Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 08)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

کراچی سے آنے کے بعد شام میں جب حمدان اور مقیم صاحب قدسیہ کے گھر پہنچے تو دونوں سکتے میں آ گئے ۔۔۔

برابر میں خالدہ سے پتہ چلا کہ قدسیہ کا 4 دن پہلے انتقال ہوگیاہے۔۔

اور اسراء آج ہی اپنی خالہ کے ساتھ کراچی چلی گئی ہے ۔۔۔۔

ؓمکیم صاحب صدمے کی حالت میں کچھ کہے اور سن ہی نہیں پائے ۔۔۔۔

“آپ کے پاس ایڈریس ہے کوئی انکا”۔۔۔؟؟؟

” نہیں بیٹا میرے پاس تو کوئی اتا پتا نہیں ہے”۔۔

ہاں بس مجھے اتنا پتا ہے کہ قدسیہ نے اپنی زندگی میں اسرا کو کہا تھا کہ کوئی بھی اس کے بعد برا وقت آئے تو وہ اپنی خالہ سے رابطہ کرے” ۔۔

حمدان اور بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اسراء نے اس کو دو کوڑی کا کردیا تھا اس کی خود کی نظروں میں۔ ۔۔

اپنے شوہر پر ہی بھروسہ نہیں کیا ۔۔۔

“میں تمہیں دنیا کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالوں گا “۔۔۔۔

“تم میری امانت ہو اور میں اپنی امانت میں خیانت نہیں برداشت کروں گا “۔۔۔

حمدان کے دماغ کی رگ غصے سے تن گئی۔۔

اسرار نے انجانے میں حمدان کے غصے کو ہوادے ڈالی تھی ۔۔۔

“حاصل تو میں اب تمہیں کر کے رہوں گا “۔۔

“سیدھے طریقے سے تو تم باز نہیں آئیں اب تم دیکھو اورالٹی گنتی شروع کر دو”۔۔۔۔

محبت کی جگہ طیش اور غصے نے لے لی تھی۔۔۔

حمدان پہ گویا اسر اء کو حاصل کرنے کا جنون سوار ہو گیا تھا ۔۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

سمیر نے آخرکار فرح کی محبت میں ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔۔۔۔

اور آج فرح اس کی سیج سجائے۔۔

اس کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔۔

سمیر آہستہ سے اندر آیا ۔۔

پورا کمرہ گلابوں اور موتیوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ ۔

وہ حسین تو پہلے ہی تھی مگر آج تو آسمان سے اتری کوئ اپسرا ء لگ رہی تھی۔۔۔

سمیر نے فرح کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔

” آج میں بہت خوش ہوں میری محبت مجھے مل گئی”۔۔

سمیرنے اس کے ہاتھ پہ بوسہ دیا ۔۔۔

فرح نے بھی اس کی محبت کا جواب محبت سے دیا اور ایک حسین محبت بھری رات اپنے اختتام کو پہنچی ۔۔۔۔۔

________

بشر کے کمرے سے جانے کے بعد حجاب زاروقطار رو پڑتی ہے۔۔۔۔

نظر اپنی کلائی پر ڈالتی ہے اس پر ابھی بھی بشر کی انگلیوں کے نشان موجود تھے۔۔ ۔۔

درد کی شدت اتنی تھی کے کلائی موو بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔۔

حجا ب نے غصے میں ملازمہ کو بلا کر اپنا کچھ ضروری سامان لےجاکے بشر کے برابر میں بنے روم میں رکھوالیا ۔۔۔۔۔

آج اس کو اپنے ماں باپ بہت شدت سے یاد آ رہے تھے ۔۔۔۔

“ماما بابا آپ مجھے کیوں تنہا کر گئے ؟؟؟”

“بھائی بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا”۔۔۔

بشر اچھے ہیں مگر ۔۔۔

اور اس مگر کے آگے وہ کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔

آنسو تھے کہ موتیوں کی ٹوٹی ہوئی لڑی کی طرح گر رہے تھے۔۔۔

وہ اب کمرے میں تنہا بیٹھ کر و زار و قطار رو رہی تھی ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

بشر ایئرپورٹ کے لئے نکل چکا تھا اور پورا راستہ ڈرائیو کرتے ہوئے اس کو کبھی حجاب پر غصہ آتا تو کبھی خود پہ ۔۔۔

وہ بار بار حجاب کے تکلیف دہ چہرے کو سوچ کر افسردہ ہو رہا تھا ۔۔۔

“مجھے حجاب کے ساتھ تھوڑی نرمی برتنی چاہیے۔”۔۔۔۔

” میں بار بار کیوں یہ بات بھول جاتا ہوں کہ اس ریلیشن کے لئے ابھی اس کو وقت کے ساتھ ساتھ میری توجہ اور محبت بھی درکار ہے”۔۔

“اور پھر وہ ہے ہی کتنی بڑی”۔۔

” اس عمر میں تو لڑکیاں خواب دیکھنا شروع کرتی ہیں” ۔۔۔

” ہوسکتا ہے وہ مجھے ایز اے لائف پارٹنر کبھی قبول نہ کر پا رہی ہوں ؟۔۔

اس کے اندر ایک جنگ جل رہی تھی۔ ۔

“مگر۔۔۔ مگر میں نے اس کی آنکھیں پڑھی ہیں۔۔۔

وہ کسی کو پسند دور کی بات دوستی بھی نہ کر نے والی تھی ۔۔۔

وہ صرف میری حجاب ہے معصوم اور انچھوئ۔ ۔

وہ حجاب سے محبت کی منزلیں طے کر چکا تھا۔۔۔

بشرآج سب سے اونچائی پر تھا۔۔۔

وہ اپنی سوچوں کو جھٹک کر ایئرپورٹ کے پارکنگ ایریا میں کار پار ک کرکے بہار اتر آیا ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

“آجاوُ بیٹا”۔۔۔

خالو نے گم سم گھڑی اسراء کو کہا۔۔۔

” جی خالو اسرا ء”۔۔

وہ کچھ گھبراہٹ کا شکار تھی ۔۔۔

وہ تھی بھی ایسی ہی ڈرپوک شرمیلی حالات سے فوراً گھبرا کر رو دے نے والی۔۔۔۔

ابھی بھی بار بار اپنا دوپٹہ سر پہ برابر کر رہی تھی۔۔۔۔

خالہ نے اس کی بوکھلاہٹ محسوس کرلی۔ ۔

انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑلیا۔ ۔

گویا مضبوط سہارا ہی چاہیے تھا۔ ۔۔

وہ اب تھوڑی پرسکون سی تھی ۔۔۔

بابا نے بشر کو سامنے دیکھ کر آواز دی۔۔۔

بشر ان لوگوں کی طرف بڑھا اور اسرا ء کو دیکھ کر بس سلام کرکے ان کو گاڑی کی طرف لے آیا ۔۔۔

اسراء کو لگا شاید بشر کو اس کا آنا کچھ خاص پسند نہ آیا ہو۔ ۔

وہ ابھی کوئی بھی سوال اسراءکے سامنے نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

وہ اس کو ویسے ہی بہت زیادہ افسردہ اور گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔

البتہ بابا اور وہ پورے راستے ایک دوسرے سے کسی نہ کسی ٹوپک پر بات کرتے رہے تھے ۔۔

گھر آ چکا تھ۔۔۔۔

بشر نے ہارن دے کر چوکیدار سے گیٹ کھلوایا ۔۔

اور گاڑی پارک کر کے فورا گاڑی سے اترا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔۔

پریشانی اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔۔

کافی دیر تک وہ اس کو کہیں بھی نظر نہیں آئ۔ ۔۔

” حجاب۔۔۔۔ حجاب”۔۔۔

” بیٹا “۔۔۔۔

ما ما نےاندر آتے ہی حجاب کو پکارا۔ ۔۔

“ماما شاید روم میں ہوگی”۔۔۔

” میں دیکھتا ہوں”۔۔۔

اسراء کو ماما نے فریش ہونے کے لئے اس کا کمرہ دکھانے کے لئے لے گئی ۔۔

بشرنی شکر کا سانس لیا کہ ابھی دوپہر کے دو ہی بج رہے تھے اور دوپہر میں ماما عموماً ریسٹ کرتی تھیں تھوڑی دیر۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں کوئ بھی کچھ جانے۔ ۔

بابا آفس میں ہوتے بشر کے ساتھ مگر اتوار ہونے کی وجہ سے بابا بھی ریسٙٹ کرنے کے لئے روم میں ہوں لیے۔۔۔

وہ سیدھا اس دشمن جا ں کو دیکھنے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔

کمرے میں جاکر دیکھا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی موبائل پر کال کی ۔۔۔

وہ بہی سائیڈ ٹیبل پر ہی بج اٹھا کمرہ کی۔ ۔

بشر اب صحیح معنوں میں پریشان ہو گیا تھا۔۔۔

وہ کمرے سے باہر نکل کر ابھی نیچے کی سیڑیاں اتر ہی رہا تھا۔۔۔

جب برابر والے کمرے میں سے اسکو سسکیاں آتی سنائی دیں۔ ۔

وہ اس کمرے کی طرف بڑھا۔ ۔

ہاتھ بڑھا کے کمرے کا دروازہ کھولا وہ لا ک نہیں تھا۔۔

بشر کمرے کے اندر داخل ہوا ۔۔۔

سامنے حجاب بیڈ پہ بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی ۔۔

بشر اس کے پاس گیا اور آہستہ سے رو تی ہوئ حجاب کی تھوڑی اوپر کی ۔۔

وہ ابتر حالت میں تھی نائٹی ابھی تک اس کا جسم کی زینت بنی ہوئی تھی۔۔۔

شرکی نظر چہرے سے ہوتی ہوئی بازوُں پہ گئی ۔۔

اس نے آہستہ سے حجاب کی نائیٹی کے ڈھلکے ہوئے اسٹیپ کو اوپر کیا۔ ۔۔

حجاب نے اس کے چھونے سے فوراً اپنا کندھا ناراضگی سے پیچھے کیا ۔۔

“جائیں آپ یہاں سے”

” مجھے میرے گھر جانا ہے” ۔۔

“اچھا مجھے بتاؤ میں کہاں جاؤں ؟؟؟”۔۔

“یہ آپ کا گھر ہے آپ کہیں بھی چلے جائیں “۔۔۔۔

حجاب کے لہجے میں پہلی والی کھنک اور اکڑ نہیں تھی۔۔۔

بشر کو لگا جیسے وہ اس سے خوفزدہ سی ہے۔

اچھا بس چلو اپنے کمرے میں اور ہولیہ درست کرو ماما بابا آ گئے ہیں ۔۔

سی ۔۔

حجاب کی کلائی کو جیسے ہی بشر نے پکڑ کر اس کو اٹھانا چاہا۔۔۔

حجاب تکلیف سے تڑپ و کراہ اٹھی ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

اسراء کمرے میں صوفے پہ بیٹھ کر آنکھیں موند لیتی ہے۔۔۔

جیسے اتنے دنوں کی تھکن مٹانا چاہتی ہو۔۔۔

“حمدان دیکھ لو تم نے مجھ سے آج ہی کے دن کہا تھا نہ کہ :

“میں تمہاری سیج سجاؤں گی۔۔

اب تم مجھے ڈھونڈتے رہ جاو گے۔۔

سیج تو دور کی بات میری پرچھائیں تک بھی تمہیں میں پہنچنے نہیں دوں گی” ۔۔

جاب وہ قدسیہ کے کہنے پہ پہلے ہی چھوڑ چکی تھی۔۔۔

مگر جب حمدان اس کو دھمکا کر گیا تھا۔۔۔

اس وقت اسرا نے ضد میں آکر اس کو نہیں بتایا تھا کہ قدسیہ بیگم نے اسراء کا وہ دھمکیوں والا خط پڑھ لیا تھا اور وہ بضد ہوگیئں کے وہ جاب کو ریزائن کردے جلدازجلد ۔۔

“میں خالہ پر بوجھ نہیں بنوں گی اور جلدی کوئی جاب کر لوں گی ان شاءاللہ” ۔۔۔

اسراء کی رگوں میں قدسیہ کی دی ہوئ تربیت رچی ہوئ تھی۔۔

جب اس کی ماں نے پوری زندگی کسی کا احسان نہیں لیا تو پھر وہ کیوں اور کیسے لے لیتی ۔۔۔

________

بشر نیں زبردستی حجاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں

لیا۔۔۔۔

تو اس کو اندازہ ہوا کہ جو ائنٹ میں شاید فیکچر ہوا ہے۔۔۔

بشر کو بہت افسوس ہوا۔۔۔

اس کی وجہ سے آج وہ اتنی تکلیف میں تھی ۔۔۔۔

بشر نے فرسٹ ایڈ باکس لاکر جوائنٹ پہ سمپل پلاسٹر باندھ دیا۔۔

حجاب اس دوران کچھ بھی بولنے کے بجائے بس ناراض سی منہ دوسری طرف کئے روتی رہی ۔۔۔۔۔ ۔

“چلو اٹھو کمرے میں واپس چلو “

“میں نے نہیں جانا تک بھی آپ سے میں یہی رہوں گی “

حجاب ضدی لہجے میں بولی

بشر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اس کو اپنی گود میں اٹھا کر اپنےکمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

نہ جانے کیوں حجاب کو حیاسی محسوس ہورہی تھی اس وقت بشر سے ۔

“اتارے مجھے میں خود چلی جاؤں گی نہیں کر رہی میں ضد کوئی “۔۔۔

“سوچ لو اگر ابھی چھوڑ دیا تو شادی کے دوسرے دن کی طرح زمین پر بیٹھی مجھے ہی آواز یں دو گی “

“اگر زمین پہ کیا آسمان پہ بھی گری نہ تو آپ کو آواز نہیں دو گی”

وہ ظالم حسینہ روٹھی روٹھی اور بھی دلکش اور حسین لگ رہی تھی ۔۔۔

بشر کا دل چاہا ایک شوخ سی شرارت کرنے کا مگر پھر وہ حجاب کا موڈ دیکھ کے اپنی یہ خواہش دل ہی میں دبا کر رہ گیا ۔۔۔

بشر اس کو گود میں اٹھائے دروازہ کھول کر اپنے کمرے کے اندر داخل ھو گیا۔۔۔

واش روم میں لے جاکر اس کا منہ ہاتھ خود واش کرا یا ۔۔۔۔

پھر اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر واپس صوفے پہ بٹھا کر خود اس کی وارڈ ڈروپ کی طرف بڑھ گیا وارڈ روپ میں سے۔۔۔۔

ایک مہرون اور اوف وائیٹ کلر کا سوٹ نکال کےواپس وفا کی طرف آیا ۔۔۔۔

یہ دیکھو یہ میں خود لے کے آیا تھا۔۔۔

حجاب نیں ایک نظر اس سوٹ پہ ڈالی ۔۔۔

مہرون شارٹ کرتی کے ساتھ اوف وائٹ بوٹ کٹ ٹراوزر اور مہرون اور آف وائٹ امتزاج کا کرش کا دوپٹہ ۔۔

اس کو دل ہی دل میں وہ سوٹ بہت اچھا لگا مگر ظاہر کیے بغیر بولی ۔۔

مجھے یہ سب پہننے کی عادت نہیں ہے “۔۔۔

“مائی ڈئیر وائف تو عادت ڈال لو”۔۔۔

“مجھے نہیں ڈالنی ایسی کوئی بھی عادت وادت”۔۔

“خیر میں تو تمہارے فائدے کی بات کر رہا تھا “۔۔

حجاب کے ماتھے پے آئے بالوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے ہٹاکر وہ مزید گویا ہوا۔۔

” لویہ پہن کر جلدی سے باہر آو”۔۔۔۔

” میں نہیں پہننا کہہ دیا نا آپ سے ایک دفعہ “۔۔۔۔

حجاب نروٹھےپن سے بولی ۔۔۔

منہ مزید کچھ اور پھول گیا۔ ۔ ۔۔۔

بشر کو ہنسی آئی۔۔

وہ کوئی چھوٹی سی بچی کی طرح منہ پھلا کر خاموشی سے کسی روبوٹ کی طرح اس کی ہر بات کی نہیں نہیں کر رہی تھی ۔۔۔

بشر کو اس کی اتنی خاموشی کچھ زیادہ ہضم نہیں ہورہی تھی ۔۔

ایک دفعہ تو اس نے سوچا ک۔۔۔

” یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی تو نہیں ہے ؟؟؟”

پھر اپنی سوچ پر خود ہی سر جھٹک دیا۔۔

” میں نے نہیں چینج کرنا”۔۔۔۔

” ٹھیک ہے میں تیار ہو چینج کروانے کے لئے”۔۔۔

نہ۔ ۔۔۔۔۔نہ۔ ۔۔۔۔ نہیں میں کر لوں گی۔۔۔

مبادا کہیں وہ واقعی اس کو چینج نہ کروانے پر جائے وہ ڈر گئی۔۔۔۔

” آپ جائیں”۔۔۔

بشر کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا تھا ۔۔۔

“ٹھیک ہے پھر جلدی سے نیچے آو تیار ہو کر تمہارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے”۔۔۔

بشر اس کو مزید ستائے یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔

💕
💕
💕
💕
💕

اریج کمرے میں بیٹھی اپنا اسائمنٹ بنا رہی تھی۔۔۔۔

جب کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ کھلا اور اس کی نئی “نویلی” ماں اپنے آوارہ بھائی کے ساتھ بغیر کوئی دستک دیے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔

“سنو۔۔۔اریج جا نو”

“جاؤ جلدی سے فریش ہو کر آؤ”۔۔

” اور یہ کپڑے چینج کرو فوراً” ۔۔

“جی ماما خیریت ؟؟؟”۔۔

“ہاں ہاں تمہیں یہ لیکر جائے گا شمی اپنے ساتھ مال”۔۔۔

” مگر ماما میں نے اپنا اسائمنڈ بنانا ہے “۔۔۔

“وہ گھبرا کر بولی اسائمنٹ وغیرہ بعد میں بن جائے گا”۔۔۔

” ڈرلنگ میرے ساتھ چلو”۔۔۔

” تیار ہو فوراً “۔۔

ماما کے بجائے اب ان کا چھچور ابھائ بولا ۔۔

اریج نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو واپس دھکیلنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

میک اپ سے لودھڑا چہرہ ۔۔

سلک کی بلیک کرتی سگریٹ پینٹ ک ساتھ پہنے۔۔

دوپٹے کو لینے کی زحمت ہی محسوس نہیں کی گئی تھی۔ ۔ ۔

دلاویز بیگم پچاس سال کی ہوکر خود کو کم عمر حسینہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ ۔۔۔ ۔ ۔

اریج کو ان کی ان مصنوعی لگاوٹی لہجے سے چڑ تھی۔۔۔

مگر باپ کی وجہ سے چپ رہتی تھی۔۔

اس کو اچھی طرح سے یاد تھا جب شروع میں اس نے ایک دفعہ ۔۔۔

دلآویز کے منتیں کر کے کھانے کے لئے بلانے پر( بقول دلاویز کے )وہ نہیں آئی۔۔

تو بابا نے دل آویز کے ساتھ کمرے میں آکر اس کو۔۔۔

اس عورت کے سامنے دھون کے رکھ دیا تھا ۔۔

اور وہ عورت چہرے پر مصنوعی ہمدرد گی تاریی کئے ۔۔۔

بس یہی کہتی رہی کہ ۔۔

“ارے بچی ہے جانےدیں چھوڑدیں” ۔۔۔

پھر وہ دونوں اس کو روتا بلکتا چھوڑ کر کمرے سے نکل گئے ۔۔۔

اریج کو اس دن اپنی اوقات اس گھر میں اچھی طرح پتہ چل گئی تھی۔۔۔۔

وہ دن تھا اور آج کا دن تھا دلآویز کو تو گویا کھلی چھٹی مل گئی تھی۔۔۔

اس نے اپنے ساتھ اپنے آوارہ بھائی کو بھی گھر میں رکھ لیا تھا۔۔۔

اریج کو اس کی غلیظ نظروں سے چڑ تھی ۔۔۔

وہ چھوٹی ضرور تھی مگر اچھی اور بری نظر کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتی تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *