Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 9)
Adhore Rishte By Isra Rao
“کہاں سے آرہی ہو؟” ہماد نے باہر سے آتی ہوئی رابعی سے سوال کیا
“وہ میں سارہ..”
“جھوٹ مت بولنا کیونکہ میں مارکیٹ میں تمہیں دیکھ چکا ہوں” اس نے رابعی کی بات کاٹتے ہوئے کہا
رابعی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دے اس کے چہرے کے رنگ جیسے اڑ گئے تھے
“کون تھا وہ لڑکا؟” ہماد نے دوبارہ پوچھا
“اچھا ہوا تم نے خود دیکھ لیا میں بھی بتانا ہی چاہتی تھی” اس بار اس کے لہجے میں بغاوت تھی
“وہ لڑکا کون تھا؟” وہ اس کی طرف غصہ سے دیکھ رہا تھا
“میں اس سے پیار کرتی ہوں اور اسی سے شادی کروں گی”
اتنا سننا تھا کہ ہماد اس کی طرف لپکا اس کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا اس کے ہاتھ رابعی کے گلے میں پیوست ہوتے چلے جا رہے تھے اور خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
” چاہوں تو تمہیں ابھی جان سے مار دوں مگر میں ایسا کر نہیں سکتا” اس نے جھٹکے سے اس کا گلا چھوڑ کر ہاتھ ہٹاۓ اور باہر کی طرف جانے کے لیے پلٹا
“ایک بات اور تم نفرت کرتی ہونا مجھ سے؟ تمہاری زندگی سے ہمیشہ کے لیے جا رہاہوں” یہ کہ کر وہ تیز قدموں سے باہر کی طرف چل دیا اور وہ خوفزدہ نظروں سے اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی….
.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔@۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسلان کے جانے کے بعد وہ بہت اکیلا محسوس کر نےلگی سارہ دن بس اکیلی کمرے میں وقت گزار دیتی گھر والوں کے کہنے پر اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا آج اس کا یونیورسٹی میں پہلہ دن تھا اور اسے اپنے Depart کا بھی کوئ idea نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے
“Excuse me”
اس نے ایک لڑکی کو پکارہ
“Yes”
وہ لڑکی پلٹی
“کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ IT depart کس طرف ہے am new admisn…..”
“میں بتاتا ہوں نا” پیچھے سے آواز آئی
“آپ سے پوچھا ہے میں نے؟” اس نے تلخ لحجے میں کہا اور وہاں سے جانے لگی
“ارے ارے بات تو سنو” اس نے راستہ روکتے ہوئے کہا
“دیکھیے مسٹر مجھے آپ سے کوئ بات نہیں کرنی ہٹیں پیچھے”
“لیکن میں صرف مدد کرنا چاہتا ہوں”
“مجھے نہیں چاہیے please”
“مگر…..”
وہ اس کی بات سنے بنا ہی وہاں سے چلی گئی……
