Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 22)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 22)
Adhore Rishte By Isra Rao
فیضان اپنے بیڈ پرچہرے پر ہاتھ رکھے لیٹا تھا کہ اس کا سیل فون بجنے لگا اس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اسکرین پر ردا کا نمبر چمک رہا تھا
” ہیلو” فیضان نے کہا
” مجھے تم سے ملنا ہے” ردا کی آواز آئی
“ردا میں….. ” فیضان نے کچھ کہنا چاہا مگر ردا نے بات کاٹ دی
” کل پارک میں میں تمہارا انتظار کروں گی” ردا نےکہا اور کال کاٹ دی
وہ سمجھ گیا تھا کہ ردا کیا بات کرے گی پر وہ پریشان تھا کہ اس کو کیا جواب دے اس کے ماضی کے سارے پنے ردا کے سامنے کھل گئے تھے
رابعی نے نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس کا ماضی اس کے سامنے بھیانک تصویر کی طرح آگیا
” یارب میں تو سب بھول چکی تھی پھر……” اس کے آنسوں بہ رہے تھے
” بیشک تو نے مجھے ہر خوشی دی میرے ہر گناہ کو معاف کر کے مجھے ہماد کا پیار واپس دیا اس کا سچا پیار….. مگر ردا وہ بے قصور ہے اس کا کوئی قصور نہیں اس کے وہ نا ہو جو میرے ساتھ کیا تھا فیضان نے ….” اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ردا کب آکر اس کے بیٹھ گئی اسے پتا بھی نا چلا
“رابعی؟” ردا کی آواز پر وہ چونکی
اس نے دائیں جانب دیکھا ردا اس کے پاس زمین پر بیٹھی تھی اس کی آنکھ میں آنسوں تھے
” ردا تو اسے بھول جا” رابعی نے التجا کی
” میں کوشش کر رہی ہوں پر میں کیا کروں رابعی میں اسے بھول نہیں پا رہی” وہ رابعی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
وہ بینچ پر بیٹھا تھا کہ سامنے سے ردا چلتی ہوئی آرہی تھی وہ کھڑا ہوگیا ردا اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر لے گئی جہاں کوئی ان کی بات نہ سن سکے
“ردا” فیضان نے کہا
” بس چپ اب میری سنو” ردا نے انگلی اٹھا کر سرخ آنکھوں کے ساتھ کہا
“میں ارسلان کو بھول نہیں پارہی تھی ہر روز مر رہی تھی اس کے بنا زندگی مجھے جیسے عذاب لگتی تھی اور پھر….پھر تم آئے میری زندگی میں ڈھیر ساری خوشیاں لے کر ہنستے ہنساتے مجھے دوبارہ محبت کرنا سکھا دیا اور اب….” وہ کہتی چلی جا رہی تھی اور آنسوں مسلسل بہ رہے تھے
“اب جب میں خوش رہنے لگی تھی تو….. ” وہ اس کا کالر پکڑے ہوئے تھی
“کیوں کیا تم نے ایسا صرف میرے ساتھ نہیں ان تمام لڑکیوں کے ساتھ جو تمہاری محبت میں اندھی ہوکر تم پر اعتبار کرتی تھی” اس کا کالر چھوڑ کر اب وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی
فیضان کا چہرہ بھیگ گیا تھا
” ردا میں مانتا ہوں مجھ سے غلطیا ہوئی ہیں میں بہت سی لڑکیوں کا دل توڑا ہے پر مجھے دیکھو ردا میں وہ فیضان نہیں رہا مجھے میری غلطیوں کی سزا مت دو مجھے معاف کردو” فیضان نے تڑپ کر کہا
” کر دیتی اگر تم نے یہ صرف میرے ساتھ کیا ہوتا پر تم نے میری جان سے پیاری دوست رابعی کو دھوکا دیا تھا” ردا نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” رابعہ؟” فیضان کے مونہہ سے نکلا جو بلکل ردا کے پیچھے آکھڑی ہوئی تھی
