171.5K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Adhore Rishte (Episode - 17)

Adhore Rishte By Isra Rao

اس دونوں ہاتھوں سے ٹرے کو پکڑا ہوا تھا اور بنا دستک دیے کمرے میں آگئی لیکن روم میں کوئی نہیں تھا

اسنے سائیڈ ڈیبل پر ٹرے رکھی اور ادھر اُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا بیڈپر ایک کتاب رکھی تھی اس نے کتاب کو اٹھایا اور کھول کر دیکھنے لگی

“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” ہماد کی آواز پر وہ چونکی اور کتاب اچھل کر اس کے ہاتھ سے گری

“مم….میں وہ کھانا …..” ہماد اس کے بلکل قریب کھڑا تھا

ہماد نے جھک کر کتاب اٹھائی اور بیڈ پر رکھ دی

“مجھے بھوک نہیں ہے یہ واپس لے جانا” ہماد نے ٹرے کو دیکھتے ہوئے کہا

“واپس لے جانے کے لیے نہیں لائی” رابعی نے فوراً جواب دیا

ہماد مسکرایا

اسے ہماد کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو فوراً ہڑبڑائی

“آپ کھا لینا یہ اوردودھ بھی رکھ دیا ہے”وہ کہتے ہوئے جانے کے لیے مڑی مگر ہماد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور وہ اس کے قریب آگئی اس کے ہاتھ ہماد کے سینے پر تھے

“اتنی بھی کیا جلدی ہے؟” ہماد نے اس کے کان کے پاس سرغوشی کی

“نن…نہیں وہ مجھے کک….کام ہے” رابعی نے پلکیں اٹھائے بنا ہی بمشکل کہا

ہمادبنا کچھ کہے اس پر جھکتا چلا جا رہا تھا رابعی کا حجاب میں لپٹا چہرہ اس کی جھکی پلکیں کپکپاتے ہونٹ اور پرفیوم کی ہلکی سی خشبو اسے مائل کر رہی تھی

ہماد کا ہاتھ اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا اور وہ اس کے قریب سے قریب تر تھا کہ وہ ہماد کی سانسوں کو مہسوس کر سکتی تھی اس نےگھبراہٹ سے آنکھیں بند کرلی

تبھی اسے ہماد کی گرفت ہلکی ہوتے محسوس ہوئی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو دیکھا ہماد نے اسے دور ہوکر جگہ دی….

” جاؤ” ہماد نے کہا

وہ ہماد کو ایک ٹک ہو کر دیکھ رہی تھی اور حیران تھی

“تم نے یہی تو کیا ہے ہمیشہ مجھ سے دور بھاگی ہو” ہماد نے نے مڑ کر سنجیدگی سے کہا

“ہماد آ….ایسی بات نہیں ہے وہ میں…..” رابعہ کچھ کہتے ہوئے رکی

“تم نہیں بدلی آج بھی مجھ سے دور رہنے میں ہی تم خوش ہو کیونکہ تم مجھ سے پیار جو نہیں کرتی میں واپس چلا جاؤں گا بس” ہماد نے لبوں پر آتی مسکراہٹ کو دباتے ہوئےکہا

“نن…نہیں ہماد میں کرتی ہوں آپ سے پیار بہت پیار اور….”وہ یک دم کہتی چلی گئی تبھی اس کی نظر ہماد پر پڑی جو اسے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا

وہ سمجھ گئی تھی کہ ہماد مزاق کر ہا ہے اسے تنگ کرنے کے لیے وہ مسکراتے ہوئے بھاگی

“سنو ” ہماد نے پیچھے سے پکارا

وہ دروازے کے رک گئی اور پلٹ کر دیکھا

“تم حجاب میں بہت خوبصورت لگتی ہو” ہماد نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ جواب دیے بنا وہاں سے بھاگی تھی

ردا پریشان بیٹھی تھی تبھی رابعہ روم میں داخل ہوئی

“ردا وہ…” رابعہ کچھ کہتے کہتےرکی

” کیا ہوا؟” اس نے ردا سے سوال کیا

” کچھ نہیں” ردا نے کہا

“پریشان کیوں ہے” اس نے پوچھا

اس کے پوچھنے پر ردا نے سب بتا دیا رابعہ کو

“ہمم ردا مجھے لگتا ہے تجھے اس کے بارے میں سوچنا چاہیے اگر وہ سچا ہے تو پھر کیا برائی ہے ویسے بھی ردا تمہیں زندگی میں اب آگےبڑھنا چاہیے” رابعہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” مگر رابعی تو جانتی ہے…..”اس نے بات کاٹی

“میں جانتی ہوں مگر تجھے کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا حق نہیں ردا محبت بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی وہ لڑکا تجھ سے محبت کرتا ہے اس کے بارے ایک بار ضرور سوچنا اور کسی نو کسی سے تو شادی کرے گی نہ میرے کہنےپر ایک بار دل سے ضرورسوچنا” رابعہ کہ کر وہاں سے چلی گئی اور سوچ میں پڑ گئی

“مما میرا ناشتہ” ہماد چلایا

“لا رہی ہوں ” کچن سے انیلہ بیگم کی آواز آئی

تبھی ردا آئی کرسی سرکا کر بیٹھ گئی

“مما ناشتہ” ردا چلائی

ہماد اسے دیکھ کر مسکرایا اسے پہلے کے دن یاد آگئے کیسے وہ اپنی ماں کو تنگ کرتے تھے مل کر

دونوں نے ایک دوسرے شرارت بھری نظروں سے دیکھا اور چمچ اٹھائی تبھی انیلہ اور شہنیلہ ناشتہ لے کر آگئی اور ٹیبل پر لگانے لگی

“خبردار جو تم لوگوں نے شور مچایا” انیلہ بیگم نے کہا

ہماداور ردا ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے تبھی رابعہ آئی وہاں….

“ان دونوں کی تو عادت ہے پرانی شور شرابا کرنے کی” ابعہ نے چڑاتے ہوئے کہا

“ہا بھائی یہ دیکھو میری بلی مجھے ہی میاؤں” ردا نے ہماد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

“”ہمم کچھ سوچنا پڑے گا اس کے بارے میں” ہماد نے رابعہ کو گھورتے ہوئے کہا

“اچھا میں تو ڈر گئی” رابعی نے ہماد کو چڑایا

“بیٹا میرے شیر جیسے بھائی سے ڈر کر ہی رہنا” ردا نے کہا

بدلے میں رابعہ نے گھورا

“مما میں کیا کہتی ہوں کہ اس کا نکاح کروادو بھائی سے ورنہ یہ ہاتھ سے نکل جائے گی” ردا نے اسےتپاتے ہوئے کہا

اس کی بات پر سب ہنس دیے اور ہماد نے ردا کو مسکراتے ہوئے دیکھا….