Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 15)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 15)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
چلو نہ یار اب تو اپنی ناراضگی ختم کرو
بشر روٹھی ہوئی حجاب کے آگے کان پکڑ کر بولا۔۔۔ اس نے ایک نظر بشر کو دیکھا اور واپس اپنے موبائل میں گیم کھیلنے میں مصروف ہوگئک جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو ۔۔
بشر کو اب تھوڑا غصہ آیا میری میٹنگ ہو چکی ہے پچھلے دو دن سے تم اس کمرے میں بند ہوں میں مزید اب یہا ٹہر کر کیا کروں گا ۔۔
بشر مایوسی سے بولا حجاب نے بشر کی تمام خواہشات اور جذبات کو خاک میں ملا دیا تھا ۔۔۔
اس لئے میں چار دن کے بعد کی سیٹیں کینسل کرکے کل کی کروا رہا ہوں جو بھی پیکنگ کرھنی ہے کر لو ۔۔
ویسے مجھے تم سے امید نہیں تھی کہ تم اتنے پیارے دن اتنا پیارا ٹائم اس طرح کمرے میں بند رہ کر گزار دوں گی ۔۔
بشر کو اس کی خاموشی تکلیف دے رہی تھی کتنے حسین دن وہ دونوں ادھر ادھر گھوم کر تنہائی کے حسین لمحے کشید کر سکتے تھے محبت بھرے کے یاد گار دن بنا سکتے تھے ۔۔
اور آج کے بعد میری ایک بات یاد رکھنا اگر مذاق سہہ نہیں سکتی تو کرنا بھی نہیں میری طرف سے اس دفعہ مذاق کا جواب مذاق میں نہیں ملے گا بلکہ ایسے انداز میں ملے گا کہ تمھاری سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔۔۔
بشر نے اپنی شہادت کی انگلی دکھا کر کہا اور اپنی سگریٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
اس کے جانے کے بعد حجاب کی آنکھوں میں سمندر اتر آیا





بابا سےبشر کی تقریباً روزہی بات ہو رہی تھی بابا کے بتانے پر اس نے حمدان کو بھی فون کیا تھا اور اسراہ کی خیرخیریت لیتا رہتا تھا ۔۔
بابا ماما کے آنے میں ابھی کچھ دن تھے تایا کی طبیعت ہی نہیں سمبھل رہی تھی کچھ بہتر ہوگی مگر پھر دوبارہ بگڑ جاتی تھی۔۔۔
اس کا خیال تھا کہ کر وہ گھر پہنچ کے شام تک اسراء کو بھی لے آیے گا۔ ۔۔




آدھر اریج کی شادی کی تیاریاں زور و شور سے تیار ہو چکی تھی
زوار اپنی کمینگی دکھا کر اریج کو ہر طرح سے ہراساں کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔۔
اریج خاموشی سے اپنی شادی کے لیے ہونے والی ہلچل کو دیکھ رہی تھی
وہ جانتی تھی یہ شادی نہیں بلکہ اس کے لئے ایک قبر کھودی جا رہی ہے
لیکن اس کے پاس فرار کا کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہا تھا
سبحان نے آنے کا کہا تھا مگر وہ بھی نہ آیا اس لئے زوار نےشادی کا شور مچانا شروع کردیا
ان دونوں بہن بھائیوں کو ڈر تھا کہ کہیں سبحان آکر کوئی گڑبڑ نا کردے۔ ۔
زوار باربار نکاح کے لئے زور لگا رہا تھا
مگر اریج نے باپ کے سامنے بس اتنا کہا جاکر کہ ۔۔
میں شادی کے لیے تیار ھو چاہا بھی آپ لوگ چاہیں گے وہاں میری شادی کر دی مگر میں نکاح ابھی نہیں چاہتی وہ شادی کے وقت ہی کیجیے گا برات والے دن ۔۔
وہ جآنتی تھی کہ اگر ایک دفعہ نکاح ہو گیا تو زوار اس کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑے گا ۔۔
اس کو اس بات کا پورا پورا یقین تھا کہ زوار اس سے کسی مقصد کے تحت ہی شادی کر رہا ہے ۔۔۔








بشرکا جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ واپس کمرے میں آیا حجاب بری طرح رونے میں مصروف تھی ۔۔
بشر کو اس پے پیار آیا اور اپنے رویے پر افسوس ہوا۔ ۔۔
وہ اس کے لیے کھانا پیک کر لے کر آیا تھا جانتا تھا کہ وہ بھوکا نہیں رہ سکتی زیادہ دیرتک آج تو پھر اس نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا بس ناراض ناراض سی منہ پھلائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی کمرے میں ۔۔
تم نے کھانا کھایا ہے؟؟؟بشر نے شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولتے ہوئے پوچھا ۔۔
ہنہ صبح سے بھوکی ہوں اب خیال آیا ہے۔۔
وہ بڑبڑائی ۔۔
چلو مجھے تو خیال آہی گیا تمہیں تو بھی اس ناچیز کا کچھ خیال کرنا چاہیے میرے جذبات ہی کی کچھ قدر کر لو لڑکی ۔۔
کے سر پر چپت لگاتے ہوئے بولا ۔۔
حجاب نے ایک ناراضگی بھری نظر بشر پر ڈالی اور سامنے رکھااس کا لایا ہوا کھانا ایک ہاتھ سے سائیڈ پر رکھ کر کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔۔
گویا اس بات کا اعلان تھا کہ امجد ڈسٹرب نہ کیا جائے ۔۔
بشر نے ایک خاموش نظر اس کی پشت پر ڈالی ۔۔۔
اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گیا ۔۔





نہیں بچے تم اوپر جاؤ اپنے کمرے میں تمہیں آرام کے ساتھ ساتھ سکون کی بھی ضرورت ہے اور تم فکر کیوں کرتی ہوں میں اوپر نہیں آ سکتی تو کیا ہوا حمدان میرا پتر بہت ہوشیار ہے ۔۔۔
اماں بی کی ہوشیار کہنے پے حمدان کی آنکھوں میں شرارت ناچنے لگی ۔۔
اماں بی وہ آپکے پوتے کی ہوشیاری ہی سے تو ڈر رہی ہی۔۔
وہ آہستہ سے بولا لیکن آسرا کے کان میں پھر بھی پڑ گئی ۔۔
وہ مزید خود میں سمٹ سی گئیں ۔۔
بیٹا اسراہ کو دیکھتے رہنا تمہارا کمرہ اوپر ہی ہے اس سے ذرا فاصلے پر بس ہوشیار رہنا بچی کی طرف سے ۔۔
آپ نہیں جانتی ہوشیار تو مجھے رہنا پڑے گا یہ شخص تو کسی بھیڑیے کی طرح مجھے دبوچ کے رکھ دے گا ۔۔۔
اس نے گھبرا کر سوچا ۔۔
بیٹا میں تمہیں اپنے پاس رکھتی مگر میں رات میں لائٹ جلا کر عبادت کرتی ہوں تمہیں ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے او میری وجہ سے تم بے آرام ر ہو گی ۔۔
بی اماں نے رسان سے سمجھایا ۔۔
سمو چل جا تو اس کو اوپر چھوڑآ اور تھوڑا ہولے ہولے لے کے جائیں یہ نہ ہو کہ بچی چڑھتے چڑھتے ہی ہلکان ہوجائیے ۔ ۔







رات میں وہ اسراء کی طبیعت پوچھنے اس کے کمرے کی طرف گیا ۔۔
وہ نماز پڑھ کے فارغ ہوئی تھی جائےنماز طے کر رہی تھی جب وہ بغیر کسی دستک کے اندر چلا گیا ۔۔
سوفہ پہ بیٹھ کر کچھ لمحے اس کے پر نور چہرے کو تکتا رہا اور پھر کہنے لگا ۔۔
کیسی طبیعت ہے اب تمہاری ؟؟
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔
یار ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ تم کسی چیز سے بہت خوفزدہ ہو ۔۔
وہ اپنے لہجے کو حطا امکان دوستانہ بنا کر بولا ۔۔۔۔۔
اور پھر اٹھ کے اس کو شانوں سے پکڑ کر بیڈ پہ بٹھایا ۔۔۔
آپ۔۔۔ آپ اتنے خطرناک کام کرتے ہیں کہ میں ۔۔۔۔۔
اسرا کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ۔۔۔
اسراء کی یہ بات سن کر حمدان کو ہنسی آئی مگر وہ پڑی صفائ سے اس سےچھپا گیا ۔۔۔
اور بولا کہ
میں تو سوچ رہا ہوں کہ یہ خطرناک خطرناک کام آج تم پہ پورے طریقے سے آزما ہی لو ں۔ ۔۔
ممممم۔ ۔۔۔ممم میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔
وہ اس کی بدلتے ہوئے محبت بھرے حسین تاثرات دیکھ کر دبک کر بولی ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ آسرا کے اوپر تھوڑا جھکا ۔۔
وہ ڈر کر بیٹھ کے سرہانے سے جا لگی ۔۔
کیا ہوا !؟؟؟؟
حمدان نیں تھوڑا اور جھک کر سائیڈ ٹیبل سے اپنی سگریٹ اٹھا کر سلگائی اور ایک کش لے کر دھنواں پورا اس کے منہ پر چھوڑ دیا ۔۔
دور کریں پلیز اس کو مجھ سے ۔۔
وہ زور زور سے کھانستے ہوئے بولی ۔۔۔
اور اگر آج اس کو بھی نہ ہٹائوں اور خود بھی نہ ہٹوں تو ؟؟؟؟؟
یہ کہہ کر اس نے آسرا کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔اور ہاتھ بڑھا کر سائٹ لیمپ بجھا دیا ۔۔۔
چھ ۔۔۔چھ۔ ۔چھوڑے مجھے ۔۔۔
اسراء کی لرزتی کانپتی آواز نکلی ۔۔۔
ششششششش۔ ۔ بس بہت کرلی تم نے اپنی من مانی ۔۔
اب میں کہوں گا اور تم سنو گی بس اور یہ خاموشیاں گنگنائیں گے ۔۔۔
وہ اس کے بال کیچر سے آزاد کرتے ہوئے بولا ۔۔
اور پھر اسراء کی تمام مزاہمتیں اک اک کرکے دم توڑتی گئ اس نے خود کو حمدان کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا۔ ۔۔
اور وہ کسی نازک کلی کی طرح اس کو سینجھ سینجھ کے اپنی محبت کی پھوار برسا چلا گیا۔ ۔۔






اگلے دن صبح۔ ۔۔۔ ۔
بی اماں حمدان اور اسره نظر نہیں آرہے ۔۔
بیٹا اسرا تو بیمار اسلئے شاید اٹھی نہیں ہے ۔۔
اور حمدان مجھے دکھا ہی نہیں شاید کہیں چلا گیا ہو۔ ۔۔
حجاب کو نہیں ۔لَآ یے۔۔؟؟؟
بی امّا لاونگا ابھی تو بس اسراء کو لینے آیا ہوں۔ ۔۔
_________
سمو چھیتی چھیتی آزرا ۔۔
اماں بی نے سمو کو آواز دی ۔۔
جی ا م آرہا تھا تم کیوں اتنا چلا کر ہم کو ڈراتا ہے ۔۔۔۔
کام ہے تبھی تمہیں بلایا ہے نا ۔۔
بی اماں نے ہانپتی ہوئ سموں کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
جاؤ جاکر چائے پانی کا انتظام کرو اور پہلے اسرا بی بی کو بتا دو کہ ان کے بھائی آئے ہیں بشر
ٹھیک ام جاتا ہے ۔۔۔
سمو گر آپ سے دوبارہ غائب ہو گئی ۔
ایک تو ام اس بی بی جی بہت پریشان ہے۔۔
ام جب بھی آتا ہے یہ بی بی جی دروازہ ہی نہیں کھولتا ۔۔۔
سمونے کئی دفعہ دستک دی مگر کوئی جواب نہ پا کر بنا کر واپس اماں بی کو بتانے جلدی ۔
اما ں بی ام بہت دیر تک دروازہ بجاتا رہا مگر اس نے نہیں کھولا میرے کو تو لگتا ہے وہ ابھی تک سو رہا ہے بشر کو اس کے بولنے کے سٹائل پرہنسی آئی ۔۔
بادشاہ جب تمہارا بھی دیجئے اور جائے تو ان کو میرا بتا دینا ۔
۔وہ اپنی ہنسی ضبط کرکے بولا ..
وہ سموں کو کہہ کر دوبارہ بی اماں کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
رات وہ دوا کھا کر سوئی تھی ہو سکتا ہے شاید اس وجہ سے اٹھی نہ ہو ۔۔
تم ایک کام کروں آج کے بجائےکل یہ ایک دو رن کے بعد لے حانا۔ ۔۔
ادھر میں ہوں اس کی دیکھ بھال کے لئے ادھرتوصرف تمہاری بیوی ہی ہے اماں بابا آئیں تو پھر لے جانا ۔۔۔
جی جی سی لیے تو کہہ رہا ہوں حجاب بہت اچھا خیال رکھ لے گی اس کا ۔۔
وہ بی اماں سے نظریں چرا کر بولا ۔
ارے چھوڑو میاں میرا منہ نہ کھلواؤ پہلے وہ اپنا خیال تو رکھیے ٹھیک ہے ۔۔
بی اماں کی بات سن کر بشر کے کھسیہ سا گیا ۔۔
اچھا چلے جیسی آپ کی مرضی ۔۔
بشرکوان کے آگے آخر کار ہتھیار ڈالنے ہی پڑے ۔۔
چلیں پھر مجھے اجازت دیں ۔۔
ہاں ہاں ابھی تو جاؤ بالکل مگر رات میں حجاب کے ساتھ ادھر ہی کھانے پر آجانا ۔۔
وہ بولیں۔ ۔
جی جی ضرورکوشش تو پوری کرو گا وعدہ نہیں کرسکتا ۔
اس نے حجاب کی وجہ سے ٹالا ۔۔
بس میا ں زیادہ میرے سامنے ہوشیاری نہیں چلے گی میرے سامنے کے بچے ہو تم ۔۔۔
بشر بی جان کی بات پہکا ن خجہ کر رہ گیا ۔۔۔






اسراء کی زور زور سے بچتے دروازے کی کھٹ کھٹ سے نیند ٹوٹی ۔۔
اس نے ہر بڑا کر آنکھیں کھول دیں ۔۔
اونہوں۔۔۔ جو بھی تھا جلا گیا تم بس ایسے ہی لیٹے رہو ۔۔۔
حمدان پہلے سے ہی اٹھ چکا تھا اور آسرا کے بالوں کو اپنی انگلیوں کی پورو ں سہلا رہا تھا ۔۔۔
اسراء خود کو اس کے اتنے قریب دیکھ کر سٹپٹاء آگئی ۔۔
اس نے لاکھ کوشش کی آٹھنے کی مگر حمدان نے
اپنی گرفت کرکے اس کو خود پہ گرا لیا واپس ۔۔
اسراء کی آنکھیں ہایہ سے اٹھی نہ سکیں۔ ۔
پلیز مجھ پہ رحم کریں رات میں آپ نے جو میرے ساتھ کیا
آنسوؤں کا گولا اس کے حلق میں پھنس گیا اور وہ سسک اٹھی باقی کا جملہ اس کے لبوں میں ہی رہ گیا ۔۔
دیکھو اسراء جو بھی کچھ ہوا وہ ایک جائز رشتے کے تحت ہی ہوا ہے ۔۔
وہ آسرا کا سرد تھر تھر کانپتے وجود کو اپنی بانہوں میں قید کر کے تھوڑا سخت لہجے میں گویا ہوا ۔۔
جیسے اس کی تمام فرار کی راستے اب بند ہوچکے ہوں ۔۔
آپ نہیں جانتے آپ نے یہ سب کچھ کرکے میرے لئے کتنی بڑی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ۔
میرے آگے بولو نہیں اور میری بات سنو صحیح طریقے سے
وہ غرایہ ۔۔۔
تم جو مشکلات کی بات کرتی ہوں تو اپنے ذھن میں ایک بات بٹھا لو کہ تم میری بیوی ہوں اور میں نے اپنا جائز حق استعمال کیا ہے اور اس کے لئے میں تم سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھتا تھا ۔۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ تم نے بہت اپنی من مانی کی ہے مجھے تو تمہیں سزا دینی چاہیے تھی۔۔
مگر سزا دینے کے بجائے میں نے تم پر اپنی محبت نچھاور کی ہے ۔۔۔
مم۔۔۔مم ۔۔مگر اس طرح تو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہمت کرکے بھرائے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔۔
ہاں توں ڈیئر اسٹوپڈ وائف۔ ۔
تمہاری مزید کسی اسٹوپڈٹی سے بچنے کے لئے ۔۔
تمہیں تمہاری اوٹ-پٹانگ حرکات سے باز رکھنے کے لیے یہ بیڑیاں ڈالنا بہت ضروری تھیں۔ ۔
وہ اپنے کئیے پر بالکل بھی نادم نہ تھا بلکہ اس کے لہجے میں اس کی فتح یابی چھلک رہی تھی ۔۔۔
اسرار شناسی اس کو سن رہی تھی گویا وہ اس کے لئے پریشانیوں کے نئے باب کھول کر مطمئن سا تھا اس کا وقار اس کی نسوانیت محض ا اس کے لیے ایک چیلنج تھا ۔۔
کاش حمدان تم مجھ سے محبت کرتے مجھے اپنی انا اور ضد نہ بناتے ۔۔
وہ یہ صرف سوچ کر رہ گئی مگر زبان پر نہ لا سکی۔۔
کیونکہ سامنے بیٹھا شخص حمدان تھا ۔۔۔
اور ہاں مجھے اب کسی بھی قسم کا سوگ نہیں چاہیے بس اب تم میرے حسین حسین محبت بھری یادوں میں رہو۔۔۔۔
کتنے آرام سے وہ یہ بات کہہ گیا تھا اسرا گم سم سی اس کو دیکھ کر رہ گئی ۔۔
میں اب ان آنکھوں میں یہ موتی نہ دیکھو حمدان نے اس کے آنسو اپنی پوروں میں جذب کیے ۔۔۔
حمدان اپنی چاہت اپنی زندگی کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
اسراء اس کے اس طرح گھورنے پر مزید سراسیما ہوگی ۔۔
مجھے بھوک لگی ہے بہت ۔۔
ہمدان نے بے ساختہ زندگی سے بھرپور کہکا لگایا ۔
جس کی آواز پورے کمرے کے در و دیوار کو ھلا کر گئی ۔۔
ویسے مجھے بھی بہت شدید بھوک لگ رہی ہے ۔۔
وہ معنی خیز ی سے اس کو گھورتے ہوئے بولا ۔۔
اسراء اس کو پٹری سے دوبارہ اترتا دیکھ کر گڑ آپ سے ہمدان کی تھوڑی گرفت ڈھیلی دیکھ کر بیڈ سے کود کر واشروم میں بند ہوگِئ۔ ۔
وہ اپنی بے ترتیب سانسیں تیز ہوتی دھڑکن ۔۔
کا نپتے ہوئے وجود ۔۔
حمدان کی بخشی ہوئی قربت اور رات بھر اس پہ اپنی محبت کی بوچھاڑ ۔۔۔
اس کو نہ جانے کیوں حمدان کے خیالوں میں سے نکلنے ہی نہیں دے رہی تھی ۔۔
ہم ان کا ایک ایک نام سوس کو اب تک اپنے پورے وجود پر سنسناتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
اور کل رات کے بعد تو وہ محبت سے گندی لڑکی اپنی ضد سے بھی ہار گئی تھی ۔۔
حمدان تم نے شاید مجھ سے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔
گویا وہ حمدان سے ہار کر اسکا آپ اپنے سپرد کرچکی تھی





جب وہ حمدان کے گھر سے واپس آیا اس وقت حجاب کچن میں کھڑی کھٹر پٹرکر رہی تھی ۔۔
کچن میں حجاب ہے کیا ؟؟
وہ تھوڑا حیران ہوا کیونکہ گھر میں اس وقت کوئی ملازم نہیں تھا ۔۔
پورا کچن بری طرح سے بکھرا ہوا تھا حجاب البتہ شاید کچھ گر جانے کی وجہ سے اٹھانے کے لئے بڑی سی لکڑی کی ٹیبل کے نیچے گھسی ہوئی تھی ۔۔۔
بشر کو ٹیبل سے آتی کٹر پتھر سے اندازہ ہو گیا کہ یہ اس کی زوجہ محترمہ ہی ہے ۔۔۔
وہ اس پر تعصف زیادہ ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔
پتا نہیں کب میرے بھی بھاگ کھلیں گے اور مجھے بھی ازدواجی زندگی کا سکون ملے گا۔۔
وہ تعصب سے سوچتا اپنے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔۔
کمرے میں اینٹر ہونے کے بعد اس کو شدید حیرانی کا جھٹکا لگتا ہے ۔۔
پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
اندھیرے کے باعث اس کو کچھ سجا ئی نہیں دے رہا تھا ۔۔
بس ایک موقع سے روشنی تھی جو ڈریسنگ روم کے اندر سے ہلکی سی آ رہی تھی ۔۔
وہ آہستہ آہستہ تھوڑا محتاط سا اس طرف بڑھا ۔۔
بشر یکدم چونکہ اس بات پر کے روشنی کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی چوڑیاں کھنکنے کی آواز بھی گونج رہی تھی ۔۔
وہ ڈریسنگ روم کے سامنے پہنچ کر ادھر کا منظر دیکھ کر ایک لمحے کو سناٹے کی زد میں آگیا اندر سفید کپڑوں میں اسکو ہیولا سا نظر آتا ہے ۔۔۔
یہ حجاب تو نہیں ہے ۔۔
اس کو تو میں ابھی کچن میں چھوڑ کے آیا ہوں۔۔
تو پھر کون ہے یہ ۔۔۔
وہ جلدی سے مڑ کر کوئی چیز اس کو مارنے کے لئے اٹھاتا ہے ۔۔
ساتھ میں رکھا گلدان اٹھا کر وہ جیسے ہی پلٹتا ہے۔۔
ہیولا تو دور کی بات وہ روشنی بھی معدوم ہو کر غائب ہو چکی تھی ۔۔۔
یہ کیا تھا وہ ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کرکے بولا ۔۔
اور واپس بھاگتا ہوا کچن کی طرف آیا ہے حجاب کو دیکھ کر اس کو تھوڑا سکون ملا ۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے یہ شکل بالکل سوکھے ہوئے کریلے جیسی کیوں ہو رہی ہے ؟؟۔۔
حجاب اس کو آٹا گوند تے ہوئے بلکہ گھولتے ہوئے کہنا زیادہ بہتر ہوگا بولی ۔۔۔
بشر نے اپنی اس کیفیت کو حجاب کے ظاہر کرنے کی بجائے جھٹکتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا ۔۔
مجھے بھوک لگی ہے اور خانساماں نہیں آیا ہے اس لئے آٹا گوند رہی تھی یو ٹیوب سے پیسے بھی دیکھ کے ۔۔
بریڈ بھی نہیں ہے کہ وہ ہی کھا لیتی وہ بے بسی سے بولی ۔۔
بشر نے ایک نظر اس کو دیکھا۔۔
حجاب کے منہ پر جابجا آٹا لگا تھا اور پرات میں پانی کے اندر ہاتھ ڈالے آٹے کو پچھڑ پچھڑ کر رہی تھی۔۔
بشر کو اس طرح کا گندہ آٹادیکھ کر عجیب کر آہیت سی آئی اور وہ بولا ۔۔
چھوڑو یہ سباگر تم تھوڑی دیر ادھر اورکھڑی رہیں تو یہ کچن کے بجائے چکی ہاؤس بن جائے گا۔۔
وہ حجاب کو پکڑ کر بار لے آیا ۔۔۔
ارے ارے مگر میرا آٹا۔ ۔
چپ بالکل اگر تم نے اک الفاظ بھی بولا توآٹے کے بجائے تمہارا بھرکس نکال دوں گا ۔۔۔
میں کھانا اور آرڈر کر رہا ہوں تم اپنا ہو لیہ تو درست کر کے آؤ فوری ۔۔۔۔
وہ آٹے میں لدی حجاب کو دیکھ کر بولا ۔۔







دوپہر کے وقت اسرا کا سر درد شدید پھٹ رہا تھا ۔۔
رونے سے دماغ کی نسیں پھٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں وہ کسی کو بھی پریشان کئیے بغیر چائے بنانے کے لیے کچن میں آئی ۔۔
اسوقت سمو اپنے کواٹر میں جا کر لیٹ جاتی تھی۔۔ اور بی اماں تھوڑی دیر دوپہر میں آرام کرتی تھیں اس وجہ سے پورا گھر فی الحال خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
اسراء پتی جیسے ہی پانی میں ڈال کر پلٹی ۔۔
کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے میرے پیاری سی دنیا کی سب سے خوبصورت بیوی کی ۔۔۔
حمدان نے اس کے کان کے قریب جا کر کہا اور ایک ہاتھ سے اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر دیا ۔۔
اسراء پہلے ہی اچانک حمدان کی آواز سے اچھل پڑی تھی۔۔۔اس تزاد پھر اس کا اس کو خود میں چھپا نا اسرار کی مزید جان اپنی نکلتی محسوس۔۔۔
او یارا ایسے مت دیکھو مجھے ایسا نہ ہو پھر سے بے ہوش ہو جاؤ ۔۔
تمہیں پتہ بھی ہے کتنی دفعہ میں نے تمہاری بے ہوش ہونے کی وجہ سے تمہیں اپنی باہوں میں اٹھایا ہے ۔۔
لگتا ہے یہ سب تم جان بوجھ کے کرتی ہو۔۔
تمہیں بہت شوق ہے نہ میری بانہوں میں آنے کا ۔۔
اسراء اس کے اس الزام پر ششدر سی اس دیکھتی رہ گئی ۔۔
ننننن۔ ۔نن نہیں مجھے تو کوئی ایسا شوق نہیں تھا وہ تو میں خودی پتہ نہیں کیسے یک دم بے ہوش ہو جاتی ہوں ۔۔
حمدان کی قربت سے اس کی روح فنا ہونے لگی تھی۔۔۔
اچھا واقعی ایسا ہی تھا۔۔۔
وہ ہلکی سی شرارت کرتے ہوئے بولا ۔۔
پپ ۔۔۔پپپپپپ ۔۔۔پلیز مجھے جانے دیں مجھے چائے بنانی ہے میرے سر میں بہت درد ہے ۔۔۔
وہ منمنائی ۔۔
یار ایک تو میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور میری محبت کہ کئی نظارے تو تم کل رات دیکھی چکی ہواور اچھی طرح محسوس بھی کر چکی ہوں ۔۔۔
اسراء کی ٹانگیں کانپنے لگیں اسکو حمدان سے عجیب سا خوف محسوس ہو رہا تھا ۔۔
جب تم میری اتنی محبت اور جسارتوں کو جھیل بھی چکی ہوں تو میرے سامنے آتے ہیں تمہاری کی گھگئی کیوں بن جاتی ہے؟؟؟ ۔۔۔
وہ اس کی گردن پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے بولا ۔۔
میں کیا کوئی ڈریکولا ہو جو تمہاری گردن میں اپنے دانت گاڑ دوں گا ۔۔
وہ اس کو خود تے مزید چھپتا دیکھ پیچھے دھکا ہی دینے والی تھی جب ۔۔۔۔
حمداااااان ۔۔۔۔۔!!!!
بی اماں کی گرجدار آواز پے پتھر آ کر رہے گئی ۔۔
گویا کسی نے جسم سے روح کینچ چلی ہو ۔۔۔






حجاب پلیز پک اپ مئ کال۔۔
ائ رئیلی نیڈ یو ۔۔۔۔۔۔
اریج روتے ہویے بار بار حجاب کا نمبر ڈائیل کر رہی تھی۔۔۔
بھاگتے بھاگتے اس کے پیروں سے خون رسنے لگا تھا۔ ،۔
