Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 28)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

وہ سب لوگ اریج کے گھر پہنچ چکے تھے۔

پوری پولیس فورس ان کے ساتھ تھی ۔۔

حیدر صاحب نوکر کے بلانے پر گھبرا کر نیچے آئے تھے ۔۔

سامنے کھڑی پولیس اور باقی سب لوگوں کو دیکھ کر ان کو کسی بہت بڑی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔

کیوں آئے ہیں آپ لوگ یہاں ؟؟؟

اور آپ لوگوں کی اس طرح میرے گھر میں گھسنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی ؟؟؟

وہ آواز کو تھوڑا دباتے ہوئے مگر شعلہ وار لہجے میں بولے ۔۔

میں بتاتی ہوں ڈیڈی کے یہ کیوں آئے ہیں سب ؟؟

اریج سمیر کی پشت کے پیچھے سے نکلتے ہوئے بولی ۔۔

اریج تم ؟؟؟

البتہ بشر ہمدان پولیس کے ساتھ پورے گھر میں دلآویز کو گھس کر ڈھونڈ رہے تھے ۔۔

حیدر صاحب بیٹی کو دیکھ کر داڑھے تھے ۔۔

کیوں آۓ ہو اپنی منہوس شکل لے کر میری عزت کو تازیانے لگانے ؟؟؟

وہ ایج کو مارنے کے لئے بڑے تھے ۔۔۔

جب سمیر نے آگے بڑھ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے ان کا بڑا ہوا ہاتھ دبوچا تھا ۔۔۔

خبردار اگر اس کو چھوا بھی تو۔ ۔۔

تم کون ہوتے ہو؟؟؟

میں اپنی بیٹی سے کسی بھی طرح پیش او میری مرضی ۔۔۔

میں کون ہوتا ہوں؟؟؟

ابھی بتاتا ہوں میں کون ہوں ۔۔۔

میں آپ کی بیٹی کا شوہر ہوں ۔۔۔

سمیر نے ان کا ہاتھ بری طرح سے جھٹکتے ہوئے کہا تھا ۔۔

وہ عریج کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر خونخوار نظروں سے حیدر صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔

یہ میری بیوی ہے۔۔۔

آپ اس کے سائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔۔۔

وہ اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر حیدر صاحب کی طرف کرکے بولا ۔۔۔

حیدر صاحب اس انکشاف پر دنگ رہ گئے تھے ۔۔۔

آریج اس کی مضبوط پناہوں میں آ کر پرسکون ہو چکی تھی کوئی ڈر کوئی خوف باقی نہ رہا تھا ۔

اب سمیر دندناتا ہوا حیدر صاحب کے گھر میں گھس رہا تھا ۔۔

ارے یہ تم کہاں میرے گھر میں گھسے چلے جا رہے ہو ۔۔

حیدر صاحب غصے سے بے قابو ہو کر بولے تھے ۔۔

وہ پلٹا اور حیدر صاحب کا گریبان پکڑ کے بولا ۔۔

اگر میری بہن حجاب نہیں ملی تو یاد رکھنا میں تجھ سمیت تیرے گھر کو آگ لگادوں گا ۔۔۔

وہ ان کی شرٹ کو کھینچتے ہوئے بولا ۔۔۔

آپ چپ رہے اور ہمیں اپنی کاروائی کرنے دیں ۔۔

ایک پولیس آفیسر مداخلت کرتا ہوا ان دونوں کو الگ کرتے ہوئے سختی سے بولا ۔۔۔

بابا کو آج زندگی میں اپنا آپ جتنا بھی بس لگا تھا۔۔۔

اس سے پہلے کبھی نہیں اتنی بے بسی انہوں نے محسوس کی تھی ۔۔۔

وہ گم سم سے بس خاموش ایک کونے میں کھڑے تھے ۔۔

ان کو حجاب کا ہنستا مسکراتا چہرہ آنکھوں میں گھومتا محسوس ہو رہا تھا بار بار ۔۔۔

یا اللہ میرے بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔

میں نے اگر زندگی میں کوئی ایسا کام کیا ہو جو تجھے اچھا لگاہو۔ ۔۔

تو تو میری حجاب کو دے دے واپس ۔۔

میرے رب میرے حبیب کے صدقے میں تو میری بچی کو با حفاظت ہم تک پہنچا دے۔ ۔۔

وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہے تھے ۔۔

بول بتا میری حجاب کہاں ہے ؟؟؟

بشر دلاویز کور تہ خانے میں سے کھینچتا ہوا باہر لا رہا تھا ۔۔

مجھے نہیں پتا میں کچھ نہیں جانتی وہ بلبلا کر بولی تھی ۔۔۔

وہ اس کی طرف مارنے کو بڑا تھا ۔۔۔

بشررکو اسکول لیڈی کانسٹیبل کو ہینڈل کرنے دو ۔۔۔

خاندان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکا تھا ۔

_________

یہ کیا حال کیا ہے تم لوگوں نے اس کا ؟؟؟

زوار وہاں موجود عورت اور مرد پر دھارا تھا ۔۔۔

اس کی تو نفس بھی بہت ہلکی چل رہی ہے ۔۔

لیکن سر جی مجھے بائی نے یہی کہا تھا کرنے کو ۔۔۔۔

ہاں میں نے کہا تھا بائی سے مگر اتنا بھی نہیں اب کل یہ بھیجنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے ۔۔۔

یہ زندہ بھی شاید کل تک نہ رہ پائے ۔۔

وہ حجاب کا چہرہ پلٹ کر دیکھنے لگا ۔۔

یہ دیکھو اس کے چہرے سے بھی خون رس رہا ہے ۔۔

اب کیا سیٹھ اس کا اچار ڈالے گا ؟؟

مگر سر جی میں نے اس کے ساتھ کوئی ریپ تھوڑی کیا ہے ۔۔

ریپ نہیں کیا لیکن اس کا حال دیکھو اس کو موت کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔

کون جواب دے گا ؟؟

سیٹھ کو تو بھکتے گا ؟؟؟

کون لائے گا اتنی رقم جو میں نے اس سے لے لی تھی پہلے ھی؟؟؟

وہ جارحانہ انداز میں اس آدمی کی طرح بڑا تھا اور گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کر ڈالی تھی ۔۔

حجاب کے اوپر اتنا تشدد کیا گیا تھا کہ زواریہ تک نہیں پہچان پایا تھا کہ یہ اریج نہیں بلکہ کوئی اور لڑکی ہے ۔۔

ایک دم دھڑام سے باہر کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔

خبردار کسی نے بھی ہلنے یا کسی کی بھی قسم کی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو ادھر ہی گاڑھ دوں گا ۔۔۔

پولیس آفیسر ازجلد اور ان کے اہلکار اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے اور پورے فارم ہاؤس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا ۔۔

بشر ہمدان اور سمیر تیزی سے آفیسر کی پوزیشن سنبھالتے ہیں اندر داخل ہو چکے تھے ۔۔

باقی سب لوگ وہی عریج کے گھر پر ہی تھے ۔۔

بتا کون ہے اس میں سے کون ہے تیرا وہ یار۔۔۔

پولیس افسر بولا تھا ۔۔

دلاویز نے بڑی مشکل سے زوار کی طرف اشارہ کرکے بتایا تھا ۔۔۔

زوار کو دیکھ کر بشر اس کے اوپر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑا تھا ۔۔

بتا کہا ہے میری حجاب ؟؟؟

وہ اس کے منہ پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بولا تھا ۔۔

میرے پاس کوئی حجاب نہیں ہے ۔۔

وہ تڑپتے ہوئے بولا تھا ۔۔

تو اس طرح منہ نہیں کھولے گا ۔۔۔

بشر نے اپنی بیلٹ اتار کر۔۔۔

اس کے کئی ضرب ایک ساتھ لگا ڈالے تھے ۔۔

بشر اس وقت جنونی سا ہو رہا تھا ۔۔

بشر چھوڑو اس کو ۔۔۔

سمیر نے بڑی مشکل سے اس کو چھڑواتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

بہار شور سن کر کمرے میں بند لڑکیوں نے فورا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا تھا ۔۔

اہلکار نے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا بھاگ کے ۔۔

مگر اندر لڑکیوں کو دیکھ کر وہ فوری پیچھے ہٹا تھا اور لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہو گئی تھی ۔۔۔

اور پھر دوسری اپنی ساتھی کانسٹیبل کو اشارہ کیا تھا گاڑی میں سے چادریں لانے کا ۔۔۔

دلاویز جب زب زبان کھولی تھی تو سب بتا دیا تھا ۔۔

لیڈی کانسٹیبل پوری تیاری سے آئی تھی ۔۔

تم لوگوں کو پتہ ہے کسی کو حجاب کے بارے میں ؟؟؟

لیڈی کونسٹیبل نے وہاں باندی بنی معصوم لڑکیوں سے نرمی سے پوچھا تھا ۔۔

سب نے ڈر کر نفی میں سر ہلا یا تھا مگر ان میں سے ایک لڑکی ہمت کرکے بولی تھی ۔۔

کہیں آپ اس لڑکی کی تو بات نہیں کر رہی جس کو ابھی ابھی ان لوگوں کا ساتھی دفنانے لے کر گیا ہے؟؟؟

کیا مطلب ؟؟

وہ تمام حجاب کے ساتھ ہوئی جارہیت کے بارے بتاتی چلی گئی۔۔۔

اندر آتے بچھڑنے دروازے کو تھام کر بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے روکا تھا ۔۔۔

اس نے سب سن کر زوار کی طرف لائیٹر سے آگ لگانا شروع کی تھی ۔۔۔

بتا کہاں ہے میری حجاب کہاں لے کر گیا ہے تیرا آدمی اس کو ؟؟؟؟

بول نہیں تو تجھے ایسی جگہ تکلیف دوں گا کہ تو نہ زندوں میں شمار ہوگا نہ مردوں میں بول جلدی ۔۔۔۔۔

بتاتا ہوں ۔۔۔

اور پھر اس کو لے کر بشر اور پولیس اس تک پہنچ چکے تھے ۔۔

وہ فارم ہاؤس کے پچھلی طرف موجود گارڈن میں قبر کھود کر حجاب کو اندر لٹا چکا تھا اور اب اس کے اوپر مٹی ڈال رہا تھا۔۔

تمام لڑکیوں کو با حفاظت پولیس کی گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا تھا ۔۔

اور اب وہ لوگ حجاب کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس تک پہنچ چکے تھے ۔۔

بشر نے آگے بڑھ کر اس کو دھکا دیا اور خود جھک کر حجاب کے اوپر سے مٹی ہٹانے لگا تھا ۔۔

وہ رو رہا تھا چیخ رہا تھا مسلسل ۔۔۔

ہمدان اور سمیر نے اس درندے آدمی کو پکڑ کر اتنا دھونا تھا کہ بس سانس بند ہونے کی کمی باقی رہ گئی تھی ۔۔

سمیر اور ہمدان بھاری قدموں سے بشر کی طرف بڑھے تھے دونوں کے دل غم سے نڈھال تھے ۔۔

بشر اس کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا ۔۔

یار اس کی نبض ابھی چل رہی ہے جلدی کرو ہاسپٹل لے کر اس کو چلو۔۔

ہمدان نے حجاب کہ ہاتھ کو واپس چھوڑ کر کہا ۔۔

وہ بھی اس کی حالت دیکھ کر اس سے سے بےقابو ہو رہا تھا ۔۔

بشر اس کو بازوؤں میں بھر کر ہوسپٹل کے لئے نکل چکا تھا وہ پچھلی سیٹ پر اپنی گود میں لئے اس کو بیٹھا تھا ۔۔۔

💕
💕
💕

ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف ؟؟؟

ڈاکٹر کو آئی سی یو سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ ڈوڑتا ہوا ان کی طرف پہنچا تھا۔ ۔۔

دیکھے آپ کی وائف کی حالت ٹھیک نہیں ہے اوپر سے وہ ایکسپیکٹ بھی کر رہی ہیں ۔۔

یی اللہ کا کوئی معجزہ ہی ہے کہ ان کے حمل کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اتنے تشدد کے باوجود ۔۔

اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں ۔۔

آپ لوگ دعا کریں ۔۔

میں آپ کو کوئی امید نہیں دلانا چاہتا پشینٹ کی حالت بہت خطرناک تھا خراب ہوچکی ہے ۔۔

_________

سب لوگ ائی سی یو کے باہر بیٹھے تھے حجاب کے لئے زندگی کی دعائیں کر رہے تھے ۔۔

باب امام حجاب کی پٹیوں سے جکڑے وجود کو دیکھ کر گم سم سے ہو گئے تھے ۔۔۔

اسرا اور اریج کو جیسے ھی سمیر اندر لے کر گیا تھا اسراہ حجاب کی حالت دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھی ۔۔

اریج زاروقطار اپنی دوست کی حالت پر خون کے آنسو رو رہی تھی ۔۔

۔وہ اس سب کا قصوروار بار بار خود کو ٹھہرا رہی تھی ۔۔۔

جب کہ سمیر اپنی بہن کی اس حالت پر رونا چاہ کر بھی رو نہیں پا رہا تھا غم کی شدت سے اس کا دل بھٹ رہا تھا اندر سے ۔۔

بشر کی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ اگر حجاب کی زندگی نہ بچتی تو جیسے وہ خود بھی زندہ نہیں رہ سکتا تھا ۔۔

وقت میں اس پر بہت بڑا کاری وار کیا تھا ۔۔

ڈاکٹر جیسے ہیI c u سے باہر آیا تھا سب کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گی تھی ۔۔۔

بشر کے پیروں سے جان نکل چکی تھی۔۔

وہ اس بار وہی ائی سی یو کے دروازے کے باہر کھڑا رہا تھا اس کی اتنی ہمت نہ بن پڑی تھی کہ ڈاکٹر سے جاکر اپنی حیات کا پوچھ سکتا۔۔۔

ڈاکٹر صاحب اب میری بیٹی کیسی ہے اب؟ ؟

ڈاکٹر اور سمیع دیوانے سے ڈاکٹر کی طرف لپکے تھے ۔۔۔

دونوں کی آنکھوں میں موہوم سی امید جاگی تھی ڈاکٹر کو دیکھ کر ۔

۔آپ کی پیشنٹ کی حالت ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں ہوئی ہے ۔۔

صرف اور صرف 20 فیصد چانسز ہیں ان کی زندگی کے ۔

اگلے دو گھنٹے بہت اہم ہے ان کے لیے ۔۔۔

ہم پیشنٹ کو ہوش میں لانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔

آپ لوگ دعا کریں ۔۔

زندگی دینے والا رب اوپر بیٹھا ہے ہم لوگ تو وسیلہ ہے بس ۔۔

ڈاکٹر نے بابا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا تسلی دی تھی ۔۔

بشر ڈاکٹر کی بات پوری بھی نہیں سن سکا تھا اور بھاگا ہوا ائی سی یو کے اندر بھاگا تھا ۔

باہر کھڑے گارڈ نے دیوانہ وار بشر کو اندر بھاگتا دیکھ کر روکنا چاہا تھا ۔۔۔

ارے ارے سر آپ اس طرح نہیں جاسکتے ابھی ۔۔

وہ اس کو روکنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا جب ڈاکٹر نے اس کو روکتے ہوئے کہا ۔۔

جانے دو ان کی وائف شاید سر وائو نہ کر سکے آگے ۔۔

حجاب کے اٹینڈنٹ ڈاکٹر نے گارڈ کو روکتے ہوئے بہت آہستہ سے کہا تھا جو صرف وہی گارڈ سن سکا تھا ۔۔۔

💕
💕
💕

حمدان یہ سب تمہارے سامنے ہیں بتاؤ کیا حشر کرنا ہے ان لوگوں کا ؟؟؟

ازجد سامنے بیٹھے ہمدان سے گووا گویا ہوا تھا ۔۔

حمدان اسجد کے کال کرنے پر پولیس سٹیشن آیا تھا ۔۔۔

ہمدان نے ایک نظر دلآویز اور زوار کو دیکھنے کے بعد باقی سب درندوں پر ڈال کر اسجد کی طرف متوجہ ہو کر کہا ۔۔۔

تم کیا چاہتے ہو ؟؟

حمدان کے لہجے میں چٹانوں سے سختی تھی وہ اسجد سے دریافت کر رہا تھا ۔۔

دیکھو ہمدان یہ تم لوگوں کے اوپر انحصار کرتا ہے کہ ان کو سزائے موت دی جائے یا پھر عمرقید ۔۔۔

میں ان لوگوں کو اس سے بھی عبرتناک سزا دینا چاہتا ہوں ۔۔۔

ہمدان نے میز پر اپنی مٹھی کو زور سے مارا تھا ۔۔

میں تیرا پورا پورا فیور کروں گا جو تو کہے گا ۔۔

ٹھیک ہے تو پھر سن ۔۔۔

وہ اسجد کو بولا ۔۔

💕
💕
💕
💕

ذوار اور اس کے تمام گروہ کو فوٹ پاتھ پر موجود درختوں پر ایک ایک کو علیحدہ علیحدہ درخت پر الٹا لٹکا دیا گیا تھا ۔۔

اور پولیس کی بھاری نفری وہاں تعینات تھی ہمدان نے سزا کے طور پر یہ لفظ تجویز کی تھی کہ تمام درندے اسی درخت پر دن رات لٹکی رہے گے۔ ۔

جب تک یہ خود سے موت کی بھیک مانگ کر گڑگڑا گڑگڑا کر خود نہیں مرجاتے لٹکے لٹکے ۔۔

یہ ان لوگوں کے لیے عبرت ہے جو اس طرح کے کالے دھندوں میں ملوث ہیں ۔۔۔

ہم دا نہیں جانتا تھا اس نے کس طرح کن کن لوگوں سے نمٹ کر آخر کار یہ سزا منتخب کروا نی میں کامیاب ہوا تھا ۔۔

اس نے کس کس طرح بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات نکال کر یہ سب کروانے میں کامیاب ہوا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا ۔۔

کیونکہ زوار کا گروپ کوئی معمولی گروپ نہ تھا۔۔۔

افسر نے مار مار کر ان کے تمام اڈوں اور ایک ایک اس کام میں ملوث شخص کے بارے میں اگلوالیاتھا اور ایک ایک چن چن کرگرفتار کیا جا رہا تھا ۔۔

دیکھنے والوں کی روحیں تک کانپ کر رہ گئے جاتی تھی جب ۔۔

فٹ پاتھ پر لٹکے ایک ایک درندے پر مائنس 2 ٹیمپریچر میں برف کا ٹھنڈا پانی انڈیلا جاتا تھا ۔

دردناک قسم کی چیخیں نکل 3 تھی سب کی ۔۔

اور پھر ان کو زنجیروں سے مارا جاتا تھا ۔۔۔

اتنا ہی نہیں وہ تمام مظالم ان پر کیے گئے تھے جو ان وحشیوں نے معصوم لڑکیوں پر بےدردی سے ڈھائے تھے ۔۔۔

اورجب تک کیے گئے تھے۔۔

جب تک ایک ایک بندہ جانور کی موت نہیں مرا تھا ۔۔۔

فرح کو بھی کاشی کے ساتھ بدترین انجام تک پہنچایا گیا تھا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕

بشر حجاب کے پاس اس کا ہاتھ تھام کر زاروقطار پر بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔۔

وہ مرد تھا کسی کے سامنے رو نہیں سکا تھا۔۔۔

ابھی تک مگر اب وہ اور حجاب تنہا تھے وہ حجاب کے ہاتھ تھامے ہوئے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔

حجاب تم میری زندگی ہو ۔۔۔

تم نے وعدہ کیا تھا تم ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی۔۔۔

حجاب پلیز اٹھو ۔۔۔

پلیز ہمارے اس بچے کی خاطر ہوش میں آئو۔۔

حجاب میں تمہارے ساتھ ساتھ اپنے اس بچے کو بھی نہیں کھونا چاہتا۔۔

تم دونوں میری زندگی ہو۔۔

میری سانسیں ہو پلیز مجھ سے میری سانسیں مت چھینو ہو واپس لوٹ آو ۔۔۔

وہ اس کے ہاتھوں کو سختی سے تھام کربول رہا تھا ۔۔

میں جانتا ہوں تم مجھے تنہا نہیں چھوڑ کر جا سکتی ہوں ۔۔

ابھی تو کتنے سارے بدلے باقی ہیں تمہارے لینے کے لئے ۔۔۔

حجاب زور زور سے سانسیں لے رہی تھی اس کی حالت بگڑتی دیکھ کر بشر نے جلدی سے باہر جاکر ڈاکٹر کو بلایا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر کو تیزی سے اندر جاتا دیکھ کر وہ بھی ڈاکٹر کے ساتھ واپس اندر جا رہا تھا جب ڈاکٹر نے سمیر کو اشارہ کرکے اس کو روکنے کا کہا ۔۔

سمیر نے اپنے ٹوٹے پھوٹے وجود کو بڑی مشکل سے دھکیلا تھا اور بشر کے پاس آیا تھا ۔۔

بشر صبر کر ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دیں ۔

یار دیکھے مجھے میری حجاب کے پاس جانے سے روک رہے ہیں۔

بشر ہوش میں آئو ابھی تھوڑی دیر بعد چلے جانا ۔۔

بابا بھی آگے بڑھے تھے اور بہت مشکل سے بشر کو روک پائے تھے ۔۔۔

پندرہ منٹ کے بعد ڈاکٹر واپس باہر آیا تھا ۔۔

کیا ہوا میری حجاب کی سی ہے ؟؟؟

بشر ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھ کر اس کی طرف پاگلوں کی طرح لپکا تھا۔ ۔۔

ھم آپ کی ۔۔۔۔

______________

2 ماہ بعد۔۔۔

جی نہیں جب تک حمدان بھائی آپ میری ڈیمانڈ پوری نہیں کریں گے تب تک آپ کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا ۔۔

حجاب محرون اور وائٹ کے امتزاج کا گھاگرا چولی پہنی بشر کے ساتھ دلہن کی طرح پور پور سجی کھڑی تھی ۔۔

بشر بار بار اس کے وجود میں گم ہو رہا تھا اور حجاب بار بار اس کی بیتابیوں پر برف انیڈیل رہی تھی ۔۔۔

پیار تمہاری ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے ۔۔

حمدان بشر کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

یار میں کچھ نہیں کرسکتا تم اور تمہاری عزیز جان بہن خو دہی منٹو ۔۔

بشیر نے صاف ہری جھنڈی دکھائی دی ۔۔

یہ میرا والٹ ہے ۔۔

یہ لو چیک بک جو بہی کرنا ہے کرلو بس میری جان چھوڑو ۔۔۔

ہاں حجاب بس اب چلتے ہیں ویسے ہی دو مہینے کے قریب تمہاری وجہ سے سولی پر لٹکا رہا ہے میرا چہیتا دوست ۔۔۔

سمیر کو ہمدان کی حالت پر رحم آنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔

ہاں بھائی بس اب تم لوگ میری جان بخشو ۔۔

حمدان سمیت کا فیور پاکر فوراً معصومیت طاری کرکے بولا خود پر ۔۔۔

میری بیچاری دلہن اب تک تو بے ہوش ہو چکی ہو گی میرا انتظار کرتے کرتے ۔۔۔

وہ بیچارگی سے مزید گویا ہوا ۔۔

ہاں بس ٹھیک ہے ڈن ۔۔۔

ہم خود لے لیں گے جو لینا ہو گا چیک بک تو ہمارے پاس ہے نا حجاب۔ ۔

اریج نے بھی ہمدان کی بیچارگی دیکھ کر حجاب کو ٹالنا چاہا ۔۔۔

نانا بالکل بھی نہیں۔۔

مجھے یہ سب کچھ بالکل بھی نہیں چاہیے ۔۔۔

مجھے تو آپ دونوں کے ساتھ اریج اور سمیر بھائی کو بھی لے کر ہنی مون پر جانا ہے۔۔۔

ہاں ہاں اور نہیں تو کہا کیا ہمیں بھی تو اپنا ہنی مون منانا ہے جو ابھی تک نہیں منسکا ۔۔

بشر دوبارہ چوڑا ہوا ۔۔

اور جھٹ سے حجاب کی ہاں میں ہاں ملا کر بولا ۔۔

ہمدان نے ان چاروں کا باب میں بڑے والی ہڈیوں کو دیکھا اور بے بسی سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔

اوہو چلو گڈ ہو گیا یہ تو ۔۔۔

حجاب نے خوشی سے بچوں کی طرح تالیاں بجائی ۔۔

وہ چاروں جھٹ سے راستہ چھوڑ کر ہرٹ چکے تھے ۔۔۔۔

💕
💕
💕

حمدان کمرے میں جلدی سے گھسا تھا اور کمرے کا دروازہ اندر سے فوری لاک کیا تھا۔۔

مبادا کہیں پھر سے وہ چاروں دھاوا نہ بولدیں اور واپس اندر کودہی نا پڑیں۔ ۔

اسرارحمد ان کو اندر آتا دیکھ کر سمٹ سی گئیں تھی۔۔

حمدان اس کو اس طرح سے خود میں سمٹتا دیکھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا ۔۔

اسراء اس کو خود سے قریب بیٹھتا دیکھکر گھبرا کر تھوڑا کھسک گئی تھی ۔۔۔

ہمدان نے اس کا ہاتھ تھام کر گویا اب مزید اس کو دور ہونے سے روکا تھا ۔۔۔

بس اب میں تمہیں اس کمرے سے تو کیا ان بیڈ سے بھی ٹس سے مس نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔

وہ اس کی ناک میں پہنی خوبصورت سی نتھنی کو آہستہ سے کھول کر ناک سے جدا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

اسراء اس کے لمس کی حدت محسوس کر کے گھبرا سی گئی اور ہیاء سے بوجھل پلکیں اٹھا نا پائی تھی ۔۔۔

تم نہیں جانتیں میں نے تمہیں ا سروپ میں دیکھنے کے لئے کتنا صبر کیا ہے ۔۔

سب سے میں پہلے تمہیں شکریہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔

کس بات کا ؟؟

وہ آہستہ سے نہ سمجھیں سے بولی ۔۔

دیکھو ہم لوگ تمہارے ایکسپیکٹ کرنے کی خوشی بھی ٹھیک طرح سے منع نہیں سکے تھے ۔۔

اور میں چاہ کر بھی تمہارا شکریہ ادا نہیں کر پایا تھا ۔۔

تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی سے نوازا ہے ۔۔

تم نہیں جانتیں باپ بننے کی خبر میرے لئے کیا تھی ۔۔

کتنا پیارا احساس تھا جو میرے دل میں میری اولاد کو لے کر جاگا تھا ۔۔۔

وہ آج اپنا دل کھول کے آسرا کے سامنے رکھ چکا تھا ۔۔

میں تم سے کسی بھی قسم کی محبت کا دعوی نہیں کروں گا ۔۔

ہاں بس اتنا ضرور کہوں گا کہ وقت ضرور تمہیں میری محبت کا یقین دلائے گا ۔

۔وہ اسراء کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے بولا ۔۔

وقت نے مجھے یقین دلادیا ہے آپ کی محبت کا ۔۔

اسراء نے بڑی محبت سے پیار بھرے لہجے میں اقرار کیا تھا ۔۔۔

آج تم دلہن کے اس روپ میں سجی سنوری آخر کان میںری سیج سجائے بیٹھی ہو۔۔۔

وہ اسراء کو بیڈ پر کر اس پر جھک کے سرگوشیان انداز میں بولا ۔۔

ہمدان ۔۔۔

اسراء نے بڑی مشکل سے کپکپاتے ہوئے لبوں سے یہ اپنے محبوب شوہر کانام ادا کیا تھا ۔۔

جی جا نے ہمدان ۔۔۔

ہمدان میں بھی آپ کی محبت میں پور پور بھی چکی ہوں ۔۔۔

وہ خود پہ جھکے ہمدان کی شرٹ کو کو اپنی مٹھیوں میں قید کرتے ہوئے حیا سے چور کپکپاتے لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔۔

اور بہت ہی پیارے انداز میں اپنے ریڈلپسٹک سے سجے ہونٹ اس کے چوڑے سینے پر رکھے تھے ۔۔۔

مگر میں تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔

ہمدان نے اس کے دوپٹے کی پنوں کوسر سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔

اور آہستہ سے اس کی بندیا بالوں میں سے جدا کرنے لگا ۔۔

اسراء سہم کر ہمدان کو دیکھا تھا ۔۔

حمدان اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر جلدی سے بولا مبادہ وہ پھر سے رونا ہی نہ شروع کردیتی ۔۔۔

میں تم سے میری جان عشق کرتا ہوں ۔۔۔

یہ کہ کر ہمدان نے اس پر اپنی محبت کی بوند بوند پر سات کرکےوجود کو صندل کر دیا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕

حجاب کو اللہ تعالی نے نئی زندگی عطا کی تھی وہ اور اس کی پریگنسی دونوں خطرے سے باہر تھیں۔ ۔۔

ڈاکٹر نے کچھ عرصے میں جسم پر آنے والے تمام زخموں کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہونے کا کہا تھا ۔۔۔

ان دو ماہ میں بشرنے حجاب کو گویا اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔

وہ بشر اور ماما بابا سمیت اسراء، سمیر ،اریج اور ہمدان سب کی محبت اور توجہ پا کر جلد ریکور کر رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *