171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 15)

Adhore Rishte By Isra Rao

“کیوں آئی ہو یہاں تم؟”ہماد نے غصہ میں چیخ کر کہا

“ہماد تمہیں پتا ہے نو مہینے کیسے گزارے میں نے؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا

“جاؤ یہاں سے کیوں تم مجھے جینے نہیں دے رہی سکون سے؟” اس نے دوبارہ زور سے کہا اور پلٹ گیا

“سکون تو مجھے نہیں مل رہا ہماد ہر وقت بس تمہارا خیال……”

“جاؤ” وہ چلایا

“ہماد میں نے بہت دعائیں کی ہیں تمہارے لیے اپنے رب سے رو رو کر تمہیں مانگا ہے میری غلطی کی اتنی سزا مت دو ہماد” اس نے اس کے قریب آکر کہا

” میرے لیے نہ صحیح گھر والوں کے لیے چلو ہماد وہاں سب منتظر ہیں تمہارے” اس نے ہماد کا ہاتھ پکڑا پر اسی پل ہماد اس کا ہاتھ جھٹک دیا

” جاؤ یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو” اس نے غصہ سے کہا

“ہماد مجھے معاف کردو مجھے اور سزا مت دو میں نہ جی رہی ہوں اور….اور نہ مر رہی ہوں میری روح کو سکون نہیں مل رہا” اس نے ہماد کی پشت سے سر لگایا

“ہماد مجھے سکون دے دو ہماد میں تم سے……” سکیوں کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی پر ہماد چپ تھا کیونکہ اگر وہ کچھ بولتا تو شاید اس کے آنسو ظاہر ہوجاتے

” ہماد مجھے اور سزا مت دو میں شرمندہ ہوں اپنے ہر کیے کے لیے ہماد مجھ سے دور مت جاؤ “

ہماد کا چہرہ بھیگا ہوا تھا پر وہ خاموش تھا رابعہ اس کی پشت سے سر لگائے رو رہی تھی اس نے ہماد کو مضبوطی سے پکڑا تھا وہ اب اسے جانے نہیں دینا چاہتی تھی اسے کھونا نہیں چاہتی تھی…….

“ابے وہ آگئی” فرخ بھاگتا ہوا آیا

“کیا؟” وہ چونکا اور جلدی سے آکسیجن مونہہ پر لگاکر لیٹ گیا

“فیضان؟” ردا نے پکارا

“یہ دو دن سے بے حوش ہے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر اسے آج حوش نہیں آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آئے گا”فرخ نے سنجیدگی سے کہا

“کیا؟”ردا نے فرخ کی طرف دیکھا

“میرا مطلب ہے کہ اگر اسے آج بھی ہوش نہیں آیا تو میرا دوست زندگی کی جنگ ہار جائے گا” فرخ نے کہا اور باہر چلا گیا شاید وہ اب اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پارہا تھا

“فیضان تم ٹھیک ہوجاؤ please” اس نے فیضان کی طرف دیکھ کر کہا

” ٹھیک ہے مینے تمہاری محبت پر یقن نہیں کیا پر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم خود کو…….” وہ اب رو رہی تھی کیوں یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی

“میری وجہ سے شاید تم اس حال میں ہو مجھے یقین ہو گیا ہے تمہاری محبت کا پر میں کیا کروں میں………” وہ کہ رہی تھی کہ اس کو فون بجنے لگا

اس نے پرس کو پاس رکھی چیئر پر رکھ کر فون نکالا

“ہیلو جی مما” اس نے کہا

“جی بس آئی ” کہ کر فون بند کر دیا

ایک نظر فیضان کو دیکھا اور باہر نکل گئی

“ہماد” گھر پر سب حیران تھے ہماد کو دیکھ کر

“مما” اس نے ماں کے گلے لگتے ہی کہا اور پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگا

” کہاں چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر”

جواب میں وہ بس روئے جا رہا تھا

تبھی انیلہ بیگم کی نظر رابعہ پر پڑی وہ اس کے قریب آئی اسے گلے سے لگا لیا

“تم نے ہماد کو ڈھونڈ ہی لیا تمہاری دعائیں قبول ہوگئی بیٹا “

” تم جانتے ہو ہماد یہ کتنا روتی تھی ہر وقت دعائیں کرتی تھی تمہارے لیے…… تم نے مجھے میرا ہماد لوٹا دیا رابعی” انیلہ آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی

” خبردار جو آئندہ کبھی دور گئے تو ہم سے “

آج سب خوش تھے کیونکہ انہیں دوبارہ ہماد مل گیا تھا

اس کے روم سے جاتے ہی وہ اٹھ بیٹھا تبھی فرخ اندر آیا

“یار تجھے اب یہ ناٹک بند کردینا چاہیے وہ رو رہی تھی” فرخ نے سنجیدگی سے کہا

” ابھی تو بس یکھتا جا اپنی محبت میں اسے قائل کر کے ہی رہوں گا یار یہ لڑکی….. میں اس کے بنا اپنی زندگی اب تصور بھی نہیں کرنا چاہتا میں ہر حال میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں مجھے پتا ہے یہ غلت راستہ ہے پر…. کیا کروں یار “

وہ کچھ سوچتے ہوئے کہہنے لگا

“اور تو سالے کمینے “اب اگر اسے حوش نہیں آیا تو پھر کبھی بھی نہیں آئے گا” اوور ایکٹنگ” اس نے غصے سے کہا

“یار تو جانتا ہے مجھے ایکٹنگ نہیں آتی” فرخ نے اس کو دیکھ کر کہا

“ہاں ہاں اب تو تجھ سے کروانی بھی نہیں پھنسائے گا تو مجھے” اس نے فرخ کو گھورا

اور پھر دونوں کے ہی قہقہے روم میں گونجنے لگے

تبھی دروازہ کھلا اور وہ دونوں خاموش ہوگئے………