599.1K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ana Parast Episode 6

Ana Parast by Hamna Tanveer

“آپ کہتی ہیں تو ٹھیک ہے…. ہم کچھ وقت کے لئے خاموش ہو جاتے ہیں۔”

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چپ ہو گئیں۔

“عائشہ کی پڑھائی مکمل ہو جاےُ پھر شادی کریں گے اس کی… “

صبیحہ بیگم نے مسکرا کر تسلی دینا چاہی۔

“ٹھیک ہے… پھر میں چلتی ہوں۔ امید کرتی ہوں آپ اس بات پر قائم رہیں گیں۔”

وہ کھڑی ہوتی ہوئی بولیں۔

“جی جی… میں تو خود یہی چاہتی ہوں کہ عائشہ کی شادی عمر سے ہو۔”

وہ بھی کھڑی ہو گئیں۔

“خدا حافظ… “

نسیم بی بی مسکراتی ہوئی وہاں سے نکل گئیں۔

صبیحہ بیگم کچھ سوچ کر عائشہ کے کمرے کی جانب چل دیں۔

کمرے میں مریم اور عائشہ دونوں موجود تھیں۔

“مریم تمہاری ٹیوشن کا ٹائم ہو رہا ہے جاؤ… “

وہ اندر آتی ہوئی بولیں۔

“اچھا امی… “

وہ کہتی ہوئی اپنا سامان اٹھانے لگی۔

“تم آج کلاس لینے نہیں جا رہی؟”

وہ عائشہ کے بجھے ہوےُ چہرے کو دیکھتی ہوئی بولیں۔

“نہیں… آج دل نہیں کر رہا… “

وہ مدھم آواز میں بولی۔

وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاےُ بیٹھی تھی۔

آنکھوں کی سوجھن اس کے اشکوں کا پتہ دے رہیں تھیں۔

وہ خاموش تھی لیکن اس کی آنکھیں چیخ چیخ کر سب بتا رہیں تھیں۔

“عائشہ میری بچی… تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟”

وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتیں نرمی سے بولیں۔

عائشہ خاموش رہی شاید بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں اس کے پاس۔

“اس دن کے لئے نہیں پڑھایا تمہیں کہ ایسے جاہلوں کو سونپ دوں گی…. تم دیکھنا تمہاری شادی عمر سے ہی ہوگی… بہت سلجھا ہوا بچہ ہے وہ,,کہاں عمر اور کہاں یہ آصف, عامر…. “

بولتے بولتے چہرے پر ناگواری در آئی۔

“ابھی تو میری بچی نے پروفیسر بننا ہے…اپنے خواب پورے کرنے ہیں پھر تسلی سے تمہاری شادی کریں گے… تب تک تمہارے ابو بھی مان ہی جائیں گے۔ برداری کے باعث اتنے اچھے رشتے سے انکار کر رہے ہیں۔”

وہ تاسف سے بول رہی تھیں۔

“امی پلیز آپ ابو کو منا لیں… انہیں سمجھائیں پلیز… “

بولی تو آواز بھرا گئی۔

“ہاں ہاں تم پریشان مت ہو…. دیکھنا سب ٹھیک ہو جاےُ گا۔ چلو اب اٹھ کر منہ دھو لو کیسے چہرہ مرجھا گیا ہے۔”

وہ افسردہ سی بولیں۔

عائشہ انہیں دیکھتی اثبات میں سر ہلانے لگی۔

“صبیحہ…. “

ابھی وہ اندر ہی تھیں کہ حسین صاحب کی آواز سنائی دی۔

“لگتا ہے تمہارے ابو آ گئے میں دیکھتی ہوں انہیں… “

وہ کہتی ہوئی کھڑی ہو گئیں۔

“صبیحہ کہاں مر گئی ہو…. “

وہ حلق کے بل چلاےُ۔

“آ رہی ہوں… “

وہ کہتی ہوئی سرعت سے ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

“کب سے آوازیں دے رہا ہوں… بہری ہو گئی ہو کیا؟”

وہ ماتھے پر بل ڈالے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“وہ… میں… “

“اب میرا منہ دیکھتی رہو گی کیا؟ دفع ہو کر پانی لاؤ… “

وہ ہنکار بھرتے چارپائی پر بیٹھ گئے۔

“بس کھانے اور کپڑے کا پتہ ہیں ان سب کو…. باپ کو بھی پوچھنا ہے یہ تو معلوم ہی نہیں ہے۔ کھانے کو دیتے رہو انہیں پھر خوش ہیں۔”

وہ مسلسل بولتے جا رہے تھے۔

عائشہ بآسانی ان کی باتیں سن سکتی تھی۔

ایک سرد آہ بھرتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔

“اور تم کان کھول کر سن لو… عامر سے شادی ہوگی تمہاری…. اس بے شرم عمر کو تو میں دیکھ لوں گا… میری بیٹی کو میرے خلاف ورغلا رہا ہے۔”

عائشہ پر نظر پڑتے ہی وہ اس کی جانب آ گئے۔

عائشہ خاموشی سے چلنے لگی۔

“اپنی مرضی نہیں چلا سکتی تم…. وہیں شادی کرو گی جہاں تمہارا باپ کہے گا… کسی راہ چلتے سے بھی کرنی پڑی نہ تمہاری شادی تو کر دوں گا لیکن اس عمر….سے نہیں کروں گا۔”

وہ آگ بگولہ ہوتے بولتے جا رہے تھے۔

عائشہ نے منہ دھویا اور واپس کمرے کی جانب چلنے لگی۔

عائشہ کی چپ انہیں مزید طیش دلا رہی تھی۔

چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو چکا تھا۔

جب عائشہ کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو عمر کا نمبر ملا کر فون کان سے لگا لیا۔

وہ بات کم کر رہے تھے اور گالیاں زیادہ دے رہے تھے۔

عمر خاموشی سے ضبط کر رہا تھا۔

وہ عمر کو اس کے خاندان کو نجانے کیا کیا بول رہے تھے۔

“تو تیرا سارا خاندان بے غیرت ہے…. “

عمر حوصلے سے ان کی باتیں برداشت کر رہا تھا۔

عائشہ نے روتے ہوئے دونوں ہاتھ کان پر رکھ لیے۔

کتنا اذیت ناک تھا یہ,, یہ تو وہی جانتی تھی۔

“ابو بس کر دیں… “

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔

فون غالباً بند ہو چکا تھا تبھی ان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

عمر چند لمحے یونہی فون کی اسکرین کو دیکھتا رہا۔

“پتہ نہیں کیسے سب نارمل ہوگا… “

وہ فون بیڈ پر اچھالتا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔

فدا حسین کے اتنا سنانے پر بھی عمر نے ایک لفظ بھی جواب میں نہ کہا بس سنتا رہا انہیں۔

“امی وہاں گئیں تھیں شاید… “

وہ بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔

نسیم بی بی فون پر مصروف تھیں۔

عمر آ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔

“ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا… میں بعد میں بات کرتی ہوں…”

وہ عثمان سے بات کر رہی تھی۔

“کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟”

وہ بغور عمر کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولیں۔

عمر اثبات میں سر ہلانے لگا۔

“آپ عائشہ کے گھر گئیں تھیں؟”

وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“ہاں… مجھے بھی بات کرنی تھی تم سے اس متعلق… “

وہ اثبات میں سر ہلانے لگیں۔

“جی بتائیں… “

وہ مکمل طور پر ان کی جانب متوجہ تھا۔

“عمر میرے بیٹے تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا… وہ پڑھائی مکمل ہونے سے پہلے عائشہ کی شادی نہیں کرنا چاہتے۔ اس لیے ہمیں خاموش ہونے کو بولا ہے… “

وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولیں۔

“اچھا…. “

وہ بس جواب میں اتنا ہی بول پایا۔

“ٹھیک ہو تم؟”

وہ افسردگی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔

“جی… “

کہہ کر وہ کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی سمت چل دیا۔

“کاش میں تمہاری اس تکلیف کو دور کر سکتی… “

وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولیں۔

~~~~~~~~

“آپ نے آصف کے لئے منع کب کیا؟”

صبیحہ بیگم ان کے سامنے بیٹھتی ہوئی بولیں۔

“فضول میں بکواس کرتا رہتا ہے… منع کر دیا تھا میں نے اس کی ماں کو… “

وہ ہنکار بھرتے ہوئے بولے۔

“لیکن آپ کو تو بہت پسند تھا وہ… عائشہ جب تین سال کی تھی آپ نے خود یہ رشتہ کیا تھا۔”

وہ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی۔

“میرے آگے زبان چلاتا ہے وہ… میں اسے سعودیہ لے کر گیا اور وہ مجھے ہی تیور دکھا رہا تھا… یہاں آنے سے قبل ہی میں اس کی ماں کو فون کر کے منع کر دیا تھا۔”

وہ سخت خفا دکھائی دے رہے تھے۔

“اچھا سہی… “

صبیحہ بیگم کو کچھ ڈھارس ملی۔

“اب عامر سے کروں گا میں عائشہ کی شادی… “

وہ فاتحانہ مسکراہٹ لئے بولے۔

“زکیہ نے آپ سے بھی بات کی تھی؟”

جو بات انہیں تنگ کر رہی تھی آخر وہ پوچھ ہی بیٹھیں۔

“ہاں… کیوں تمہاری بہن نے تمہیں بتایا نہیں؟”

وہ تمسخرانہ انداز میں بولے۔

“نہیں مجھے لگا صرف مجھ سے بات کی ہے اس نے…. “

وہ آہستہ سے بولیں۔

“عامر مجھے پسند ہے… اس لیے اسی سے کروں گا… میری بات بھی مانتا ہے وہ۔”

وہ پرسوچ انداز میں بولے۔

“ویسے دیکھا جاےُ تو برائی تو عمر میں بھی کوئی نہیں ہے… “

انہوں نے ہمت کر کے کہہ ڈالا۔

“جتنی تمہاری اوقات ہے نہ اتنی ہی بات کیا کرو… آئی بڑی اس بے غیرت کے حمایت کرنے والی… وہ کیا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں لالچی لوگ ہیں تمہیں گھر بیٹھے کیا معلوم….”

وہ نفی میں سر ہلانے لگے۔

“اس قصبے کے لوگ کیسے ہیں آپ بھی جانتے تو ہیں اچھے سے… “

وہ دھیرے سے منمنائیں۔

“اپنا منہ بند رکھو تم…. تم سے مشورہ نہیں مانگا میں نے۔”

وہ تپ کر انہیں دیکھنے لگے۔

“اچھا…. “

وہ سانس خارج کرتی کھڑی ہو گئیں۔

~~~~~~~~~

“بڑے دنوں بعد شکل دکھائی ہے بے مروت انسان…. “

فہد اسے دیکھتا خفگی سے بولا۔

“مجھ سے بات کر رہا ہے؟”

وہ اپنے سینے پر انگلی رکھتا تعجب سے بولا۔

“نہیں میرا دماغ خراب ہے میں دیواروں سے باتیں کرتا ہوں… “

وہ جل کر بولا۔

“اوہ اچھا…. مہلک مرض معلوم ہوتا ہے انکل سے بات کرتا ہوں ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔”

وہ خاصی سنجیدگی سے کہتا کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔

“معلوم ہے ابتسام تو انتہائی بیکار انسان ہے۔”

وہ جل کر بولا۔

“تجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتا…. خود کو دیکھ بس اسی کمرے میں پڑا رہتا ہے۔”

وہ جیب سے فون نکالتا دانت نکالنے لگا۔

“ماں صدقے جاےُ…. “

وہ گھوری سے نوازتا ہوا بولا۔

“ہاں بے شک چلی جاےُ… ویسے اکثر جاتی رہتی ہیں۔”

ابتسام محو سے انداز میں بولا۔

“تو نے کون سے بزنس سٹارٹ کر رکھے ہیں بتا ذرا…”

وہ اسے آڑے ہاتھوں لیتا ہوا بولا۔

“کیا رشتہ کروانا ہے میرا؟”

وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھنے لگا۔

“یار میں بہت پریشان ہوں… “

وہ یکدم سنجیدہ ہو گیا۔

“کیا ہوا؟ ایسا باسی منہ کیوں بنا رکھا ہے؟”

وہ سپاٹ انداز میں بولا۔

“باسی کہنے پر میں تجھے باہر پھینک سکتا ہوں لیکن ابھی مجھے بات کرنی ہے تیری منحوس شکل سے۔”

فہد کا موڈ خاصا خراب تھا۔

“اچھا بتا کیا مسئلہ ہے؟ رانیہ کیا کہتی ہے؟”

وہ جیسے اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔

“یار وہ کہتی ہے دور رہو مجھ سے…. اسے کیسے سمجھاؤں کہ نہیں کر سکتا میں یہ…. “

وہ جھنجھلا کر بولا۔

“تو نکاح کر لے اس سے… “

ابتسام نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوےُ سہولت سے حل پیش کیا۔

“میں بھی کچھ ایسا ہی سوچ رہا ہوں…”

وہ کسی گہری سوچ میں دکھائی دے رہا تھا۔

“بس پھر تو کوئی مسئلہ نہیں….اس کے بعد تیرا باپ تجھے اٹھا کر باہر پھینک دے گا رانیہ سمیت…. “

ابتسام کی بات نے اس کا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیا۔

“مانا کہ منحوس شکل ہے لیکن بندہ کم از کم بات ہی اچھے کر لے۔”

وہ جی بھر کر بدمزہ ہوا۔

“اچھی بات کیا؟ جو حقیقت ہے وہی بتائی تجھے…. “

وہ پرسکون تھا۔

“باپ کو بھی دیکھ لوں گا میں…. “

وہ ناگواری سے بولا۔

“سو اگر تو ریڈی ہے بے عزتی کا سیشن کروانے کے لیے تو میں چلوں؟”

وہ کھڑا ہوتا ہوا بولا۔

“جس دن میرے سارے کام بن گئے نہ سب سے پہلے تجھے گولی ماروں گا۔”

وہ بندوق اٹھا کر اس کی جانب کرتا ہوا بولا۔

“ہٹا لے بیٹا… غلطی سے بھی چل جاتی ہے۔”

ابتسام بندوق کا منہ دوسری جانب کرتا ہوا بولا۔

“رانیہ سے بات کر…. پھر مجھے ایک چھوٹی سی مسڈ کال دے دینا بندہ حاضر ہو جاےُ گا۔”

وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“اچھا ٹھیک ہے…. دفع ہو۔”

فہد منہ بناتا ہوا بولا۔

“سیم ٹو یو…. “

وہ قہقہ لگاتا باہر نکل گیا۔

“اب اس مسئلے کا حل نکالنا ہی پڑے گا۔”

وہ کھڑکی کو گھورتا ہوا سوچنے لگا۔

~~~~~~~~

“زکیہ میں نے جب تمہیں منع کر دیا تھا پھر تم نے عائشہ کے ابو سے کیوں بات کی؟”

وہ ناراض ناراض سی بول رہی تھیں۔

“افسوس تو مجھے تم پر ہے…. اپنی بہن کو انکار کر کے نسیم کو رشتہ دے رہی ہو۔ زیادتی نہیں یہ؟”

وہ منہ بناتی ہوئی بولیں۔

“جو میری بچی کی خوشی ہے میں وہی کر رہی ہوں… “

وہ آہستہ سے مگر مضبوط لہجے میں بولیں۔

“پہلا حق تو میرا ہے اور تم ہو کہ عمر کے ساتھ کرنے پر بضد ہو۔”

وہ خفا انداز میں انہیں دیکھ رہی تھیں۔

“زکیہ میری بات سمجھو… عائشہ کی خوشی عمر ہے اور اپنی خواہش کا اظہار کرنا کوئی گناہ نہیں جس کی سزا میں اسے کسی اور کے حوالے کر دیا جاےُ۔”

وہ تحمل سے سمجھانے لگیں۔

“گھر کی بچی گھر میں جاےُ تو اچھا ہوتا ہے… ان غیر برادری والوں کا کیا بھروسہ کیا سلوک کریں۔”

وہ پھر سے قائل کرنے لگیں۔

“چاہے برادری اور ہے لیکن رشتہ دار ہیں ہم…. اچھے سے جانتی ہوں نسیم کو‍۔ کوئی برائی نہیں اس رشتے میں۔”

وہ قطعیت سے بولیں۔

“بھائی صاحب تو کچھ اور ہی کہتے ہیں… “

وہ طنزیہ مسکرائی۔

“بہرحال تم اب اس متعلق کوئی بات مت کرنا…. میں خاندان میں کسی کو نہیں دوں گی عائشہ کا رشتہ۔”

وہ سخت لہجے میں گویا ہوئیں۔

“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی… چلتی ہوں اب۔”

وہ منہ بناتی ہوئی کھڑی ہو گئیں۔

“ٹھیک ہے….”

صبیحہ بیگم بھی کھڑی ہو گئیں۔

~~~~~~~~

“بات ہوئی عمر سے؟”

وہ اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“ہاں ہوئی ہے… پتہ نہیں کیا ہوگا ہمارا…..”

وہ سرد آہ بھرتی ہوئی بولی۔

“تم فکر مت کرو انکل مان جائیں گے۔”

حنا نے اسے تسلی دینا چاہی۔

“عمر واپس جا رہے ہیں… آج فون دینے آئیں گے مجھے۔ وہ فون تم اپنے گھر لے جایا کرنا اور یونی آتے ہوئے لایا کرنا۔”

وہ بینچ پر بیٹھتی ہوئی بتانے لگی۔

“اچھا اچھا… ٹھیک ہے سمجھ گئی۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

“کچھ کھاؤ گی؟”

حنا سامنے کینٹن کو دیکھتی ہوئی استفسار کرنے لگی۔

“نہیں میرا دل نہیں… تم کھا لو جو کھانا ہے۔”

وہ دور خلا میں دیکھتی ہوئی بول رہی تھی۔

جب دل ہی خوش نہ ہو تو انسان کیسے خوش رہ سکتا ہے اور وہ اس کیفیت میں گزشتہ کئی ماہ سے جھلس رہی تھی۔

حنا اسے دیکھتی خاموش ہو گئی۔

شاید اس کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جس میں وہ عائشہ کو تسلی دے پاتی۔

~~~~~~~~

“عامر سے کیا تکلیف ہے تمہیں؟”

وہ خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“کل کو آپ کی بہن مجھے جینے نہیں دے گی کہ میرے بیٹے کو انکار کر کے اپنی بہن کے بیٹے سے کر دیا… آپ کو بھی عمر بھر طعنے دے گی اسی لئے میں خاندان میں کسی کو رشتہ نہیں دوں گی عائشہ کا۔”

وہ بنا ڈرے بولنے لگیں۔

فدا حسین نے ناگواری سے انہیں دیکھا۔

لیکن چونکہ ان کی بات میں دم تھا اس لئے لمحہ بھر کو خاموش ہو گئے۔

“اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ اسے انکار کر کے عمر کو ہاں کہہ دوں گا میں تو بھول ہے تمہاری… “

وہ کاٹ دار لہجے میں بولے۔

“لیکن میں خاندان میں کسی کو نہیں دوں گی عائشہ کا رشتہ…. مجھے اپنی زندگی اجیرن نہیں کرنی۔”

وہ کہتی ہوئی باہر نکل گئیں۔

“ہاں ایاز بولو کیسے ہو؟”

وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولے۔

“ہاں ہاں میں بھی ٹھیک ہوں…. تمہیں کس نے بتایا؟”

ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“نسیم رشتہ لے کر آئی تھی میری طرف سے تو صاف انکار ہے۔”

وہ صاف گوئی کرنے لگے۔

“دیکھ بھائی بچی اپنی برادری سے باہر مت دینا…یہ غلطی کبھی نہ کرنا۔”

وہ شاطرانہ مسکراہٹ لئے بولے۔

“ہاں ہاں مجھے اچھے سے معلوم ہے… “

فدا حسین اثبات میں سر ہلانے لگے۔

“بھلے عمر میرا بھانجا ہے لیکن تمہیں دوست ہونے کے ناطے آگاہ کر رہا ہوں۔ اور بھی کچھ باتیں کرنی ہیں ڈیرے پر آ جانا اطمینان سے کریں گے۔”

وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوئے۔

“ہاں ٹھیک ہے… میں آ جاؤں گا۔”

وہ کھانے کی ٹرے اپنی جانب کھسکاتے ہوےُ بولے۔

فون بند کر کے انہوں نے نخوت سے سر جھٹکا اور کھانا کھانے لگے۔

“عمر کی شادی تو تمہیں میری بیٹی کے ساتھ ہی کرنی پڑے گی….سونے جیسا رشتہ میں ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا اس لیے یہ رشتہ تو میں نہیں ہونے دوں گا۔”

ایاز ہنکار بھرتا فون جیب میں ڈالنے لگا۔

~~~~~~~~

“برقع پہنو تمہیں دریا میں پھینک کر آتا ہوں میں…. “

وہ کمرے میں آتے ہوئے بلند آواز میں گویا ہوئے۔

عائشہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔

“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”

صبیحہ بیگم ہکا بکا سی انہیں دیکھ رہی تھی۔

“سنا نہیں تم نے کیا کہا ہے میں نے؟”

وہ عائشہ کو گھورتے حلق کے بل چلاےُ۔

عائشہ سہم کر صبیحہ بیگم کو دیکھنے لگی۔

“کیا مطلب ہے اس بات کا؟”

وہ دونوں کے بیچ حائل ہو گئیں۔

“آج میں اسے مار کر ہی دم لوں گا…. “

وہ کاٹ کھانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے۔

“یہ بیٹی ہے آپ کی…. “

وہ دونوں کے بیچ دیوار بنی ہوئی تھیں۔

“ہاں تو کیا سر پر بٹھا کے رکھوں اسے… اور تم بہری ہو گئی ہو کیا؟ میں نے کہا برقع پہنو… “

اب کہ وہ حلق کے بل چلاےُ۔

“امی…. “

عائشہ گھبرا کر کہتی ان کی پشت کے پیچھے چھپ گئی۔