171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 24) 2nd Last Episode

Adhore Rishte By Isra Rao

وہ اپنے کمرے میں بیٹھی فیضان کے بارے میں سوچ رہی تھی اس کے آنسوں بار بار یاد آرہے تھے اسے

” یہ لو گرما گرم چائے” رابعی چائے لے کر آئی

“تھینک یو” ردا نے مسکرا کر کہا

” ردا؟” رابعی نے کہا

” مجھے لگتا ہے فیضان بدل گیا ہے ورنہ وہ اس دن روتا نہیں” رابعی نے سنجیدگی سے کہا وہ خاموش تھی

” اور اگر وہ تمہیں بھی دھوکا دے رہا ہوتا تو وہ رشتہ نہیں بھیجتا” رابعی نے دوبارہ کہا

ردا خاموش رہی تبھی ردا کا سیل فون بجنے لگا انجانا نمبر تھا اس نےاٹھایااور کان سے لگایا

” ہیلو” ردا نے کہا

” میں عاشی بول رہی ہوں ردا” عاشی کی آواز پر وہ چونکی جس کی آواز بھری ہوئی تھی

” عاشی ؟” ردا نے کہا

” میرا بھائی ہوسپیٹل میں مر رہا ہے ردا اس نے اپنی نس کاٹ لی” عاشی نے روتے ہوئے کہا

” کیا؟” ردا کھڑی ہوئی

” کیا اب بھی تمہیں میرا بھائی دھوکےباز لگتا ہے؟ ” ردا کے حواس جیسے روئی کی مانند اڑرہے تھے دو آنسوں اس کے رخسار سے پھسلے

رابعی ردا کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی

” کیا ہوا ہے ردا؟” رابعی نے اس کا بازوں پکڑ کر پوچھا تو وہ وہ حواس میں آئی

” وہ…وہ فیضان نے خود کشی……کک…. کوشش….” ردا کی ہچکیاں بندھ گئی رابعی اس کی بات سمجھ گئی تھی

” جاؤ” اس نے کہا

ردا نے حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھا

“میں کہ رہی ہوں نا جاؤ اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے” رابعی نے اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

اور تیزی سے بھاگ کر روم سے نکل گئی اور رابعی میں دعا کی کہ سب ٹھیک ہوجائے

“ہماد ” وہ اپنے کمرے سے نکل رہا تھاکہ رابعی کی آواز پر رکا

” ہاں” ہماد نے رابعی کو دیکھ کر کہا

” فیضان ہوسپٹل میں ہے اس نے خود کشی کی کوشش کی ہے” رابعی نے بتایا

ہماد سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا

” ہماد وہ ردا سے سچا پیار کرتا ہے کیا اسے ہم ایک موقع نہیں دے سکتے؟” رابعی نے کہا

” نہیں کل کو اگر اسں نے ردا کو بھی چھوڑ دیا پھر؟” ہماد نے سوالیاں نظروں سے رابعی کو دیکھا

” وہ نہیں چھوڑے گا ردا کو وہ مرنے کو تیار ہے اس کے پیچھے اور بھولو مت ردا بھی اسے چاہتی ہے” رابعی نے جیسے یاد دلوایا ہماد خاموش رہا

” اور جب میں نے اسے معاف کردیا تو آپ کیوں نہیں کر رہے اپنی بہن کی خوشی کے لیے ہی کردو وہ فیضان کے بغیر خوش نہیں ہے ہماد ” رابعی نے بتایا

” اور میرے اور اس کے بیچ محبت کبھی تھی ہی نہیں اس نے وقت گزارا اور میں نے ضد تمہاری نفرت میں” رابعی کہتی چلی جا رہی تھی

” محبت کیا ہوتی ہے یہ تو میں نے آپ کو کھونے کے بعد جانا مجھے محبت صرف آپ سے تھی اور ہے جب آپ نے مجھے معاف کردیا تو ردا کی خوشی کے لیے فیضان کو کیوں نہیں؟ ہماد پلیز اسے معاف کردو وہ اپنے کیے کی سزا بھگت چکا ہے” رابعی نے ہماد کو سمجھاتے ہوئے کہا اور ہماد خاموش تھا

وہ بھاگتی ہوئی ہسپتال آئی عاشی ردا کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی

“کیا ہوا فیضان کو؟” ردا نے آتے ہی کہا آنسوؤں سے اس کا چہرہ بھیگا ہوا تھا

“میرا بھائی تمہارے لیے مر رہا ہے ردا دعا کرو وہ ٹھیک ہوجائے” عاشی نے ردا کے گلے لگتے ہوئے کہا

” نن…نہیں اسے کچھ نہیں ہوگا” ردا بڑبڑائی

” اسے معاف کردو بیٹا میرے بیٹے سے نادانیا ہوئی ہیں انجانے میں وہ تم سے بہت پیار کرتا دیکھو تمہارے لیے اس نے اپنی نس کاٹ لی” فیضان کی ماں روتے ہوئے کہنے لگی

“یا اللہ فیضان کو کچھ نہ ہو میں نے اسے معاف کردیا ارسلان کی طرح وہ بھی چلا گیا تو؟ تو میں بھی مر جاجؤں گی میں دوبارہ وہ ععزیت برداشت نے کر سکتی اللہ اسے کچھ نہ ہو” وہ رو رو کر دعائیں کر رہی تھی

وہ چپ چاپ آکر بینچ پر بیٹھ گئی فیضان کو ابھی تک حوش نہیں آیا تھا

تبھی سامنے سے رابعی اور ہماد آتے ہوئے نظر آئے