171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 18)

Adhore Rishte By Isra Rao

ورے رشتے

اٹھارھویں قسط

“کیوں کیا ایسا تم نے؟” ردا نے خفگی سے پوچھا

“صرف یہ بتانے کے لیے کہ میں تمہاری خوشی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں” فیضان نے کہا

” دوبارہ کبھی ایسا مت کرنا مجھے پسند نہیں ” ردا صاف گوئی کی

“کون میں؟” فیضان نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا

” میں نے ایسا تو نہیں کہا” ردا نے اسے دیکھ کر کہا

“تو پسند ہوں؟” اس نے شرارت بھری نظروں سے پوچھا

“اب ایسی بھی بات نہیں” ردا نے نظریں چراتے ہوئے کہااور اٹھ گئی

“میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے” ردا نے کہا

” تھوڑی دیر اور رک جاؤ” فیضان نے پیار سےکہا

“پھر آؤں گی” وہ مسکرا کر کہنے لگی اور با ہر نکل گئی

” ہماد تم نے کیا سوچا پھر؟” انیلہ بیگم کے کہنے پر وہ ٹی وی بند کرتے ہوئے مخاطب ہوا

” کس بارے میں میں مما؟” ہماد نے حیرانی سے پوچھا

“رابعی سے شادی کے بارے میں؟”

” آپ کو جیسا ٹھیک لگے مما” اس نے مسکرا کر کہا

“پھر میں شہنیلہ سے بات کرتی ہوں” اس نے ہماد کو پیار کیا

اور ہماد دل ہی دل میں خوش ہوا….

وہ روم میں بیٹھی لیپ ٹوپ پر انگلیاں چلا رہی تھی کہ ردا روم میں داخل ہوئی

” کیا کر رہی ہے میری بھابھی؟” ردا نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا

” بھابھی؟” اس کا دماغ اسی الفاظ پر ٹھہر گیا

” ہاں ابھی نیچے سے تو سن کر آرہی ہوں میں امی اور چچی بھائی کی اور تمہاری شادی کی بات کر رہی ہیں” ردا نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا

“کیا؟ کک….کب” رابعی نے حیرت سے کہا

” اوئے ہوئے لڈڈو پھوٹ رہے ہیں من میں ” اس نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا

تیری وجہ سے ہوا ہے سب تجھے کیا ضرورت تھی بکواس کرنے کی صبح؟” اس نے ردا کی طرف کشن پھینکا

” ارے ارے بھلائی کا زمانہ ہی نہیں تجھے تو تھینکس بولنا چاہیے الٹا تو مجھے ہی سنا رہی ہے” اس نے اور تپایا

” بیٹا تو رک تیرا مسلہ بھی حل کرواؤں گی” رابعی نے بدلے میں کہا

” میرا کون سا مسلہ؟” ردا چونکی

” تیری شادی کا” اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” مجھے کوئی نہیں کرنی ابھی شادی”ردا نے لا پرواہی سے کہا

“وہ لڑکا کیسا ہے اب؟” رابعی کو کچھ یاد آیا

” آ…ہاں اب ٹھیک ہے” ردا نے سوچتے ہوئے کہا اور سوچ کر مسکرانے لگی کہ کیا چیز ہے وہ کیا کر جاتا ہے اسے خود نہیں پتا ہوتا………

فیضان اب کافی حد تک ٹھیک ہوگیا تھا وہ کافی ٹائم بعد آج یونیورسٹی آیا تھا پر ردا اس کی طبیعت معلوم کرنے گھر گئی تھی اس کے…..ردا کو اب اس سے ملنا باتیں کرنا اس کا ہنسی مزاق کرنا بہت اچھا لگتا تھا

وہ اس سے باتیں کر کے خوش خوش رہتی تھی شاید فیضان کی محبت نے اسے سماپنی طرف مائل کر لیا تھا

اس کے گھر والوں کو بھی ردا بہت پسند آئی تھی

” ردا تم نے اپنے گھر والوں کو میرے بارے میں بتایا؟” فیضان نے پوچھا

” ہاں رابعی کو” ردا نے جواب دیا

” میں امی ابو کو بھیجوں تمہارے گھر؟” فیضان کے پوچھنے پر وہ چونکی

“نن….نہیں ابھی نہیں” ردا نے گھبراتے ہوئے کہا

“یار تم ہر بار یہی جواب دیتی ہو” فیضان خفا ہوا

” میں نے گھر پر بات نہیں کی” ردا نے بتایا

” تو کرو نا تم نہیں کر سکتی تو میں کرتا ہوں ان سے بات” فیضان نے غصہ سے کہا

” نہیں میں کرلوں گی” اس نے اور گہری سوچ میں پڑ گئی