171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 21)

Adhore Rishte By Isra Rao

” فرخ یار وہ میرا ساتھ کیسے چھوڑ سکتی ہے؟” فیضان کی آواز میں دکھ تھا

“لیکن یار اس کی فیملی نے انکار ہی کیوں کیا سوچنے کی طرفبات ہے؟” فرخ نے سوچتے ہوئے کہا

” پتا نہیں یار مگر میں اس کے بغیر مر جاؤں گا میں ایسا کیا کروں کہ اس کے گھر والے مان جائیں؟” اس کی آنکھوں میں پہلی بار فرخ کو درد نظر آیا تھا

“خدا پر بھروسہ رکھ یار سب ٹھیک ہوجائے گا” فرخ نے تسلی دی

” یار فرخ ردا کو تو میرا دل نہیں توڑنا چاہیے تھا میں اسے کتنا چاہتا ہوں وہ جانتی ہے” فیضان نے کہا

” اچھا تو نے بھی تو کتنی لڑکیوں کا دل توڑا تھا بھول گیا؟” فرخ نے جیسے اسے احساس دلوایا وہ اک دم جیسے چونکہ اس نے فرخ کو دیکھا

“میں نے؟ ” وہ جیسے کچھ یاد کر رہا تھا

” Oh my God”

کچھ یاد اتے ہی وہ چلایا اور اپنا سر ہاتھوں میں لے کر بیٹھ گیا

“کیا ہوا؟” فرخ نے حیرت سے پوچھا

” یار تجھے یاد ہے رابعہ نام کی لڑکی؟” اس نے فرخ کو یاد کروایا

” نہیں یار تیرے اتنی جگہ اکاؤنٹ تھے اب سب کو تو میں یاد نہیں رکھوگا” فرخ نے کہا

” ابے وہی عاشی کی دوست جسے تونے میرے ساتھ ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا” اس نے یاد دلوایا

” ہاں تو؟” فرخ الجھا

” ہو نا ہو اس کا کوئی کنکشن ہے ردا سے” فیضان نے کہا

” اور تجھے کیسے پتا؟” فرخ نے پوچھا

“کیونکہ رابعہ کو میں اکثر ڈراپ کرتا تھا گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا اس کا کیونکہ وہ بتاتی تھی کہ اس کی فیملی تھوڑی Conservative ہے اس لیے میں اسے پیچھے ہی اتار دیتا تھا…. “

“وہ ملیر میں رہتی تھی اوراسی علاقے میں ردا کا بھی گھر ہے تو ” اس نے سوچتے ہوئے کہا اور الجھ گیا

وہ ردا کے روم میں آئی تو ردا رو رہی تھی ردا نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے اور normal ہوئی

“آؤ نا رابعی” ردا نے مسکراتے ہوئے کہا

“تم رو رہی ہو؟” رابعی نے کہا

” نہیں رابعی آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا تو….” ردا نے بہانا بنایا

لیکن وہ سس کی بات سنے بنا ہی غصہ اٹھ کر تیزی سے باہر نکلی

” رابعی میری بات سنو” وہ اٹھی اور پیچھے بھاگی

وہ آئینے کے سامنے کھڑا بالوں میں ککنگھا کر رہا تھا کہ ایک دم سے وہ کمرے میں آئی

“کیاں میں پوچھ سکتی ہوں کہ کیوں تم نے ردا کے اور فیضان کے رشتے سے انکار کیا؟” رابعی نے غصہ سے کہا

ہماد نے ایک نظر اسے دیکھا جو بڑی بڑی سرخ آنکھوں میں غصہ لیے کھڑی تھی

“نہیں” اس نے نظر انداز کرتے ہوئے کہا دوبارہ مڑ کر کنگھا کرنے لگا

“تم جانتے ہو ارسلان بھائی کے جانے کے بعد وہ کتنی مشکل سے دوبارہ Normal ہوئی ہے ورنہ وہ تو ہنسنا ہی بھول گئی تھی وہ خوش رہنے لگی تھی ہماد پھر کیوں تم نے اس کی خوشیوں کو آنے سے پہلے ہی روک دیا؟” اس نے دوبارہ سوال کیا

” وہ میری بہن ہے میری مرضی تمہیں بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی” اس نے بے رخی سے کہا

“اچھا تو اب وہ صرف تمہاری بہن ہے میری کچھ نہیں ؟” اس کی آنکھ سے آنسوں گرے

اس کے آنسوں دیکھ کر ہماد کو احساس ہوا کہ وہ شاید زیادہ بول گیا مگر وہ اسے نہیں بتانا چاہتا تھا

” رابعی میرا وہ مطلب نہیں تھا یار…” ہماد قریب آکر کہنے لگا

” بس آپ نے بتادیا مجھے کہ آپ کی اور ردا کی کچھ نہیں لگتی…. لیکن پلیز ہماد ردا تو تمہاری بہن ہے نا اس کی خوشیوں کے آڑے مت آؤ اسے اس کی خوشیاں دے دو فیضان کو قبول کرلو آخر کیا کمی ہے فیضان میں سب کو پسند ہے بس تمہیں نہیں” اس نے منت کی

“ہاں مجھے نہیں پسند وہ” ہماد نے غصہ سے کہا

” کیوں؟” وہ چلائی

” کیوں کہ وہ وہی فیضان ہے جس نے تمہیں دھوکا دیا تھا ” ہماد نے غصے سے چیخ کر کہا

رابعی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اس کا ماضی ایک بار پھر سے اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا وہ خاموش تھی سب کچھ جیسے اس کے سامنے دوبارہ آگیا تھا جسے وہ بھلا چکی تھی…..