Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 13)
Adhore Rishte By Isra Rao
ساری تیاری ہو چکی تھی شہنیلہ بیگم اور رابعی کو ایک ہفتے بعد کی Flightسے جانا تھا عمرے کے لیے….
“کیا سوچ رہی ہو رابعی” شہنیلہ بیگم نے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا
“کچھ نہیں ماما بس یونہی” وہ اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہنے لگی
“مجھے نہیں بتاؤ گی”
“ماما آپ ٹھیک کہتی تھی ہماد بہت اچھا تھا میں نے پہچانا ہی نہیں کبھی اسے وہ کہاں ہوگا ماما”
“مل جاۓ گا میری بیٹی کو ہر خوشی ملے گی انشاءاللہ” وہ رابعی کو گلے سے لگاتے ہوۓ دعا دینے لگی
“میری غلطی کی بہت بڑی سزا دی ہے ہماد نے مجھے چھوڑ کر ہی چلا گیا” ماں کے گلے کر آج اس کا دل کررہا تھا ساری دل کی بات کرلے…
………..@……….
اتنا ٹائم ہوگیا تھا مگر فیضان یونیورسٹی میں نظر نہیں آیا اس آج دل کر رہا تھا کہ وہ اس کی خیریت معلوم کرے ….
اسنے موبائل سکرین پر دیکھا اور کال کی مگر ایک بیل جانے پر ہی کاٹ دی فون کو سائڈ ٹیبل پر رکھ کر لیٹ گئ فیضان کے بارے میں آج پہلی بار اس ۔ے سوچا کہ وہ یونیورسٹی کیوں نہیں آیا کیا وہ ٹھیک ہے؟ اور پھر خیالات کو جھٹکتے ہوئے آنکھیں موند لی……
…………..@…………..
“وہ کعبہ کے سامنے کھڑی تھی رات کے اس پہر وہ خدا سے باتیں کرنا چاہتی تھی وہ سب کچھ مانگنا چاہتی تھی جو اس نے کھو دیا تھا….
“اے میرے اللہ میں گنہگار ہوں میرے پاس گناہوں کے سوا کچھ نہیں میں یہاں کھڑی ہوں جہاں ہر خوش نصیب آتے ہیں اور میں اتنی گنہگار ہوں یہاں کھڑی بھی تجھ سے اپنی ہی خوشی مانگ رہی ہوں میں بہت گنہگار ہوں مگر میں اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی ہوں تو مجھے معاف کر دے بس مجھے ہماد نہیں ملے گا تو ساری زندگی میں یونہی روتی رہوں گی اپنی غلطیوں کی معافی بھی نہیں مانگ سکوں گی اس سے وہ مل جائے گا تو تو مجھے اور کچھ بھی نہیں مانگنا یا رب! نہیں پتا کہ میں کیا کہوں کیا مانگوں تو سب جانتا ہے تو ستر ماؤں سے زیادہ چاہنے والا ہے تو ایسا نہیں ہو سکتا میں تجھ سے کچھ مانگوں اور خالی ہاتھ چلی جاؤ٬ اللہ جو مینے گنوا دیا وہ مجھے دے دے پروردگار مجھے ہماد دے دے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے اللہ……” اس کے آنسوں مسلسل گر رہے تھے اور زبان چپ ہو گئی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے وہ بس سسکیاں لے رہی تھی مگر اس کے پاس الفاظ نہیں تھے کتنی ہی دیر وہ خاموش کھڑی بس روتی رہی…..
وہ بدل چکی تھی اس کو بس عبادت میں سکون ملتا اسے تب سکون ملتا جب وہ ہماد اس رب سے رو رو کر مانگتی اسے یقین تھا کہ اسے ہماد ضرور مل جائے گا بیشک اللہ ہی سب کی سنتا ہے……
