Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 23)
Adhore Rishte By Isra Rao
ردا نے پلٹ کر دیکھا تو اس کے پیچھے رابعی کھڑی تھی
وہ فیضان کے پاس آکر رک گئی
“میری ردا سے دور رہنا” اس نے غصے سے کہا
” چلو ردا” اس نے ردا کا ہاتھ پکڑا اور جانے کے لیے مڑی
“رابعی مجھے معاف کردو مجھ سے جو بھول ہوئی اس کی سزا مت دو مجھے میں ردا سے سچی محبت کرتا ہوں” فیضان نے منت کی
” وہی محبت جو تم ہر لڑکی سے کرتے ہو” رابعی نے چبا کر کہا
” نہیں میں بدل چکا ہوں میں ردا کے بنا اپنی زندگی تصور بھی نہیں کر سکتا رابعی میں ویسا نہیں رہا ردا کی محبت نے مجھے بدل دیا” فیضان گڑگڑایا
مگر وہ دونوں کوئی جواب دیے بنا وہاں سے چلی گئی
ہماد اور رابعی کی شادی تہ ہوچکی تھی اگلے مہینے ان کی شادی تھی سب تیاریاں کر رہے تھے
” ہماد بیٹا تم رابعی کو شوپنگ پر لے جانا شادی میں کم وقت بچا ہے اسے جو چاہیے ہو دلوا دینا” انیلہ بیگم نے کہا
” اچھا لے تو جاؤں گا پر یہ دیر نا لگائے مجھے اور بھی بہت کام ہیں” اس نے رابعی کو دیکھتے ہوئے کہا جو اس وقت فروٹ کاٹ رہی تھی
“مجھے نہیں جانا اس کے ساتھ ابھی سے باتیں بنا رہا ہے یہ مجھے شوپنگ نہیں کرنے دیگا جلدی جلدی کر کے” اس نے منہ بناتے ہوئے کہا
” ہماد ایسے نہیں کرتے بری بات اس کی شادی کی شاپنگ ہے تسلی سے ہی کرے گی نا ” انیلہ نے سمجھایا
“ارے مما میں تو یونہی چھوڑ رہا تھا اس کو مجھے کیا بازار میں ہی بیٹھی رہے بھلے” ہماد نے رابعی کی پلیٹ سے سیب کا پیس اٹھاتے ہوئے کہا
” دیکھ رہی ہیں آپ تائی امی؟” رابعی نے خفگی سے کہا
” اب دونوں کی شادی ہو نے والی ہے کیسے بچوں کی طرح لڑ رہے ہو” انیلہ نے ڈانٹا تو دونوں چپ ہوگئے
وہ ردا کو زبردستی شاپنگ پر لے آئی ساتھ ردا بس چپ تھی پورے ٹائم جو پوچھتے بس جواب دے دیتی اس بات کو ہماد اور رابعی دونوں نے نوٹس کرلیا
” ارے ہماد کیسا ہےتو یار” سامنے سے آتے لڑکے نے کہا
” دانش ؟میں ٹھیک ہوں تو بتا” ہماد نے کہا
” کیا کر رہا ہے آج کل؟”
” بس یار شادی ہے شاپنگ وغیرہ” ہماد نے مسکرا کر کہا
” Finally توشادی کر رہا ہے “
اور دونوں ہنسنے لگے ہماد ردا اور رابعی کا بھی تعارف کروا چکا تھا وہ اب بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ردا کی نظر فیضان پر پڑی جو فرخ کے ساتھ بیٹھا تھا رابعی بھی اسے دیکھ چکی تھی وہ سائیڈ میں گئی اور ہماد کو اشارہ کیا
” Excuse me”
ہماد کہ کر اٹھا
ٹیبل پر ردا اور دانش بیٹھے تھے
” یہ لیلہ مجنوں کہاں چلے گئے؟” دانش نے کہا اور ردا ہنسنے لگی تبھی فرخ کی نظر ردا پر پڑی
اس نے فیضان کو بتایا تو فیضان بھی کشمکش میں پڑ گیا
اکیلی ردا وہ بھی ایک لڑکے کے ساتھ نہیں وہ ایسی نہیں ہے فیضان نے سوچا
رات گئے وہ اپنے کمرے میں بس لیٹی تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسو دور تھی تبھی سیل فون بجنے لگا
سکرین پر فیضان لکھا تھا اس نے کال کاٹ دی لیکن مسلسل کال آنے پر اس نے اٹھا لی
“کیا ہے کیوں تنگ کر رہے ہو؟” ردا جھنجھلائی
” کل تمہارے ساتھ کون تھا؟” فیضان نے پوچھا
” کیوں بتاؤں تمہیں میں تم ہو کون پوچھنے والے” رفا نے جھاڑا
” ردا پلیز” فیضان نے کچھ کہنا چاہا پر ردا نے اس سے پہلے ہی کہا
“منگیتر تھا میرا وہ شادی کر رہی ہوں میں” ردا نے جھوٹ کہا
” نہیں تم ایسا نہیں کر سکتی میرے ساتھ” فیضان تڑپا
” کیوں تم نے بھی تو لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا” ردا نے احساس دلوایا
” میں مر جاؤں گا ردا ایسا مت کرو” فیضان کی آواز بھر آئی
“تو مر جاؤ” ردا نے کہا اور فون کاٹ دیا
“اس نے وو کیا نماز پڑھی اور رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی اللہ سے آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے کتنی لڑکیوں کا دل توڑا تھا اور ان کی بددعا اس کے سامنے آگئی تھی اس کا ہر گنا طمانچے کی طرح اس کے منہ پر لگ رہا تھا وہ آج بہت رویا پر اسے سکون نہیں ملا
اس کے زہن میں بس یہی بات گھوم رہی تھی ردا کی شادی ہو رہی کے اسے اس کے گناہوں کی سزا مل گئی
اس نے ردا کو کھو دیا
وہ اٹھا اور کیچن میں گیا وہا سامنے ہی چھری پڑی تھی اس نے اسے اٹھایا اپنے ہاتھ کی نس پر رکھا
تبھی عاشی میں آئی اور فیضان کے ہاتھ میں چھری دیکھ کر گھبرائی
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ مما؟” وہ چلائی
لیکن اس سے پہلے وہ کچھ کرتی فیضان چھری چلا چکا تھا
