317.7K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 2)

Adhore Rishte By Isra Rao

“رابعی” وہ آواز کو نظر انداز کرتے ہوۓ تیزی سے سیڑھی چڑھنے لگی

“رابعی بات سنو” اس نے دوبارہ کہا

” ہماد کیا ہے تمہیں پتا ہے میں ابھی کالج سے آئ ہوں اور تم۔۔” رابعہ نے بےرخی سےکہا

” لیکن میری بات تو سنو” اس نے ایک بار پھر کہا

” بعد میں ہماد Please” رابعہ نے اکتاتے ہوۓ کہا

یہ کہکروہ تیزی سے سیڑھی چڑھتے ہوۓ اپنے کمرے میں چلی گئ

” کیا مصیبت ہے ” اس نے پرس بیڈ پر پھینکتے ہوۓکہا

” کیا ہوا ہے تمہیں” ردا کی آواز پر وہ پلٹی…

” کچھ نہیں” اس نے Mood ٹھیک کرتے ہوۓ کہا

” بھائ آگۓ” اس نے ردا سے پوچھا

” مجھے کیا پتا بھائ تمھارا ہے تمہیں پتا ہونا چاھیے” ردا نے مسکراتے ہوۓ کہا

” اوہ ہو میڈم تم سے زیادہ کسے پتا ہوگا ان کے بارے میں” رابعی نے چھیڑتے ہوۓ کہا

“سدھر جاؤ اور آ کر کھانا کھاؤ چاچی بلا رہی ہیں” ردا ہنستے ہوۓ کمرے سے چلی گئ

اور رابعی سوچتی رہی کہ آخر اس زبردستی کے رشتے سے اسے کب چھٹکارہ ملے گا وہ پوری زندگی ہماد کے ساتھ نہیں گزارنا چاہتی جسے وہ پسند ہی نہیں کرتی…

…….@……

شوہر کے انتقال کے بعد شہنیلہ بی بی بہت اکیلی ہو گئ تھی شوہر کی بیماری پر پیسے لگاتے لگاتے گھر بھی بک چکا تھااب اس کے پاس سات سال کا ارسلان اور پانچ سال کی رابعہ تھی تب انیلہ بیگم اور ان کے شوہر فرقان صاحب نے اسے اپنے گھرمیں آسرہ دیا انیلہ اس کی بہن ہونے کے ساتھ اس کی جیٹھانی بھی تھی اس لیے جب اس نے رابعہ کا ہاتھ اپنے بیٹے ہماد کے لیے مانگا تو وہ انکار نہیں کر سکی یہ رشتہ بچپن میں ہی ہوگیاتھا ہماد شروع سے ہی سنتا آرہا تھا کہ رابعہ اس کی ہے وہ نہ صرف اس رشتے کو قبول کر چکا تھا بلکہ رابعہ کوبہت چاہنے لگا تھا اس بات کا علم رابعہ کو بھی تھا اور گھر والوں کو بھی….