Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bin Jiya Jaye Kese by Uzma Mujahid

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں
امجد مگر وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
ریحاب کبھی کبھی اپنی دیوانگی پہ خود ہی تھک جاتی تھی۔۔۔
یااللّہ کوئی معجزہ ہی کردے اور مجھے اس شخص سے ملوا دے اک بار بس اک بار نظریں سکرین پہ چلتے مناظر پہ تھیں اور خود دل۔ودماغ کی الجھنوں میں گم تھی جب دروازے پہ ہلکی سی دستک دیتے ہوئے سیلمان علوی اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
ارے بھیا کب آئے خوشدلی سے سیلمان کے گلے لگتے بولی ۔۔۔
تب جب ہماری گڑیا سامنے کے مناظر میں گم تھیں ٹی۔وی پہ بدلتے مناظر پہ نظر ڈالتے اس نے ہلکا پھلکا طنز کیا اوہو آئی۔مین وہ تھوڑی خجل ہوئی تھی۔۔۔۔۔
ریحاب فیورٹیزم اچھی چیز نہیں ہوتی گڑیا آپ جو آئیڈیل بناتے آپکے نزدیک وہ پریفیکٹ ہوتا مگر ہر انسان کی لائف میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا جو اسے آپکی سوچ سے الگ کردیتا ہے تب ہرٹ ہونے سے بہتر انسان پہلے سٹپ پہ اپنے قدم روک لے۔۔۔۔
اسکے فیورٹ شاہکار کو اس نے غور سے دیکھتے کہا تھا جبکہ ریحا نا سمجھی سے سلمان کو دیکھنے لگی ۔ ۔۔ ۔
عقل مند کو اشارہ کافی تھا مگر ریحاب علوی کے دماغ میں اتنی جلدی کہاں بات آنی تھی سوائے اسکے کہ بھائی نے سامنے پوسٹر پہ بنی شخصیت کے متعلق اسے وارن کیا تھا ۔۔۔۔
بھائی صرف اک وش ہی تو ہے اور تو کچھ نہیں وہ جانتی تھی اسکا بھائی قدامت پسند نہیں ہے یقیناً کچھ سوچ کے ہی بول رہا ہوگا۔۔۔
ہننمم ویل لیٹس ہیو اے کافی پارٹی بات کو بدلتے سیلمان نے اسے کہا کیونکہ جو بھی تھا ریحاب جیسی کافی کوئی نہیں بنا سکتا تھا۔۔
ڈن بھائی وہ جلدی سے اسکے ساتھ ہولی بائےدا وے ضوئی نے تو کہا کہ تم سو رہی ہو اور وہ بغیر ملے چلی گئی تم سے سیلمان نے کچھ دیر پہلے ضوئی کے رویے کی وجہ جاننی چاہی۔۔۔۔
کیا زویا آئی تھی بٹ میرے پاس تو نہیں آئی آپکو کہاں ملی تھی وہ ۔۔
اسکی غلط فہمی دور کرنے ساتھ سوالوں کے تابڑ توڑ حملے بھی ساتھ کیے تھے۔۔۔
لاؤنچ میں مما ساتھ ۔۔۔۔
اوہ ریحاب فوراً بات کی تہہ تک پہنچی تھی یقیناً مما نے ہی کچھ بولا ہوگا جو وہ اس سے ملے بغیر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
کافی سے فری ہوکے سیلمان اپنے روم چلا گیا وہ بھی انیکسی کی طرف بھاگی مگر گیٹ پہ ہوتی مسلسل بیل نے اسے متوجہ کیا ۔۔
خان بابا اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے اور کوئی بھی اسے نظر نہیں آیا تھا جبھی وہ گیٹ کھولنے پہنچی تھی۔۔۔۔۔
سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کے اسے اتنی جلدی اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔اسکے سامنے چٹکی بجاتے صارب نے اسے متوجہ کیا۔۔۔
جج جی فرمائیں فوراً ہوش میں آئی تھی۔۔
اردگرد اسکے الفاظ گونج رہے تھے مجھے مردوں کو لجھانے والی لڑکیاں پسند نہیں۔۔۔
تف ہے تم پہ زویا کیا سوچے گا کہ میں بھی عام لڑکیوں کی طرح اسکی لکس پہ مرنے کو تیار ٹہری تھی۔۔۔
ہاؤس نمبر تھرٹین ۔۔۔رائیٹ
اک مختصر سوال۔۔۔
نو اٹس تھرٹی۔۔
جتنا مختصر سوال ہوا تھا اس سے بھی مختصر جواب دیا گیا تھا۔۔۔۔۔
بٹ لوکیشن میں تو یہ تھرٹین آرہا ہے ۔۔۔
او مسٹر کہہ چکی نا کہ یہ آپکا مطلوبہ گھر نہیں ہے تو۔۔۔۔
کہی لڑکی دیکھی نہیں اور فلرٹ بازی شروع۔۔۔۔
بدتمیزی سے کہتے اس نے گیٹ اسکے منہ پہ مارنے والے انداز میں بند کیا اور اپنی تیزگام کی رفتار سے چلتی سانسوں کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
جبکہ دوسری جانب صارب سے اپنی اتنی واضع انسلٹ برداشت نہیں ہورہی تھی ۔۔۔ ۔
اسے اپنے سے غلطی کی اک پرسینٹ بھی گنجائش نہیں تھی پھر بھی وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
لوکیشن دوبارہ ڈالی تھی نتجتاً دوبارہ اس گھر کے سامنے تھا ۔۔۔۔
بیل کی آواز پہ پھر سے وہ اسکے سامنے تھی۔۔۔
کیا ہے کتنی بار آپکو بولا آپ غلط اڈریس پہ پہنچے ہیں ۔۔۔
دیکھیں محترمہ۔۔۔
واٹ کس کو محترمہ بولا آپ نے میں آپکو محترمہ نظر آرہی ہوں اسکو بولنے کا موقع دیے بغیر وہ شروع تھی۔۔
جبکہ صارب کا دل کیا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے چلا جائے۔۔۔۔۔۔
دروازہ اک بار پھر بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی جبھی صارب نے گیٹ میں اپنا پاؤں اڑسا تھا۔۔۔
تھی تو غیرمہزب حرکت مگر وہ اس چیز کیلئے مجبور کررہی تھی۔۔۔
آپ نے شاید غور نہیں کیا میں صارب ۔۔۔۔
تبھی دوبارہ چنگھاڑتی آواز میں ریحاب شروع ہوئی۔۔
اپنی آنکھیں ادھار رکھ کے آئے ہو مسٹر کیا جب میں کہہ رہی ہوں کے یہ ہاؤس نمبر تھرٹی ہے تو آپ کیسے کہہ سکتے کہ یہ تھرٹین ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بغور اپنے سامنے لڑکی کا جائزہ لیا تھا ۔۔۔۔
اسے اپنی حالت پہ رحم آرہا تھا۔۔۔
جواس چینی چاپانی ٹائپ گڑیا نے اسکو ہلا کے رکھا ہوا تھا پندرہ منٹ سے بحث جاری تھی اور وہ گھوم پھر کے اسی گھر سامنے آرکتا ہر بار بیل بجانے پہ وہ آفت کی پڑیا سامنے کھڑی ہوتئ۔۔۔۔۔۔
دیکھو بیٹا آپ اپنے کسی بڑے کو بلا دیں آئی تھنک آپ مجھے پہچان نہیں رہیں اکڑی ہوئی گردن سے وہی ڈائلاگ بولا گیا جو پہلے کئ برا اسکے سامنے بول چکا تھا۔۔۔۔
واہاٹ آپ نے بیٹا کس کو بولا ۔۔۔۔۔
وہ چیخنے والے انداز میں بولی۔۔۔
یاوحشت محترمہ پہ اعتراض بیٹا بولنے پہ اعتراض سامنے کھڑی لڑکی اسکا ٹمپر لوز کررہی تھی۔۔۔۔
ارے صارب تم کب آئے پاکستان سیلمان کی آواز پہ دونوں چونکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی سیلمان آگے کو بڑھتے ہوئے اسے گلے ملنے لگا تھا ۔۔۔ کافی دن سے آیا ہوا تھا سوچا تم سے مل۔لو اور تمہاری چھوٹی بہن کو بھی اسکے فیورٹ ون سے ملوا دوں مخصوص مغرور انداز ۔۔۔۔۔۔
ارے احسان ہے آپکا کے انڈسٹری کے کنگ صارب رحمان ہمارے گھر تشریف لائے ہیں اور اس سے ملو یہ میری لٹل سس ریحاب تمہاری بگ فین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنے اس طرح اکسپوز ہونے پہ بری طرح شرمندہ ہوئی ساری کری کرائی پہ سیلمان نے اک لمحے میں پانی پھیرا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اور صارب اس ڈرامہ باز لڑکی کو دیکھ کے الجھن کا شکار ہوا اگر وہ اسکی فین تھی پچھلے پندرہ منٹ سے کیا ناٹک چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ اسکا اپنا انٹرو کرواتا پھر رہا تھا جبکہ وہ جان کے بھی انجان بننے کا ناٹک کھیل رہی تھی۔۔۔۔
آہاں رائٹ ۔۔۔نائس ٹو میٹ یو صارب نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تھا اک طنزیہ مسکراہٹ اسکے لبوں پہ تھی جو ریحا کو ژچ کر نے لگی تھی۔۔۔۔
سوری میں اجنبیوں سے ہاتھ نہیں ملاتی سیلمان کا لحاظ کیے بغیر وہ اسکی صاف انسلٹ کرگئی تھی ۔۔۔۔۔
سیلمان نے حیرت سے ریحا کو دیکھا تھا وہ جو اتنا بڑا پوسٹر دیوار پہ صارب رحمٰن کالگا رکھا تھا کیا یہ وہی ریحا تھی مگر وہ چپ ہوکے رہ گیا تھا۔۔۔۔
اور بھیا اپنے مہمانوں سے کہیں ہاؤس نمبر کی پلیٹ گھر پہ لگی ہے فضول کی بحث سے دوسروں کا ٹائم ویسٹ مت کیا کریں اٹس ہاؤس نمبر تھرٹین بٹ آپکے دوست کہہ رہے اٹس تھرٹی۔۔۔۔۔
کمال۔بےنیازی سے کہتی وہ آگے بڑھ گئی جبکہ اسکے اتنے کنفیڈنٹ پہ اک لمحے صارب کو بھی لگا کے تھرٹی کیلئے ہی بحث کرتا رہا ہے۔۔۔۔۔۔
جھوٹی لڑکی ۔۔۔۔صارب نے اگلے ہی لمحے اسے اپنے ناپسندیدہ ترین لوگوں کی لسٹ میں شامل کیا تھا۔۔۔۔
اور سیلمان اس سے ریحان کے رویے کی معزرت کرتا اسے لے کے اندر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔
پھر وہ جتنی دیر سیلمان کے ساتھ رہا صارب کو وہ نظر نہیں آئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *