171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 14)

Adhore Rishte By Isra Rao

آج اسے عمرے سے آئےہفتے سے زیادہ ہوگیا تھا مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا اس کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا

“مما میں پارک جا رہی ہوں” اس نے جاتے ہوئے کہا

“جلدی آجانا بیٹا”

“جی مما” اس نے کہا اور باہر کی طرف چلی گئی

اب وہ بہت بدل گئی تھی نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا خواہ ہر عبادت دل سے کرتی.

شایداسے ایسی چوٹ لگی تھی جو اسے سیدھے راستے پر لے آئی تھی وہ بس اپنے رب کو راضی کرنا چاہتی تھی…

” نگاہیں شوک رکھتی ہیں اسےدیکھیں اسے چاہیں

مگر وہ شاید شرماتا ہے جو دیدار نہیں ہوتا”

وہ بینچ پر بیٹھی تھی اورتھوڑی دور سے آتی آواز سن رہی تھی شاید پارک میں بچوں کا آج فنکشن تھا ادھر ادھر بچے گھوم رہے تھے تھوڑے فاصلے پر کوئی مائک میں بول رہا تھا بچے تالیاں بجا رہے تھے

تبھی اس کی نظر مظہر پر پڑی جو ہماد کا جگری یار تھا وہ اکثر ہماد کے ساتھ ہی گھر آتا تھا

“مظہر بھائی” اس نے پیچھے سے پکارا

“آپ کون” وہ جو بچوں کے ساتھ کھڑا تھا پلٹتے ہوئے کہا

حجاب میں ہونے کے باعث وہ اسے شاید پہچان نہیں سکا

“میں رابعہ وہ ہماد…”

“اوہ ہاں پہچانا” اس نے بے رخی سے کہا اور واپس بچوں کے ساتھ مخاطب ہوگیا

“مظہر بھائی ہماد کہاں ہے” اسکی بے رخی سے وہ اندازہ کر چکی تھی کہ وہ سب جانتا تھا

“مجھے نہیں پتا کہاں ہے” اس نے بنا دیکھے ہی کہا

“آپ جانتے ہیں مجھے پتا ہے”

“میں نہیں جانتا ” اس نے غصہ سے کہا

“بھائی مجھے بتا دیجیے وہ کہاں ہے please”

اس نے منت کی پر اس نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گیا

“بھائی رکیں میں جانتی ہوں آپ کو پتا ہے میرے لیے نا صحیح اس کی فیملی کےلیے ہی بتا دیں”

وہ رک گیا تھا

“بھائی میں جا نتی ہوں میں نے اسے بہت تکلیف دی ہے پر”

“پر کیا؟ تمہیں اندازہ نہیں اس نے تمہیں کتنا چاہا اور تم نے….. ارے تم تو لائک ہی نہیں اس کی محبت کے” وہ غصہ میں کہتا چلا گیا

“بھائی مجھے میرے کیے کی سزا مل گئی ہے بلکہ مل رہی ہے مجھے سکون ہی نہیں ملتا ہر وقت ہماد کے بارے میں سوچتی ہوں میں اس سے معافی مانگنا چاہتی ہوں” آنسوں مسلسل اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے

وہ کچھ کہے بنا جانے کے لیے پلٹا

“بھائی خدا کے لیے بتا دیجیے وہ کہاں میں نا جی رہی ہوں نہ مر رہی ہوں میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے سامنے میں اسے بھول نہیں پا رہی بھائی میں…..”

وہ کہتے کہتے رکی

مظہر نے پلٹ کر دیکھا وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑے زمین پر بیٹھی رو رہی تھی حچکیوں سے اس کی آواز رک گئی تھی….

ٹین میں وہ اکیلی بیٹھی تھی کہ ایک لڑکا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا

” آپ مس ردا ہیں نا”

“جی کہیے ” اس نے پوچھا

“وہ فیضان ہسپتال میں اپنی زندگی اور موت سے لڑ رہا ہے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے “

“کیا؟ ” ردا چونکی

“جی شاید وہ آئندہ کبھی آپکو تنگ نہ کرے وہ آپ سے سچی محبت کرتا ہے لیکن آپ اس سے نفرت کرتی ہیں یہی بات اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی اس نے آپ کو بہت سمجھایا جب آپ نے نہیں یقین کیا تو وہ غصہ میں …..”

“کون سے ہوسپیٹل میں ہے وہ” وہ پریشانی میں کھڑی ہوئی

وہ روم میں بیٹھا جھک کر شوز لیس باندھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئ

اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا

“جلدی آگیا تو فنکشن کیسا رہا” کہتا ہوا پلٹ گیا

“ہماد کوئی تجھ سے ملنے آیا ہے” مظہر کی آواز پر وہ پلٹا

“کون؟” اس نے حیرت سے پوچھا

مظہر دروازے سے تھوڑا ہٹا تو پیچھے کھڑا شخص اسے صاف دکھائی دیا

مظہر دروازے سے واپس چلا گیااور وہ بسدروازے پر کھڑے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جسے اس نے نو مہینےسے نہیں دیکھا تھا….