Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tu Itni Masoom Hai (Episode 17,18)

Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan

وہ وارننگ دینے والے انداز میں بولا ۔۔

گویا اب میں کھانا بھی ان کی مرضی سے کھاؤں؟ ؟؟

وہ سوچ کر رہے گئی مگر زبان پر نہ لا سکی۔۔

اس سے پہلے حمدان اسے دوبارہ ٹوکتا اس نے آہستہ آہستہ کھا ناشروع کیا ۔۔

اس نے محبت پاش نظروں سے اپنی خود سے کافی ڈری سہمی بیوی کو زبردستی کھانا زہر مار کرتےدیکھا وہ ہونٹوں پہ آئی مسکراہٹ چھپا گیا ۔۔۔

وہ کھانا کھا چکا تھا اور اب اسراءکو دیکھ رہا تھا ۔۔

پلیز ایسے نہ دیکھیں۔۔۔

وہ زبردستی حلق سے نوالہ اتارتے ہوئے حمدان کو اپنے وجودپہ نظریں جمائے بیٹھے دیکھ کر بے ساختہ بول پڑی۔۔۔

ابھی تو فی الحال بس دیکھ ہی رہا ہوں بے فکر ر ہو عمل آج نہیں کروں گا ۔۔۔

وہ ذومعنی لہجے میں بولا ۔۔۔

اسراء اسکی بات کی گہرائی سمجھ کر سرخ پڑ گئی حیا کے تمام رنگ اس کے چہرے پہ بکھرے پڑےچند ہی لمحوں میں ۔۔

یہ بلش بعد میں کرنا ۔۔

پہلے یہ آخری نوالہ ختم کرو اس کے بعد 10 منٹ کے وقفے سے تمہیں دوائیں بھی کھانی ہے ۔۔۔

اس نے حمدان کے آرڈر پر آخری نوالہ بھی جلدی سے حلق میں اتارا ۔۔

اسرا کوئی بات اپنے دماغ پر حاوی نہیں کرنا میں بیٹھا ہوں یہاں ہر چیز ہینڈل کرنے کے لئے ۔۔۔

وہ اس کو ریلیکس کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔۔

وہ محض اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی نہ جانے کیوں اس کا دل حمدان کی ہر ایک بات پر ایمان لانے کو چاہ رہا تھا ۔۔

وہ خیالوں میں گم تھی جب حمدان نےاس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی ۔۔۔

جج۔۔۔۔ جی ۔۔۔

وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔

حمدان ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیے اور دوائی تھامے کھڑا تھا ۔۔

کتنا الگ انداز تھا اس کا کئیر کرنے کا۔۔

وہ سوچ کر رہ گئی ۔۔

میڈم میرا معائنہ اور اپنا مراقبہ بعد میں جاری کرلیجئے گا پہلے یہ دوا کھا لیں۔۔۔

حمدان نے دودھ کا گلاس اور دوا اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

میں یہ دوائیں کھا لوں گی مگر دودھ مجھ سے نہیں پیا جائے گا ۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے ڈرتے ڈرتے حمدان کو دیکھا ۔

مگر اس کی سخت نظریں دیکھ کر فوری دودھ اور دوائی تھام لی اور حلق میں اتار گئی ۔

جاؤ اب جاکر سو جاؤ ۔۔۔

اسرا کی تو مانو جان میں جان آئ وہ اسکی طرف سے رہائ کا پروانا پاکے فوری اٹھی ۔۔

کہ اگر وہ ایک لمحہ بھی ضائع کردیںتی تو حمدان اس کو جانے نہ دیتا ۔۔

وہ سر پٹ تیزی سے جا کر لیٹ گئی ۔۔

حمدان نے آگے بڑھ کر لیمپ آن کیا اور لائٹ آف کر دی کمرے کی ۔۔

اس کے اوپر بلینکیٹ ڈال کر اپنی سگریٹ کا ڈبہ اٹھا کے باہر لان میں آگیا ۔۔

💕

باہر لان میں آکر بس وہ مسلسل بس سوچے ہی جارہا تھا۔ ۔

وہ ان مردوں میں سے تھا جو سب پریشانیاں خود جھیلنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ۔۔

اپنے بیوی پچوں کو ہر پریشانی سے کسی سایہ دار درخت کی طرح محبت بھری چھاوں میں ڈھانپے کی کوشش میں ہر لمحہ ہلکان رہتے ہیں۔ ۔۔

کیا کیا ہے دادی آپنے یہ؟ ؟؟

اآپ کیسے ایک عورت ہوکر دوسری عورت میں پر اتنا بڑا ظلم کر گئیں۔۔

اسرا کا پورا اعتماد آپنے کرچی کرچی کر بکھیرکے رکھ دیا تھا۔۔۔

مجھ پر سے اس کا اعتماد بالکل نہ ہونے کے برابر ہے

چھوٹی سی لڑکی مجھ سے خفاء خفاء سی رہتی ہے۔۔

مجھے دیکھ کر تھرتھر کانپنے لگتی ہے ۔۔

مجھے شدید افسوس ہوتا ہے مگر میں شروع سے ہی ایسا ہو ۔۔

اپنےمیں سمٹ کے رہنے والا سنجیدہ ۔

میری پرسنالٹی کا حصہ ہے میرا یہ مزاج ۔۔۔

پوری حویلی کا اکلوتا وارث بیجہ محبت لاڈ پیار نے اس کی شخصیت میں غرور اور ایک روب دار قسم کی پرسنیلیٹی کو جنم دیا تھا۔۔

اور یہی روب اور ہر وقت سختی۔۔

چہرے پر تاری دب دبا اور سنجیدگی ۔۔۔

ہی اسراء کو حمدان سے خائف رکتی تھی ۔۔

صبح فجر تک وہ سوچتا رہا سگریٹ کے بے تحاشہ ٹوٹے ایش ٹرے میں بکھرے پڑے تھے ۔۔

اور وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

ایک اٹل اور ہتمی فیصلہ۔ ۔

💕

اریج اندھا دھن بھاگ رہی تھی۔۔نن

اور زوار پاگلوں کی طرح اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے درندوں کی طرح بھاگ رہا تھا ۔۔

اریج کے پیروں سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا۔۔

بھاگ بھاگ کر وہ آدھ موئ ہو رہی تھی پھر بھی اپنی عزت اور عصمت کو بچانے کے لیے وہ بری طرح تکلیف کے باوجود بھی زوار سے بچنے کی پوری پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔

اس کی ہمت بالکل جواب دے چکی تھی جب سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھ کر وہ خود کو اپنے رب کے عمان میں دیتی بے ہوش ہو چکی تھی

گاڑی ایک جھٹکے سے روکی۔۔۔۔۔

اور وہ نہیں جانتی تھی کہ۔ ۔۔۔

💕

سمیر کو آرزو کو اپنے پاس لائے ہوئے دو ہفتے سے زیادہ کا ٹائم گزر چکا تھا۔۔

وہ ھلکان سا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی بچی کو سمبھالنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔۔

اس دوران فراح نے دو دافع فون کیے جس میں صرف اور صرف ڈائیورس کے لئے ہی مطالبہ کیا

گیا تھا ۔۔

وہ تو یہاں تک کہہ گئی تھی کہ میں خوشی خوشی پیپر بنوا کر دے رہی ہوں کے بچی کی کسٹڈی میں نے تمہارے حوالے کی ۔۔۔

مو شاطر دماغ تھی ۔۔

جانتی تھی بچی کی وجہ سے وہ اس کو کبھی آزاد نہیں کرے گا۔۔

اس لئے ننھی سی بچی کو بھی اپنی مکروہ خواہشات کے آگے قربان کرنے کے درپے ہو گئی تھی ۔۔

_______

اگلے دن کی صبح بہت ہی روشن اور چمکیلی تھی ۔۔

بشر اٹھ چکا تھا جبکہ حجاب ابھی تک سوئی ہوئی تھی ۔۔

بشر اسکے ایک ایک نقوش کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہا تھا ۔۔

کیسی معصومیت تھی اس کے چہرے پہ کیسا اطمینان تھا۔۔۔

جو اس کے چہرے پہ آج اپنی انوکھی چھت کھا رہا تھا ۔۔

وہ دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے پر ائ لٹ کو ہٹاتے ہوئے بہت آہستہ سے ۔۔

اس کی گردن کے قریب جاکر بولا۔ ۔

“نئی زندگی کی نئی صبح بہت بہت مبارک ہو “۔۔۔

اس کی بات سن کر دوبارہ آنکھیں موندگی ۔۔

بس بن بتوڑی میر انداز کیسا لگا ڈرانے کا ؟؟

حجاب تھوڑا کسمسائی اور پھر دوبارہ سوتی بن گئی ۔۔

اگر تم نہیں اٹھی تو میں رات سے بھی برے طریقے سے ڈراؤں گا پھر مت کہنا کہ میں بہت ظالم ہو ۔۔

بشر اس کی گردن پہ اپنے لب رکھتے ہوئے غرا بولا ۔۔

حجاب خود پرتپش اور دباؤ محسوس کرکے لمحہ بھر میں ہی فوراً اٹھ چکی تھی ۔

کچھ دیر لگی تھی اس کو سمجھنے میں جب تک بشر مزید شرارتوں پر اتر چکا تھا ۔۔

بشر پلیز آپ بہت خراب ہے ۔۔

اس کو دوبارہ پٹری سے اترتا دیکھ کر ایک دم بوکھلا کر بولی ۔۔

رات کے تمام مناظر اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح گھومنے گئے تھے ۔

حیاء ایسی تھی کہ وہ بشر کے سامنے نظر تک نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔۔

آج اس کو صحیح معنوں میں اپنے اور بشر کی درمیان تعلق کا اندازہ ہوا تھا ۔۔۔

اور یہ ادراک اس کے لئے بہت ہی حسین اور خوبصورت تھا

بشر مجھے جانا ہے پلیز چھوڑ دیجئے ۔۔

وہ منمنائی ۔۔۔

بشر کی محبت میں اسکا پور پور بھیگا ہوا تھا ۔۔

بشر نے اسکو کسی نازک سی کلی کی طرح سے سینچ سینچ کے اپنی محبت کی پھوار برسآئی تھی ۔۔

جیسے اگر زیادہ زور سے وہ اس کو چھوتا تو کہیں وہ ٹوٹ ہی جاتی ۔۔

وہ پھر بولی بشر میری بات تو سنیں ۔۔

جی جا نے بشر ۔۔۔

ہم تو آپ ہی کو سننے کے لئے بیٹھے ہیں ۔۔

سننے کے لئے ۔۔دیکھنے کے لئے۔۔۔ بس ہم تو ہیں آپ ہی آپ کے۔ ۔۔۔

وہ اس کی زلفوں سے کھیلتے ہوئے گویا ہوا ۔۔

اور اپنا ایک بازو اپنی کنپٹی پر ٹکا چکا تھا ۔۔

اور اب محبت پااش نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔

حجاب اس کی نظروں سے خایف سی ہو گئی۔۔

ذبان پہ آئے الفاظ ہونٹوں میں ہی دم توڑ گئے تھے ۔۔

کیا ہوا آج بولتی کیوں بند ہے تمہاری ورنہ تو میرے سامنے بول بول کر تو تمہاری زبان ہی نہیں تھکتی سب خیریت تو ہے نا ۔؟؟

اور بتاؤ رات کیسی گزری؟؟؟

ویسے میں نے تمہیں زیادہ تنگ تو نہیں کیا نہ۔؟؟؟نیند تو اچھی آئی تھی نہ؟؟؟

اس کو اس کی گھبراہٹ اور شرماہٹ مزید شرارتوں پر اکسا رہی تھی ۔۔

“آپ بہت ہی خراب ہیں” ۔۔

اوہ اچھا تو بتادو نیکسٹ بدلہ کب لو گی ۔۔

تا کہ میں بھی تیار رہو جوابی کارروائی کرنے کے لئے ۔۔۔

کبھی بھی نہیں۔۔

زندگی میں کبھی بھی نہیں۔۔

یہ کہہ کر وہ اس کے کندھے پہ مقہ ر سید کرکے اٹھی اور واش روم کی طرف بھاگی ۔

۔

کیا ہوا ڈرگئیں کیا ابھی سے ۔۔۔؟؟؟

یار بہت ستایا ہے بہت تڑپایا ہے اب میرا ٹائم ہے۔۔۔۔

وہ شوخی سے بولا۔ ۔

تھوڑا تومیں بھی حق رکھتا ہوں تم کو تڑپانے کا۔۔۔۔

وہ اور اسکو رپانے کو بولا۔ ۔۔

پورے 11 مہینے شاید میں ہی دنیا کا واحد مرد ہونگا جو اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے بھی بیچلر کی طرح رہا ہو ۔۔۔

یہ سوچ کر وہ خود ہی اپنی سوچ پہ ہنس پڑا ۔۔

ارے لڑکی فریش نہیں ہونا صرف شاور بھی لے لینا ۔۔

وہ زور سے کھلکلاتے ہوئےچیخ کر بولا ۔۔

حجاب جو واش روم کا دروازہ بند کر رہی تھی لاک لگا کر بولی ۔۔

توبہ بہت ہی بے حودا انسان ہے یہ تو ۔۔۔

۔💕

زوار بھاگتا ہوا بے ہوش ہوئی اریج کی طرف پہنچنے ہی والا تھا ۔۔

جب گاڑی سے اترا شخص اس کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال چکا تھا اور گاڑی واپس اپنی منزل پر رواں دواں تھی ۔۔

زوارنے چلتی گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا ۔۔

یہ نمبر ہی مجھے اب تمہارے پاس پہنچائے گا ۔۔

اتنی آسانی سے تو تم میرے ہاتھ سے نہیں نکل سکتیں۔ ۔

وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا ۔۔

کہاں ہے آخر وہ سونے کی چڑیا زوار ۔۔۔؟؟؟؟

دلاویز بیگم زوار کے سر پر کھڑی طیش کے عالم میں پوچھ رہی تھی ۔۔

اور تم نے اس کو بھاگنے ہی کیوں دیا ۔۔

چھٹانک بھر کی لڑکی کو قابو نہیں کرسکتے تھے تم ۔۔

ویسے تو بڑے دعوے کرتے ہو کہ ٹیڑھی سےٹیڑھی لڑکی کو پھانس چکے ھو ۔۔۔

اب کہاں گیا تمہارا وہ تجربہ جواب چاہیے مجھے ۔۔؟؟؟

مجھے کیا پتا تھا وہ میری اور کاشی کی تمام باتیں سن لے گی ۔۔

میں تو یہی سمجھا تھا کہ وہ بھی شام تک ہی آئے گی ۔۔

تمہارا شاید دماغ خراب ہو گیا تھا وہ نہیں تھی تو گھر میں اس کے وفادار ملازم بھی تو موجود تھے وہی اگر کوئی سن لیتا تو ۔۔۔

مگر تم تو نشے اور شراب کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنے خواص ہی سے پیدل ہو چکے ہو۔۔

دلاویز کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زوار کے ساتھ کیا کر بیٹھے ۔۔

تم جانتے ہو اپ سیٹھ کیا کرے گا ہم دونوں کا ؟؟؟۔۔

مال جانے میں صرف 25 دن باقی ہیں۔۔

بے فکر رہو دل اویس میں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا ہے ۔۔

اس سے کیا تم اس لڑکی تک پہنچ سکو گے تمہیں کیا لگتا ہے ۔

دلاویز پھنکاری۔ ۔

میں اس تک پہنچ کر ہی رہوں گا ۔تتلیوں کے پر کاٹنا مجھے اچھی طرح آتے ہے میں اس فیلڈ کا پرانا پاپی ہو ں۔۔۔

وہ بھی اسی کے لہجے میں تنک کر بولا ۔۔

شادی کے دوسرے دن ہم اس کو اس ملک سے بہت دور اسمگل کردیتے اور اسکے حصے کی دولت میں میں اس کے باپ سے اینٹھ لیتی کسی نہ کسی بہانے سے ۔۔

مگر تم نے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا ۔۔

خاک میں ملا دیا میرا سارا پلان تم نے ۔۔

وہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی ۔۔

جائیداد بھی اپنی ہوتی اور لڑکی سے بھی فائدہ ہی فائدہ ملتا ۔۔

وہ اس صدمے سے نکل ہی نہیں پا رہی تھی کہ سونے کی چڑیا اتنی آسانی سے ہوچکی ہے ۔۔

تم فکر نہ کرو میں بس ایک دفعہ معلوم کرلوں کہ وہ گاڑی کس کی ہے ۔۔

پھر دیکھتی رہوں 25 دن کے اندر اندر وہ اپنے پنجرے میں واپس کہہ دو گی ۔۔

وہ دیوار پہ زوردار مٹھی بناکر مارتا ہوا بولا ۔

Episode 18

اسرا اپنی پیکنگ کر لو ہمیں گاؤں کے لئے نکلنا ہے آج شام کو ہی ۔۔۔

بابا سے میری بات ہوگئی ہے وہ تمہیں وہیں بلا رہے ہیں ۔۔

وہ دونوں باہر لان میں بیٹھے تھے ہمدان اس کو زبردستی کھینچ کھانچ کے باہر لے کر آیا تھا ۔۔

ورنہ اس کی تو ہمت ہی نہیں ہورہی تھی بی جان کا سامنا کرنے کے لئے۔۔

وہ خاموش سی خالی خالی نظروں سے ہمدان کو دیکھ رہی تھی ۔۔

کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟؟

وہ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا ۔۔

خالہ کا فون آیا تھا ۔۔

وہ انگلیاں مروڑتی ہوئی بولی ۔۔

اچھا ۔۔

وہ صرف اتنا کہہ کر چپ ہو گیا گویا کہہ رہا ہو آگے بولو ۔۔۔

وہ آج رات کی فلائٹ سے واپس آ رہی ہیں ۔۔

پھر ۔؟؟؟

وہ ابرو اچکا کر بولا ۔۔

وہ مجھے لینے آ رہی ہیں کل صبح یا پھر دوپہر تک ۔۔۔

میں نہیں جانتی بس مجھے اتنا پتہ ہے کہ وہ کل مجھے لیکر چلیں جائیں گی یہا ں سے ۔۔

وہ خاموش ہو چکی تھی ۔۔

شاید حمدان کا ری ایکشن دیکھنا چاہ رہی تھی اس کی ابھی ابھی کی ہوئی بات پر۔ ۔۔

تو بس منا کر دیا نہ ان کوپھر ؟؟؟

وہ لاپروائی سے بولا ۔۔

نہیں میں نہیں کرسکی ۔۔۔

وہ زمین پر نظریں گاڑے اتنا ہی کہہ پائی۔۔

اس سے آگے اس کو الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے کہ وہ کچھ اور بھی کہ پاتی ۔۔

وجہ ؟؟؟

اس بار ہمدان کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی سخت ہوا ۔۔۔

وہ مجھے غلط سمجھے گی میں پہلے ان کو اعتماد میں لے کر سب کچھ بتانا چاہتی ہوں ۔۔

تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے بہار تمہارے سر پر چڑھ گیا ہے شاید ۔۔

پلیز حمدان میرے دل میں اب آپ کے لئے کوئی گلاء یا شکوہ نہیں ہے ۔۔

عجیب کے سم کی تم نے بات کی ہے یار۔ ۔

کیسے بتاؤں گی؟؟؟

کیا بتاؤں گی ؟؟؟

بیوقوفی کی باتیں بند کرو ظاہر سی بات ہے ان کو ہمارا نکاح نامہ دیکھاؤ گی اور کیا کروں گی ۔۔؟؟؟

وہ بھنا کر بولا ۔۔

میرے پاس اگر نکاح نامہ ہوتا تو اتنی دیر ہرگز نہ ہوتی تو بھی میرے قریب آنے میں ۔۔

وجاہت آتی ہوئی نظروں سے مزید بولا ۔۔

اس کی بات سن کر اسراء جیسے شدید قسم کے جھٹکوں کی زد میں آ چکی تھی۔۔

اس کو لگ رہا تھا جیسے کسی نے منوں پانی اس کے اوپر انڈیل دیا ہو ۔۔

پھر تم کیوں گھبر آ رہی ہوں؟؟؟

میرے پاس نہیں ہے نکاح نامہ تو تمہارے پاس تو ہے نا ۔؟؟؟۔

پس وہی خالہ کو دکھا دینا اپنی کافی ہے ثبوت کے طور پر۔۔

وہ مطمئن تھا جیسے ہر چیز کا حل سوچ کر بیٹھا ہو ۔۔

“””””””تھا ہی نہیں “””””””۔۔۔

وہ سونے کو تھی اور آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی اس کو حمدان سے خوف محسوس ہو رہا تھا کہ جب وہ سچائی جانے گا تو ۔۔۔۔

اس “تو” کے آگے سوچ کر اس کی روح فنا ہونے لگی تھی ۔۔۔

صحیح طریقے سے بتاؤ ۔۔۔

کیا بات ہے؟؟؟

کیا ماجرا ہے آخر؟ ؟؟

کیوں اس طرح سے رو رہی ہوں ؟؟؟

وہ طیش کے عالم میں بولا ۔۔۔

ایک یہی تو آخری امید تھی جس کی وجہ سے وہ پر سکون تھا ۔۔

جس دن آپ مجھے گروسری کرتے وقت ملے تھے ۔۔

اس کے رونے میں مزید شدت آ چکی تھی ۔۔

وہ اپنی کرسی دھکیل کر اٹھا اور غصے میں سامنے بیٹھی اسراءکے بازوؤں پہ جھک کر دباؤ ڈال کے بولا ۔۔۔

بتاؤ اسراءپھر کیا ۔۔۔؟؟؟؟؟

ایسا کیا ہوا تھا اس دن ؟؟؟

میرا ضپط مزید مت آزمآؤ اور مجھے پوری بات بغیر کسی جھوٹ کی ملاوٹ کے سچ سچ بتا دو ؟؟؟

وہ غصے کی شدت سے سرخ ہوتی آنکھیں اپنی شریک حیات گاڑھ کربولا ۔۔۔

وہ اس کی غصے میں دیوانگی دیکھ کر مزید سراسیمہ ہو بیٹھی ۔

بتانا چاہ رہی تھی۔۔ بولنا چاہ رہی تھی ۔۔مگر الفاظ تھے کہ اس کے لبوں پہ ہی نہیں اآپا رہے تھے۔ ۔۔

زبان اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھی ۔۔

جب بہت دیر تک حمدان نے صرف اس کے لبوں کو بڑبڑاتے ہوئے ہی دیکھا تو تھوڑا تیز آواز میں دھاڑا اس پہ ۔۔

اگر تم نے مجھے صحیح طریقے سے نہیں بتایا تو اپنی ہشرکی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔۔

وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔مممممم میں نے اس دن غصے میں نکاح نامہ پھاڑ کر جلا دیا تھا ۔۔۔

وہ سسکتے ہوئے اس کے سر پر بم پھوڑ گئی تھی ۔۔۔

۔💕

رات کا وقت تھا حجاب لان میں بشر کے ساتھ فٹبال کھیل رہی تھی ۔۔

جب حجاب کی کک پر بال اچھل کر لان کے دوسری طرف چلی گئی تھی ۔۔

میں نہیں جاونگی لینے ۔۔

کیوں۔۔۔۔ کیوں نہیں جاؤں گی تم پھینک کی تم نےہے تو تمھیں جاؤں گی ۔۔۔

ہر اپنے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے پاؤں دوسری کرسی پر رکھ لئے گویا وہ تو اب ھلےگی نہیں ۔۔

بشر بھی ناراض ہو کر اندر چلا گیا ۔۔

ہونہ جاتے ہیں تو جاۓ میری بلا سے ۔۔

ابھی اس کو تھوڑی دیر ہی وہاں بیٹھے ہوئے ہوئی تھی اور وہ بشر کو واپس منا کر بلانے کے لئے اندر جانے والی تھی جب ۔۔

ڈرائیور گاڑی پارک کر کے سیدھا اس کی طرف بوکھلایا ہوا آیا ۔۔

بی بی جی ۔۔۔

بی بی جی ۔۔۔

کو دور سے ہی بولتا ہوا آرہا تھا ۔۔

کیا ہوا کا کا اتنا گھبرائے ہوئے کیوں ہو ۔۔؟؟؟

اس کے چہرے پر پریشانی حاویدا تھی ۔۔

کاکا آپ پہلے تھوڑا سا بیٹھئے ۔۔۔ یہ پانی لیں اور مجھے سکون سے بتائیں کیا ہوا ہے ؟؟؟؟

صحاب اندر گئے ہیں آتے ہی ہونگے ۔۔۔

بی بی جی آپ میرے ساتھ آؤ ۔۔۔

وہ پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر ڈرائیور کے پیچھے پیچھے چل دی ۔۔

اس کو دل میں کچھ کھٹکہ سا ہو رہا تھا جیسے کچھ بہت برا یا پھر بہت اچھا ہونے کو ہوں ۔۔

ڈرائیورز کو گاڑی کے پاس لے آیا اور پیچھے کا دروازہ کھول کر حجاب کو اس طرف بلایا ۔۔

حجاب نے جیسے ہی کھلی ہوئی گاڑی کے پچھلے حصے میں جھانک کر دیکھا ۔۔

اس کی فلک شگاف چیخیں نکلتی چلی گئیں ۔۔۔

اس کی چیخیں سن کر بشر تیزی سے اندر سے بھاگتا ہوا باہر کار پورچ ایریا میں آیا ۔۔۔

۔💕

یہ تم نے کیا کر دیا ہے بیوقوف لڑکی جانتی بھی ہو کہ اس کے بغیر میں کس طرح سب کو تمھارے اور میرے رشتے کی سچائی بتا پاؤں گا ؟؟؟؟؟

وہ اب کمرے میں اسرا سے مخاطب تھا ۔۔

اسراء کو رہ رہ کر خود پہ غصہ آ رہا تھا ۔۔

کیا ضرورت تھی مجھے اتنا جب بازی کرنے کی ۔۔

یہ بات سوچ سوچ کے اس کے دماغ کی نصیں پھٹے کو تیار تھی ۔۔۔

اب کیا ہوگا حمدان ؟؟؟؟

وہ روتے روتے اسے گویا ہوئی۔۔۔

تم نے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود کر کے رکھ دی ہے۔۔۔

وہ اس کی طرف موڑ کر غصے سے دھاڑ ا ۔۔۔

اسراء اس کے غصے سے مزید سہم سی گئی ۔۔

وہ اپنی غلطی پر پشیمان اور اپنے شوہر کے غصے سے خائف ہو کر خاموشی سے کمرے سے باہر جا رہی تھی جب۔۔۔۔

حمدان نے اس کا بازو پکڑ کر خود میں بھینچ لیا ۔۔

تم نہیں جانتیں آسرا کے تم میرے لئے کیا ہو ۔۔؟؟؟؟؟

وہ اس کو اپنے سینے سے لگائے سرگوشیاں نہ انداز میں بولا ۔۔

اتنا آہستہ کہ وہ سن بھی نہ سکی ۔۔۔

رو رو کے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔۔

وہ آنے والے وقت کو لے کر شدید خوفزدہ تھی ۔۔

حمدان ۔۔۔۔

اس نے حمدان سے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے جب ۔۔۔۔۔

بس خاموش ہو جاؤ میں ان لمحات کو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قید کرنا چاہتا ہوں۔ ۔

بس تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

تمہیں اپنے لمس کی ایک ایک حدت بخشنا چاہتا ہوں ۔۔۔

تمہاری خوشبو کو خود میں اتارنا چاہتا ہوں ۔۔۔

بس مجھے ان لمحات کو امر کرنے دو ۔۔۔۔

وہ۔ اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے اور اس کے کمر کے گرد حصار باندھتے ہوئے ہوئے مزید بولا ۔۔

میں ابھی زندہ ہوں اور میرے جیتے جی تمہاری ہر پریشانی میری ہے میں کبھی بھی تمہیں ٹوٹکے بکھرنے نہیں دوں گا ۔۔

بس ایک وعدہ مجھ سے کرو ۔۔

وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے بولا ۔

میں آپ سے ہر وعدہ کرنے کے لئے تیار ہوں ۔۔

آپ میری زندگی ہے ۔۔

مجھ پہ ہمیشہ بھروسہ کرنا ۔۔

یاد رکھنا زندگی میں کتنے ہی بڑے بڑے اتارچڑھاؤ ہی کیوں نہ آئے میں ہمیشہ ساتھ دوں گا ۔۔

کبھی بھی تمہیں تنہا نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔

بس مجھے تمہارا اعتماد چاہیے ۔۔

میں آپ پہ خود سے بھی زیادہ اعتماد کرتی ہوں یہ میرا وعدہ ھے کہ میں کبھی بھی زندگی میں آپ سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھولونگی ۔۔۔

اس کا اقرار سن کر حمدان نے اسکو اپنی بانہو کے گھیرے میں لے کر۔۔

آسرا پر اپنی محبت اور جذبات لٹاتا گیا ۔۔۔

اس کے پورے وجود پر ٹھنڈی پھوار کی طرح برستا چلا گیا ۔۔۔

حمدان پوری رات اس کو اپنی محبت اور سچے جذبوں سے آشنائی بخشتا رہا ۔۔۔

وہ دونوں ہی اس بات سے بے خبر تھے کہ آنے والا وقت کیا کچھ نہیں سوچ کر بیٹھا ہے ۔۔۔۔

۔💕

دوپہر کا وقت تھا جب سموں اوپر کمرے میں آئی ۔۔حمدان اس وقت کسی ضروری کام سے گیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

بی بی جی آپ کو آپ کے خالو خالہ لینے آ گئے ہیں ۔۔

وہ جو سمجھ رہی تھی کہ دوپہر ہو گئی ہے ۔۔

وہ لوگ اب شام کو ہی آئیں گے تھوڑی ریلیکس ہو کر لیٹ گئی تھی ۔۔

ملازما تو کہہ کر چلی گئی تھی ۔۔۔

مگر اس کا پورا وجود صرف اس ایک بات کے سننے سے سناٹوں میں آ چکا تھا ۔۔۔۔

_________

کیا ہوا حجاب کیوں اس طرح گھر سر پر اٹھا رہی ہو؟؟؟

بشر کولگا شاید پھر کوئی چھپکلی یا چوہا تو نہیں دیکھ لیا ۔۔

وہ اس سے اسی قسم کی ہی امید کرسکتا تھا۔۔۔

لیکن ڈرائیور کے ساتھ کھڑی حجاب کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بھاگا لاؤنج کے دروازے سے ۔۔

ڈرائیور اس کو باہر آتا دیکھ کر حواس باختہ سہ بشر طرف آیا ۔

صاحب جی میں گاڑی کی سروس کروانے کیلئے گیا تھا ۔۔

جب واپس آ رہا تھا تب ایک بی بی زخمی حالت میں مجھے بےہوش ملی ۔۔

معاف کریئےگا بشر بابا میں اس کو گاڑی میں ڈال کر لے آیا مجھ سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں گئی ۔۔

وہ ا بھی آگے بھی کچھ بولنے والا تھا کہ اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی جب حجاب روتی ہوئی بشر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو کھینچتی ہوئی گاڑی کے قریب لے کر آئی ۔۔

بشریہ اریج۔ ۔

دیکھیں میری دوست کی کیا حالت ہو گئی ہے ۔

اس کے پیروں سے خون ابھی بھی رس رہا تھا کہیں ٹکرانے سے سر کے اوپری حصے سے بھی خون کی لکیر بن چکی تھی ۔۔

کمیز شاید کسی چیز سے الجھ کر تھوڑی پھٹ چکی تھی ۔۔

بشر کو اس کی حالت دیکھ کر کچھ ٹھیک نہ لگا اور وہ روتی ہوئی حجاب کی مدد سے اس کو اندر لے آیا ۔۔

اسراء والے روم میں لٹا کر وہ تیزی سے اپنے فون کو لینے لاؤنج میں گیا ۔۔

حجاب اریج کے پاس ہی بیٹھی اس کے ہاتھ پاؤں سہلا رہی تھی ۔۔

کچھ ہی دیر میں بشر ڈاکٹر کو یہ کمرے میں دوبارہ واپس آیا

اریج کا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر۔۔

بشر سے کوئی گویا ہوا ۔۔

ان کو تھوڑی ریسٹ کی ضرورت ہے زخم اتنے گہرے نہیں ہیں چند ہی دنوں میں جلدی ہی ریکوور ہوجائیں گے ۔۔

ان شاء اللہ ۔۔

حجاب نے ڈاکٹر کی بات پر بے ساختہ کہا ۔۔

ڈاکٹر بشر کے ساتھ کمرے میں سےجا چکا تھا ۔

حجاب اپنی عزیز ترین دوست کی آیسی ٹوٹی بھی بکھری حالت پہ ششدرسی تھی ۔۔

اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ اسی کی دوست اریج ہے ہستی کھیلتی زندگی کے لمحے کشید نے والی ۔۔

💕

حجاب باہر آو ایک منٹ کے لئے مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے ۔۔

وہ آہستہ سے کمرے میں آکر حجاب سے بولا ۔

حجاب ابھی بھی اریج کے سرہانے ہی بیٹھی تھی ۔۔

رو رو کے اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی سو جی سی ہو رہی تھیں۔

جی بولیں سب خیریت ہے نا ۔۔؟

وہ وہیں سے آہستہ اشارے سے بولی ۔۔

ہاں یار سب خیریت ہے تم بس ایک منٹ کے لئے باہر آؤ ۔۔

وہ آریج کے اوپر کمبل ڈال کر بہار آئی ۔۔

ہاں اب بولیں سب خیر تو ہے نا ۔

ہاں ہاں یار سب خیر ہے۔

تم اس طرح رو تو مت کیا تمہارے اس طرح رونے سے اس کو ہوش آجائے گا یا وہ بالکل ٹھیک ہو کے لڈیاں ڈالنا شروع کردی گئی ۔۔

اس نے جان کر آخر میں” لڈی “کا لفظ استعمال کیا تھا تاکہ۔ ۔

وہ تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی مگر مسکرا تو دی ۔۔

اور وہ اس کی بات میں واقعی مسکرا دی۔

توبہ اب ایسی بات بھی نہیں ہے کہ وہ فوری لڈیا ہی ڈالنا شروع کردے گئی ۔۔

وہ تھوڑا ہنستے ہوئے منہ بنا کر بولی ۔

بشر اس کو بازو کے گھیرے میں تسلی دیتا ہوا لاونچ میں رکھے صوفہ تک لے آیا ۔۔

ارے آپ ابھی تک ایئرپورٹ نہیں گئے کیا ماما بابا کو لینے ۔۔۔

اسکو اچانک ان دونوں کی یاد ستائی ۔۔۔

ہاں ہاں بس ابھی ایک گھنٹے میں نکلوں گا ۔۔

اچھا یہ پہلے پانی پیو بشرنے ٹیبل سے گلاس اٹھا کر اس میں پانی انڈیل کر حجاب کے ہونٹوں سے زبردستی لگایا ۔۔

اب مجھے بتاو تحمل سے اریج کے بارے میں مکمل تفصیل ۔۔

بشر کو وہم سا ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اریج کو پہلے سے جانتا ہے یا اس نے کہیں دیکھا ہوا ہو۔

اریج اور میں دوست ہونے سے پہلے ریلیٹو بھی ہے۔

بشر بیچ میں بالکل بھی کچھ نہیں بول رہا تھا وہ پوری توجہ سے حجاب کی بات سن رہا تھا ۔۔

وہ میرے کزن یعنی پھپو کے بیٹے حسن بھائی بھائی کی بیٹی ہے ۔۔

رشتے میں دیکھا جائے تو میری بھتیجی ہوئی ہو ئ وہ۔

حسن کا نام سن کر اس کے دماغ میں چنا کا ہوا ۔۔

‘او مائی گڈنس”۔۔۔۔

اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔

اس سے آگے اس کو اریج کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی ۔۔

کیا ہوا آپ جانتے ہیں کیا حسن بھائی کو ؟؟

“ہاں “۔۔۔

بہت اچھی طرح ۔۔

بشر کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے ۔۔

تو پھر آپ جلدی سے حسن بھائی کو کال کریں نا ان کو بتایا ریچھ کے بارے میں ۔۔

میرے پاس تو ان کا نمبر ہی نہیں تھا سیفاریج کا ہی ہے ۔

سمیر بھائی کے پاس سب کے کانٹیکٹس ہوا کرتے تھے ماما بھی انہی کو کہتی تھی جب کسی سے بات کرنی ہوا کرتی تھی وہی ماما کو فون ملا کر دیا کرتے تھے ۔۔

حجاب بغیر اس کے تاثرات کو جانچے اپنی ہی بولے جا رہی تھی ۔۔۔

مگر بشر کے دماغ میں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔۔

کریں نا فون جلدی سے پلیز۔ ۔

نہیں ابھی نہیں ابھی میں ایئرپورٹ کے لئے نکل رہا ہوں ۔۔

ارے یہ کیا ابھی تو پورا آدھا گھنٹہ باقی تھا ابھی سے ہی چلے گئے ۔۔

پیچھے وہ کندھے اچکا کر بڑبڑاتی رہ گئی ۔۔

💕

اسراء اندر کمرے میں بیٹھی بار بار ہمدان کو کال رہی تھی مگر ہر دفعہ کال ملانے پر اس کا نمبر مستقل بز ی جا رہا تھا ۔۔

گھبراہٹ سے اس کی جان نکلی جا رہی تھی ہاتھ پاؤں پریشانی سے ٹھنڈے پڑ رہے تھے ۔

فون کی بیل پہ اس نے جلدی سے موبائل کو دیکھا حمدان کولنگ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی ۔۔

اس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے غصے میں فون اچھال کر بیڈ کے دوسری طرف پیکھا تھا ۔۔

دور سے حمدان کا نام جگمگا تا دیکھ کر جلدی سے موبائل پر جھپٹی ۔۔

حمدان آپ کہاں ہیں باہر خالہ خالو مجھے لینے ۔۔۔

اس سے آگے اس کے الفاظ لبوں میں ہی دم توڑ گئے

وہ فون پہ ہی زاروقطار رو دی۔۔

حمدان دس منٹ میں ریش ڈرائیونگ کر کے گھر پہنچا ۔۔

اور سیدھا سرا کے پاس کمرے میں ہی آ گیا بغیر کسی سے سلام دعا کیے ۔۔

اس نے ہینڈل پر ہاتھ رکھا وہ لاکھ تھا وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ڈر کے مارے لوگ کر کے بیٹھی ہے ۔۔

اس نے اپنی پاکٹ سے ڈپلیکیٹ چابی نکال کر دروازہ کھولا ۔۔

وہ دشمن جاں سامنے ہی صوفے پر بیٹھی اپنے پسندیدہ شغل رونے میں مصروف تھی ۔۔

یار تمھیں صرف رونا ہی آتا ہے یا کبھی حس بھی لیتی ہو۔۔۔۔

وہ چڑھ کر بولا ۔۔

وہ لوگ آگئے ہیں اور مجھے جانا ہوگا ۔۔

یہ کہتی ہوں وہ صوفے سے تیزی سے اٹھتی حمدان کے سینے سے آ لگی ۔

اس نے حمدان کی شرٹ کو سختی سے تھاما ہوا تھا جیسے اگر اس کی ایک لمحے کو بھی گرفت ہلکی ہوئی تو وہ اس کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گی ۔۔

اب کیا ہوگا حمدان؟؟؟

آپ پلیز مجھے بتائیں میں کس طریقے سے اس سچویشن کو وہاں جا کے ہینڈل کرونگی ۔۔

کس طرح آپ کے اور اپنے رشتے کی حقیقت کی یقین د لا پاونگی ۔۔

دیکھو اسراء پہلے بات سنو میری رونا بند کرو اور خود کو ریلیکس کرو۔ ۔

حمدان نے اس کی پشت سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔

اسرا کے رونے میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا ۔۔

منہاس کو ساتھ رکھیں چئیر پہ بٹھا کر اور خود اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا ۔۔۔

پہلے اپنا ہاتھ آگے کرو ۔۔

وہ چپ چاپ اس کی بات پر اپنا سیدھا ہاتھ آگے کرتی ہے ۔۔

نہیں یہ والا نہیں الٹا ہاتھ ۔۔

وہ خود اس کا الٹا ہاتھ تھام کر ۔۔

اپنی پینٹ کی پاکٹ میں سے ایک مخملی کیس کی نازک سی ڈبیا نکال کر کھولتا ہے ۔۔

اسراء حیران پریشان سی اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہی تھی ۔۔

وہ اس کے ہاتھ میں ڈائمنڈ کی رنگ ڈالتا ہے ہارٹ فنگر میں ۔۔

۔۔انگوٹھی والا ہاتھ تھام کے اس کا کہتا ہے ۔

میں نے تم سے کل رات بھی کہا تھا کہ۔۔

تمہاری ہر پریشانی۔۔

ہر خوشی۔۔

ہر تکلیف۔۔

ہر غم میرا ہے ۔۔

کہا تھا یا نہیں ۔؟۔

جی ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *