171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 16)

Adhore Rishte By Isra Rao

وہ دونوں خاماشی سے ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھ رہے تھے وہ چلتی ہوئی قریب آئی تھی فیضان کے اور پاس رکھی چیئر سے اپنا پرس اٹھایا جو شاید وہ جلدی میں بھول گئی تھی فیضان سرخ آنکھوں سے گھورا اور پلٹ کر جانے لگی

“ردا وہ…..”

“Shutup just shut up”

ردا نے چیخ کر کہا اور باہر کی طرف تیزی سے بڑھ گئی

“ردا میری بات سنو” وہ اس کے پیچھے بھاگا

وہ تیز تیز قدم بڑھاتی جا رہی تھی وہ اسے آواز دیتا پیچھے آرہا تھا

“میری بات تو سنو” اس نے ردا کا ہاتھ پکڑا

” تو یہ تھا تمہارا ایکسیڈنٹ؟” اس نے نم آنکھوں سے غصے میں کہا

“میں صرف تمہارے دل میں اپنے لیے……”

“اس طرح؟جھوٹ کا سہارا لے کر؟” اس نے بیچ میں بات کاٹی

” تو کیا کرتا تم مجھ سے بات تک نہیں کرتی تھی میں نے سوچا شاید تم مجھے اس حال میں دیکھو تو تمہیں بھی……”

“I hate you”

اس نے چبا کر کہا اور اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑوایا اور پلٹ گئی

“رکو” فیضان نے پیچھے سے پکارا

“تم یہی چاہتی ہونا کہ میرا جھوٹ سچ ہو جائے تب تو تمہیں مجھ سے محبت ہوجائے گی؟” فیضان نے کہا

وہ چونکی اور پلٹ کر دیکھا تو فیضان نہیں تھا اس نے ادھر اُدھر دیکھا سڑک کے بلکل بیچ میں فیضان کھڑا ہوا اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ بھاگی مگر اس سے پہلے ہی ایک گاڑی نے فیضان کو ٹکر ماری……

“فیضان” وہ چیخی اس کے پاؤں جیسے وہیں جم گئے تھے

رابعی صافے پر بیٹھی تو شہنیلہ بیگم نے اسے دیکھا

“ہماد کہاں ہے؟”

“اپنے روم میں فریش ہونے گیا ہے” رابعی نے مسکرا کر کہا

“تم خوش ہو؟” شہنیلہ بیگم نے رابعی سے پوچھا

” ہاں بہت ” اس نے مسکرا کر ماں کو دیکھا

وہ خوش تھی بہت اسے وہ سب واس مل گیا تھا جو اس نے کھو دیا تھا….

وہ ہسپتال کے روم کے باہر بیٹھی تھی تبھی ڈاکٹر باہر آیا وہ بھا گی

” کیسی طبعیت ہے وہ ٹھیک تو ہے نا” ردانے پوچھا

“وہ اب ٹھیک ہیں کوئی پریشانی کی بات نہیں نیند کی دوا دی ہے تھوڑی دیر میں حوش آجائے گا” ڈاکٹر نے کہا اور اس نے اطمنان کا سانس لیا تبھی ردا کا فون بجنے لگا

” ہیلو”

” کہاں ہے تو” رابعی نے پوچھا

” بس آرہی ہوں” ردا نے کہا اور فون کاٹ دیا

“آپ جائیں میں یہیں ہوں فیضان کے گھر بتا دیاہے میں نے آپ پریشان نہ ہوں” فرخ نے کہا اور وہ مسکرا دی

“کہاں تھی اتنی دیر سے؟”ہماد نے اندر آتی ردا کو کہا

“بھائی؟” اس نے ہماد کو دیکھا اور بھاگ کر ہماد کے گلے لگ گئی

“کیسی ہے میری گڑیا؟” ہماد نے کہا

“آپ کہاں چلے گئے تھے بھائی ہمیں چھوڑ کر؟” اس کی آنکھ میں آنسو تھے

“اب تو آگیا ہوں نا چلو ساتھ میں چائے پیتے ہیں” ہماد نے کہا اور وہ مسکرا دی

“جی مما” رابعی نے کچن میں آتے ہی کہا

“یہ دودھ ہماد کو دے کر آجاؤ کچھ نہیں کھایا اس نے” شہنیلہ بیگم نے کہا

“آپ لے کر گئی تو تھی کھانا؟” رابعی نے پوچھا

“ہاں پر اس نے منا کردیا کہا بھوک نہیں”

“آپ ڈال دیں میں دے آتی ہوں کیا پتا کھا لے” رابعی نے کہا…..