Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 19)
Adhore Rishte By Isra Rao
رے رشتے
انیسویں قسط
اس کا سیل فون بجتا جا رہا تھا پر کمرے میں کوئی نہیں تھا ہماد سیڑھی چڑھتا ہوا اوپر آیا تھی ردا کے کمرے سے آواز آئی وہ مرے کی طرف چل دیا جہاں سے مسلسل فون بجنے کی آواز آرہی تھی
اس نے اندر آکر دیکھا کمرے میں کوئی نہیں تھا اور سائیڈ ٹیبل پر سیل فون رکھا بج رہا تھا وہ قریب گیا فون کو دیکھا سکرین پر فیضان نام چمک رہا تھا اس نے کا رسیو کی کان سے لگایا
” ردا کہاں تھی کال کیوں نہیں اٹھا رہی تھی میں کب سے کال کر رہا تھا ” فیضان نے بنا آواز سنے کہا
” میں ہماد ردا کا بھائی” ہماد کی آواز پر وہ چونکا
” آ…آپ…..” اس کی آواز جیسے اندر ہی رہ گئی تھی
“جیسا میں سوچ رہا ہوں اگر ویسی بات ہے تو اپنے پیرنٹس کو گھر لے آنا” ہماد نے دو ٹوک بات کی اور فون بند کر دیا تبھی ردا روم میں آئی اس کا فون ہماد کے ہاتھ میں تھا
” بھائی آپ کوئی کام تھا؟” اس نے ہماد کو دیکھ کر کہا
” فیضان کون ہے؟” ہماد نے غصہ سے پوچھا
” بھائی وہ…وہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں….” وہ سمجھ گئی تھی اپنا سیل فون ہماد کے ہاتھ میں دیکھ کر اور اس کے اس طرح سوال کرنے پر
“پسند کرتی ہو اسے؟” ہماد نے دوبارہ پوچھا
” ہاں… نن..نہیں….” وہ گھبرا رہی تھی سر جھکائے کھڑی تھی
” اسے بولو اپنے پیرنٹس کو لے کر آئے بابا اور ماما سے میں بات کرلوں گا” ہماد مسکرا کر کہنے لگا اور سیل فون اس کی طرف بڑھایا
اس نے سیل فون پکڑتے ہوئے بھائی کو دیکھا وہ مسکرا رہا تھا
ہماد نے اس کا گال تھپتھپایا پیار سے اور کمرے سے نکل گیا
وہ کھڑی مسکرانے لگی پھر ہاتھ میں پکڑے فون کو گھورنے لگی اسے فیضان پر غصہ آیا آخر اس نے اسے پھنسا ہی دیا
“ہماد؟” اس نے پیچھے سے آوز دی
وہ جو کار کی چابی ہلاتا ہوا اپنی دھن میں باہر جا رہا تھا آواز پر پلٹا
وہ پنک کلر کا فراق پہنے چہرے پر حجاب باندھے سفید رنگت میں بہت معصوم لگ رہی تھی
” وہ مجھے کالج ڈراپ کردو گے مجھے وہ….” اس نے ہماد کو دیکھتے ہوئے کہا
“چلو” ہماد نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ اس کے پیچھے باہر چل دی
“تم تو کافی دن سے کالج نہیں جارہی تھی پھر آج کیوں؟” ہماد نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا
“وہ Examination form submit کروانا تھا مجھے”
ردا نے کہا
“اچھا ایک بات پوچھوں؟” ہماد نے سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا
“جی ” ردا نے اسے دیکھ کر کہا
” ہماری شادی ہونے والی ہے تم خوش ہو؟” ہماد ربعی کی طرف دیکھا وہ مسکرائی
” مجھ سے زیادہ بھی کوئی خوش قسمت ہو سکتا ہے جسے آپ جیسا پیار کرنے والا مل جائے مجھے اور کیا چاہیے میں بہت خوش ہوں” رابعی نے ہماد کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
ہماد کو اس کی آنکھوں میں پسندیدگی کا اظہار نظر آیا وہ بہت خوش تھا…….
فیضان اپنے پیرنٹس کو لے کر آگیا تھا ردا کے گھر وہ سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے ردا کے پیرنٹس کو بھی فیضان پسند آگیا تھا
لیکن ہماد اس سے کچھ کھچا کھچا تھا
رابعی گھر نہیں تھی وہ کالج سے سیدھی سارہ کے گھر چلی گئی تھی نوٹس لینے وہ جب شام میں گھر آئی تو فیضان اور اس کے پیرنٹس جا چکے تھے
