Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 10)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 10)
Adhore Rishte By Isra Rao
“میں اتنا معمولی تو نہیں کہ وہ لڑکی مجھے دیکھتی تک نہیں” وہ اداس تھا
“دیکھ بھائ وہ لڑکی سر پھری سی ہے وہ باقی لڑکیوں جیسی نہیں جو تیرے آگے پیچھے گھومے” فرخ نے کہا
“یہی تو بات ہے یار آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ مجھ میں کچھ خاص نہیں”
“ارے اوہ مجنوں اتنا serious کیوں ہو رہا ہے یہ نہیں بھاؤ دے رہی تو دوسری صحیح تجھ پر تو مرتی ہیں لڑکیاں اور ہمیں کوئ مل ہی نہیں رہی” فرخ نے سمجھاتے ہوۓکہا
“نہیں اب تو بس یہی چاہیے” وہ مسکرایا
“تو پٹے گا بھائ” فرخ نے مزاق اڑاتے ہوۓ کہا
اور دونوں اٹھ کر کینٹین کی طرف چل دیے تبھی اس کی نظر ردا پر پڑی جو اکیلی سیڑھیوں پر بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی
“کیا کر رہی ہیں مس ردا ” اس نے اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا
“آپ پھر آگۓ مسلہ کیا ہے آپ کا” وہ ایک دم سے کھڑی ہوگئ
“آپ اتنے غصہ میں کیوں رہتی ہیں”
“آپ سے مطلب آپ کیوں بار بار تنگ کرتے ہیں مجھے میں آپ کی Complaintکروں گی” وہ بے حد غصہ میں تھی
“میں نے چھیڑا ہے آپ کو کبھی؟”
“نہیں”
“کبھی سیٹی ماری آپ کو دیکھ کر؟”
“نہیں”
“پھر شکایت کیا کرو گی میڈم” اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ بار بار میرا راستہ روکتے ہو”
“میں صرف آپ کو اداس دیکھ کر …..”
“Please مجھے آپ سے کوئ بات نہیں کرنی”
یہ کہ وہ وہاں سے چلی گئی……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔@۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دو دن سے کال کر رہی تھی مگر فیضان کی طرف سے کوئی Response نہیں تھا وہ پریشان بیٹھی تھی تبھی اس کا فون بجنے لگا
“فیضان کہاں ہو دو دن سے نہ کال نہ میسج” اس نے فون اٹھاتے ہی کہا
“رابعہ میں اب تم سے بات نہیں کر سکتا Parents ہماری شادی پر راضی نہیں”
“مگر فیضان تم نے تو کہا تھا کہ تم انہیں منا لوگے”
“وہ نہیں مان رہے اور مجھے ملک سے باہر بھیج رہے ہیں study کے لیے میرا پورا Future ہے”
رابعی کے حواس اس کے قابو میں نہیں رہے وہ بلکل خاموش ہوگئ
” تم ہماد سے شادی کرلو اور مجھے معاف کر دینا میں مجبور ہوں میں اپنے Parentsسے الگ نہیں ہوسکتا Sorry”
اس کی آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے اس نے فیضان سے ایسی امید نہیں کی تھی کہ وہ اتنا آگے لا کر بےوفائ کرے گا اس کا دل کر رہا تھا وہ چیخیں مار مار کر روۓ……
……….@………
گھر میں اداسی چھائ ہوئ تھی ایک ہفتہ ہوگیا تھا ڈھونڈتے ہوۓ مگر ہماد کا کچھ پتا نہیں چلا
“میرا بیٹا کہاں چلا گیا پتا نہیں کس حال میں ہوگا”
“ماما کچھ نہیں ہوگا بھائ کو جلد ہی مل جاءیں گے آپ رونا بند کریں” ردا ماں کو چپ کروانے لگی
رابعہ وہاں کھڑی سوچنے لگی کہ گھر والوں کے دکھ کی وجہ صرف وہ ہے کیا وہ اتنی مطلبی ہوگئ تھی کہ اسے کسی کی خوشی کا احساس نہیں تھا اور خدا نے اسے سزا دے دی تھی جس کی وجہ سے اس نے ہماد کی محبت کو ٹھوکر ماری تھی وہ تو ایک پل میں چھوڑ گیا……
اور ہماد اس کی خوشی کے لیے اس کی زندگی سے ہی چلا گیا……
……….@……..
“فیضان plzz میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی” وہ منت کر رہی تھی
“میں نہیں کر سکتا تم سے شادی مجھے تنگ کیوں کر رہی ہو”
“تمہارے وہ وعدے وہ پیار بھری باتیں سب جھوٹی تھیں تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے”
“غلطی ہوگئ بس تمہارے لیے میں اپنا Future خراب نہیں کرسکتا مجھے زندگی میں کچھ بننا ہے” یہ کہ کر اس نے کال کاٹ دی اور دوبارہ مڑ کر بھی نہیں دیکھا رابعی کی منتوں اور آنسوں سے کوئ فرق نہیں پڑا اسے…….
