۔
“چلو اندر…. “
وہ اسے گھسیٹ رہے تھے۔
انا کی آڑ میں ان کا دل اتنا سخت ہو چکا تھا کہ عائشہ کی اس حالت کا بھی خیال نہیں کیا انہوں نے۔
“ابو پلیز مجھے واپس جانے دیں….ابو مجھے…. “
وہ ہچکیاں لیتی بول رہی تھی۔
“ایک لفظ منہ سے نکالا تو جان سے مار دوں گا…. “
وہ رک کر قہر برساتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
ان کے اس انداز پر اس کی ہچکی بندھ گئی۔
عائشہ سہم کر انہیں دیکھنے لگی۔
“چلو اندر اب… “
وہ گھر کے اندر قدم رکھتے ہوئے بولے۔
جو ننھی جان اس کے ہمراہ تھی عائشہ اس کی خاطر خاموش ہو گئی۔ انہیں تو خیال نہیں تھا مگر عائشہ کو احساس تھا۔
وہ سوں سوں کرتی اردگرد کا جائزہ لینے لگی۔
“یہ تو انکل سعید کا گھر ہے…. “
سرگوشی اتنی مدھم تھی کہ اس کے علاوہ کوئی نہ سن سکا۔
سعید فدا حسین کے قریبی دوستوں میں سے ایک تھے۔
“عائشہ کو کمرے میں بھیج دو…. پانی وغیرہ پلاؤ اسے… “
سعید اپنی بیگم کی جانب دیکھتے ہوئے بولے۔
“آ جاؤ بیٹا…. “
وہ مسکراتی ہوئی آگے ہوئیں۔
عائشہ سہم کر کبھی انہیں دیکھتی تو کبھی فدا حسین کو۔
“جاؤ…. “
وہ ہنکار بھر کر کہتے صوفے پر بیٹھ گئے۔
عائشہ حیل و حجت سے کام لے رہی تھی۔
“آ جاؤ کچھ نہیں ہوگا…. “
وہ نرم مسکراہٹ اچھالتی اس کا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولیں۔
وہ نا چاہتے ہوےُ بھی ان کے ساتھ چل دی۔
~~~~~~~~
“ڈاکٹر میرا بچہ ٹھیک ہے نہ؟”
یہ سوال وہ شاید دسویں مرتبہ پوچھ چکی تھیں۔
“دیکھیں آپ پریشان مت ہوں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں… نرس ان کو باہر لے جاؤ۔”
وہ نرس کو اشارہ کرتے ہوئے بولے۔
اویس بے سدھ بیڈ پر پڑا تھا۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی نسیم کو باہر لے آئیں۔
“آپ کے گھر سے کوئی نہیں ہے ساتھ؟”
وہ انہیں دیکھتی ہوئی بولی۔
“آ رہے ہیں…. “
وہ ہاتھ کی پشت سے رخسار رگڑتی ہوئی بولیں۔
“وہ آئیں تو یہ میڈیسن منگوا لینا آپ… اور فکر مت کریں وہ جلد ٹھیک ہو جاےُ گا۔”
وہ پیشہ وارانہ مسکراہٹ اچھالتی اندر چلی گئی۔
“کیا ہوا اویس کو؟”
ایاز ہانپتے ہوئے ادھر آےُ۔
“بھیا… بہت برے بے دردی سے مارا ہے….ذرا ترس نہ آیا انہیں میرے اویس پر۔ پتھر کے دل تھے ان کے شاید۔”
وہ بلکتی ہوئی ان کے ساتھ لگ گئیں۔
“ڈاکٹر کہاں ہے…. تم ہمت سے کام لو۔”
وہ ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔
“اندر ہیں… “
وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتی ہوئی بولیں۔
“سنو…. تم گھر لے جاؤ انہیں… اور اویس کے ساتھ ہم ہیں تم پریشان مت ہونا۔”
وہ عقب میں اشارہ کرتے ہوئے بولے جہاں سے اویس کے دوست آتے دکھائی دے رہے تھے۔
“میں نہیں جاؤں گی گھر… “
وہ بضد ہوئیں۔
“نسیم سمجھنے کی کوشش کرو یہاں زیادہ لوگوں کو ٹھہرنے نہیں دیں گے اس لئے تم گھر چلی جاؤ ہم ہیں اویس کے پاس۔”
ایاز نے تحمل سے سمجھایا۔
“اور عائشہ… “
وہ رک کر انہیں دیکھنے لگی۔
“ہاں میں پولیس اسٹیشن سے ہی آ رہا ہوں… وہ لے آئیں گے اسے بھی۔”
انہوں نے تسلی دینا چاہی۔
نسیم نا چاہتے ہوےُ بھی ڈرائیور کے ہمراہ چل دیں۔
“مجھے فون کرتے رہنا…. “
وہ مڑ کر انہیں دیکھنے لگی۔
“ہاں میں بتاتا رہوں گا… “
وہ اثبات میں سر ہلانے لگے۔
~~~~~~~~
“یہ پولیس کیسے آئی یہاں؟”
فدا حسین ششدر سے کہتے کھڑے ہوےُ۔
“معلوم نہیں کیسے آ گئی… “
سعید بھی حیران تھا۔
“نہیں یہ نہیں ہونا چائیے تھا۔”
وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔
“سعید پچھلا دروازہ…. “
یکدم ان کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
“آؤ جلدی سے… “
وہ کہتے ہوئے سرعت سے چل دئیے۔
“تم نے بلایا ہے نہ انہیں؟”
وہ کمرے میں آتے ہوئے غراےُ۔
عائشہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
“فون ہے نہ تمہارے پاس…. دو مجھے فوراً… “
وہ آگے بڑھتے طیش میں چلاےُ۔
“نہ… نہیں ہے میرے پاس۔”
وہ صاف مکر گئی۔
“تم دیتی ہو یا میں خود لوں؟”
وہ دانت پیستے ہوےُ گویا ہوےُ۔
چہرہ مارے غصے کے سخت ہو رہا تھا۔
عائشہ نے گھبرا کر پینٹ کی جیب سے فون نکال کر آگے کر دیا۔
“ہونہہ…. دیکھتا ہوں کیسے لے کر جاتے ہیں تمہیں… “
وہ فون سامنے دیوار پر مارتے ہوئے چلاےُ۔
عائشہ نے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔
چہرے پر خشک آنسوؤں کے نشان تھے۔ آنکھوں کی سوجن اپنی کہانی آپ بیان کر رہی تھی۔
“چلو اب… “
وہ اس کی بازو پکڑتے چلنے لگے۔
وہ کسی قید پنچھی کی مانند خاموشی سے ان کے ہمراہ چلنے لگی۔
عائشہ اس لمحے بے بسی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
فدا حسین نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور وہاں سے نکل گئے۔
وہ آنکھوں میں نمی لئے گردن گھما کر عقب میں دیکھنے لگی۔
“شاید میرا نمبر ٹریس کیا ہو… “
وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب تھی۔
“عمر مجھے لے جائیں… “
دل سے صدا نکلی ہی تھی کہ دو موتی ٹوٹ کر رخسار پر آ گرے۔
“اگر کوئی ہوشیاری کی تو انجام تمہاری سوچ سے بالاتر ہو گا… “
وہ اب کسی دوسرے دوست کے گھر آ چکے تھے۔
فدا حسین کمرے سے نکل کر گئے تو وہ ہارے ہوئے انداز میں بیٹھ گئی۔
“اویس پتہ نہیں کس حال میں ہوگا… میری وجہ سے کتنا مارا اسے۔”
وہ ندامت سے بولی۔
“یہ سب کیا ہو رہا ہے…. پلیز الله میری مدد کریں۔ مجھے میرے گھر واپس بھیج دیں۔”
وہ چہرہ اٹھاےُ بول رہی تھی۔
“پتہ نہیں ابو کیا کرنے والے ہیں… “
لمحہ بہ لمحہ دل گھبراتا جا رہا تھا۔
“پتہ نہیں کیوں یہ سب کر رہے ہیں آپ…. ذرا سا بھی ترس نہیں آتا آپ کو۔”
وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاےُ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
روتے روتے کب اس کی آنکھ لگی اسے علم ہی نہ ہوا۔
~~~~~~~~
“امی آپ کچھ بتائیں تو… کیوں روےُ جا رہی ہیں؟”
عمر بے چینی سے کہتا کھڑا ہو گیا۔
“بیٹا وہ لے گئے… وہ عائشہ کو لے گئے۔”
وہ اشک بہاتی بول رہی تھیں۔
عمر کو اپنی سماعت پر شبہ ہوا۔
“میں سمجھا نہیں… “
وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔
“بیٹا ہم دوپہر میں چیک اپ کے لئے گئے تھے اور وہاں سے وہ عائشہ کو لے گئے۔”
انہوں نے ہمت کر کے بتانا شروع کیا۔
“کون لے گئے اور کہاں؟”
عمر کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔
نسیم بی بی نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔
عمر سر تھام کر بیٹھ گیا۔
دماغ مفلوج ہو چکا تھا۔
“معاف کر دینا بیٹا… ہم کچھ نہیں کر پاےُ۔”
وہ اپنی ہی رو میں بولتی جا رہی تھیں۔
“اویس… اویس کیسا ہے امی؟ مجھے بتائیں؟”
وہ تشویش سے کہتا کھڑا ہو گیا۔
“اب بہتر ہے وہ… ڈاکٹر نے پٹی وغیرہ تو کر دی ہے لیکن ڈسچارج نہیں کیا ابھی۔”
اتنی پریشانیاں تھیں کہ وہ سمجھنے سے قاصر تھے کس کے لئے پہلے پریشان ہوا جاےُ۔
“ٹھیک میں میں کرتا ہوں کچھ… آپ پریشان مت ہوں۔”
آواز اتنی مدھم تھی کہ نسیم بمشکل سن سکیں۔
“بھیا… “
وہ فون بند کر کے مڑا ہی تھا کہ زبیر نظر آ گئے۔
“ہاں میں جانتا ہوں…تمہیں یہی بتانے آ رہا تھا۔”
وہ سپاٹ انداز میں کہتے آگے بڑھے۔
عمر کی آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔
“مجھے فوراً پاکستان جانا ہوگا… “
وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا۔
“کل صبح کی فلائٹ ہے تمہاری….”
وہ ٹکٹ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولے۔
عمر خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“پریشان مت ہو… سب ٹھیک ہو جاےُ گا۔”
وہ اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولے۔
عمر اپنی کیفیت پر قابو پانے کی ممکن سعی کرنے لگا۔
“جاؤ پیکنگ کرو اب تم… “
وہ اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوےُ بولے۔
“عائشہ کی کوئی خبر آپ کو؟”
وہ رک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“ماموں سے بات ہوئی ہے ابھی… پولیس نمبر ٹریس کر کے گئی تھی وہاں لیکن فدا حسین فرار ہو گئے۔”
وہ مایوسی سے گویا ہوےُ۔
“اور اب؟”
بے قرار سا لہجہ تھا۔
“اب معلوم نہیں… شاید فون وہیں چھوڑ گئے ہیں۔”
وہ لا علمی ظاہر کرتے ہوئے بولے۔
“ٹھیک ہے… آپ جیسا بھائی شاید ہی کسی کے پاس ہو۔”
وہ پھر سے ان کے گلے لگتا ہوا بولا۔
زبیر معدوم سا مسکراےُ۔
“اب جاؤ جلدی… وقت کا ضیاع مت کرو۔”
وہ اس سے الگ ہوتے ہوےُ بولے۔
“جی… “
عمر کہتا ہوا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
زبیر وہیں صوفے پر بیٹھ گئے۔
وہ فکرمند تھے۔
“گھر سے دور رہنا بھی ایک عذاب ہے۔”
وہ سرد آہ بھرتے ہوئے بولے۔
وہاں پاکستان ہوتے تو شاید ٹینشن اتنی زیادہ نہ ہوتی جتنی یہاں پردیس میں رہ کر ہو رہی تھی۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے فون نکالنے لگے۔
~~~~~~~~
رات کا تیسرا پہر تھا جب فدا حسین اسے لئے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔
عائشہ کو گاڑی میں ڈال کر انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی جو چار بجا رہی تھی۔
“چلو… اس وقت تو سب سکون کی نیند سو رہے ہوں گے آرام سے نکل جائیں گے ہم…. “
وہ فاتحانہ مسکراہٹ لئے گاڑی میں بیٹھ گئے۔
