Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 27)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

صبح کے وقتسب لوگ ناشتے سے فارغ ہوکر لاؤنج میں ہیں برجمان تھے چھٹی کا دن تھا ۔۔

بھئی ہماری بیٹیاں پر بتائینگی کہ کے برات کے ڈنرمینیو کیا ہونا چاہیے ؟؟؟

شادی کے موضوع پہ ہی ڈسکشن ہو رہا تھا جب بات پر برات کے کھانے پر آئی تو بابا نے مسکرا کر حجاب اور اسرا کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔

ارے واہ کیا بات ہوئی۔۔۔

انتظاماتسب میں کرو سارے اور آخر میں مین چیز یہ دونوں ڈیسائیڈ کریں ۔۔۔

بشر منہ بنا کر بولا ۔۔

ارے بھئی تم کیوں بے کر رہے ہو ؟؟؟

تم اور تمہاری ما ما مہندی کے فنکشن کو میں نے ڈیسائیڈ کرلو ۔۔۔

بابا نے فوری بشر کو منانے کے لئے حل نکالا اور مسکرا کر اس کو دیکھنے لگے ۔۔

اسراء شرمائی شرمائی سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔

عمامہ اس کو بہت پیار بھری نظروں سے دیکھتی سوچ رہی تھی کہ ۔۔

اللہ نے ان کی سن لی تھی۔ ۔

ان کو قدسیہ کے آگے سرخرو کر دیا تھا۔ ۔

ان کی بھانجی عزت سے اپنے گھر کو ہونے کو تھی اس کو اپنی خوشیاں ملنے والی تھی۔۔

وہ آج خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھیں۔ ۔

ارے دیکھو بس اب میں ڈی کے فنکشن میں پانچ دن رہ گئے ہیں باقی ۔۔

تم لوگ کب شاپنگ شروع کرو گے کب مکمل ہو گی ماما نے تینوں کو کہا ۔۔

اور نہیں تو کیا ۔۔

ویسے میں کیا پہنوں بارات میں اور باقی فنکشنز میں ؟؟؟

حجاب نیں بھی ٹکڑا لگایا وہ بہت خوش اور ایک سائٹ بھی اس راہ کی شادی کو لے کر ۔۔

اسراء کی بارات والے دن اس کی اینیورسری بھی تھی پہلی شادی کی ۔۔

کچھ بھی پہن لو چوڑیل کبھی ہور نہیں بن سکتی ۔۔۔

بشیر نے حجاب کو تنگ کرنے کے لئے چھیڑا ۔۔

میں نے آپ سے نہیں پوچھا آپ تو جلتے ہیں میرے حسن سے ۔۔

حجاب نے ایک ادا سے اپنے کھلے سارے بال سمیٹ کر ایک شانے پر ڈال کے کہا ۔۔

خوش فہمی تو چیک کریں ذرا میڈم کی ۔۔

بشر نے ہاتھ کے اشارے سے حجاب کی طرف اسراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔

حجاب ان دونوں کی لڑائی میں بچاری تھالئ کا بیگن بن کے کبھی ادھر لڑکتی تھی توکبھی ادھر لڑکتی تھی ۔۔

بس اب لڑائی جھگڑا نہیں شروع کر دینا تم لوگ ۔۔۔

اور بس آج ہی سے اپنی شاپنگ اسٹارٹ کرو ۔۔

بابا ما سکول تا دیکھ کر جلدی سے بولے اور حجاب جو دل چاہے خرید لینا تمہاری نیند کی شادی ہے ۔۔

حجاب کا چہرہ بابا کی اس بات سن کے کھل اٹھا تھا۔۔۔

او میرے پیارے بابا آپ دنیا کے سب سے پیارے بابا ہے

وہ اٹھی اور اٹھ کے بابا کے گلے لگ کے بولی تھی بڑے لاڈ سے ۔۔

اور اسراء تمہارے لئے بھی میں نے چیک بنا دیا ہے ہر چیز بہتر سے بہترین لینا ۔۔

میں اپنی پیاری بیٹی کی شادی میں کسی بھی چیز میں کمپرومائز نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔

وہ اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کے گویا ہوئے تھے ۔۔

حجاب اور اسرا دونوں کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے تھے

💕
💕
💕
💕

ادھر ہمدان کے گھر میں تیاریاں بھی زور و شور سے شروع ہوچکی تھیں ہر طرف خوشیوں کا راج تھا ۔۔

بیٹا تم اسراء کو لے جاؤ اور جا کے برات اور ولیمے کا ڈریس لے اور جو بھی شاپنگ تم دونوں نے کرنی ہے وہ کر لو ۔۔

میرا بہت ارمان تھا کہ میں خود جاکر تمہاری بڑی تیار کرتی مگر میرے پیر وں نے میرا ساتھ نہ دیا ۔۔

وہ اداسی سے بولی ان کا ایک ہی تو بیٹا تھا وہ ہر طریقے سے شادی کی تیاریاں کرنا چاہتی تھیں ۔۔

ارے میری اماں آپ کی اداس ہوتی ہے میں ہوں نہ۔۔

اسی طرح آپ کی بہو کے دیدار بھی ہو جائیں گے ۔۔

وہ ان کو اداس دیکھ کر بات کو مذاق رنگ دے گیا تھا ۔۔

جیتا رہے آباد رہے میرا پتر سدا خوش رہے تو ۔۔

زندگی کی ہر خوشی نصیب ہو ۔۔

وہ اس کو دعائیں دیتیں واپس اسراءکے دوپٹے میں کرن لگانے میں مصروف ہو گئی تھی ۔۔

وہ بشر کو فون ملا نے لگاتا کہ اسراء کو لے کر شاپنگ پر آج ہی چلا جائے ۔۔

بشر کے فون اٹھانے پر اس نے سلام دعا کے بعد بےتابی سے کہا کہ ۔۔

یارا سرا کا فون بند جارہا ہے ۔۔

تو پھر ۔؟؟

بشر لہجے میں رکھائی سمو کر بولا ۔۔

تو پھر کیا مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔

حمدان نیں بھی کڑک آواز میں کہا ۔۔

جو بھی بات کرنی ہے مجھے کہہ دو میں بتادوں گا اس کو ۔۔

تم سے ضائع ہو جائے گا دیکھ بات کرا میری بیوی سے ۔۔

ہمدان نے بشر کو دھمکایا ۔۔

او اچھا واقعی میں ۔۔۔

بشر نے گویا ناک پہ مکھی لڑائی ۔۔

صبر کر رک ایک منٹ ۔۔

وہ سامنے سے گزرتی آسرا کو بلاتے ہوئے بولا ۔۔

کس کا فون ہے ؟؟

اسراء نے فون تھامتے ہوئے پوچھا تھا بشر سے ۔۔

تمہارے سرتاج کا ۔۔

وہ آسرا کو فون دینے سے پہلے اسپیکر اون کرنا نہیں بھولا تھا ۔۔

اسراء اسکی شرارت پر گھور کے رہ گئی بشر کو۔۔۔

جی ۔۔

اس نے موبائل کان سے لگا کر کہا ۔۔

اس کو بشر کے سامنے بات کرنے سے ویسے ہی جھجک محسوس ہو رہی تھی۔۔

اس پر تضاد وہ سامنے ہی بظاہر آنکھیں اورکان بند کرکے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔

کہاں غائب ہو تم لگتا ہے اپائنمنٹ لینا ہو گئی تم سے ۔۔۔

وہ جتاتے ہوئے بولا ۔۔

کوئی کام تھا ؟؟؟

یہ پوچھو کیا کیا کام نہیں ہے تم کہو تو ابھی بتا دو سارے ۔۔۔؟؟؟

نہیں نہیں ابھی نہیں ۔۔

وہ اس کو پٹری سے اتر تا دیکھ کر جلدی سے بولی ۔۔۔

اچھا وہ کل چلیں گے بارات کا ڈریس لینے ۔۔۔

جی وہ آپ لے لیں اپنی پسند سے جو بھی لینا چاہیں۔ ۔۔

بشر نے اسپیکرکھولا ہوا ہے ۔۔

وہ جلدی سے بولی تھی اور فون زبردستی بشر کے ہاتھ میں رکھ کر یہ جا وہ جا ۔۔

بشر کے بچے نہ تجھے حجاب سے پٹوایا تو میرا نام بھی ہمدان نہیں ۔۔۔

وہ سلگ ہی تو گیا تھا ۔۔

ھاھاھا ۔۔

جو کرنا ہے کر لے میں نے بھی ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ۔۔۔

بشر کو اس کو تپآنے میں بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔

اور ویسے بھی ابھی تو لڑکی بھائی کے گھر ہے ۔۔۔

بشر نے مزید لقمہ لگایا ۔۔۔

💕
💕
💕

حجاب اور آسرا شاپنگ کرکے پارکنگ سے ذرا فاصلے پر ڈرائیور کا انتظارکر رہی تھی۔۔

یار حجاب مجھے وہ ڈریس بہت اچھا لگا تھا مگر تم نے اتنی جلد بازی کی کہ میں لے ہی نہیں پائی ۔۔

اسراء کو ایک کام دار سوٹ بہت اچھا لگا تھا مگر حجاب کے بھوک بھو ککا شور مچانے کی وجہ سے وہ خرید نہ پائی تھی ۔۔

ابھی ابھی وہ حجاب کو برگر سے انصاف کرتے دیکھ کر بولی ۔

ارے تو کیا ہوا؟؟

ابھی تو ہم یہی ہیں جو لے لو جاکر ۔۔۔

چلو پھر چلتے ہیں ۔۔

اسرانے جھٹ کہا ۔۔

ہیںننن؟ ؟؟

میں نہیں جا رہی۔۔

تو پھر میں کس کے ساتھ جاونگی ؟؟؟

وہ دیکھو ڈرائیور چاچا گاڑی لے کر آگئے ہیں ۔۔

وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔

کیسے جاؤں کیا ؟؟

میں گاڑی میں ہوں تم ڈرائیور چاچا کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔

مگر تم ادھر اکیلے ۔۔۔؟؟

ارے یار تم جاؤ میں جب تک یہ برگر سکون سے کھا لوں پیٹ میں شدید چوہے دنگل مچا رہے ہیں ۔۔۔

چلو ٹھیک ہے ۔۔

اندرسے گاڑی لاک کرلو ۔۔

اسراء نے کہا اور ڈرائیور کے ساتھ مال میں چلی گئی ۔۔

ان دونوں کو گئے ہوئے دس منٹ بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ کسی نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر لو کھولا تھا ۔۔

حجاب نے خوفزدہ ہو کر چیخنا چاہا ہی تھا کہ 1 دیوہیکل سے آدمی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا اور دوسرے اسی کے جیسے لمبے تڑنگے آدمی نے اس کے بازو میں تیزی سے انجیکشن لگایا تھا ۔۔۔

وہ کراہ کر رہ گئی تھی ۔۔

خوف سے اس کی آنکھیں پھٹی پڑ رہی تھی ۔۔

اور پھر ان دونوں آدمیوں نے حجاب کو ساتھ موجود گاڑی میں جلدی سے منتقل کیا ۔۔۔

اور کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی اپنی منزل کو روانہ ہو چکی تھی ۔۔

حجاب کے ہاتھوں سے بشر کے لئے چھوٹا سا اینیورسری کے لئے پیک کرایا ہوا گفٹ اور چھوٹا سا ہی کارڈ اس گفٹ پر لگاہوا تھا ۔۔

اس تمام کارروائی میں وہجاب کے ہاتھ سے اسی کی گاڑی میں کہیں لڑھک کر گر چکا تھا ۔۔

_________

اسراء جیسے ہی سوٹ خرید کر واپس آئی تھی ۔۔

سامنے گاڑی کا شیشہ ٹوٹا دیکھ کر تیزی سے ڈرائیور اور وہ بھاگتے ہوئے گاڑی کی طرف آئے تھے۔۔۔

اندر حجاب کو نہ پاکر اسرا شدید پریشانی کے عالم میں بشر کو فون ملا نے لگی ۔۔

ہاتھ میں اس کے وہ خط بھی تھا جو وہ دو غنڈے سیٹ پر رکھ کے چلے گئے تھے پچھلی ۔۔۔

السلام علیکم ۔۔

ہوگی شاپنگ تم لوگوں کی ۔۔؟؟

بشر نے فون اٹھاتے ہی آسرا کا نمبر دیکھ کر خوشگوار موڈ میں دریافت کیا ۔۔

بشر وہ ۔۔۔

اسراء اتنا ہی کہہ پائی کی باقی کے الفاظ اس کے حلق میں ہی رہ گئے تھے وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔

کیا ہواتم کیوں رو رہی ہو سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟

ھجاب سےمیری بات کروائو کیا ہوا ہے؟؟؟

جو اس طرح سے تم رورہی رہی ہو ؟؟؟

حجاب۔۔۔۔ بشر۔۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں یہ دو نام کہہ پائی تھی ۔۔

کیا ہوا حجاب کو ٹھیک تو ہے نہ وہ ؟؟؟

وہ بیٹھے سے اٹھ گیا تھا ۔۔

اور چیخ کے اس سے دریافت کر رہا تھا ۔۔

وہ آسرا کے اس طرح سے رونے سے گھبرا گیا تھا ۔۔

حجاب نہیں ہیں گاڑی میں ۔۔

وہ مرد بڑی ہمت مجتمع کرکے یہ کہہ پائی۔۔۔

تھی ۔۔۔

کیا ہوا ہے حجاب کو؟؟!

کہا ہے حجاب۔۔۔۔؟؟؟

لاؤ ڈرائیور کو فون دو۔۔۔

وہ چیخا تھا ۔۔۔

اسر آنے سامنے کھڑے سہمے ہوئے ڈرائیور چچا کو فون تھمایا تھا ۔۔

وہ بھی حجاب کو نہ پا کر شدید پریشانی کے عالم میں گھرے ہوئے تھے ۔

ان کے بھی چہرے کی ہوائیاں اڑھی ہوئی تھی ۔۔

کیا ہوا ہے چاچا؟؟؟

اسراء اس طرح کیوں رو رہی ہے ؟؟؟

جاب کہاں ہے؟ ؟؟

وہ سختی سے دھاڑا تھا ۔۔

جی بشر بابا میں اسرا بی بی کے ساتھ مال میں گیا تھا حجاب بی بی ضد کر کے یہی گاڑی میں ہی رک گئی تھیں۔ ۔

اور جب ہم واپس آئے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اندر سے ایک خط ملا ہے ۔۔

ڈرائیور نے پوری تفصیل بشر کو کہہ سنائی تھی ۔۔

💕
💕
💕
💕

وہ خالی خالی ذہن کے ساتھ پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی اس کو چند منٹوں پہلے ہی خوش آیا تھا ۔۔

کمرے کی حالت بہت بری تھی پورے کمرے میں ایک عجیب طرح کی اسمیل تھی ۔۔

حجاب کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس کا سر بری طرح سے اس انجیکشن کی وجہ سے چکرا رہا تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں اس کو خود کے ساتھ ہوئی واردات مکمل طور پر یاد آ چکی تھی ۔۔

کیوں لائے ہو مجھے یہاں ؟؟؟

وہ پوری طرح سے روتے ہوئے چیخ رہی تھی۔۔

فریاد کر رہی تھی ۔

مگر وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا اس کی فریاد و کو ۔

نکالو مجھے یہاں سے ۔۔

بشر کہاں ہوں دیکھو تمہاری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔

وہ بالکل تنہا ہے ۔۔

اس کے دھاڑنے اور چیخنے چلانے سے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا اور ایک فربہی سیاہ رنگت کی عورت اندر داخل ہوئی تھی ۔۔

حجاب اس کو دیکھ کر اور زور سے چیخنے لگی تھی ۔۔

کون ہو تم کیوں لائی ہوں مجھے یہاں ؟؟؟

کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا بولو ؟؟؟

وہ اپنے آپے میں نہیں رہی تھی ۔۔

کون ہوں میں ؟؟؟

ہاہاہا ۔۔۔۔

میں تیرے نہ ہونے والی شوہر کی رکھیل ہوں ۔۔۔

وہ سفاکی سے بے ہنگم کہ کا لگا کر بولی تھی ۔۔

اور ساتھ ہی حجاب کے بالوں کو پکڑ کر اس کا سر دیوار میں زور سے دے مارا تھا ۔۔

حجاب کو شدید تکلیف کا احساس ہواتھا ۔۔

ماتھے سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا ۔۔

مجھ پر رحم کرو ۔

مجھ پر رحم کرو ۔۔۔

میں تم سے رحم کی بھیک مانگتی ہوں ۔۔

حجاب گرگڑا رہی تھی مگر اس عورت کے دل میں شاید رحم تو کیا ہمدردی بھی مر چکی تھی ۔۔

وہ عورت اب حجاب کو چھوڑ کر واپس جا رہی تھی جب حجاب نے ہمت کرکے واپس آ سورج کی طرف خود کو گھسیٹا تھا ۔۔

میرا کیا قصور ہے ؟؟؟

تم بھی تو ایک عورت ہوں؟؟؟

پھر تم کیسے اس طرح ایک عورت کے ساتھ اتنی بہ رحم ہو سکتی ہو ۔۔؟؟؟

حجاب اس کے پاؤں کے تھوڑا قریب زمین پر بیٹھی تھی۔ ۔

تیرا کیا قصور ہے واہ کیا بات کی ہے تونے جیسے تو تو نہیں دودھ پیتی بچی ہے ۔۔۔؟؟

آئے گا تیرا منگیتر اسی سے پوچھ لیو۔ ۔۔

ویسے مانگئی زوار کو بڑی اونچی جگہ ہاتھ مارا ہے اس دفعہ تو ۔۔

زوار کا نام سن کر ہی جواب پورہ ماجرا سمجھ گئی تھی ۔۔

تو گویا اس کو اریج سمجھ کے اغوا کر لیا گیا ہے ۔۔

مگر اب کیا کہتی اب تو وہ پوری طرح پھنس چکی تھی ۔۔

آریج کا بتا کر وہ عروج کو بھی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی ۔۔

دیکھو تم جو کہو گی جو مانگو گی میرے گھر والے تمھیں دے دیں گے بس تم مجھے چھوڑ دو میرے شوہر اور میرے ماں باپ میرے نئے بہت پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔۔

وہ گڑ گڑائی تھی ۔۔

اے لڑکی جب لڑکی اغوا ہو جاتی ہے نہ کوئی تو۔۔۔

کچھ دن گھر والے ماتم کرتے ہیں اس کا ۔۔

گھر سے اغواہ ہوئی لڑکیوں کو واپس کوئی بھی اپنے گھر کی زینت نہیں بناتا ۔۔

وہ کہتے ہوئے ٹھٹہ لگا کر ہنسی تھی ۔۔۔

کیسی سفاک عورت تھی ۔۔

کتنے آرام سے ہو یہ بات کہہ کہہ گئی تھی ۔۔

حجاب بے جان سی ہوکر اس کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہی تھی جب اس عورت نے زور سے اس کے منہ پر اپنی لات رسید کی تھی ۔۔۔

حجاب کا سر پہلے ہی چوٹ لگنے کی وجہ سے درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔

اب اس پر تضاد اس عورت کا منہ پر مارنا اس کے ہونٹ پہ سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔

حجاب بے ہوش ہونے کو تھی۔۔

وہ بے جان سی ہو کر وہیں سر فرش پر ڈھے گئی تھی ۔۔

تھوڑی دیر بعد وہی عورت دوبارہ واپس آئی تھی۔۔

مگر اب وہ اکیلی نہ تھی اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی آدمی اندر داخل ہوا تھا۔۔

خوفناک سا لمبا تڑنگا وہ شخص حجاب کو کسی بھیڑئے کی طرح دیکھ رہا تھا انتہائی گندی نظروں سے ۔۔

اس آدمی کے چہرے پر درندگی ٹپک رہی تھی ۔۔

حجاب اپنی بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس شخص کو دھندلا سا دیکھ پائی تھی اس کا زہن ان دونوں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

وہ عورت کہہ رہی تھی اس آدمی سے کہ ۔۔

دیکھ میری بات غور سے سن اس لڑکی کو کل صبح۔۔

باہر بیٹھی لڑکیوں کے ساتھ روانہ کرنا ہے ۔۔

زوار کا حکم ہے کہ اس کا وہ حال کرو کہ۔۔۔

اس کے ساتھ ساتھ باہر بیٹھی تمام لڑکیوں کی روح تک کانپ جائے اور وہ بغاوت کرنے کا انجام اچھی طرح سے دیکھ اور سمجھ لیں ۔۔۔۔

بے فکر ہو جا چندا بائی میں ر وح تو کیا اس کا پورا جسم تک نچوڑ لوں گا ۔۔

وہ اپنی ناپاک نظریں حجاب کے مقدس وجود پہ گاڑتے ہوئے بولا ۔۔

اے بات سن پہلے میری پوری ۔۔

وہ اس کی طرف ایک ترے بڑھاتے ہوئے بولی جس کے اندر چھوری ،چابک ،سگریٹ ،ماچس اور اس طرح کی کئی چیزیں تھیں جس سے تشدد کیا جاسکے ۔۔

اس کے ساتھ اپنی ہوس نہیں مٹانے کو کہاں ہے تجھ سے ۔۔

یہ لڑکی بالکل کھنچا جائے گی سے کے پاس ۔۔

زوار کا حکم ہے اس نے سیٹ سے اس کے بڑے پیسے اٹھائے ہیں ۔۔

دھت تیری۔ ۔۔

وہ اپنے غلیظ ارادوں پے پانی پھرتا دیکھ اس سے سے ٹری میں رکھا چابک اٹھا کر حجاب کی کمر پر مار کر بولا تھا ۔۔

حجاب کے بے جان ہوتے دھان پان سے وجود پر جب وہ چابک پڑا تھا اس کو لگا جیسے اس کی روح قبض ہو چکی ہے۔۔۔

___________

وہ آدمی حجاب کی طرف بڑھتا گیا ۔۔

اور جگہ جگہ اس کے جسم پر پہلے چھری سے بری طرح کٹ مارتا گیا ۔۔

اس کے بعد چابوک سے اس کو پوری طرح دھون ڈالا تھا ۔۔۔

حجاب کی اتنی بھی ہمت باقی نہ رہی تھی کہ وہ زبان سے ایک خوش بھی نکال پاتی وہ بس بے جان سی فرش کے پڑھی خون سے لت پت کر اہ رہی تھی ۔۔

وہ آدمی واپس ٹرے کی طرف موڑا اور سگریٹ کو لائیٹر سے جلا کر جگہ جگہ حجاب کے پورے جسم پر نقش ونگار بناتا چلا گیا ۔۔

ہر اس چیز سے اس کے جسم پے ضرب لگائے گئے تھے جن سے وہ تڑپے اور چیخے۔ ۔

حجاب کی چیخیں باہر بیٹھی لڑکیاں سنکر سہم رہی تھی ۔۔

ہر لڑکی کے لفظ بے بس ایک ہی دعا تھی کہ یا اللہ ہمیں عزت کی موت دے دے۔ ۔

ادھرجاب شاید تڑپ تڑپ کے مردہ ہوچکی تھی ۔۔

اس کی چیخ نے جلنا نے اور رونے کی آوازیں اب بند ہو گئی تھی ۔۔

ہاں بھائی دیکھ لیا تم لوگوں نے انجام ؟؟؟

وہ حجاب کو رسی سے باندھ کر بہار کھینچتہہ ہوا لایا تھا ۔۔

بار بیٹھی تمام لڑکیاں چینخھیں مار مار کر حجاب کاحال دیکھ کر خوف سے رو رہی تھی ۔۔

اس کو ہوش آئے گا اس کی دوبارہ اس سے بدتر حالت کریں گے ۔۔

وہ تمام لڑکیوں کو جتاتے ہوئے بولا تھا ۔۔

دیکھ لو یہ ہوتا ہے ضد کا انجام ۔۔۔

وہ عورت بولی تھی۔ ۔۔

💕
💕
💕
💕

وہ سب لوگ پریشان حال ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اریج سمیر اور ہمدان بھی انن فانن آچکے تھے

۔۔

ماما کا رو رو کر برا حال تھا۔۔

آریج اور آسرا کا حال بھی ماں سے مختلف نہ تھا ۔۔

مجھے پتہ ہے یہ سب زوار کا کیا دھرا ہے ۔۔

اریج روتے ہوئے بولی ۔۔

اس نے میری جگہ حجاب کو افواہ کیا ہے ۔۔۔

۔

یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔

اریج خود کو الزام ٹھہراتے ہوئے ہچکیوں سے زاروقطار رو رہی تھی اس کی پیاری دوست آج اس کی وجہ سے اتنی بڑی مشکل میں پھنس چکی تھی ۔۔۔

بشر گھر میں نہیں تھا وہ اپنے دوست آئی جی کے ساتھ حجاب کو مارا مارا ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔

حمدان اپنے ذرائع سے حجاب کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔

اس طرح سے کچھ نہیں ہو گا عرہج تم آنٹی انکل کو لے کر آؤ گاڑی میں ۔۔

ہمدان بشر اور اپنے آفیسر دوست کو بلاؤ ۔۔

مگر کہاں ؟؟

ہمدان نے سمیرکو دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔۔

آریج کے باپ کے گھر ۔۔

ہم سب کو ہی جا رہے ہیں ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *