171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 20)

Adhore Rishte By Isra Rao

سب بیٹھے باتیں کر رہے انھوں نے فیضان کی فیملی سے ٹائم مانگا تھا سوچ کر جواب دینے کا….

تبھی ہماد آکر بیٹھا

” تمہیں کیسا لگا فیضان؟” انیلہ بیگم نے پوچھا

” فیملی بھی اچھی ہے مجھے تو اچھا لگا لڑکا” فرقان صاحب نے اپنی رائے دی

” تو پھر ابھی منگنی کر دیتے ہیں اور ہماد اور رابعی کے ساتھ شادی” شہنیلہ بیگم نے مشورہ دیا

” آپ انھیں انکار کر دیں مجھے یہ رشتہ نہیں پسند” ہماد نے کہا

” مگر کیوں بیٹا لڑکا اچھا ہے فیملی بھی اچھی ہے پھر تمہیں کیوں نہیں پسند” فرقان صاحب نے کہا

” بابا میری بہن ہے ردا میں کچھ سوچ کر ہی انکار کر رہا ہوں نا” ہماد نے جتایا

“مگر بیٹا ہم ردا کو کیا کہ کر منع کریں گیں تم تو جانتے ہو….” انیلہ نے کہا

” مما میں خود سمجھا دوں گا اسے وہ میری بہن ہے مجھ سے آگے ہوکر فیصلہ نہیں کرے گی وہ” ہماد نے کہا

وہ کمرے میں بیٹھی کتاب چہرے کے آگے کیے کچھ پڑھ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی

اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ہماد کھڑا تھا

” بھائی آپ” ردا چونکی رات کے 10 بج رہے تھے اور اس وقت ہماد اس کے کمرے میں آیا تھا

” کوئی کام تھا آپ کو بھائی؟” ردا نے پوچھا

” کیوں میں بنا کام کے اپنی بہن کے پاس نہیں آسکتا “

ہماد نے اندر آتے ہوئے کہا

” کیوں نہیں آسکتے بلکل آسکتے ہیں” ردا نے کہا

“ردا ایک بات بتاؤ؟” ہماد نے ٹوپک پر آتے ہوئے کہا

” جی بھائی”

“تمہیں اپنے بھائی سے کتنا پیار ہے؟” ہماد نے پوچھا

” بہت زیادہ ” ردا نے پیار سے کہا

” تو کیا میرے لیے تم فیضان کو بھول سکتی ہو؟” ہماد نے کہا

” بھائی؟” ردا کی مسکراہٹ جیسے غائب ہوگئی تھی

” بتاؤ؟” ہماد نے دوبارہ پوچھا

” آپ کو فیضان نہیں پسند؟” ردا نے پوچھا

” نہیں” ہماد نے دو ٹوک جواب دیا

” مگر کیوں بھائی؟” ردا نے حیرت سے پوچھا

” بس نہیں پسند اسے بھول جا میری خاطر تو آئندہ اس سے نہیں ملے گی” ہماد نے فیصلہ سنایا

ردا خاموش رہی

“اپنے بھائی پر بھروسہ ہے نا تجھے میں تیری بھلائی کے لیے ہی کہ رہا ہوں” ہماد نے اس کو قریب کرتے ہوئے کہا

“ٹھیک ہے بھائی” ردا نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا

ہماد نے اس کو سینے سے لگایا وہ جانتا تھا کہ جو وہ کر رہا ہے وہ صحیح ہے ردا کو تھوڑا دکھ ہوگا پر پھر سب ٹھیک ہوجائے گا…….

ردا کے گھر والوں نے فیضان کی فیملی کو فون کر کے انکار کر دیا تھا اور ردا بھی کچھ دن سے یونیورسٹی نہیں آرہی تھی فیضان کو بہت دکھ ہوا تھا وہ ردا سے بات کرنا چا ہتا تھا مگر ردا کا نمبر بھی بند تھا

ان کے Exams شروع ہوگئے تھے وہ جانتا تھا کہ ردا یونیورسٹی ضرور آئے گی

” ردا میری بات سنو” فیضان کو دیکھتے ہی وہ تیزی سے قدم بڑھانے لگی

” بات سنومیری” اس نے ردا کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا

“ہاتھ چھوڑو فیضان سب دیکھ رہے ہیں” ردا نے غصہ سے کہا

اس نے ادھر اُدھر دیکھا سٹوڈنٹس انھیں ہی گھور رہے تھے اس نے ہاتھ چھوڑ دیا

” ایک بار میری غلطی بتادو کہ کیوں تم میرے ساتھ ایسا کر رہی ہو؟” فیضان نے منت کی

“میں تمہیں جواب دینا ضروری سمجھتی پھر بھی بتا دیتی ہوں میری فیملی کو یہ رشتہ نہیں پسند اس لیے تم مجھے بھول جاؤ” وہ کہتی ہوئی وہا سے نکل گئی اور وہ وہیں افسردہ کھڑارہا……