317.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 25) Last Episode

Adhore Rishte By Isra Rao

“بھائی؟” وہ ان کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی

” کیسی طبعیت ہے فیان کی؟” رابعی نے پوچھا

” پتا نہیں حوش نہیں آیا” اس کی آنکھوں میں نمی تھی ہماد نے ردا کو گلے سے لگایا

” بھائی وہ میری وجہ مر گیا تو میں خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی” ردا نے روتے ہوئے کہا

“مم….. میں نے اس سے جھوٹ کہ دیا تھا کہ میں شادی کر رہی ہوں اسی لیے اس نے….” وہ رو رہی تھی تبھی نرس قریب آئی

” انھیں حوش آگیا ہے آپ مل سکتے ہیں” کہ کر وہ چلی گئی

سب اندر چلے گئے پر ردا وہیں کھڑی تھی اس میں ہمت نہیں تھی اسے دیکھنے کی اسے اس کی محبت کا احساس ہوگیا تھا اس نے رب کا شکر ادا کیا

⁦وہ کمرے میں آئی تو فیضان اسے دیکھتے ہی بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا

” ردا ” اس نے پکارا وہ اس کے قریب آکر رک گئی

“مم…مجھے معاف کردو ردا” فیضان نے کہا

ردا کی آنکھ سے آنسوں گرا مگر وہ خاموش تھی

” مجھے معاف کردو پلیز مجھ سے ردا کو مت چھینیے پلیز میں جی نہیں سکتا” اس نے رابعی اور ہماد کے سامنے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا

” ہم تمہیں معاف کردیتے ہیں پر ایک شرط پر” رابعی نے کہا سب اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے

“جو بھی شرط ہو میں سب مان لونگا” فیضان بنا جھجھکے ہوئے کہا

” تم ردا کو ہمیشہ خوش رکھو گے” رابعی نے مسکرا کر کہا

فیضان رابعی بات سن کر بے ساختہ مسکرا دیا اور ردا کو دیکھنے وہ بھی مسکرا دی دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر تھی

وہ آج بہت خوش تھا کیوں کے اسے ردا مل گئی تھی اور معافی بھی….

” ردا کتنی خوش تھی نا” اس نے سیڑھی چڑھتے ہوئے کہا

ہماد اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو” رابعی نے پوچھا

وہ وہیں سیڑھی پر رک گئے

” تم نے کتنی آسانی سے سب کچھ ٹھیک کردیا” ہماد نے سنجیدگی سے کہا

“ہماد تمہیں پتا ہے جو رشتے ادھورے رہ جاتے ہیں نا وہ بہت تکلیف دیتے ہیں” اس نے کہا

” جب تم مجھے چھوڑ کر گئے تھے نا تو مجھے ایسا لگا جیسے ہمارا رشتہ کبھی پورا نہیں ہوگا اور” رابعہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی ہماد نے اس کے لبوں پر انگلی رک دی

” آہاں پرانی باتیں بھول جاؤ اب تو ویسے بھی ہماری نئی زندگی شروع ہونے جا رہی ہے ” ہماد نے پیار سے کہا وہ مسکرا دی

“پھر کیا خیال ہے شادی کے بارے میں؟” ہماد نے شرارت بھری نظروں سے کہا

وہ جیسے سمجھتے ہی اسے گھورنے لگی اور سر جھکا کر مسکرانے لگی

” جا رہی ہوں میں ” وہ اوپر چھڑھنے لگی

” جواب تو دے دو یار” ہماد نے دوبارہ کہا

” منع کردوں تو؟” ردا نے چھیڑا

” تو میں زبردستی کرلوں گا” ہماد نے مسکرا کر کہا اور وہ بنا کچھ کہے تیزی سےسیڑھی چڑھ گئی اور وہ اپنا قہقہہ ضبط نہ کرسکا…..

⁦⁦ختم شد