Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan NovelR50688 Tu Itni Masoom Hai (Episode 04)
Rate this Novel
Tu Itni Masoom Hai (Episode 04)
Tu Itni Masoom Hai by Aiman Numan
قدسیہ بیگم کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا اور اب وہ پہلے سے بہت بہترتھیں۔۔۔
اسراء ان سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھیں مگر ان کی طبیعت کے پیش نظر خاموش رہی تھی ۔۔۔
مکیم صاحب نے بولا بھی اپنے ساتھ لے جانے کو مگراسراء نہیں مانی۔۔۔
وہ دونوں باپ بیٹے تقریبا ہر دوسرے دن ان کی طبیعت پوچھنے آتے رہتے تھے۔۔۔
حمدان اسراءکی نظروں میں ایک دلپھینک اور اوباش قسم کا وڈیرا تھا۔۔۔۔
وہ جب بھی گھر آتا اسراء اس کی نظروں سے زیارہ سے زیادہ ۔خود کو چھپانے کی کوشش کرتی۔۔
دوسری طرف حمدان تھا جو اپنی شریک حیات کو دیوانگی کی حد تک چاہنے لگا تھا ۔۔۔۔۔!




“اب کیسی طبیعت ہے بھر جائیں آپ کی”؟ ۔۔۔۔
مقیم صاحب قدسیہ بیگم کی خیریت پوچھنے آتے ہیں ۔۔۔
“جی بھائی صاحب بہت بہتر ہو ں “۔۔۔
قدسیہ بیگم نقاہت زدہ آواز میں کہتی ہیں ۔۔
” آپ کیوں چلی گئی تھی بھر جائ ؟۔۔۔”
” آپ لوگ سب جس رات شہر گئے تھے شادی میں تب میں اور اماں اکیلے تھے تب اماں نے مجھے زبردستی دھکے دے کر نکال دیا یہ کہہ کر جیسی میں خود ہوں ویسے ہی میری بیٹی بھی نکلے گی”
۔۔۔
” اور اسرء کا سایہ بھی وہ حمدان بیٹے پر نہیں پڑنے دینگی گیں””۔۔
اندھیری رات میں۔۔۔۔
میں خاموشی سے نکل گئی اور پھر واپس کبھی میں نے حویلی کو دوبارہ مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔
وہ دونوں اپنی باتوں میں مشغول یہ نہیں جانتے تھے کہ دروازے کے باھر اسرا ء ان دونوں کی تمام باتیں سن چکی ہے







ماما کو دوا دےکر اس نے زبردستی سلایا تھا وہ سونے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھیں۔ ۔۔
وہ ا بھی لاؤنج میں آکر اپنا کچھ آفس کا کام کرنے ہی لگی تھی کہ دروازے پر بیل ہوئی اس نے گھڑی میں دیکھا جو دس بجا رہی تھی۔۔۔۔
“اس وقت کون ہوسکتا ہے”
“جی کون”
وہ دروازے کے قریب جاکر پوچھتی ہے۔ ۔۔
“حمدان”۔۔۔۔
اسراء اس کی بھاری آواز سن کر تھوڑا گھبرا جاتی ۔ ۔
“کھو لو یار”
اب وہ باہر کھڑا جھنجھلا کر کہتا ہے
وہ شش وپنج میں پڑ جاتی ہے کہ آیا کہ دروازہ کھولے یا نہیں کھولے۔۔۔۔۔۔
کھول ہی دیتی ہوں ۔۔۔۔۔
” ہو سکتا ہے تایا نے کسی کام سے بھیجا ہو “۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر سائیڈ پر ہو جاتی ہے۔۔۔
وہ جیسے ہی اندر کی طرف برھتا ہے ۔۔۔
“آپ کو جو بھی کھنا ہے پلیز یہیں کہیے “۔۔۔
وہ اس کو اندر جاتا دیکھ گھبرا کر فوراً کہتی ہے۔ ۔۔
“کیوں ںیہا بات کرنے سے بات جلدی عقلِ شریف میں گھسے گی؟
“وہ ماما سو رہی ہیں اور میں اس وقت گھر میں اکیلی ہوں”۔۔۔
” ماما جب جاگ جائیں گی پھر آپ آیئےگا”۔۔
وہ تھوڑا گھبراہ کر بولی ۔۔۔۔۔
حمدان نے جیسے اسراء کی بات سنی ہی نہیں اور وہ جا کر سیدھا لاونج میں بیٹھ گیا اور اپنے پیر ٹیبل پر رکھ دئیے دونوں ۔۔۔۔۔
“تم فوراً سے پہلے جوب چھوڑ دو “
“ًمیں یہ جوب نہیں چھوڑوں گی “۔
وہ لہجے کو نیڈر بنا کر بولتی ہے۔ ۔۔
اندر سے وہ حمدان کو دیکھ کر ڈر سی جاتی ہے۔۔۔
” میں تمہارے ہر ہر لمحے کی خبر رکھتا ہوں اور یہ سمجھ لو کے کل سے تم جوب پر نہیں جاؤں گی”۔۔۔
“مجھے میرے گھر کی عورتوں کا یوں اس طرح غیر مردوں کے ساتھ کام کرنا بالکل پسند نہیں ہے “۔۔۔۔
حمدان تھوڑا طیش میں آکر غصے سے دھاڑا۔ ۔
“اس کی آنکھوں میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ وہ اس سے نظریں چرا گئ مگر اس پر ظاہر کیے بغیر بولی۔۔۔۔۔۔
” یہ میری زندگی ہے اور آپ اپنی حد میں رہیں “
وہ خود کو اس کے سامنے کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی”۔۔۔۔۔
جبکہ اس کے دھاڑنے پر اس کا دل اندر سے بری طرح کانپ جاتا ہے ۔۔۔۔۔
حمدان اس کا ہاتھ پکڑ کر سیدھا اس کے کمرے کی طرف کھینچتا ہوا لے جاتا ہے
“چھوڑیے میرا ہاتھ چھوڑے “
اسراء ہر طریقے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔۔
مگر وہ اس کے سامنے ایک موم کی گڑیا ہی تھی وہ کیسے اس مضبوط اور توانا مرد کا مقابلہ کر پاتی ۔۔۔۔
اندر آکر اس کو ایک ہاتھ سے بیڈ کی طرف دھکیلتا ہے اور پھر کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کر دیتا ہے۔۔۔۔
” ہاں اب بولو کیا فرما رہی تھی “۔۔۔۔
وہ خوفزدہ نظروں سے ہمدان کو دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ بیڈ پہ اوندھی جا کے گرتی ہے ۔۔۔۔
حمدان ایک جھٹکے سے اس کو سیدھا کرتا ہے ۔۔۔۔
“آپ چاہتے کیاہیں”؟؟؟؟؟
وہ روتے ہوئے بولتی ہے
تمہیں “
حمدان اس کے اوپر جھکتا ہے
بیڈ پے گری اسراءکے آس پاس دونوں بازو رکھ کر اس کے اوپر مزید جھکتا ہے اور اس کی تمام فرار کی راہیں مسدود کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔
اور آہستہ سے اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرکے کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
“تین دفعہ قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔۔۔
تم نےہی کہا تھا نا” ۔۔۔۔۔
حمدان کے اس انکشاف پر اسراء کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں وہ اس صفاک سچائ پر دنگ رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اس پر جھکا اس کو ہی دیکھ رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
اسراء کی آنکھوں میں بچپن کا ایک حلقہ سا سایالہراتا ہے ۔۔۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوجاتی ہے
پہلے ہی وہ ہمدان کی اتنی قربت سے خائف تھی مگر اب تو وہ اس سے نظریں ہی نہی ملا پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” آج کے بعد مجھ سے یہ مت کہنا میں کیا کرسکتا ہوں کیانہیں”۔۔۔۔
“اور رہی حقوق کی بات تو چاچی سے پوچھ لینا اور اگر پھر بھی نہ پتا چلے تو میں بتاؤں گااپنے طریقے سے “۔۔۔۔
وہ اس کی لٹ کو اپنی انگلیوں پر لپیٹ کر زور سے کھینچ کر چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔۔
“اور یاد رکھنا صرف تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے اس ایک ہفتے میں تم خود کو میری سیج سجانے کے لئے تیار کرلو” ۔۔۔۔
اتوار کو تمہاری رخصتی ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔
اسراء کی بولتی تو اسی وقت ہی بند ہو گئی تھی جب اس کو اپنے اور ہمدان کے رشتے کے بارے میں علم ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اب خالی خالی نظروں سے ہمدان کو کمرے سے باہر جا جاتا دیکھتی رہ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔








سمیر آسٹریلیا پہنچ چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔
اور اب ایئرپورٹ پر باہر کھڑا فرح کا انتظار کررہا تھا۔ ۔۔
سامنے ہی اس کو فرح نظر آ جاتی ہے جو کسی لڑکے کے ساتھ اس کو لے جانے کے لئے آئی ہوتی ہے۔۔۔۔
ٹائٹ جینز کے ساتھ اسکنی اسٹیپس والی ٹائٹ ٹی شرٹ اس کے جسم کے خدوخال کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
سمیرا سکا ہولیہ دیکھ کر تھوڑا عجیب سامحسوس کرتا ہے ۔۔
“ہیلو سویٹ ہارٹ “۔۔۔۔
فرح جیسے ہی سمیر کو ائیرپورٹ سے باہر آتا دیکھتی ہے کہ گلے کا ہار بن کر اس سے چمٹ جاتی ہے اور اس کے گال پہ کس کرتی ہے ۔۔۔۔۔
سمیرتھوڑا بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھتا ہے اور اس لڑکے کے سامنے تھوڑا شرمندہ سا ہو جاتا ہے جو ان دونوں کو دیکھ کرڈھیٹوں کی مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
وہ فرح کو نہ محسوس طریقے سے تھوڑا سا خود سے دور کردتا ہے۔۔۔
“او ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ڈارلنگ میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا””””
” چلو آج وہ دن آ ہی گیا جب تم میرے پاس ہو “
وہ سمیر کو کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہی ہوتی اور بڑی بے باکی سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔
بس اب اپنے ملن کےدن دور نہیں ۔۔۔
“ہاں فرح میں بھی تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگیا ہوں”۔۔۔۔/
بس اب یہ ہے کہ باقی شادی کےدن کے بارے میں سوچیں گے “۔۔۔۔
“ارے یہ سب چھوڑو پہلے گھر تو لے چلو”۔۔۔
کاشی ان دونوں کو باتیں کرتے دیکھ کر اپنی خدمات پہلے پیش کرتا ہے ۔
سمیر کاشی کی طرف بڑھ کے ہیلو ہائے کرتا ہے اور بہت اچھے طریقے سے ملتا ہے پھر وہ تینو فراح کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔






دوپہر کے وقت بشر t.v دیکھ رہا ہوتا ہے جب حجاب کمرے میں آتی ہے
کیا ہوا منہ کیوں سو جاہوا ہےاتنا ؟
حجاب اندر آتی ہے تو بشر ایک نظر اس پر ڈالتا ہے اس کے چہرے پر عجیب سی تکلیف ہوتی ہے ۔۔
وہ رونا شروع کردیتی ہے بشر کے پوچھنے کی دیر تھی بس ۔۔۔۔
” میں گر گئی میرے ہاتھ چوٹ میں لگی ہے “۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے کہتی ہے۔۔۔
“ادھر دکھاؤ کہاں چوٹ لگی ہے”
یہ کہہ کر بشر اس کودونوں کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بٹھا تا ہے ۔۔۔
“آؤچ”
حجاب ایک دم درد سے چلاتی ہے
بشر آہستہ سےاس کی آستین کو کندھے تک اوپر کرتا ہے اور چوٹ دیکھ کے تھوڑا گھبرا جاتا ہے زخم تھوڑا گہرا تھا جیسے کوئی نوکیلی چیز کندھے میں گڑھی ہو ۔۔
“کیسے لگی ہے یہ چوٹ کہا کے نہیں ہو تم “
بشر تھوڑا غصہ میں پوچھتا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کے ڈانٹنے پر مزید رونا شروع کردیتی ہے ۔۔۔
میں موتی (بلی )کونہلانے کے لئے پکڑ رہی تھی جب موتی اچانک ٹیبل کے اوپر سے کودگیا اور میں اس کے پیچھے بھاگی تو ٹیبل کا کونا میرے شولڈرز میں گھس گیا ۔۔۔
چوٹ میں سے اب خون رس رہا ہوتا ہے ۔۔۔
” بہت زور سے چوٹ لگی ہے “۔۔۔
بشر اس کو بچوں کی طرح روتا دیکھ کر اپنے غصے کو ضبط کرلیتا ہے ۔۔۔
فرسٹ ایڈ باکس لے کر حجاب کے برابر میں بیٹھتا ہے
بشر چوٹ پر سے خون صاف کرکے آہستہ آہستہ دوا لگاتا ہے ۔۔۔۔
حجاب شدید جلن سے چیختی ہے
” بشر نہیں مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے اس سے “۔۔۔
“پلیز آپ یہ آئنمنٹ نہ لگائیں بس بینڈ یج کردیں”۔۔۔
“کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نہ”۔۔۔
بشر اس کو بہت پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔
وہ بشر کی شرٹ کو زور سے پکڑ لیتی ہے اور اپنا منہ اور اس کے چوڑے سینے میں چھپا لیتی ہے۔۔۔۔
جیسے اس کے سینے میں اس کی ہر تکلیف کی نجات ہو۔۔۔۔
بشر اس کے اتنا قریب ہونے پر اس کی کمر پہ ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ سہلاتا ہے ۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا بس میں بینڈج کر دیتا ہوں اور تم اس طرح رو نہیں “۔۔۔۔
بشر اس کو باتوں میں لگا کر آہستہ آہستہ اس کے بازو کی بینڈیج کرتا ہے ۔۔۔۔
حجاب تھوڑا سا رونا کم کردتی ہے مگر ہنوز اس کی ٹی شرٹ کو سختی سے پکڑی ہوئی ہوتی ہے ۔۔۔۔
بشر کوحجاب کا اس انداز میں اس کے اتنا قریب آنا بہت خوبصورت احساس بخش رہا ہوتا ہے ۔۔ ۔
اور وہ اسی احساس کے زیر اثر آہستہ سے اس کی تھوڑی اوپر کی طرف اٹھاتا ہے اور اس کی روئی روئی سی آنکھیں۔۔۔۔۔۔میٹا میٹا سا کاجل ۔۔۔۔۔درد سے پھڑپھڑاتے گلابی ہونٹ ۔۔۔۔۔
وہ بے ساختہ اس لبوں پر اپنے لب رکھ دیتا ہے۔۔۔۔
حجاب اس کی اس قدر قربت پے جیسے ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس لوٹتی ہے اور اس کو ایک قدم پیچھے دھکیلتی ہے۔۔۔۔۔
” پلیز بشر مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا ہے ۔ “
حجاب بشر سے الگ ہو کر گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے کہتی ہے ۔۔۔۔
وہ اس کی حالت دیکھ کر ایک دم خود بھی عجیب سا ہوجاتا ہے اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی سگریٹ اٹھاکر ٹیرس میں کچھ بھی کہے بغیر چلا جاتا ہے جاتا ہے







” ماما پلیز ماما آنکھیں کھولئے نا ماما”
قدسیہ بیگم نماز پڑھ رہی تھی عشاء کی آسراء بیٹھی موبائل حمدان کی دی ہوئی دھمکی کے بارے میں سوچنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔
جب اچانک دھپ کی آواز آتی ہے۔ ۔۔
وہ فوراً ماں کی طرف بڑھتی ہے اور زمین پر گری قدسیہ بیگم کو روتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کرتی ہے ۔۔۔۔
قدسیہ بیگم کے جسم میں زندگی کی حرارت دم توڑ چکی تھی ۔۔۔
وہ بھاگ کر پڑوس میں سے ماما کی دوست اور ان کے شوہر کو بلا کر لاتی ہے اور پھر دونوں ہی اسرا کے ساتھ قدسیہ بیگم کو ہاسپٹل لے کرجاتے ہیں۔۔۔۔۔
ھاسپٹل پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ قدسیہ بیگم کا ہاٹ فیل ہوچکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اسراء کا سب کچھ یہ طوفان اپنے ساتھ اڑا کر لے گیا۔۔۔۔۔۔۔
آخری رسومات بھی محلے والوں نے ہی ادا کیں۔ ۔۔ آسرا کو ہوش ہی نہیں تھا کہ تایا کو ہی فون کر دیتی۔۔۔۔۔۔ پڑوس کی آنٹی ابھی اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں۔۔۔۔
“بیٹا تم آب اس گھر میں اکیلے کیسے رہوں گی؟”۔۔۔ کوئی رشتہ دار وغیرہ ہے تمہارا وہ نفی میں سر ہلاتی ہے۔۔۔۔۔۔
پھر اچانک سے اس کے ذہن میں چھناکہ ہوتا ہے ۔۔۔۔
“مما نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ کوئی بھی ایمرجنسی ہو تو الماری میں ایک نمبر ہے وہ تمہاری خالہ کا ہے بیٹا کبھی ایسا وقت آئے جب تم کسی مصیبت میں ہو تو خالہ سے رابطہ کر لینا “۔۔۔
اس وقت تو وہ ماما کی بات کو ہنسی میں اڑا دیتی ہے۔۔۔۔۔
” ارے ماما کیا ضرورت ہوگی خالہ سے بات کرنے کی اور آپ نے کبھی بتایا نہیں میری خالہ بھی ہے کوئ۔ “
________
بشر آج اپنے بچپن کے دوست کے ساتھ بیٹھاریسٹورنٹ میں ڈنر کر رہا تھا بہت عرصے بعد ۔۔۔
علی کافی عرصے بعد اپنی فیملی کے ساتھ مستقل طور پر پاکستان شفٹ ہو گیا تھا ۔۔۔
پاکستان آتے ہی پہلی فرصت میں اس نے بشر کو اپنے یہاں آنے کی خبر سنائی ۔۔۔
“یار میرا تو سب سے انٹریکشن ختم ہونے کے برابر ہو گیا ہے بس ایک تیرے سے تھا دانی کا تو پتہ ہی نہیں وہ کہاں ہے کہاں نہیں ہے ایسا مصروف ہوا وہ اپنی زندگی میں اپنے دوستوں کوہی بھول گیا “۔۔۔
بشر نے کہا۔ ۔۔
“دانی تو یہی ہے میری اکثراس سے بات ہوتی رہی ہے تو ہی بہت بزی ہو گیا ہے”۔۔۔۔
علی کچھ تنک کر بولا ۔۔۔
یار بات یہ نہی ہےبس سب اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئےہیں۔ ۔۔۔
” اس کے تو میرے خیال سے اب تک تو دو تین بچے بھی ہو گئے ہونگے” ۔۔۔۔۔
بشر نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔
“اور بتہ بھابھی کیسی ہیں اور میرا بھتیجا مصطفی کیسا ہے “۔۔۔۔
“ثنا بھی ٹھیک ہے اور مصطفی ماشاءاللہ سے اب اگلے مہینے ایک سال کا ہو جائے گا “۔۔۔۔
مصطفی کے بارے میں بتاتے ہوئے علی کے چہرے پر اتنے پیارے محبت کے رنگ تھے ۔۔۔
بشر نے فوراً “ماشاء اللہ” کہاں ۔۔۔
“تو اس کو لے کے آتا نہ میں ملتا اپنے بھتیجے سے”۔۔۔
بشر کے لہجے میں اشتیاق تھا ۔۔۔
“نہیں میں اس کی برتھ ڈے کروں گا “۔۔۔۔
اورتو نے سب گھروالوں کو بھی لے کے آنا ہے اپنے ساتھ ۔۔۔۔
“کیا ہوا پیناڈول کیوں کھا رہا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تیری “۔۔۔۔
علی نے پریشانی سے پوچھا۔ ۔۔۔
بشر کے سر میں درد اٹھ رہا تھا وہ اپنی پاکٹ میں سے پیناڈول نکال کر کھانے لگا ۔۔۔
“بس علی یہ درد تو اب میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور پچھلے ایک مہینے میں میری بہترین ساتھی یہ ٹیبلٹ رہی ہے “۔۔۔
بشر ٹھنڈی آہ بھر کے بولا ۔۔۔۔۔۔
“کمینے تیرے اور میرے درمیان یہ اجنبیت کب سے آ گئی بتہ مجھے کیا ہوا ہے”۔۔۔
علی نے جھرکہ اسکو۔ ۔۔
” شادی”۔۔۔۔۔
بشر یہ کہہ کر لب بیھنچ کے رہ گیا۔۔۔۔۔
“اور یہ معرکہ کب سر کیا تو نے اورتو بہت ہی خبیث ہے اپنے لنگوٹیہ یار کو ہی نہیں خبر کی لعنت ہے تجھ پر “۔۔۔
علی نے مصنوعی خفگی سے اسکو جھاڑ پلائی ۔۔۔
بشر نے علی کو گھرا پھر بولا۔ ۔۔۔
” یہ عظیم کارنامہ بس ایک مہینے پہلے ہی سر انجام پایا ہے”۔۔۔۔
“اس کا مطلب ہے بھابھی سے جھڑپ ہوئی ہے تیری”۔۔۔
” شرافت سے پھوٹ کیا ہوا ہے “۔۔۔۔
“مابدولت کا تین سالہ تجربہ ہوسکتا ہے تیری نیا پار لگا دے”۔۔۔۔
علی بھی بخشنے کے موڈ کے موڈ میں نہیں تھا۔ ۔
پھر وہ اپنی پیار بھری زندگی کے ایک ایک خوشگوار لمحے کو علی کے گوش گزارتا ہے ۔۔۔۔
“ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔ہا”۔۔۔۔۔
اس کی” ہیپی لی میرڈ لائف” کے بارے میں جان کر علی کا فلک شگاف کہکہ مو صول ہوتا ہے ۔
