Adhore Rishte By Isra Rao NovelR50462 Adhore Rishte (Episode - 6)
No Download Link
Rate this Novel
Adhore Rishte (Episode - 6)
Adhore Rishte By Isra Rao
وہ چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ کر بھاگتے ہوۓ باہر بھاگی…
“بھائ کیا ہوا ہے” اس نے ہماد کے پاس جا کر پوچھا
” بتاتا ہوں اندر چل” ہماد نے اسے پکڑکر اندر لے جاتے ہوۓکہا
” بھائ کیا ہوا ہے مجھے اندر کیوں لے جا رہے ہو” وہ ہماد کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر گھبرائ اور باہر کی طرف بھاگی..
” ردا ” وہ اس کے پیچھے بھاگا
گاڑی کے پاس چاچی کھڑی رو رہی تھی اور رابعی بھی رو رہی تھی اس کے دل میں ماں کا خیال آیا
“ماما کہاں ہیں بھائ ماما” اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہماد کو دیکھا
“امی کو کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہیں وہ” ہماد کی آنسوں اب بہ رہے تھے
تبھی اس کی نظر اس شخص پر پڑی جو موت کی گہری نیند سو چکا تھا جسے Ambulance سے نکالا جا رہا جو اس کی ایک آواز پر دوڑا چلا آتا تھا اس نے جا نے سے پہلے بتایا تک نہیں….
وہ ان سوچوں میں تھی اس کی آنکھ کب بند ہوئ اسے پتا ہی نہیں چلا…
………..@………..
“آج تو اسے میں گیزر ٹھیک کر کے ہی دکھاؤں گا” وہ باتھ روم کی طرف جاتے ہوۓ کہنے لگا
اسٹول رکھ کر وہ کچھ معاعنہ کرنے لگا اوزار ہاتھ میں لیے وہ خود کو ماہر جاننے لگا جبکہ اسے تو بجلی کے کام کا ج بھی نہیں معلوم تھا
“کر کیا رہے ہو تم نیچے اترو” پیچھے سے آواز آئ
” کچھ نہیں امی” کہتے ہوۓاس کا انجانے میں ہاتھ اس تار پر پڑا جہاں شاید اس کی موت کھڑی تھی…..
جس کو خوش کرنے کے چکر میں وہ موت سے ہاتھ ملا چکا تھا اسے تو 3rd floorپر ہونے کی وجہ سےیہ بھی نہیں پتا کے اس کو ہنسانے والا ہمیشہ کے لیے رلا کر چلا گیا….
……..@…….
“ارسل” اس کی آنکھ جیسے ہی کھلی وہ بستر سے اٹھ کر بھاگی
سب زاروقطار رو رہے تھے رونے کی آواز گونج رہی تھی ہر طرف…
اس کی نظر صرف اس شخص پر تھی جو سفید کفن میں تھا
“ارسل” اس نے قریب آکر کہا اس کی آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگے
“بھائ یہ بول کیوں نہیں رہا “اس نے ہماد کے گلے لگ کر کہا
” یہ ایسے نہیں جا سکتا، ارسل اٹھو ارسل، ارسل۔۔۔۔۔” اس کی چیخوں سے سارا گھر گونج اٹھا
کاش کے وہ دوبارہ اٹھ جاتا ایک بار اسے دوبارہ سانس آجاتی لیکن یہ سب صرف فلموں میں ہوتا ہے اصل زندگی میں نہیں۔۔۔
وہ اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔
…….@…..
“رابعی اسے ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا اس نے آخری بارمجھ سے بات بھی نہیں کی کیا میں اتنا تنگ کرتی تھی اسے” وہ رابعی سے پوچھنے لگی
جواباً رابعی صرف اسے چپ کروا رہی تھی جبکہ اس کی آنکھیں خود آنسوں سے بھری تھی
“میری زندگی ہی لے گیا وہ، میری خوشیاں، میری ہنسی، میرے خواب سب ادھورے رہ گۓ رابعی ایسا نہیں ہوسکتا وہ واپس آجاۓ اس نے یہ نہیں سوچا کہ مجھے اس کی یاد آۓگی….
وہ گھنٹوں دعا مانگتی رو رو کر کسی سے بات کرنا ہنسنا خوش ہونا جیسے اسے آتا ہی نہیں تھا….
